آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا
آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا- فہرست مضامین – تفہیم القرآن-جلد دوم۔ صفحہ 280، 332، 481
وَ الَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍۭ
بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ
كَاَنَّمَاۤ اُغْشِيَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِمًا١ؕ
اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۷
سورہ یونس آیت 27
اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی برائی جیسی ہے ویسا
ہی وہ بدلہ پائیں گے،34 ذلّت ان پر مسلّط ہو گی ، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا
نہ ہو گا ، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی35 جیسے رات کے سیاہ پردے
ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔سورہ یونس آیت 27
ان کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے
سورة یونس حاشیہ نمبر۳۴
یعنی نیکوکاروں کے برعکس بدکاروں کے ساتھ معاملہ یہ ہو گا
کہ جتنی بدی ہے اتنی ہی سزا دے دی جائے گی۔ ایسا نہ ہو گا کہ جرم سے ذرہ برابر بھی زیادہ سزا دی
جائے۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو النمل، حاشیہ ۱۰۹ الف)۔
ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی
سورة یونس حاشیہ نمبر۳۵
وہ تاریکی جو مجرموں کے چہرے پر پکڑے جانے اور بچاؤ سے مایوس
ہو جانے کے بعد چھا جاتی ہے۔
آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا- فہرست
مضامین – تفہیم القرآن-جلد دوم
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ
اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ
الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى
الظّٰلِمِيْنَۙ۰۰۱۸الَّذِيْنَ
يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ
بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۱۹اُولٰٓىِٕكَ
لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ
اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ١ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا
يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۰۰۲۰اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا
كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۰۰۲۱ سورہ ھود آيات 19،20،21
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ
گھڑے۔ ایسے لوگ اپنے ربّ کے حضُور پیش ہونگے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ گھڑا تھا ۔
سُنو! خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر ۔اُن
ظالموں پر جو خُدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا
چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔۔ وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے
نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی اُن کا حامی تھا۔ اُنہیں اب دوہرا عذاب دیا
جائے گا۔وہ نہ کسی کی سُن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی اُنہیں کچھ سُو جھتا تھا ۔
سورہ ھود آیات 19،20،21
جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ گھڑا تھا
سورة ھود حاشیہ نمبر۲٦
یعنی وہ سب نظریات پادر ہوا ہو گئے جو انہوں نے خدا اور
کائنات اور اپنی ہستی کے متعلق گھڑ رکھے
تھے، اور وہ سب بھروسے بھی جھوٹے ثابت ہوئے جو انہوں نے اپنے معبودوں اور سفارشیوں
اور سرپرستوں پر رکھے تھے ، اور وہ قیاسات بھی غلط نکلے جو انہوں نے زندگی بعد موت
کے بارے میں قائم کیے تھے۔
خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر
آخرت میں اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا- فہرست
مضامین – تفہیم القرآن-جلد دوم
مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ
كَرَمَادِ ا۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ
مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَيْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۰۰۱۸اَلَمْ
تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ يَّشَاْ
يُذْهِبْكُمْ وَ يَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍۙ۰۰۱۹وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ
بِعَزِيْزٍ۰۰۲۰وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِيْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِيْنَ
اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا
مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ
لَهَدَيْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَيْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ
مَّحِيْصٍؒ۰۰۲۱ سورہ ابراہیم آیات 18تا21
جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے اُن کے اعمال کی مثال
اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑا دیا ہو ۔ وہ اپنے کیے کا
کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔ یہی پرلے درجے کی گُم گشتگی ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو
کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو
لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دُشوار نہیں
ہے۔
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے تو اُس
وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں
گے”دُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے
بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے”اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی
ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا
صبر، بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔
پھل نہ پا سکیں گے۔
سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲۵
یعنی جن لوگوں نے
اپنے رب کے ساتھ نمک حرامی ، بے وفائی، خود مختاری اور نافرمانی و سرکشی کی روش
اختیار کی ، اور اطاعت و بندگی کا وہ طریقہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا جس کی
دعوت انبیاء علیہم السلام لے کر آئے ہیں ، اُن کا پورا کارنامۂ حیات اور زندگی بھر کا سارا سرمایہ ٔ عمل آخر کار ایسا لاحاصل اور بے
معنی ثابت ہو گا جیسے ایک راکھ کا ڈھیر
تھا جو اکٹھا ہو ہو کر مدّتِ دراز میں بڑا بھاری ٹیلہ سا بن گیا تھا ، مگر
صرف ایک ہی دن کی آندھی نے اس کو ایسا اڑا یا کہ اُس کا ایک ایک ذرّہ منتشر
ہو کر رہ گیا۔ اُن کی نظر فریب تہذیب ،
اُن کا شاندار تمدن ، اُن کی حیرت انگیز صنعتیں ، اُن کی زبردست سلطنتیں ، اُن کی
عالیشان یونیورسٹیاں ، اُن کے علوم و فنون اور ادبِ لطیف و کثیف کے اتھاہ ذخیرے، حتیِ کہ اُن کی عبادتیں اور اُن کی ظاہری نیکیاں اور
اُن کے بڑے بڑے خیراتی اور رفاہی
کارنامےبھی، جن پر وہ دنیا میں فخر
کرتے ہیں ، سب کے سب آخر کار راکھ کا ایک
ڈھیر ہی ثابت ہوں گے جسے یوم ِ قیامت کی آندھی بالکل صاف کر دے گی اور عالمِ آخرت
میں اُس کا ایک ذرّہ بھی اُن کے پاس اس لائق نہ رہے گا کہ اُسے خدا کی میزان میں
رکھ کر کچھ بھی وزن پا سکیں۔
حق پر قائم کیا ہے
سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲٦
یہ دلیل ہے اُس دعوے کی جو اوپر کیا گیا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اِس بات کو سُن کر تمہیں تعجب کیوں
ہوتا ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ زمین
و آسمان کا عظیم الشان کارخانۂ تخلیق حق پر قائم ہوا ہے نہ کہ باطل پر ؟ یہاں جو چیز حقیقت اور واقعیت پر مبنی نہ ہو، بلکہ ایک بے اصل قیاس و گمان پر جس کی
بنا رکھ دی گئی ہو ، اُسے کوئی پائیداری نصیب نہیں ہو سکتی۔ اُس کے لیے قرار ثبات
کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اُس کے اعتماد پر کام کرنے والا کبھی اپنے اعتماد میں کامیاب
نہیں ہو سکتا۔ جو شخص پانی پر نقش بنائے اور ریت پر قصر تعمیر کرے وہ اگر یہ امید رکھتا ہے کہ اس کا نقش باقی رہے
گا اور اُس کا قصر کھڑا رہے گا تو اس کی یہ
اُمید کبھی پوری نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ پانی کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ وہ نقش قبول کرے اور ریت کی حقیقت نہیں کہ وہ عمارتوں کے لیے مضبوط بنیاد بن سکے۔ لہٰذا سچائی اور حقیقت
کو نظر انداز کر کے جو شخص باطل امیدوں پر
اپنے عمل کی بنیاد رکھے اُسے ناکام ہونا ہی چاہیے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ میں آتی
ہے تو پھر یہ سُن کر تمہیں حیرت کس لیے ہوتی ہے کہ خدا کی اِس کائنات میں جو شخص اپنے آپ کو خدا کی بندگی و اطاعت سے
آزاد فرض کر کے کام کرے گا یا خدا کے سوا کسی اَور کسی کی خدائی مان کر (جس کی فی
الواقع خدائی نہیں ہے) زندگی بسر کرے گا ، اس کا پورا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا؟ جب واقعہ یہ نہیں ہے کہ انسان یہاں خود
مختا ر ہو یا خدا کے سوا کسی اور کا بندہ ہو ، تو اس جھوٹ پر ، اس خلاف ِ واقعہ
مفروضہ پر، اپنے پورے نظامِ فکر و عمل کی بنیاد رکھنے والا انسان تمہاری رائے میں پانی پر نقش کھینچنے والے احمق کا سا انجام
نہ دیکھے گا تواُ س کے لیے اور کس انجام کی
تم توقع رکھتے ہو؟
کچھ بھی دُشوار نہیں ہے
سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲۷
دعوے پر دلیل پیش
کرنے کے بعد فورًا ہی یہ فقرہ نصیحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے اور ساتھ ساتھ
ایک شبہ کا ازالہ بھی ہے جو اوپر کی دو
ٹوک بات سُن کر آدمی کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے ۔ ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ اگر بات
وہی ہے جو اِن آیتوں میں فرمائی گئی ہے تو یہاں ہر باطل پرست اور غلط کار آدمی فنا
کیوں نہیں ہو جاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نادان! کیا تُو سمجھتا ہے کہ اسے فنا کردینا
اللہ کے لیے کچھ دشوار ہے ؟ یا اللہ سے اس کا کوئی رشتہ ہے کہ اس کی شرارتوں کے
باوجود اللہ نے محض اقربا پروری کی بنا پر
اُسے مجبورًا چھوٹ دے رکھی ہو؟ اگر یہ بات
نہیں ہے ، اور تُو خود جانتا ہے کہ نہیں
ہے، تو پھر تجھے سمجھنا چاہیے کہ ایک باطل پرست اور غلط کار قوم ہر وقت اس خطرے میں
مبتلا ہے کہ اسے ہٹا دیا جائے اور کسی دوسری قوم کو اس کی جگہ کام کرنے کا موقع دے
دیا جائے ۔ اس خطرے کے عملًا رُونما ہونے میں اگر دیر لگ رہی ہے تو اس غلط فہمی کے
نشے میں مست نہ ہو جا کہ خطرہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ مہلت کےایک ایک لمحے کو
غنیمت جان اور اپنے باطل نظامِ فکر و عمل کی ناپائیداری کو محسوس کر کے اسے جلدی
سے جلدی پائیدار بنیادوں پر قائم کر لے۔
اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے
سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲۸
برزو کے معنی محض نکل کر سامنے آنے اور پیش ہونے ہی کے نہیں
ہیں بلکہ اس میں ظاہر ہونے اور کھل جانے کا مفہوم بھی شامل ہے ۔ اسی لیے ہم نے اس
کا ترجمہ بے نقاب ہو کر سامنے آجانا کیاہے۔ حقیقت کے اعتبار سے تو بندے ہر وقت
اپنے رب کے سامنے بے نقاب ہیں ۔ مگر آخرت کی پیشی کے دن جب وہ سب کے سب اللہ کی
عدالت میں حاضر ہوں گے تو انہیں خود بھی معلوم ہوگا کہ ہم اس احکم الحاکمین اور مالک یوم الدین کےسامنے بالکل بے نقاب ہیں
، ہمارا کوئی کام بلکہ کوئی خیال اور دل کے گوشوں میں چھپا ہوا کوئی ارادہ تک اس
سے مخفی نہیں ہے ۔
Comments
Post a Comment