احسان کا مفہوم
فہرست موضوعات- تفہیم القران جلد اول- احسان
احسان کا مفہوم صفحہ 412
مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ
اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيْمًا۰۰۱۴۷
سورہ نساء آیت 147
آخر اللہ کو کیا
پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش
پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے۔
اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو
سورة النساء حاشیہ نمبر١۷۵
شکر کے اصل معنی اعترافِ نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ آیت کا
مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویّہ
اختیار نہ کرو، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو، تو کوئی وجہ
نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے۔
ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویّہ یہی ہو
سکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور
عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے۔ اور اس
شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اوّلاً آدمی احسان کو اُسی کی طرف منسُوب کرے جس نے دراصل
احسان کیا ہے ، کسی دُوسرے کو احسان کے شکریہ
اور نعمت کے اعتراف میں اس کا حصہ دار نہ
بنائے۔ ثانیاً آدمی کا دل اپنے محسن کے لیے محبت اور وفاداری کے جذبہ سے لبریز ہو
اور اُس کے مخالفوں سے محبت و اخلاص اور وفاداری کا ذرہ برابر تعلق بھی نہ رکھے۔ ثالثًا وہ اپنے محسن کا مطیع و فرمانبردار
ہو او ر اس کی دی ہوئی نعمتوں کی اس کے منشاء کے خلاف استعمال نہ کرے۔
اللہ بڑا قدر دان ہے
سورة النساء حاشیہ نمبر١۷٦
اصل میں لفظ” شاکر“ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ”قدر
دان“ کیا ہے۔ شکر جب اللہ کی طرف سے بندے کی جانب ہو تو اس کے معنی”اعترافِ خدمت“ یا
قدر دانی کے ہوں گے، اور جب بندے کی طرف سے اللہ کی جانب ہو تو اس کو اعترافِ نعمت
یا احسان مندی کے معنی میں لیا جائے گا۔ اللہ کی طرف سے بندوں کا شکریہ ادا کیے
جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ناقدر شناس نہیں ہے ، جتنی اور جیسی خدمات بھی بندے اس
کی راہ میں بجا لائیں ، اللہ کے ہاں ان کی قدر کی جاتی ہے، کسی کی خدمات صِلہ و انعام سے محرُوم نہیں رہتیں ، بلکہ وہ نہایت فیاضی کے
ساتھ ہر شخص کو اس کی خدمت سے زیادہ صلہ دیتا ہے۔ بندوں کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ
آدمی نے کیا اس کی قدر کم کرتے ہیں اور جو کچھ نہ کیا اس پر گرفت کرنے میں بڑی سختی
دکھاتے ہیں ۔ لیکن اللہ کا حال یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے نہیں کیا ہے اس پر محاسبہ
کرنے میں وہ بہت نرمی اور چشم پوشی سے کام لیتا ہے، اور جو کچھ کیا ہے اس کی
قدر اس کے مرتبے سے بڑھ کر کرتا ہے۔
اطاعت کا سب سے اونچا مقام 153
وَ اَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا
بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ
الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۹۵ سورہ بقرہ ایت 195
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے
آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان
کا طریقہ اختیا ر کرو کہ اللہ محسنوں کو
پسند کرتا ہے۔
اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
سورة البقرة حاشیہ نمبر۲۰۷
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مُراد اللہ کے دین کو قائم
کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے
دین کو سربلند کرنے کے لیے اپنا مال خرچ نہ کرو گےا ور اس کے مقابلے میں اپنے ذاتی
مفاد کو عزیز رکھو گے، تو یہ تمہارے لیے دُنیا میں بھی موجب ِ ہلاکت ہو گا اور
آخرت میں بھی۔ دُنیا میں تم کفّار سے مغلوب اور ذلیل ہو کر رہو گے اور آخرت میں تم
سے سخت باز پرس ہو گی۔
اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے
سورة البقرة حاشیہ نمبر۲۰۸
احسان کا لفظ حُسن سے نِکلا ہے، جس کے معنی کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔
عمل کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی کے سپرد جو خدمت ہو، اُسے بس کردے۔ اور دُوسرا درجہ
یہ ہے کہ اسے خوبی کے ساتھ کرے، اپنی پُوری قابلیت اور اپنے تمام وسائل اس میں صرف
کر دے اور دل و جان سے اس کی تکمیل کی کوشش کرے۔ پہلا درجہ محض طاعت کا درجہ ہے،
جس کے لیے صرف تقویٰ اور خوف کافی ہو جاتا ہے۔ اور دُوسرا درجہ احسان کا درجہ ہے،
جس کے لیے محبت اور گہرا قلبی لگا ؤ درکار ہوتا ہے۔
دوسروں کی غلط روش سے چشم پوشی کرکے احسان کا رویہ اختیار
کرنے کا حکم 454، 455، 503
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ
جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِيَةً١ۚ يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ
وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى
خَآىِٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۱۳
سورہ مائدہ آیت 13
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم
نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے۔ اب ان کا حال یہ ہے
کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی
گئی تھی اُس کا بڑا حصّہ بُھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت
کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ (پس جب یہ اس
حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرا رتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں)لہٰذا انہیں
معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے
جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔ سورہ مائدہ آیت 13
لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ
اللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَؒ۰۰۹۳ سورہ مائدہ 93
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو
کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی
بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے
رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس
چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمانِ الٰہی ہو اُسے مانیں۔ پھر خدا ترسی کے
ساتھ نیک رویّہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ سورہ مائدہ آیت 93
احسان کی دنیوی جزا 560
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا
هَدَيْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ
وَ اَيُّوْبَ وَ يُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِي
الْمُحْسِنِيْنَۙ۰۰۸۴ سورہ انعام آیت 84
پھر ہم نے ابراہیمؑ
کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور
ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ (وہی راہِ راست جو) اس سے پہلے نوح ؑ کو دکھائی تھی ۔
اور اُسی کی نسل سے ہم نے داوٴدؑ ، سلیمانؑ ، ایّوبؑ ، یوسفؑ ، موسیٰ ؑ اور ہارونؑ
کو (ہدایت بخشی) ۔ اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔
سورہ انعام آیت 84
Comments
Post a Comment