دنیا طلبی کا لایا ہوا وبال
List of topics – Tafheemul Qur'an - Volume I
Battle of Uhud
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد اول- جنگ احد
دنیا طلبی کا لایا ہوا وبال صفحہ 294
مسلمانوں کو رنج پر رنج دینے کا مقصود 295
عین حالت جنگ میں مسلمانوں پر غنودگی کا غلبہ 296
وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ
تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي
الْاَمْرِ وَ عَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ
مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ۠١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ
اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۵۲اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ
يَدْعُوْكُمْ فِيْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا
تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ
بِمَا تَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵۳ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً
نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ
اَنْفُسُهُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ١ؕ
يَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ
كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ يُخْفُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ
يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ
قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ
الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ
وَ لِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۰۰۱۵۴
سورہ آل عمران آیات 152تا 157
اللہ نے (تائید ونصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس
نے پورا کر دیا ۔ ابتدا میں اس کے حکم سے
تم ہی ان کو قتل کر رہےتھے۔ مگر جب تم نے
کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں
دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے( یعنی
مالِ غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف
ورزی کر بیٹھے۔۔۔۔اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔۔۔۔ تب اللہ
نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا
تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ
اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیاکیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔
یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے
تک کا ہوش تمہیں نہ تھا ، اور رسول ؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہاتھا۔اس وقت تمہاری اس
روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم
کو رنج پر رنج دیے تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے
ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو
اس پر ملول نہ ہو ۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ
لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت
طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے۔ مگر ایک دوسرا گروہ ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفادہی کی تھی،
اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے
لگا جو سراسر خلافِ حق تھے، یہ لوگ اب کہتےہیں کہ”اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟“
ان سے کہو” (کسی کا کوئی حصہ نہیں)اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں
ہیں“۔ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائےہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے، ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ” اگر(قیادت کے)اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں
ہم نہ مارے جاتے ۔“ ان سے کہہ دو کہ”اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن
لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل
گاہوں کی طرف نکل آتے“۔ اور یہ
معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ
اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمارے دلوں میں ہے اسےچھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال
خوب جانتا ہے۔
حق یہ ہے کہ اللہ
نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١۰۹
یعنی تم نے غلطی تو ایسی کی تھی کہ اگر اللہ تمہیں معاف نہ
کردیتا تو اس وقت تمہارا استیصال ہو جاتا۔ یہ اللہ کا فضل تھا اور اس کی تائید و
حمایت تھی جس کی بدولت تمہارے دشمن تم پر قابو پالینے کے بعد ہوش گم کر بیٹھے اور
بلاوجہ خود پسپا ہوکر چلے گئے۔
رسول ؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہاتھا۔
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١١۰
جب مسلمانوں پر اچانک دو طرف سے بیک وقت حملہ ہوا اور ان کی
صفحوں میں ابتری پھیل گئی تو کچھ لوگ مدینہ
کی طرف بھاگ نکلے اور کچھ اُحد پر چڑھ گئے ، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انچ
اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ دُشمنوں کا چاروں طرف ہجوم تھا، دس بارہ آدمیوں کی مٹھی بھر
جماعت پاس رہ گئی تھی، مگر اللہ کا رسُول اس نازک موقع پر بھی پہاڑ کی طرح اپنی
جگہ جما ہوا تھا اور بھاگنے والوں کو پکار رہا تھا اِلَیَّ عِبَادَ اللہِ اِلَیَّ
عِبَادَاللہِ، اللہ کے بندو میری طرف آ ؤ
، اللہ کے بندو میری طرف آ ؤ ۔
تم کو رنج پر رنج دیے
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١١١
رنج ہزیمت کا، رنج اس خبر کا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید
ہو گئے، رنج اپنے کثیر التعداد مقتولوں اور مجرُوحوں کا، رنج اس بات کا کہ اب
گھروں کی بھی خیر نہیں ، تین ہزار دشمن، جن کی تعداد مدینہ کی مجموعی آبادی سے بھی
زیادہ ہے، شکست خوردہ فوج کو روندتے ہوئے
قصبہ میں آگھُسیں گے اور سب کو تباہ کر دیں گے۔
وہ اونگھنے لگے
سورة ال عمران حاشیہ نمبر١١۲
یہ ایک عجیب تجربہ تھا جو اس وقت لشکرِ اسلام کے بعض لوگوں
کو پیش آیا۔ حضرت ابو طلحہؓ جو اس
جنگ میں شریک تھے خود بیان کرتے ہیں کہ اس
حالت میں ہم پر اُونگھ کا ایسا غلبہ ہو رہا تھا کہ تلواریں ہاتھ سے چھُوٹی پڑتی تھیں۔
Comments
Post a Comment