امکان آخرت کے دلائل فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم
صفحات 7، 20، 76، 201،
203تا 207، 295، 297،
598، 600، 688، 689،
736، 742تا750، 763،
764
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 7
موضوع اور مضمون سورہ کہف
اصحاب کہف کا قصہ عقیدۂ آخرت کی صحت کا ایک ثبوت ہے۔ جس
طرح خدا نے اصحاب کہف کو ایک مدت دراز تک موت کی نیند سلانے کے بعد پھر جلا اُٹھایا
اُسی طرح اُس کی قدرت سے وہ بعث بعد الموت بھی کچھ بعید نہیں ہے جسے ماننے سے تم
انکار کر رہے ہو۔
ہ توحید اور آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری اپنی بھلائی
اسی میں ہے کہ انہیں مانو۔ ان کے مطابق اپنی اصلاح کرو اور خدا کے حضور اپنے آپ کو
جواب دہ سمجھتے ہوئے دنیا میں زندگی بسر کرو۔ ایسا نہ کرو گے تو تمہاری اپنی زندگی
خراب ہوگی اور تمہارا سب کچھ کیا کرایا اکارت جائے گا۔
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 20
سورہ کہف آیت 22
سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ
وَ يَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا
بِالْغَيْبِ١ۚ
وَ يَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ
قُلْ رَّبِّيْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِيْلٌ١۫۬
فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪
وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًاؒ۰۰۲۲ سورہ کہف آیت 22
کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا
تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے
تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔
کہو، میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے
ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو،
اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو
اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو
سورة الکھف حاشیہ نمبر۲۳
مطلب
یہ ہے اصل چیز ان کی تعداد نہیں ہے ، بلکہ اصل چیز وہ سبق ہیں جو اس قصے سے ملتے ہیں۔
اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایک سچے مومن کو کسی حال میں حق سے منہ موڑنے اور باطل کے
آگے سر جھکانے کے لیے تیار نہ ہونا چاہیے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کا اعتماد
اسباب دنیا پر نہیں بلکہ اللہ پر ہونا چاہیے ، اور حق پرستی کے لیے بظاہر ماحول میں
کسی سازگاری کے آثار نظر نہ آتے ہوں تب بھی اللہ کے بھروسے پر راہ حق میں قدم اٹھا
دینا چاہیے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جس ’’ عادت جاریہ‘‘ کو لوگ ’’ قانون فطرت‘‘
سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اس قانون کے خلاف دنیا میں کچھ نہیں ہو سکتا،
اللہ تعالیٰ در حقیقت اس کا پابند نہیں ہے ، وہ جب اور جہاں چاہے اس عادت کو بدل
کر غیر معمولی کام بھی کرنا چاہے، کر سکتا ہے۔ اس کے لیے یہ کوئی بڑا کام نہیں ہے
کہ کسی کو دو سو برس تک سلا کر اس طرح اٹھا بٹھائے جیسے وہ چند گھنٹے سویا ہے ،
اور اس کی عمر ، شکل ، صورت، لباس، تندرستی، غرض کسی چیز پر بھی اس امتداد زمانہ
کا کچھ اثر نہ ہو۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نوع انسانی کی تمام اگلی پچھلی نسلوں
کو بیک وقت زندہ کر کے اٹھا دینا ، جس کی خبر انبیاء اور کتب آسمانی نے دی ہے،
اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جاہل انسان
کس طرح ہر زمانے میں اللہ کی نشانیوں کو اپنے لیے سرمۂ چشم بصیرت بنانے کے بجائے
الٹا مزید گمراہی کا سامان بناتے رہے ہیں۔ اصحاب کہف کا جو معجزہ اللہ نے اس لیے
دکھایا تھا کہ لوگ اس سے آخرت کا یقین حاصل کریں ، ٹھیک اسی نشان کو انہوں نے یہ
سمجھا کہ اللہ نے انہیں اپنے کچھ اور ولی پوجنے کے لیے عطا کر دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہیں وہ اصل سبق جو آدمی کو اس قصے سے لینے چاہییں اور اس میں توجہ کے قابل یہی
امور ہیں۔ان سے توجہ ہٹا کر اس کھوج میں لگ جانا کہ اصحاب کہف کتنے تھے اور کتنے
نہ تھے ، اور ان کے نام کیا کیا تھے ، اور ان کا کتا کس رنگ کا تھا، یہ ان لوگوں
کا کام ہے جو مغز کو چھوڑ کر صرف چھلکوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔اس لیے اللہ تعالیٰ
نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ کے واسطے سے اہل ایمان کو یہ تعلیم دی کہ
اگر دوسرے لوگ اس طرح کی غیر متعلق بحثیں چھیڑیں بھی تو تم ان میں نہ الجھو، نہ ایسے
سوالات کی تحقیق میں اپنا وقت ضائع کرو ، بلکہ اپنی توجہ صرف کام کی بات پر مرکوز
رکھو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی صحیح تعداد بیان نہیں فرمائی تاکہ
شوق فضول رکھنے والوں کو غذا نہ ملے۔
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 76
سورہ مریم آیات 66تا68
وَ يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ
اُخْرَجُ حَيًّا۰۰۶۶اَوَ
لَا يَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ يَكُ شَيْـًٔا۰۰۶۷فَوَرَبِّكَ
لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّيٰطِيْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ
جِثِيًّاۚ۰۰۶۸ سورہ مریم آيات 66تا68
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ
کر کے نکال لایا جاوٴں گا؟ کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر
چکےہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟ تیرے ربّ کی قسم ، ہم ضرور اِن سب کو اور ان کے
ساتھ شیاطین کو بھی 42 گھیر لائیں گے، پھر جہنّم کے گِرد لا کر انھیں گُھٹنوں کے
بل گرا دیں گے۔ سورہ مریم آیات 66تا68
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 201
سورہ حج آیات 1،
2
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ
اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ۰۰۱يَوْمَ تَرَوْنَهَا
تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ
حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ
اللّٰهِ شَدِيْدٌ۰۰۲
سورہ حج آیات 1، 2
لوگو، اپنے ربّ کے غضب سے بچو ، حقیقت یہ ہے کہ قیامت
کا زلزلہ بڑی( ہولناک)چیز ہے۔ جس روز تم
اُسے دیکھو گے، حال یہ ہوگا کہ ہر دُودھ پلانے والی اپنے دُودھ پیتے بچے سے غافل
ہو جائے گی۔ ہر حاملہ کا حمل گِر جائے گا،
اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا
عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔ سورہ مریم آیات
1،2
امکان آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 203تا207
سورہ حج آیت 7
وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ
وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ۰۰۷ سورہ حج آیت 7
اور یہ ( اِس بات کی دلیل ہے )کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے
گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اُٹھائے گا جو
قبروں میں جاچکے ہیں۔
جو قبروں میں جاچکے ہیں۔
سورة الحج حاشیہ نمبر۹
اِن آیات میں انسان کی پیدائش کے مختلف اطوار، زمین پر
بارش کے اثرات ، اور نباتات کی پیداوار کو پانچ حقیقتوں کی نشان دہی کرنے والے
دلائل قرار دیا گیا ہے:
(۱) یہ کہ اللہ ہی حق
ہے،
(۲) یہ کہ وہ مُردوں
کو زندہ کر تا ہے،
(۳) یہ کہ وہ ہر چیز
پر قادر ہے،
(۴) یہ کہ قیامت کی
گھڑی آکر رہے گی، اور
(۵) یہ کہ اللہ ضرور
اُن سب لوگوں کو زندہ کر کے اُٹھائے گا جو مر چکے ہیں۔
اب دیکھیے کہ یہ آثار ان پانچوں حقیقتوں کی کس طرح نشان
دہی کرتے ہیں۔
پورے نظامِ کائنات کو چھوڑ کر آدمی صرف اپنی ہی پیدائش
پر غور کرے تو معلوم ہو جائے کہ ایک ایک
انسان کی ہستی میں اللہ کی حقیقی اور واقعی تدبیر ہر وقت بالفعل کا ر فرما ہے اور
ہر ایک کے وجود اور نشونما کا ایک ایک مرحلہ اس کے ارادی فیصلے پر ہی طے ہوتا ہے ۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ایک لگے بندھے قانون پر ہو رہا ہے جس کو ایک اندھی
بہری بے علم و بے ارادہ فطرت چلا رہی ہے۔ لیکن وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں
نظر آئے کہ ایک ایک فرد انسانی جس طرح
وجود میں آتا ہے اور پھر جس طرح وہ وجود کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس میں ایک حکم و قادرِ مطلق ہستی
کا ارادی فیصلہ کس شان سے کام کر رہا ہے۔ آدمی جو غذا کھاتا ہے اس میں کہیں انسانی
تخم موجود نہیں ہوتا، نہ اُس میں کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو نفسِ انسانی کے خواص پیدا
کرتی ہو۔ یہ غذا جسم میں جا کر کہیں بال، کہیں گوشت اور کہیں ہڈی بنتی ہے ، اور ایک خاص مقام پر پہنچ
کر یہی اُس نطفے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کے اندر انسان بننے کی استعداد رکھنے
والے تخم موجود ہوتے ہیں ۔ ان تخموں کی کثرت کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک مرد
سے جتنا نطفہ خارج ہوتا ہے اُس کے اندر کئی کروڑ تخم پائے جاتے ہیں اور ان میں سے
ہر ایک بیضۂ انثٰی سے مِل کر انسان بن جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ کسی حکیم
و قدیر اور حاکمِ مطلق کا فیصلہ ہے جو ان بے شمار امیدواروں میں سے کسی ایک کو کسی
خاص وقت پر چھانٹ کر بیضۂ انثٰی سے ملنے کا موقع دیتا ہے اور اس طرح استقرارِ حمل
رونما ہوتا ہے ۔ پھر استقرار کے وقت مرد کے تخم اور عورت کے بیضی خلیے (Egg Cell) کے ملنے سے جو چیز
ابتداءً بنتی ہے وہ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ خوردبین کے بغیر نہیں دیکھی جا سکتی ۔ یہ
حقیر سی چیز ۹
مہینے اور چند روز میں رحم کے اندر پرورش
پا کر جن بے شمار مرحلوں سے گزرتی ہوئی ایک جیتے جاگتے انسان کی شکل اختیار کرتی
ہے اُن میں سے ہر مرحلے پر غور کرو تو
تمہارا دل گواہی دے گا کہ یہاں ہر آن ایک حکیمِ فعال کا ارادی فیصلہ کام کرتا رہا
ہے۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کسے تکمیل کو پہنچانا ہے اور کسے خون کے لوتھڑے ، یا
گوشت کی بوٹی، یا نا تمام بچے کی شکل میں
ساقط کر دینا ہے ۔ وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو زندہ نکالنا ہے اور کس کو مردہ۔ کس
کو معمولی انسان کی صورت و ہیئت میں نکالنا ہے اور کسے اَن گنت غیر معمولی صورتوں
میں سے کوئی صورت دے دینی ہے۔ کس کو صحیح و سالم نکالنا ہے اور کسے اندھا، بہرا،
گُونگا یا ٹُنڈا اور لُنجا بنا کر پھینک دینا ہے۔ کس کو خوبصورت بنانا ہے اور کسے
بدصورت ۔ کس کو مرد بنانا ہے اور کس کو عورت۔ کس کو اعلیٰ درجے کی قوتیں اور صلاحیتیں
دے کر بھیجنا ہے اور کسے کوَدن اورکُند ذہن پیدا کرنا ہے۔ یہ تخلیق و تشکیل کا عمل،
جو ہر روز کروڑوں عورتوں کے رحموں میں ہو رہا ہے ، اِس کے دَوران میں کسی وقت کسی
مرحلے پر بھی ایک خدا کے سوا دنیا کی کوئی طاقت ذرّہ برابر اثر انداز نہیں ہو سکتی،
بلکہ کسی کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کس
پیٹ میں کیا چیز بن رہی ہے اور کیا بن کر نکلنے والی ہے۔ حالانکہ انسانی آبادیوں کی
قسمت کے کم از کم ۹۰
فیصدی فیصلے انہی مراحل میں ہوجاتے ہیں اور یہیں افراد ہی کے نہیں ، قوموں کے ،
بلکہ پوری نوع ِ انسانی کے مستقبل کی شکل بنائی
اور بگاڑی جاتی ہے۔ اس کے بعد جو بچے دنیا میں آتے ہیں ، ان میں سے ہر ایک
کے بارے میں یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کسے زندگی کا پہلا سانس لیتے ہی ختم ہو جانا
ہے، کسے بڑھ کر جوان ہونا ہے ، اور کس کو قیامت کے بوریے سمیٹنے ہیں؟ یہاں بھی ایک
غالب ارادہ کار فرما نظر آتا ہے اور غور کیا
جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس کی کارفرمائی کسی عالمگیر تدبیر و حکمت پر مبنی ہے
جس کے مطابق وہ افراد ہی کو نہیں، قوموں اور ملکوں کی قسمت کے بھی فیصلے کر رہا
ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اگر کسی کو اس امر میں شک ہے کہ اللہ”حق “ہے اور صرف
اللہ ہی ”حق“ ہے تو بے شک وہ عقل کا اندھا ہے۔
دوسری
بات جو پیش کردہ آثار سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ”اللہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے“۔
لوگوں کو تو یہ سُن کر اچنبھا ہوتا ہے کہ اللہ کسی وقت مُردوں کو زندہ کرے گا ،
مگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو انہیں نظر آئے
کہ وہ تو ہر وقت مُردے جِلا رہا ہے۔ جن مادّوں سے آپ کا جسم بنا ہے اورجن
غذاؤں سے وہ پرورش پاتا ہے اُن کا تجزیہ کر کے دیکھ لیجیے۔ کوئلہ، لوہا، چونا،
کچھ نمکیات، کچھ ہوائیں، اور ایسی ہی چند چیزیں اور ہیں۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی
حیات اور نفسِ انسانی کے خواص موجود نہیں ہیں۔ مگر انہی مردہ ، بے جان مادوں کو جمع کرکے آپ کو جیتا جاگتا وجود بنا دیا
گیا ہے۔ پھر انہی مادّوں کی غذا آپ کے جسم میں جاتی ہے اور وہاں اس سے مَردوں میں
وہ تخم اور عورتوں میں وہ بیضی خلیے بنتے ہیں جن کے ملنے سے آپ ہی جیسے جیتے جاگتے
انسان روز بن بن کر نکل رہے ہیں۔ اس کے بعد ذرا اپنے گردو پیش کی زمین پر نظر ڈالیے۔
بے شمار مختلف چیزوں کے بیج تھے جن کو
ہواؤں اور پرندوں نے جگہ جگہ پھیلا دیا تھا، اور بے شمار مختلف چیزوں کی جڑیں تھیں
جو جگہ جگہ پیوندِ خاک ہوئی پڑی تھیں۔ ان میں کہیں بھی نباتی زندگی کا کوئی ظہور
موجود نہ تھا۔ آپ کے گردوپیش کی سوکھی زمین ان لاکھوں مُردوں کی قبر بنی ہوئی تھی۔
مگر جونہی کہ پانی کا ایک چھینٹا پڑا، ہر
طرف زندگی لہلہانے لگی، ہر مُردہ جڑ اپنی قبر سے جی اُٹھی، اور ہر بے جان بیج ایک
زندہ پودے کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ احیائے اموات کا عمل ہر برسات میں آپ کی
آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔
تیسری چیز جو ان مشاہدات سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ
”اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔ ساری کائنات کو چھوڑ کر صرف اپنی اِسی زمین کو لے لیجیے
، اور زمین کے بھی تمام حقائق و اقعات کو چھوڑ کر صرف انسان اور نباتات ہی کی زندگی
پر نظر ڈال کر دیکھ لیجیے۔ یہاں اُس کی قدرت کے جو کرشمے آپ کو نظر آتے ہیں کیا
انہیں دیکھ کو کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ خدابس وہی کچھ کر سکتا
ہے جو آج ہم اسے کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور کل اگر وہ کچھ اور کرنا چاہے تو نہیں
کر سکتا؟ خدا تو خیر بہت بلند و برتر ہستی ہے ، انسان کے متعلق پچھلی صدی تک لوگوں کے یہ اندازے تھے کہ یہ صرف زمین
ہی پر چلنے والی گاڑی بنا سکتا ہے ، ہوا پر اڑنے والی گاڑیاں بنانا اس کی قدرت میں
نہیں ہے۔ مگر آج کے ہوائی جہازوں نے بتا دیا ہے کہ انسان کے”امکانات“ کی حدیں تجویز
کرنے میں ان کے اندازے کتنے غلط تھے۔ اب
اگر کوئی شخص خدا کے لیے اُس کے صرف آج کے کام دیکھ کر امکانات کی کچھ حدیں تجویز
کردیتا ہے اورکہتا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے
اس کے سوا وہ کچھ نہیں کر سکتا ،
تو وہ صرف اپنے ہی ذہن کی تنگی کا ثبوت دیتا ہے، خد ا کی قدرت بہر حال اس کی باندھی
ہوئی حدوں میں بند نہیں ہو سکتی۔
چوتھی اور پانچویں بات، یعنی یہ کہ ”قیامت کی گھڑی آکر رہے گی“ اور یہ
کہ ”اللہ ضرور ان سب لوگوں کو زندہ کر کے اُٹھائے گا جو مر چکے ہیں“،اُن تین
مقدمات کا عقلی نتیجہ ہے جو اوپر بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے کاموں کو اس کی قدرت کے
پہلو سے دیکھیے تو دل گواہی دےگا کہ وہ جب
چاہے قیامت بر پا کر سکتا ہے اور جب چاہے اُن سب مرنے والوں کو پھر سے زندہ کر
سکتا ہے جن کو پہلے وہ عدم سے وجود میں لایا تھا۔ اور اگر اُس کے کاموں کو اس کی
حکمت کے پہلو سے دیکھیے تو عقل شہادت دے گی کہ دونوں کام بھی وہ ضرور کر کے رہے گا
کیونکہ ان کے بغیر حکمت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور ایک حکیم سے یہ بعید ہے کہ وہ
ان تقاضوں کو پور ا نہ کرے۔ جو محدود سی حکمت و دانائی انسان کو حاصل ہے اس کا یہ
نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی اپنا مال یا جائداد یا کاروبار جس کے سپرد بھی کرتا ہے اس سے کسی نہ کسی وقت حساب ضرور لیتا ہے۔ گویا
امانت اور محاسبے کے درمیان ایک لازمی عقلی
رابطہ ہے جس کو انسان کی محدود حکمت بھی کسی حال میں نظر انداز نہیں کرتی۔ پھرا سی
حکمت کی بنا پر آدمی اِرادی اور غیر اِرادی افعال کے درمیان فرق کرتا ہے ، اِرادی افعال کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصوّر وابستہ
کرتا ہے، افعال میں نیک اور بد کی تمیز کرتا ہے ، اچھے افعال کا نتیجہ تحسین اور
انعام کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے ، اور بُرے افعال پر سزا کا تقاضا کرتا ہے ، حتٰی
کہ خود ایک نظام ِ عدالت اِس غرض کے لیے وجود میں لاتا ہے۔ یہ حکمت جس خالق نے
انسان میں پیدا کی ہے ، کیا باور کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود اس حکمت سے عاری ہو گا؟
کیا مانا جا سکتا ہے کہ اپنی اتنی بڑی دنیا اتنے سروسامان اور اس قدر اختیارات کے
ساتھ انسان کے سپرد کر کے وہ بھُول گیا ہے، اس کا حساب وہ کبھی نہ لے گا؟ کیا کسی
صحیح الدماغ آدمی کی عقل یہ گواہی دے سکتی ہے کہ انسان کے جو بُرے اعمال سزا سے بچ
نکلے ہیں ، یا جن برائیوں کی متناسب سزا اسے نہیں مل سکی ہے ان کی باز پرس کے لیے
کبھی عدالت قائم نہ ہوگی ، اور جو بھلائیاں اپنے منصفانہ انعام سے محروم رہ گئی ہیں
وہ ہمیشہ محروم ہی رہیں گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قیامت اور زندگی بعدِ موت خدائے
حکیم کی حکمت کا ایک لازمی تقاضا ہے جس کا پورا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا سراسر بعید از عقل ہے۔
Comments
Post a Comment