عقیدۂ آخرت کی تفصیلات

 عقیدۂ آخرت کی تفصیلات  صفحہ 263

فہرست موضوعات- تفہیم القرآن- جلد دوم- عنوان آخرت

سورہ یونس آیت 4

اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۰۰۴ سورہ یونس آیت 4

اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک پیدائش کی ابتداء وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کُفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بُھگتیں اُس انکارِحق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔

اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے

سورة یونس حاشیہ نمبر۸

یہ نبی کی تعلیم کا دوسرا بنیادی اصول ہے ۔ اصلِ اوّل یہ کہ تمہارا رب صرف اللہ ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو ۔ اور اصلِ دوم یہ کہ تمہیں اس دنیا سے واپس جا کر اپنے رب کو حساب دینا ہے۔

وہی دوبارہ پیدا کرے گا

سورة یونس حاشیہ نمبر۹

یہ فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا۔ اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا ۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے ( اور اس سے بجز اُن دہریوں کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیےخلقِ  بے خالق جیسے احمقانہ نظریے کو اوڑھنے پر آمادہ ہو گئے اور کون انکار کر سکتا ہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعید از فہم قرار نہیں دے سکتا کہ وہی خدا اس خلق کا پھر اعادہ کرے گا۔

دردناک سزا بُھگتیں اُس انکارِحق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے

سورة یونس حاشیہ نمبر ۱۰

یہ وہ ضرورت ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا ۔ اوپر جو دلیل دی گئی ہے وہ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی تھی کہ خلق  کا اعادہ ممکن ہے اور اسے مُستبعَد سمجھنا درست نہیں ہے ۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اعادۂ خلق ، عقل و انصاف کی روسے ضروری ہے اور یہ ضرورت تخلیقِ ثانیہ کے سوا کسی دوسرے طریقے سے پوری نہیں ہو سکتی۔ خدا کو اپنا واحد رب مان کر جو لوگ صحیح بندگی کا رویہ اختیار کریں وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں اپنے اس بجا طرزِ عمل کی پوری  پوری جزا ملے۔ اور جولو گ حقیقت سے  انکار کر کے  اس کے خلاف زندگی بسر کریں وہ بھی اس کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے اس بے جا طرزِ عمل کا برا نتیجہ دیکھیں ۔ یہ ضرورت اگر موجود ہ دنیوی زندگی میں پوری نہیں ہو رہی ہے (اور ہر شخص جوہٹ دھرم نہیں ہے جانتا ہے کہ نہیں ہو رہی ہے) تو اسے پورا کرنے کے لیے یقینًا دوبارہ زندگی ناگزیر ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ اعراف ، حاشیہ نمبر ۳۰ و سورۂ ہود ، حاشیہ نمبر ۱۰۵)۔

 

 

سورة الاعراف حاشیہ نمبر۳۰

 یعنی بہرحال تم میں سے ہر گروہ کسی کا خلف تھا تو کسی سلف بھی تھا۔اگر کسی گروہ کے اسلاف نے اُس کے لیے فکر وعمل کی گمراہیوں کا ورثہ چھوڑا تھا تو خود وہ بھی اپنے اخلاف کے لیے ویسا ہی ورثہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوا۔اگر ایک گروہ کے گمراہ ہونے کی کچھ ذمہ داری اس کے اسلاف پر عائد ہوتی ہے تو اس کے اخلاف کی گمراہی کااچھا خاصا بارخود اس پر بھی عائد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر فرمایا کہ ہر ایک کے لیے دو ہرا عذاب ہے۔ ایک عذاب خود گمراہی اختیار کرنے کااور دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے کا۔ ایک سزا اپنے جرائم کی اور دوسری سزادوسروں کے لیےجرائم پیشگی کی میراث چھوڑ آنے کی۔

حدیث میں اسی مضمون کی توضیح یوں بیان فرمائی گئی ہے کہ من ابتدع بدعة ضلالةِ لا یر ضا ھا اللہ و رسولہ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من عمل بھا لا ینقص ذالک من اوزارھم شیئا۔ یعنی جس نے کسی نئی گمراہی کا آغاز کیا جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک نا پسندیدہ ہو، تو اس پر ان سب لوگوں کے گناہ کی ذمہ داری عائد ہوگی جنہوں نے اس  کے نکالے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ، بغیر اس کے کہ خود ان عمل کرنے والوں کی ذمہ داری میں کوئی کمی ہو۔ دوسری حدیث میں ہے لاتُقتل نفس ظلما الاکان علی ابن اٰدم الاول کفل من دمھالا نہ اول من سَنَّ القتل ۔یعنی دنیا میں جو انسان بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے اس کے خونِ نا حق کا ایک حصہ آدم کے اُس پہلے بیٹے کو پہنچتا ہے جس نے اپنے بھائی  کو قتل کیاتھا، کیونکہ قتلِ انسان کا راستہ سب سے پہلے اسی نے کھولا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص یا گروہ کسی غلط خیال یا غلط رویّہ کی بنا ڈالتا ہے وہ صرف اپنی ہی غلطی کا ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں جتنے انسان اس سے متاثر ہوتے ہیں اُن سب کے گناہ کی ذمہ داری کا بھی ایک حصہ اس کے حساب میں لکھا جاتا رہتا ہے اور جب تک اس کی غلطی کے اثرات چلتے رہتے ہیں اس کے حساب میں ان کا اندراج ہوتا رہتا ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر شخص اپنی نیکی یا بدی کا صرف اپنی ذات کی حد تک ہی ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی جواب دہ ہے کہ اس کی نیکی یا بدی کے کیا اثرات دوسروں کی زندگیوں پر مترتّب ہوئے۔

مثال کے طور پر ایک زانی کو لیجیے۔ جن لوگوں کی تعلیم و تربیت سے، جن کی صحبت کے اثر سے، جن کی بُری مثالیں دیکھنے سے ، اور جن کی ترغیبات سے اس شخص کے اندر زنا کاری کی صفت نےظہور کیا وہ سب اس کے زنا کار بننے میں حصہ دار ہیں۔اور خود اُن لوگوں نے اوپر جہاں جہاں سے اس بد نظری وبدنیتی اور بدکاری کی میراث پائی ہے وہاں تک اس کی ذمہ داری پہنچتی ہے حتٰی کہ یہ سلسلہ اس اولین انسان پر منتہی ہوتا ہے جس نے سب سے پہلے نوعِ انسانی کوخواہش نفس کی تسکین کا یہ غلط راستہ دکھایا۔ یہ اُس زانی کے حساب کا وہ حصہ ہے جو اس کے ہم عصروں اور اس  کے اسلاف سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر وہ خود بھی اپنی زنا  کاری کا ذمہ دار ہے۔ اُس کو بھلے اور بُرے کی جو تمیز دی گئی تھی، اس میں ضمیر کی جوطاقت رکھی گئی تھی، اس کے اندر ضبطِ نفس کی جو قوت ودیعت کی گئی تھی، اس کو نیک لوگوں سےخیر و شر کا جو علم پہنچاتھا، اس کے سامنے اخیار کی جو مثالیں موجود تھیں، اس کو صنفی بدعملی کے برے نتائج سے  جو واقفیت تھی، ان میں سے کسی چیز سے بھی اس نے فائدہ نہ اُٹھایا اور اپنےآپ کو نفس کی اُس اندھی خواہش کے حوالے کر دیا جو صرف اپنی تسکین چاہتی تھی خواہ وہ کسی طریقہ سے ہو۔ یہ اس کےحساب کا وہ حصہ ہے جو اس کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر یہ شخص اُس بدی کو جس کا اکتساب اس نے کیا اور جسے خود اپنی سعی سے وہ پرورش کرتا رہا، دوسروں میں پھیلانا شروع کرتا ہے۔ کسی مرضِ خبیث کی چھوت کہیں سے لگا لاتا ہے اور اسےاپنی نسل میں اور خدا جانے کن کن نسلوں میں پھیلا کر نہ معلوم کتنی زندگیوں کوخراب کر دیتا ہے۔کہیں اپنا نطفہ چھوڑ آتا ہے اور جس بچہ کی پرورش کا بار اسے خود اُٹھانا چاہیے تھا اسے کسی اور کی کمائی  کا ناجائز حصہ دار، اس کےبچوں کےحقوق میں زبردستی کا شریک، اس کی میراث میں ناحق کا حق دار بنا دیتا ہے اور اِس حق تلفی کا سلسلہ نہ معلوم کتنی نسلوں تک چلتا رہتا ہے۔ کسی دوشیزہ لڑکی کو پُھسلا کر بد اخلاقی کی راہ پر ڈالتا ہےاور اس کے اندر وہ بُری صفات ابھار دیتا ہے جو اس سے منعکس ہو کر نہ معلوم کتنے خاندانوں اور کتنی نسلوں تک پہنچتی ہیں اور کتنے گھر بگاڑ دیتی ہیں۔ اپنی اولاد ،اپنے اقارب، اپنے دوستوں اور اپنی سوسائٹی کےدوسرے لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق کی ایک بُری مثال پیش کرتا ہے اور نہ معلوم کتنے آدمیوں کے چال چلن خراب کرنے کا سبب بن جاتا ہےجس کےاثرات بعد کی نسلوں میں مدّتہائے دراز تک چلتے رہتے ہیں ۔ یہ سارا فساد جو اس شخص نے سوسائٹی میں برپا کیا، انصاف چاہتا ہے کہ یہ بھی اس کے حساب میں لکھا  جائے اور اس وقت تک لکھا جاتا رہے جب تک اس کی پھیلائی ہوئی خرابیوں کا سلسلہ دنیا میں چلتا رہے ۔

اسی پر نیکی کو بھی قیاس کر لینا چاہیے۔ جو نیک ورثہ اپنے اسلاف سے ہم کو ملا ہے اُس کا اجر اُن سب لوگوں کو پہنچنا چاہیے جو ابتدائے آفر نیش سے ہمارے زمانہ تک اُس  کے منتقل کرنے میں حصہ لیتے رہے ہیں پھراس ورثہ کو لے کر اسے سنبھالنے اور ترقی دینے میں جو خدمت ہم انجام دیں گے اس کا اجر ہمیں بھی ملنا چاہیے۔ پھر اپنی سعی خیر کے جو نقوش و اثرات ہم دنیا میں چھوڑ جائیں گے انہیں بھی ہماری بھلائیوں کے حساب میں اس وقت تک برابر درج ہوتے رہنا چاہیےجب تک یہ نقوش باقی رہیں اور ان کے اثرات کا سلسلہ نوعِ انسانی میں چلتا رہے اور ان کے فوائد سے خلقِ خدا متمتع ہوتی رہے۔

جزا کی یہ صورت جو قرآن پیش کر رہا ہے، ہر صاحب ِ عقل انسان تسلیم کرےگا کہ صحیح اور مکمل انصاف اگر ہو سکتا ہے تو اسی طرح ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کو اگر اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس سے اُن لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہو سکتی ہیں جنہوں نے جزا ء کے لیے اسی دنیا کی موجودہ زندگی کو کافی سمجھ لیا ہے، اور اُن لوگوں کی غلط فہمیاں بھی جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انسان کو اس کے اعمال کی پوری جزاء تناسُخ کی صورت میں مل سکتی ہے۔ دراصل ان دونوں گروہوں نے نہ تو انسانی اعمال اور ان کے اثرات و نتائج کی وسعتوں کو سمجھا ہے اور نہ منصفانہ جزا اور اس کے تقاضوں کو ۔ ایک انسان آج اپنی پچاس ساٹھ سال کی زندگی میں جو اچھے یا بُرے کام کرتا ہے ان کی ذمہ داری میں نہ معلوم اوپر کی کتنی نسلیں شریک  ہیں جو گزر چکیں اور آج یہ ممکن نہیں کہ انہیں اس کی جزاء یا سزا پہنچ سکے۔ پھر اس شخص کے یہ اچھے یا بُرے اعمال جو وہ آج کر رہا ہے اس کی موت کے ساتھ ختم نہیں  ہو جائیں  گے بلکہ ان کے اثرات کا سلسلہ آئندہ صد ہا برس تک چلتا  رہے گا، ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں  انسانوں تک پھیلے گا اور اس کے حساب کا کھاتہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک یہ اثرات چل رہے ہیں اور پھیل رہے ہیں۔ کس طرح ممکن ہے کہ آج ہی اِس دنیا  کی زندگی میں  اس شخص کو اس کے کسب کی پوری جزا مل جائے درآں حالے کہ ابھی اس کے کسب کے اثرات کا لاکھواں حصہ بھی رونما نہیں ہوا ہے۔  پھر اس دنیا کی محدود زندگی اور اس کے محدود امکانا ت سرے سے اتنی گنجائش ہی نہیں رکھتے کہ یہاں کسی کو اس کے کسب کا پورا بدلہ مل سکے۔ آپ کسی ایسے شخص کے جرم کا تصور کیجیے جو مثلاً  دنیا میں ایک جنگِ عظیم کی آگ بھڑکاتا ہے او ر اس کی  اس حرکت کے بے شمار برے نتائج ہزاروں برس تک اربوں انسانوں تک پھیلتے ہیں۔ کیا کوئی بڑی سے بڑی جسمانی ، اخلاقی ، روحانی، یا مادّی سزا بھی، جو اس دنیا میں  دی جانی ممکن ہے، اُس کے اِس جرم کی پوری منصفانہ سزا ہو سکتی ہے؟ اسی طرح کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انعام بھی، جس کا تصور آپ کر سکتے ہیں، کسی ایسے شخص کے لیے کافی ہو سکتا ہے جو مدّةالعمر نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے کام کرتا رہا ہو اور ہزاروں سال تک بے شمار انسان جس کی سعی کے ثمرات سے فائدہ اُٹھائے چلے جارہے ہوں۔ عمل اور جزا کے مسئلے کو اس پہلو سے جو شخص دیکھے گا اُسے یقین ہو جائے گا کہ جزا کے لیے ایک دوسرا ہی عالم درکار ہے جہاں تمام اگلی اور پچھلی نسلیں جمع ہوں، تمام انسانوں کے کھاتے بند ہو چکے ہوں، حساب کرنے کے   لیے ایک علیم و خیبر خدا انصاف کی کُرسی پر متمکن ہو، اور اعمال کا پورا بدلہ پانے کے لیے انسان کے پاس  غیر محدودزندگی اور اس کے گردوپیش جزا و سزا کے غیر محدودامکانات موجود ہوں۔

پھر اسی پہلو پر غور کرنے سے اہلِ تناسُخ کی ایک اور بنیادی غلطی کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے جس میں مبتلا ہو انہوں ے آواگون کا چکر تجویز کیا ہے۔ وہ اس حقیقت  کو نہیں سمجھے کہ صرف ایک ہی مختصر سی پچاس سالہ زندگی کے کارنامے کا پھل پانے کے لیے اُس سے ہزاروں گنی  زیادہ طویل زندگی درکار ہے،کجا کہ اس پچاس سالہ زندگی کے ختم ہوتے ہی ہماری ایک دوسری اور پھر تیسری ذمہ دارانہ زندگی اِسی دنیا میں شروع ہو جائے اور ان زندگیوں میں بھی  ہم مزید ایسے کام کرتے چلے جائیں جن کا اچھا یا بُرا پھل ہمیں ملنا ضروری ہو۔ اِس طرح تو حساب بے باق ہونے کے بجائے اور زیادہ بڑھتا ہی چلا جائے گا اور اس کے بے باق ہونے کی نوبت کبھی آہی نہ سکے گی۔

سورة ھود حاشیہ نمبر ۱۰۵

یعنی تاریخ کے اِن واقعات میں ایک ایسی نشانی ہے جس پر اگر انسان غور کرے تو اسے یقین آجائے گا کہ عذاب آخرت ضرور پیش آنے والا ہے اور اس کے متعلق پیغمبروں کی دی ہوئی خبر سچی ہے ۔ نیز اس  کی نشانی  سے وہ  یہ  بھی معلوم کر سکتا ہے کہ عذاب آخرت کیسا سخت ہو گا اور یہ علم اس کے دل میں خوف پیدا کر کے اسے سیدھا کردے گا۔

اب رہی یہ بات کہ تاریخ میں وہ کیا چیز ہے جو آخرت اور اس کے عذاب کی علامت کہی جا سکتی ہے ، تو ہر وہ شخص اسے بآسانی سمجھ سکتا ہے جو تاریخ کو محض واقعات کا مجموعہ ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ ان واقعات کی منطق پر بھی کچھ غور کرتا ہو اور ان سے نتائج بھی اخذ کرنے کا عادی ہو۔ ہزار ہا برس کی انسانی تاریخ میں قوموں اورجماعتوں  کا اٹھنا اور گرنا جس تسلسل اور باضابطگی  کے ساتھ رونما ہوتا رہا ہے ، اور پھر اس گرنے اور اُٹھنے میں جس طرح صریحًا کچھ اخلاقی اسباب کا ر فرما رہے ہیں ، اور گرنے والی قومیں جیسی جیسی عبرت انگیز صورتوں سے گری ہیں ، یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف کھلا اشارہ  ہے   کہ انسان اس کائنات میں ایک ایسی حکومت کا محکوم ہے جو محض اندھے  طبعیاتی قوانین پر فرنروائی نہیں کر رہی ہے ، بلکہ اپنا ایک معقول اخلاقی قانون رکھتی ہے جس کے مطابق وہ اخلاق کی ایک خاص حد سے اوپر رہنے والوں کو جزا دیتی ہے ، اس سے نیچے اترنے والوں کو کچھ مدت تک دھیل دیتی رہتی ہے، اور جب وہ اس سے بہت زیادہ نیچے چلے جاتے ہیں تو پھر انہیں گرا کر  ایسا پھینکتی ہے کہ وہ ایک داستان عبرت بن کر رہ جاتے ہیں ۔ ان واقعات کا ہمیشہ ایک ترتیب کے ساتھ رونما ہوتے رہنا اس امر میں شبہہ کرنے کی ذرہ برابر گنجائش نہیں چھوڑتا کہ جزا اور مُکافات اس سلطنتِ کائنات کا ایک مستقل قانون ہے۔

پھر جو عذاب مختلف قوموں پر آئے ہیں اُن پر مزید غور کرنے سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ  ازروئے انصاف قانونِ جزا و مُکافات کے جو اخلاقی  تقاضے ہیں وہ ایک حد تک تو ان عذابوں سے ضرور پورے ہوئے ہیں مگر بہت بڑی حد تک ابھی تشنہ ہیں۔ کیونکہ دنیا میں جو عذاب آیا اس نے صرف اُس  نسل کو پکڑا جو عذاب کے وقت موجود تھی۔ وہیں وہ نسلیں جو شرارتوں کے بیج بو کر اور ظلم  و  بدکاری کی فصلیں تیار کر کے کٹائی سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں اور جن کے کرتوتوں کا خمیازہ بعد کی نسلوں کو بھگتنا پڑا، وہ تو گویا   قانون مکافات  کے عمل سے صاف ہی بچ نکلی ہیں۔ اب اگر ہم تاریخ کے مطالعہ سے سلطنت کائنات کے مزاج کو ٹھیک ٹھیک سمجھ چکے ہیں تو ہمارا یہ مطالعہ ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ عقل اور انصاف کی رو سے قانون مکافات کے جو اخلاقی تقاضے ابھی تشنہ ہیں ،ا ن کو پورا کرنے کے لیے یہ عادل سلطنت یقینًا پھر ایک  دوسرا عالم برپا کرے گی اور وہاں تمام ظالموں کو ان کے کرتوتوں کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ بدلہ دنیا کے اِن عذابوں  سے بھی زیادہ سخت ہو گا ۔ (ملاحظہ ہو سورۂ اعراف، حاشیہ نمبر ۳۰ و سورہ یونس، حاشیہ نمبر ۱۰)۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں