آخرت کی ضرورت کے دلائل تفہیم القرآن جلد سوم
آخرت کی ضرورت کے دلائل
تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 205، 206
سورہ حج آیت 7
وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ وَ
اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ۰۰۷
سورہ حج آیت 7
اور یہ ( اِس بات کی دلیل ہے )کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی،
اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اُٹھائے گا جو قبروں میں
جاچکے ہیں۔
جو قبروں میں جاچکے ہیں۔
سورة الحج حاشیہ نمبر۹
اِن آیات میں انسان کی پیدائش کے مختلف اطوار، زمین پر بارش
کے اثرات ، اور نباتات کی پیداوار کو پانچ حقیقتوں کی نشان دہی کرنے والے دلائل
قرار دیا گیا ہے:
(۱) یہ کہ اللہ ہی حق ہے،
(۲) یہ کہ وہ مُردوں کو زندہ کر تا ہے،
(۳) یہ کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے،
(۴) یہ کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اور
(۵) یہ کہ اللہ ضرور اُن سب لوگوں کو زندہ کر کے اُٹھائے گا جو
مر چکے ہیں۔
اب دیکھیے کہ یہ آثار ان پانچوں حقیقتوں کی کس طرح نشان دہی
کرتے ہیں۔
پورے نظامِ کائنات کو چھوڑ کر آدمی صرف اپنی ہی پیدائش پر
غور کرے تو معلوم ہو جائے کہ ایک ایک
انسان کی ہستی میں اللہ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کا ر فرما ہے اور
ہر ایک کے وجود اور نشونما کا ایک ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہو رہا ہے جس کو ایک اندھی
بہری بے علم و بے ارادہ فطرت چلا رہی ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں
نظر آئے کہ ایک ایک فرد انسانی جس طرح
وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وہ وجود کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکیم و قادرِ مطلق ہستی
کا ارادی فیصلہ کس شان سے کام کر رہا ہے۔ آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں انسانی
تخم موجود نہیں ہوتا، نہ اُس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفسِ انسانی کے خواص پیدا
کرتی ہو۔ یہ غذا جسم میں جا کر کہیں بال، کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے ، اور ایک خاص مقام پر پہنچ
کر یہی اُس نطفے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے
والے تخم موجود ہوتے ہیں ۔ ان تخموں کی کثرت کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک مرد
سے جتنا نطفہ خارج ہوتا ہے اُس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے
ہر ایک بیضۂ انثٰی سے مِل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ کسی حکیم
و قدیر اور حاکمِ مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بے شمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی
خاص وقت پر چھانٹ کر بیضۂ انثٰی سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرارِ حمل
رونما ہوتا ہے ۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) کے ملنے سے جو چیز ابتداءً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے
کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی جا سکتی ۔ یہ حقیر سی چیز ۹ مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش پا کر جن بے
شمار مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی ہے اُن میں سے ہر مرحلے پر غور کرو تو تمہارا دل
گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیمِ فعال کا ارادی فیصلہ کام کرتا رہا ہے۔ وہی فیصلہ
کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے خون کے لوتھڑے ، یا گوشت کی بوٹی، یا
نا تمام بچے کی شکل میں ساقط کر دینا ہے ۔
وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور کس کو مردہ۔ کس کو معمولی انسان کی
صورت و ہیئت میں نکالنا ہے اور کسے اَن گنت غیر معمولی صورتوں میں سے کوئی صورت دے
دینی ہے۔ کس کو صحیح و سالم نکالنا ہے اور کسے اندھا، بہرا، گُونگا یا ٹُنڈا اور
لُنجا بنا کر پھینک دینا ہے۔ کس کو خوبصورت بنانا ہے اور کسے بدصورت ۔ کس کو مرد
بنانا ہے اور کس کو عورت۔ کس کو اعلیٰ درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں دے کر بھیجنا ہے
اور کسے کوَدن اورکُند ذہن پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق و تشکیل کا عمل، جو ہر روز
کروڑوں عورتوں کے رحموں میں ہو رہا ہے ، اِس کے دَوران میں کسی وقت کسی مرحلے پر
بھی ایک خدا کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرّہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتی، بلکہ کسی
کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس پیٹ میں
کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی ہے۔ حالانکہ انسانی آبادیوں کی قسمت
کے کم از کم ۹۰ فیصدی فیصلے انہی مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی
کے نہیں ، قوموں کے ، بلکہ پوری نوع ِ انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی اور بگاڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو بچے دنیا میں
آتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا
پہلا سانس لیتے ہی ختم ہو جانا ہے، کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے ، اور کس کو قیامت کے
بوریے سمیٹنے ہیں؟ یہاں بھی ایک غالب ارادہ کار فرما نظر آتا ہے اور غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے
کہ اُس کی کارفرمائی کسی عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے جس کے مطابق وہ افراد ہی
کو نہیں، قوموں اور ملکوں کی قسمت کے بھی فیصلے کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی
اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ”حق “ہے اور صرف اللہ ہی ”حق“ ہے تو بے شک وہ
عقل کا اندھا ہے۔
دوسری
بات جو پیش کردہ آثار سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے“۔
لوگوں کو تو یہ سُن کر اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ کسی وقت مُردوں کو زندہ کرے گا ،
مگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں نظر آئے
کہ وہ تو ہر وقت مُردے جِلا رہا ہے۔ جن مادّوں سے آپ کا جسم بنا ہے اورجن
غذاؤں سے وہ پرورش پاتا ہے اُن کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجیے۔ کوئلہ، لوہا، چونا،
کچھ نمکیات، کچھ ہوائیں، اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی
حیات اور نفسِ انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں۔ مگر انہی مردہ ، بے جان مادوں کو جمع کرکے آپ کو جیتا جاگتا وجود بنا دیا
گیا ہے۔ پھر انہی مادّوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مَردوں میں
وہ تخم اور عورتوں میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے
انسان روز بن بن کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالیے۔
بے شمار مختلف چیزوں کے بیج تھے جن کو
ہواؤں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا، اور بے شمار مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں
جو جگہ جگہ پیوندِ خاک ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں کہیں بھی نباتی زندگی کا کوئی ظہور
موجود نہ تھا۔ آپ کے گردوپیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں مُردوں کی قبر بنی ہوئی تھی۔
مگر جونہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر
طرف زندگی لہلہانے لگی، ہر مُردہ جڑ اپنی قبر سے جی اُٹھی، اور ہر بے جان بیج ایک
زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میں آپ کی
آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔
تیسری چیز جو ان مشاہدات سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ
ہر چیز پر قادر ہے“۔ ساری کائنات کو چھوڑ کر صرف اپنی اِسی زمین کو لے لیجیے ، اور
زمین کے بھی تمام حقائق و اقعات کو چھوڑ کر صرف انسان اور نباتات ہی کی زندگی پر
نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہاں اُس کی قدرت کے جو کرشمے آپ کو نظر آتے ہیں کیا انہیں
دیکھ کو کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ خدابس وہی کچھ کر سکتا ہے جو
آج ہم اسے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور کل اگر وہ کچھ اور کرنا چاہے تو نہیں کر
سکتا؟ خدا تو خیر بہت بلند و برتر ہستی ہے ، انسان کے متعلق پچھلی صدی تک لوگوں کے یہ اندازے تھے کہ یہ صرف زمین
ہی پر چلنے والی گاڑی بنا سکتا ہے ، ہوا پر اڑنے والی گاڑیاں بنانا اس کی قدرت میں
نہیں ہے۔ مگر آج کے ہوائی جہازوں نے بتا دیا ہے کہ انسان کے”امکانات“ کی حدیں تجویز
کرنے میں ان کے اندازے کتنے غلط تھے۔ اب
اگر کوئی شخص خدا کے لیے اُس کے صرف آج کے کام دیکھ کر امکانات کی کچھ حدیں تجویز
کردیتا ہے اورکہتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے
اس کے سوا وہ کچھ نہیں کر سکتا ،
تو وہ صرف اپنے ہی ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے، خد ا کی قدرت بہر حال اس کی باندھی
ہوئی حدوں میں بند نہیں ہو سکتی۔
چوتھی اور پانچویں بات،
یعنی یہ کہ ”قیامت کی گھڑی آکر رہے گی“ اور یہ کہ ”اللہ ضرور ان سب لوگوں
کو زندہ کر کے اُٹھائے گا جو مر چکے ہیں“،اُن تین مقدمات کا عقلی نتیجہ ہے جو اوپر
بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے کاموں کو اس کی قدرت کے پہلو سے دیکھیے تو دل گواہی دےگا
کہ وہ جب چاہے قیامت بر پا کر سکتا ہے اور
جب چاہے اُن سب مرنے والوں کو پھر سے زندہ کر سکتا ہے جن کو پہلے وہ عدم سے وجود میں
لایا تھا۔ اور اگر اُس کے کاموں کو اس کی حکمت کے پہلو سے دیکھیے تو عقل شہادت دے
گی کہ دونوں کام بھی وہ ضرور کر کے رہے گا کیونکہ ان کے بغیر حکمت کے تقاضے پورے
نہیں ہوتے اور ایک حکیم سے یہ بعید ہے کہ وہ ان تقاضوں کو پور ا نہ کرے۔ جو محدود
سی حکمت و دانائی انسان کو حاصل ہے اس کا یہ نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی اپنا مال
یا جائداد یا کاروبار جس کے سپرد بھی کرتا
ہے اس سے کسی نہ کسی وقت حساب ضرور لیتا
ہے۔ گویا امانت اور محاسبے کے درمیان ایک
لازمی عقلی رابطہ ہے جس کو انسان کی محدود حکمت بھی کسی حال میں نظر انداز نہیں
کرتی۔ پھرا سی حکمت کی بنا پر آدمی اِرادی اور غیر اِرادی افعال کے درمیان فرق
کرتا ہے ، اِرادی افعال کے ساتھ اخلاقی
ذمہ داری کا تصوّر وابستہ کرتا ہے، افعال میں نیک اور بد کی تمیز کرتا ہے ، اچھے
افعال کا نتیجہ تحسین اور انعام کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے ، اور بُرے افعال پر
سزا کا تقاضا کرتا ہے ، حتٰی کہ خود ایک نظام ِ عدالت اِس غرض کے لیے وجود میں
لاتا ہے۔ یہ حکمت جس خالق نے انسان میں پیدا کی ہے ، کیا باور کیا جا سکتا ہے کہ
وہ خود اس حکمت سے عاری ہو گا؟ کیا مانا جا سکتا ہے کہ اپنی اتنی بڑی دنیا اتنے
سروسامان اور اس قدر اختیارات کے ساتھ انسان کے سپرد کر کے وہ بھُول گیا ہے، اس کا
حساب وہ کبھی نہ لے گا؟ کیا کسی صحیح الدماغ آدمی کی عقل یہ گواہی دے سکتی ہے کہ
انسان کے جو بُرے اعمال سزا سے بچ نکلے ہیں ، یا جن برائیوں کی متناسب سزا اسے نہیں
مل سکی ہے ان کی باز پرس کے لیے کبھی عدالت قائم نہ ہوگی ، اور جو بھلائیاں اپنے
منصفانہ انعام سے محروم رہ گئی ہیں وہ ہمیشہ محروم ہی رہیں گی؟ اگر ایسا نہیں ہے
تو قیامت اور زندگی بعدِ موت خدائے حکیم کی حکمت کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کا پورا
ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا سراسر بعید از عقل
ہے۔
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 598، 600
سورہ نمل آیات 66تا69
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِيْ
شَكٍّ مِّنْهَا١۫ٞ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَؒ۰۰۶۶وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ
اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۰۰۶۷لَقَدْ
وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ
اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۶۸قُلْ
سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۶۹
سورہ نمل آیات 66تا 69
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ
اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے
اندھے ہیں۔یہ منکرین کہتے ہیں”کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو
ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے
ہمارے آبا و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو
اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں ۔“ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں
کا کیا انجام ہو چکا ہے۔
سورة النمل حاشیہ نمبر۸۵
الو ہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ
کرنے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں
اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور فکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبر ہا ن سے اس نتیجے پر
پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں ۔ بلکہ
اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔
چونکہ یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ یا اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے
فکرِ عقبٰی سے بے نیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویّہ پیدا کر دیا
ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی
رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات
اُس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے
اور موحد اور مُشکک سب کو مر کر مٹی ہو جانا ہے
اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔
آخرت کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اِس فقرے سے نکلا ہے
کہ ”وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے“۔اُس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا
کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔۔۔۔اور ان میں فرشتے ، جِن ، انبیاء، اور اولیاء سب
شامل تھے۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس
کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ار شاد ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ
وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہو گی بھی یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ
بے خبری اس بنا پر نہیں ہے کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کبھی نہ دی گئی
ہو،بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ
اس کی صحت میں شک کرنے لگے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے کبھی غور و خوض کر کے اُن دلائل
کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے ، بلکہ
اس کی طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔
دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے
سورة النمل حاشیہ نمبر۸٦
اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں
اور نصیحت بھی۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ
سکی ہیں ۔ وہ غیر ذمہ دار بن کرر ہیں۔
انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو گئیں۔ اور اخلاق کی تباہی نے
آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں
ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے
رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق
انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے ، نہ
مانا جائے تو رویہ غلط ہو جاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کانہ ماننا
صریح حقیقت کے خلاف ہے ، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔
دوسری دلیل
یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا
اس حقیقت پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری
فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات
کام کر رہا ہے ۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ
کر رہی ہے ۔ جس میں کسی قوم کو بد کر داریوں
کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پاجانے کے بعد وہ ابد الآ باد تک دادِ
عیش دیتی رہے اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے
چلی جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو
بامِ عروج سے گرا کر قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے ۔اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ
کبھی اس امر میں شک نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک
دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری
نوع انسانی کا انصاف چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو
انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو ں گے ۔ اس سے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں
ہوئی جن کی لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت
کا قصر بنا یا تھا۔ اس سے ان ظالموں کوتو
کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان
بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے
گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو
صرف اُن کی آخری نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑ دیا گیا ۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو
ہوا ہی نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا
بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام
دیا جائے جو بدی کے اِس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور
عمر بھر اِس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی
کائنات کی فرمانروا حکومت کا یہ مزاج اور
طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی
اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔
ان دودلیلوں
کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے
سبق لو اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں
مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔
يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۖۚ وَ
هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ۰۰۷اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ
مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ۰۰۸اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ
الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا
الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ
رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ
كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَؕ۰۰۹ سورہ روم آیات 7، 8، 9
لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے
وہ خود ہی غافل ہیں کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان
ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔
مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر
ہیں۔ اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام
نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ
طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا
انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان
پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں
سورة الروم حاشیہ نمبر۴
یعنی اگرچہ آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد کثرت سے
موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی
غفلت برت رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ، یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے
اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ گئے ہیں
اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بے خبر ہیں، ورنہ خدا کی طرف سے
ان کو خبردار کر نے میں کوئی کوتاہی نہیں
ہوئی ہے۔
اپنے آپ میں غور و فکر
نہیں کیا؟
سورة الروم حاشیہ نمبر۵
یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ
ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دَوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے
تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی
ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی
دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں:
ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بے شمار چیزیں اس کے لیے
مسخر کر دی گئی ہیں اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں۔
دوسرے یہ کہ اِسے اپنی راہِ زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان
اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے
جا سکتا ہے۔ حق اور باطل ، صحیح اور غلط ، جس طریقے کو بھی اختیار کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ ہر راستے
پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم
کردہ ذرائع استعمال کرسکتا ہے ، خواہ وہ
خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔
تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حِس رکھ دی گئی
ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیاری اعمال میں فرق کرتا ہے ، اختیاری
اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے ، اور بداہتًہ یہ رائے قائم کر تا ہے کہ
اچھا عمل جزا کا اور بُرا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔
یہ تینوں خصوصیتیں جو انسا ن کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں
اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کوئی وقت ایسا ہونا چاہیے جب انسان سے محاسبہ کیا
جائے۔ جب اس سے پوچھا جائے کہ جو کچھ دنیا میں
اس کو دیا گیا تھا اس پر تصرف کے اختیارات کو اس نے کس طرح استعمال کیا؟ جب
یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنی آزادئ انتخاب کو استعمال کر کے صحیح راستہ اختیار کیا
یا غلط؟ جب اس کے اختیاری اعمال کی جانچ کی جائے اور نیک عمل پر جزا اور بُرے عمل
پر سزا دی جائے ۔ یہ وقت لامحالہ انسان کا
کارنامۂ زندگی ختم اور اس کا دفترِ عمل بند ہونے کے بعد ہی آسکتا ہے نہ کہ اس سے
پہلے۔ اور یہ وقت لازماً اسی وقت آنا چاہیے جب کہ ایک فرد یا ایک قوم کا نہیں بلکہ
تمام انسانوں کا دفتر ِ عمل بند ہو۔ کیونکہ ایک فرد یا ایک قوم کے مر جانے پر اُن اثرات کا سلسلہ
ختم نہیں ہو جاتا جو اس نے اپنے اعمال کی
بدولت دنیا میں چھوڑ ے ہیں۔ اُس کے چھوڑے ہوئے اچھے بُرے اثرات بھی تو اس کے حساب
میں شمار ہونے چاہییں۔ یہ اثرات جب تک
مکمل طورپر ظاہر نہ ہو لیں انصاف کے مطابق
پورا محاسبہ کرنا اور پوری جزا یا سزا دینا کیسے ممکن ہے؟ اس طرح انسان کا اپنا
وجود اس بات کی شہادت دیتا ہے، اور زمین میں انسان کو جو حیثیت حاصل ہے وہ آپ سے
آپ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ایسی
ہو جس میں عدالت قائم ہو، انصاف کے ساتھ انسان کے کارنامۂ زندگی کا محاسبہ کیا
جائے، اور ہر شخص کو اس کے کام کے لحاظ سے جزا دی جائے۔
مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے
سورة الروم حاشیہ نمبر٦
اس فقرے میں آخرت کی
دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے وجود سے
باہر کے نظامِ کائنات کو بنظرِ غور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں نمایاں نظر آئیں گی:
ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئی ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل
نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بے ڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی
تعمیر اور تخریب دونوں ہی بے معنی ہوں۔ بلکہ یہ ایک سنجیدہ نظام ہے ، جس کا ایک ایک
ذرّہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی
ہر چیز میں ایک قانون کار فرما ہے، جس کی ہر شے با مقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدّن
اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام علوم
و فنون خود اس بات پر گواہ ہیں۔ دنیا کی
ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو دریافت کر کے اور ہر شے جس مقصد کے لیے
بنائی گئی ہے اسے تلاش کر کے ہی انسان یہاں یہ سب کچھ تعمیر کر سکا ہے۔ ورنہ ایک
بے ضابطہ اور بے مقصد کھلونے میں اگر ایک پُتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہو
تا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدّن کا تصوّر تک نہ کیا جا سکتا تھا۔ اب آخر یہ
بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس حکیم نے اِس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ
دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک مخلوق کو اعلیٰ درجہ کی ذہنی و جسمانی
طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادیٔ انتخاب دے کر، اخلاق کی حِس دے کر اپنی دنیا
کا بے شمار سروسامان تمہارے حوالے کیا ہے، اس نے تمہیں بے مقصد ہی پیدا کر دیا
ہوگا؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب، اور نیکی و بدی، اور ظلم و عدل، اور راستی و
ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کر نے کے بعد بس یونہی مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور
تمہارے کسی اچھے اور بُرے کام کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی
اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور دنیا کی بے شمار اشیاء پر بہت سے مفید
یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے مرتے ہی یہ سارا دفترِ عمل بس یونہی
لپیٹ کر دریا بُرد کر دیا جائے گا؟
دوسری حقیقت جو اس
کائنات کے نظام کا مطالعہ کرنے صاف نظر آتی
ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کسی چیز کے لیے بھی
ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم ہو جاتی ہے۔
اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں کام کر رہی
ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت تک ہی وہ کام کر رہی ہیں ، اور کسی وقت پر انہیں
لامحالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہو جانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو علم کی کمی
کے باعث اُن فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا کو ازلی و
ابدی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالَم کے حدوث و قِدَم کی اُس بحث میں ،
جو ایک مدّتِ دراز سے دہریوں اور خداپرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب قریب حتمی
طور پر اپنا ووٹ خداپرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے۔ اب دہریوں کے لیے عقل اور حکمت
کا نام لے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے
اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادّہ پرستی کا سارا انحصار اس
تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہو سکتا، صرف صورت بدلی جا سکتی ہے، مگر ہر تغیّر کے
بعد مادّہ مادّہ ہی رہتاہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا
پر یہ نتیجہ نکالا جاتا تھا کہ اس عالَمِ
مادّی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomic Energy ) کے انکشافات
نے اس پورے تخیل کی بساط اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوّت
مادّے میں تبدیل ہوتی ہے اور مادّہ پھر
قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولیٰ۔ اب حَرکیاتِ
حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of
Thermo-Dynamics ) نے یہ ثابت
کر دیا ہے کہ یہ عالَم مادّی نہ ازلی ہو
سکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازمًا ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے
سائنس کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن
نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر بات ہے کہ جب سائنس
ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کِن ٹانگوں پر اُٹھ کر قیامت کا انکار کرے گا؟
ملاقات کے منکر ہیں
سورة الروم حاشیہ نمبر۷
یعنی اس بات کے منکر کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے ربّ کے
سامنے حاضر ہونا ہے۔
جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟
سورة الروم حاشیہ نمبر۸
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت
کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران کثیر
التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں
جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد
الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کر لیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو
کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکارِ آخرت جس صور ت میں
بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو
غیر ذمہ دار سمجھ لر شتر بے مہار بن گئے، انہوں ظلم و فساد اور فسق و
فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا
ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے
انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ
ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان
کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ
زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا
انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق
دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں
زندگی بسر کرنا غلط ہے؟
زمین کو خوب ادھیڑا
تھا
سورة الروم حاشیہ نمبر۹
اصل میں لفظ اَثَارُو ا الْاَرْضَ استعمال ہو ا ہے ۔ اس کا
اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہو سکتا ہے اور زمین کھود کر زیرِ زمین پانی،
نہریں، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی۔
انہوں نے نہیں کیا ہے
سورة الروم حاشیہ نمبر١۰
اس میں اُن لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی
ترقی کو کسی قوم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین
کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (Exploit ) کیا ہے،
جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدّن کو جنم دیا
ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ
دیتا ہے کہ یہ ”تعمیری کام“ پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر
کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن سمیت پیوند
ِ خاک ہو گئیں اور ان کی ”تعمیر“ کا
قصرِ فلک بوس زمین پر آرہا؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ ٔ
حق اور اخلاقِ صالحہ کے بغیر محض مادّی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ
اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے؟
نشانیاں لے کر آئے
سورة الروم حاشیہ نمبر١١
یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے
کافی تھیں۔ اس سیاق و سباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف
انسان کے اپنے وجود میں ، اور اس سے باہر ساری
کائنات کے نظام میں، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں
موجود تھیں، اور دوسری طرف پے درپے ایسے
انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی
ہیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے۔
وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے
سورة الروم حاشیہ نمبر١۲
یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا
ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا۔ جو شخص یا گروہ
نہ خود سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر
اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے۔ خدا پر اس کا الزام
عائد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان
کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام بھی کیا
ہے ، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء
اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے۔ اِس رہنمائی اور ان ذرائع سے
اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا اور
اس حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے
دوچار ہونا پڑتا تب بلاشبہہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی۔
Comments
Post a Comment