آخرت میں عدالت کس طرح قائم ہوگی

  فہرست موضوعات -تفہیم القرآن – جلد دوم- عنوان - آخرت

آخرت میں عدالت کس طرح قائم ہوگی ۔ صفحہ  9،  281،  331

سورہ الاعراف آیات 8،9

 وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۸وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ۰۰۹سورہ الاعراف آیات 8،9

اور وزن اس روز عین حق ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گےاور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے۔ کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاوٴ کرتے رہے تھے۔

اور وزن اس روز عین حق ہوگا

سورة الاعراف حاشیہ نمبر۸

اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس روز خدا کی میزان ِ عدل میں وزن  اور حق دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی ہوں گے۔ حق کے سوا کوئی  چیزوہاں وزنی نہ ہوگیااو ر وزن کے سوا کوئی چیز حق نہ ہوگی۔جس کے ساتھ جتنا حق ہوگا اتنا ہی وہ باوزن ہوگا ۔ اور فیصلہ جو کچھ بھی ہو گا  وزن کے لحاظ سے ہوگا، کسی دوسری چیز کا ذرہ برابر لحاظ نہ کیا جائے گا۔ باطل کی پوری زندگی خواہ دنیا میں وہ کتنی ہی طویل وعریض رہی ہو اور کتنے ہی بظاہر شاندا ر کارنامے اس کی پشت پر ہوں ، اس ترازو میں سراسر بے وزن  قرار پائےگی۔ باطل پرست جب اُس میزان میں تولے جائیں گےتو اپنی آنکھوں  سے دیکھ لیں گے کہ دنیا میں جو کچھ وہ مدّت العمر کرتے رہے وہ سب ایک پرِکاہ کے برابر بھی  وزن نہیں رکھتا۔ یہی بات ہے جو سورہ کہف آیات ١۰۳ تا ١۰۵ میں فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں سب کچھ دنیا  ہی کے لیے کرتے رہے او راللہ کی آیات سے انکار کرکے جن لوگوں نے یہ سمجھتے ہوئےکام کیا کہ انجامِ کار کوئی آخرت نہیں ہے اور کسی کو حساب دینا نہیں ہے، ان کے کارنامئہ زندگی کو ہم آخرت میں کوئی وزن نہ دیں گے۔

وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے

سورة الاعراف حاشیہ نمبر۹

اس مضمون کو یوں سمجھیے کہ انسان کا کارنامہ  زندگی دو پہلووں میں تقسیم  ہوگا۔ ایک مثبت پہلو اور دوسرا منفی پہلو۔ مثبت پہلو میں صرف حق کو جاننا اور ماننا اور حق کی پیروی  میں حق ہی کی خاطر کام کرنا شمار ہو گا اورآخرت میں اگر کوئی چیز وزنی اور قیمتی ہوگی تو وہ بس یہی ہوگی۔ بخلاف اس کے حق سے غافل ہو کر یا حق سے منحرف ہو کر انسان جو کچھ بھی اپنی خواہشِ  نفس یا دوسرے انسانوں اور شیطانوں  کی پیروی کرتے ہوئے غیر حق کی راہ میں کرتا ہے وہ سب منفی پہلو میں جگہ پائے گا اور صرف یہی نہیں کہ یہ منفی پہلو بجائے خود بے قدر ہو گا یہ آدمی کے مثبت پہلووں کی قدر بھی گھٹا دے گا۔

پس آخرت میں انسان کی فلاح و کامرانی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ اس کے کارنامہ زندگی کا مثبت پہلو اس کےمنفی پہلو پر غالب ہو اور نقصانات میں بہت کچھ دے دلا کر بھی اس کے حساب میں کچھ نہ کچھ بچا رہ جائے۔ رہا وہ شخص جس کی زندگی کا منفی پہلو اُس کے تمام مثبت پہلوؤں کو دبالے تو اُس کاحال بالکل اُس دیوالیہ تاجر کا سا ہوگا جس کی ساری پونجی خساروں کا بھگتان بھگتنے اور مطالبات ادا کرنے ہی میں کھپ جائے اور پھر بھی کچھ نہ کچھ مطالبات اس کے ذمہ باقی رہ جائیں۔

سورہ یونس آیات 28،29،30

وَ يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَيَّلْنَا بَيْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِيَّانَا تَعْبُدُوْنَ۰۰۲۸فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِيْنَ۰۰۲۹هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۳۰ سورہ یونس آیات 28،29،30

جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں)اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاوٴ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا  پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ ” تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ ( تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو )ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔“ اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا  چکھ لے گا، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گُم ہو جائیں گے۔  سورہ یونس آیات 28،29،30

اجنبیت کا  پردہ ہٹا دیں گے36

سورة یونس حاشیہ نمبر۳٦

متن میں فَزَیَّلْنَا بَیْنَھُمْ کے الفاظ ہیں۔ اس کا مفہوم بعض مفسرین نے یہ لیا ہے کہ ہم ان کا باہمی ربط و تعلق توڑ  دیں گے تا کہ کسی تعلق کی بنا پر وہ ایک دوسرے کا لحاظ نہ کریں۔ لیکن یہ معنی عربی محاورے کے مطابق نہیں ہیں۔ محاورۂ عرب کی رو سے  اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہم ان کے درمیان تمیز پیدا کردیں گے ، یا ان کو ایک دوسرے سے ممیز کر دیں گے۔ اسی معنی کو ادا کرنے کے لیے ہم نے یہ طرزِ بیان اختیار کیا ہے کہ”ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے“ یعنی مشرکین اور ان کے معبود آمنے سامنے کھڑے ہوں گے اور دونوں گروہوں کی امتیازی حیثیت ایک دوسرے پر واضح ہو گی، مشرکین جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جن کو ہم دنیا میں معبود بنائے ہوئے تھے، اور ان کے معبود جان لیں گے کہ یہ ہیں وہ جنہوں نے ہمیں اپنا معبود بنا رکھا تھا۔

بے خبر تھے۔

سورة یونس حاشیہ نمبر۳۷

یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا ، اور وہ تمام جِنّ، ارواح، اسلاف، اجداد، انبیاء، اولیاء، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقو ق تھے ، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا ، کوئی التجا، کوئی پکار و فریاد، کوئِ نذر و نیاز، کوئی چڑہاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَۙ۰۰۱۸الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۱۹اُولٰٓىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ١ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۰۰۲۰اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۰۰۲۱لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۰۰۲۲اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۳سورہ ھود 18تا23

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے۔ ایسے لوگ اپنے ربّ کے حضُور پیش ہونگے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں  وہ لوگ جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ گھڑا تھا ۔ سُنو! خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر ۔۔۔۔ اُن ظالموں پر جو خُدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔۔ وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی اُن کا حامی تھا۔ اُنہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سُن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی اُنہیں کچھ سُو جھتا تھا ۔  یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو  خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ اُن سے کھویا گیا جو اُنہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے ربّ ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتّی لوگ ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ سورہ ھود آیات 19تا23

جو اللہ پر جھوٹ گھڑے

سورة ھود حاشیہ نمبر۲۰

یعنی  یہ کہے کہ اللہ کے ساتھ خدائی اور استحقاق بندگی میں دوسرے بھی شریک ہیں ۔ یا یہ کہے کہ خدا کو اپنے بندوں کی ہدایت و ضلالت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے کوئی کتاب اور کوئی نبی ہماری ہدایت کے لیے نہیں بھیجا ہے بلکہ ہمیں آزاد چھوڑ دیا ہے کہ جو ڈھنگ چاہیں اپنی زندگی کے لیے اختیار کرلیں۔ یا یہ کہے کہ خدا نے ہمیں یونہی کھیل کے طور پر پیدا کیا  اور یونہی ہم کو ختم کر دے گا،  کوئی جواب دہی ہمیں اس کے سامنے نہیں کرنی ہے اور کوئی جزا و سزا نہیں ہونی ہے۔

سُنو! خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر21

 

سورة ھود حاشیہ نمبر۲١

یہ عالم آخرت کا بیان ہے کہ وہاں یہ اعلان ہو گا۔

۔۔۔۔ اُن ظالموں پر22

سورة ھود حاشیہ نمبر۲۲

یہ جملۂ معترضہ ہے کہ جن ظالموں پر وہاں خدا کی لعنت کا اعلان ہو گا وہ وہی لوگ ہوں گے جو آج دنیا میں یہ حرکات کر رہے ہیں۔

اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں23

سورة ھود حاشیہ نمبر۲۳

یعنی وہ اس سیدھی راہ کو جوان کے سامنے پیش کی جارہی ہے پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ یہ راہ کچھ ان کی خواہشات  نفس اور ان کے جاہلانہ تعصّبات اور ان کے اوہام  و تخیلات کے مطابق ٹیڑھی ہو جائے تو وہ اسے قبول کریں۔

اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔۔24

سورة ھود حاشیہ نمبر۲۴

یہ پھر عالمِ آخرت کا بیان ہے۔

اُنہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ 25

سورة ھود حاشیہ نمبر۲۵

ایک عذاب خود گمراہ ہو نے کا۔ دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے اور بعد کی نسلوں کے لیے گمراہی کی میراث چھوڑ جانے کا۔ (ملاحظہ ہو سورۂ اعراف، حاشیہ نمبر ۳۰)

جو اُنہوں نے گھڑ رکھا تھا۔26

سورة ھود حاشیہ نمبر۲٦

یعنی وہ سب نظریات پادر ہوا ہو گئے جو انہوں نے خدا اور کائنات اور اپنی ہستی کے  متعلق گھڑ رکھے تھے، اور وہ سب بھروسے بھی جھوٹے ثابت ہوئے جو انہوں نے اپنے معبودوں اور سفارشیوں اور سرپرستوں پر رکھے تھے ، اور وہ قیاسات بھی غلط نکلے جو انہوں نے زندگی بعد موت کے بارے میں قائم کیے تھے۔

جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں