اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری تیسری دلیل
اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری
تیسری دلیل
اللہ تعالٰی اپنے رسولوں کو جس ہدایت اور دین حق کے
ساتھ مبعوث فرماتا تھا اس کا ماخذ اور سر چشمہ وہ کتابیں ہوتی تھیں ، جوان پر نازل
کی جاتی تھیں اور دین حق کو ادیان باطلہ پر غالب کرنے اور اسے قائم کرنے کا مطلب
یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالی کی اس کتاب بر حق کو قائم اور نافذ کیا جائے ۔ ان
کتابوں کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ انسان نے ظلم و زیادتی اور اپنی خواہشات نفس کے
تحت دین میں جو اختلافات پیدا کر دئے ہیں، انھیں دور کیا جائے ۔ اس نے شرک اور کفر
و معصیت کا جو نظام قائم کر دیا ہے ان کوختم کر کے از سر نو تو حید اور ایمان و
اطاعت کا نظام قائم کیا جائے اور اسے تاریک وادیوں سے نکال کر دین حق کی سیدھی اور
روشن شاہراہ پر واپس لایا جائے۔ ان کتابوں کی حیثیت سلطان کا ئنات کے فرامین کی
تھی جن پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا رسولوں پر بھی فرض تھا اور ان لوگوں پر
بھی جن کی ہدایت کے لیے وہ مبعوث کیے گئے تھے ۔ رسول آتے رہے اور کتابیں اترتی
رہیں یہاں تک کہ وہ وقت آگیا کہ اب اللہ کا آخری رسول اور نبی مبعوث ہو اور اس کی
آخری کتاب نازل ہو۔ اللہ کے وہ آخری نبی اور رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنے ہیں اور اس کی آخری
کتاب قرآن مجید ہے۔ اب قیامت تک یہی کتاب حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کسوٹی
ہے اور یہی وہ فرقان ہے، جس کے احکام تمام
بنی نوع انسان کے لیے واجب التعمیل ہیں۔ جب تو ریت نازل ہوئی تھی تو اس کی اقامت
کا نام اقامت دین تھا اور جب انجیل نازل ہوئی تھی تو اس کی اقامت کا نام بھی اقامت
دین تھا اور اب قیامت تک قرآن کی اقامت کا نام بھی اقامت دین ہے۔ خود قرآن نے اہل
کتاب کے بارے میں کہا ہے:
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ
الْاِنْجِيْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ
فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ
کاش انہوں نے توراة اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو
قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو
اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا
اس آیت میں توریت و انجیل کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ
اگر اہل کتاب راست بازی کے ساتھ اس دین کی پیروی پر قائم رہتے ، جو تو ریت و انجیل
اور دوسری آسمانی کتابوں میں ہے اور اسے اپنی زندگی کا دستور العمل بنائے رہتے تو
اس دنیا میں بھی رزق ہر طرف سے ان پر برستا اور ابلتا—پھر
قُلْ يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى
شَيْءٍ حَتّٰى تُقِيْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِيْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ
اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مائدہ 68
صاف کہہ دو کہ ”اے اہلِ کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں
ہو جب تک کہ توراة اور انجیل اور اُن دُوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب
کی طرف سے نازل کی گئی ہیں“ مائدہ 68
بہت سے مفسرین کے نزدیک وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ
مِّنْ رَّبِّكُمْ سے مراد قرآن عظیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اہل کتاب سے جو بات
کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک تم توریت و انجیل وقرآن کی اقامت نہ کرو اس وقت تک
تم دینی و مذہبی لحاظ سے کچھ نہیں ہو اور تمھاری دینی زندگی صفر اور لاشئے محض ہے۔
کھلی بات ہے کہ توریت و انجیل اور اس کے بعد جب قرآن نازل ہوا تو اس پر ایمان لا
کر اس کی اقامت یعنی اس کے تمام احکام کی مخلصانہ
پیروی ان پر فرض ہے اور اس طریقے کو ترک کرنے کی وجہ سے ان کی دینی زندگی
لاشئے محض ہوگئی ہے۔ اگر ان پر کتاب اللہ کی اقامت فرض نہ ہوتی تو انہیں (لَسْتُمْ
عَلٰى شَيْءٍ تم ہرگز کسی اصل پر نہیں
ہو)کہنا کسی طرح صحیح نہ ہوتا۔دیگر دلائل کے علاوہ یہ آیت بھی اس بات کی ناقابل
تردید دلیل ہے کہ جو شخص بھی اللہ کی کتاب پر ایمان کا مدعی ہو اس پر اس کتاب کی
اقامت فرض ہے۔ اور جیسا کہ او پر کہا گیا۔ اب قیامت تک اقامت قرآن ہی کا نام اقامت
دین ہے۔
چنداور آیتیں
سورہ المائدہ کی ان دو آیتوں میں خطاب اہل کتاب سے تھا۔
ان کے علاوہ عمومی اور کلی انداز میں تمام آسمانی کتابوں کےنزول کی غرض و غایت
سےمتعلق قرآن مجید میں بیسیوں آیتیں موجود ہیں۔ہم دوآیتیں اور ان کا ترجمہ یہاں
نقل کرتے ہیں۔
كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫
فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَ مُنْذِرِيْنَ١۪
وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا
فِيْهِ١ؕ
وَ مَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ
بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ بَغْيًۢا
بَيْنَهُمْ١ۚ
فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ
وَ اللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۲۱۳اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ
تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ
قَبْلِكُمْ١ؕ
مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ
اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ۰۰۲۱۴
ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھر یہ حالت
باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت
دینے والے اور کج ر وی کے نتائج سےڈرانے والے تھے، اور ان کے ساتھ کتاب ِبر حق
نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے
درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان
کا فیصلہ کرے۔۔۔۔(اور ان اختلافات کے رونما ہونے
کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں
لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،)اختلاف ان لوگوں
نے کیا ، جنہیں حق کا علم دیا
چکاتھا۔ انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر
مختلف طریقے نکالےکہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔ پس جو لوگ انبیاؑ پر
ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس
حق کا راستہ دکھادیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، راہِ راست دکھا دیتا ہے۔
پھر کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوُ نہی جنت کا داخلہ تمہیں مِل جائے گا، حالانکہ ابھی
تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان
پر سختیاں گزر یں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے
گئے، حتٰی کہ وقت کا رسول اور اس کےساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب
آئے گی۔۔۔۔ اس وقت انھیں تسلّی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔
ان دو آیتوں سے مندر جہ ذیل چار باتیں بہ وضاحت معلوم
ہوتی ہیں:
(الف) دنیا میں بنی نوع انسان نے اپنا سفر حیات حق کی روشنی میں
شروع کیا تھا حق کا علم پالینے کی وجہ سے انسانی گروہ عرصہ دراز تک ایک ہی ملت اور
ایک ہی امت بنا رہا۔ پھر ایسا ہوا کہ کچھ خود غرضوں کی نفسانیت، ایک دوسرے پر
زیادتی اور ذاتی مفاد کے جھگڑوں نے وحدت ملت کو پارہ پارہ کر دیا اور دین حق میں
اختلافات پیدا کر دیے، لیکن الله تعالٰی چوں کہ رحمان و رحیم ہے اس لیے اس نے
انسانوں کو تباہ و برباد ہونے کے لیے بے سہارا نہ چھوڑا بلکہ ان کی اصلاح و فلاح
کے لیے اپنے برگزیدہ بندے مبعوث کیے۔
(ب) تمام انبیاء اور رسولوں کے ساتھ اللہ کی طرف سے
نازل کردہ کتاب برحق بھی ہوتی تھی، جو عقائد و اعمال کے تمام اختلافات و نزاعات کے
لیے قاضی اور حاکم کی حیثیت رکھتی تھی ۔ انبیاء صرف اسی لیے نہیں بھیجے جاتے تھے
کہ خوش خبری اور اڈر او اسنادیں بلکہ انھیں کتاب بر حق دے کر اس بات پر بھی مامور
کیا جاتا تھا کہ وہ تمام اختلافات کومٹا کر لوگوں کو پھر اسی دین حق پر جمع کر
دیں، جس میں اختلاف پیدا کر کے وہ الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئے تھے۔ زندگی کا کوئی
معاملہ بھی ہو صرف اس کتاب کو یہ حق ہوتا تھا کہ ،وہ اس کے صحیح یا غلط ،حق و باطل ہونے کا فیصلہ
کرے۔
( ج ) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو مخاطب
کر کے بتایا گیا ہے کہ اگلی امتوں نے اپنے وقت کے رسولوں اور خدا کی کتابوں کو
اپنا قاضی و حاکم آسانی سے تسلیم نہیں کیا اور یہ راہ پھولوں کی سیج بھی نہیں رہی۔
یہ ہمیشہ کانٹوں سے بھری رہی ہے۔ تم سے پہلے کے داعیان حق نے اس راہ میں ہر طرح کی
مصیبتیں جھیلی ہیں اور دشمنان حق کے نرغے میں اس طرح ہلا مارے گئے ہیں کہ اہل
ایمان کے ساتھ وقت کے رسول تک چیخ اٹھے ہیں۔ پھر تم کس بنا پر توقع رکھ سکتے ہو کہ
جو کچھ تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے تم پر نہیں گزرے گا۔
(د) اللہ کے باغیوں سے کش مکش اور کتاب برحق کی اقامت کی تنفیذ کی
تمام سعی و جہد کا مقصود دخول جنت کا استحقاق ہے۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا
الْجَنَّةَ کےٹکڑے سے ایک
بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اقامت دین کی جد و جہدمیں
جان کھپانے والوں کا محرک عمل اور اصل مطمح نظر اللہ کی خوش نودی اور جنت کا حصول
ہے۔ اور دوسری یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جنت کا حصول اقامت دین کے ساتھ وابستہ ہے،
خدا کے نازل کردہ قانون پر لوگوں کو جمع کرنے کی جدوجہد سے دامن کشی کے باوجود
رضائے الہی اور جنت کے حصول کی توقع صحیح نہیں ہے۔ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام احکام
کی پیروی اور انھیں نافذ کرنے کے لیے سیاسی طاقت ضروری ہے، اس کا واضح اشارہ ذیل
کی آیت میں کیا گیا ہے۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَ
اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ
وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِيَعْلَمَ
اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌؒ۰۰۲۵
سورہ حدید آیت 25
ہم نے اپنے رسُولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے
ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم
ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے
اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔ یہ اس لیے
کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائےکہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے
رسُولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوّت والا اور زبردست ہے۔سورہ حدید آیت
25
اس آیت میں کتاب اور میزان بھیجنے کی غرض و غایت یہ
بیان کی گئی ہے کہ ظالم انسان ظلم کی روش ترک کرکے عدل و انصاف کی روش پر قائم ہو
جائیں لیکن ظلم و جور کا استیصال اور عدل و انصاف کا قیام قوت کے بغیر ممکن نہیں
ہے۔ اس لیے آیت کے دوسرے ٹکڑے میں لوہے کی تخلیق کے تین اغراض بیان کیے گئے ہیں۔
ایک یہ کہ اس سے آلات حرب اور سامان جنگ تیار کیے جاتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اس کے
علاوہ کچھ دوسرے منافع بھی ہیں اور تیسری
غرض یہ ہے کہ اس قوت سے اللہ کے دین کی مدد کی جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی
کتابیں جس عدل کو قائم کرنے کے لیے نازل ہوئی ہیں اس کو قائم کرنے اور باقی رکھنے
کے لیے قوت اور اقتدار ضروری ہے۔ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ کے تحت علامہ محمود آلوسی
لکھتے ہیں:
فيه اشارة إلى احتياج الكتاب والميزان الى القائم
بالسيف ليحصل القيام بالقسط فإن الظلم من شيم النفوس (روح المعانی ، ج ۲۷
ص ۱۸۸
مطبوعہ مصر) یہ اشارہ ہے اس بات کا کہ
کتاب و میزان باقتدار حاکم کے محتاج ہیں۔ تا کہ عدل کا قیام ممکن ہو سکے، کیوں کہ بہت سے انسان ظلم کو اپنی عادت و خصلت
بنالیتے ہیں ۔"
ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب بذات خود عدل قائم نہیں کر
سکتی بلکہ وہ حکومت قائم کر سکتی ہے، جواس پر ایمان لائی ہو ۔ یہی بات حافظ ابن
کثیر نے سورہ حدید کی اس آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے لکھی ہے:
لابد مع الحق من قهر لمن عاداه وناواه (تفسیر ابن
کثیرمطبوعہ مصر ج ۳
میں ۵۹) حق
کے دشمنوں اور مخالفوں کی سرکوبی کے لیے قہروغلبہ ضروری ہے۔
اوریہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ:
ان الله لیزع بالسلطان مالا يزع بالقرآن (تفسیر ابن
کثیر، ج 3(ص59) بے شک اللہ تعالی اقتدار کے ذریعے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے،
جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا "
کھلی بات ہے کہ قرآن خود کسی ظالم کا ہاتھ نہیں پکڑ
سکتا کسی زانی کی پیٹھ پر کوڑے نہیں برسا سکتا اور کسی چور کا ہاتھ نہیں کاٹ سکتا۔
اس کے احکام کی تنفیذ کے لیے حکومت کا اقتدار ضروری ہے۔یہیں سے یہ بات بھی واضح ہو
جاتی ہے کہ حکومت بذات خود مقصود و مطلوب نہیں ہے بلکہ اس قانون کو نافذ کرنے کے
لیے مطلوب ہے، جو اللہ نے انسانوں کی دنیوی واخروی فلاح کے لیے نازل فرمایا ہے اور
یہیں سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول کو حکومت
طلب کرنے کی دعا کیوں سکھائی تھی۔ اس
موقعے پر سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰
اور اس کی تفسیر کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
Comments
Post a Comment