مشرکین اپنے معبودوں کا انکار کریں گے
مشرکین اپنے معبودوں
کا انکار کریں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ 427
سورہ مومن آیات 69 تا
76
اَلَمْ تَرَ
اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى يُصْرَفُوْنَ۰۰۶۹الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫
فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَۙ۰۰۷۰اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ
يُسْحَبُوْنَۙ۰۰۷۱فِي الْحَمِيْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَۚ۰۰۷۲ثُمَّ قِيْلَ لَهُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ۰۰۷۳مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا
مِنْ قَبْلُ شَيْـًٔا١ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِيْنَ۰۰۷۴ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ
بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ۰۰۷۵اُدْخُلُوْۤا
اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۷۶
تم نے دیکھا اُن
لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، کہاں سے وہ
پھرائے جا رہے ہیں؟یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جھُٹلاتے ہیں
جو ہم نے اپنے رسُولوں کے ساتھ بھیجی تھیں؟ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا جب طوق
ان کی گردنوں میں ہوں گے، اور زنجیریں ، جن سے پکڑ کر وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف
کھینچے جائیں گے اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ پھر اُن سے پوچھا
جائے گا کہ اب کہاں ہیں اللہ کے سوا وہ دوسرے خدا جن کو تم شریک کرتے تھے؟ وہ جواب
دیں گے”کھوئے گئے وہ ہم سے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے۔“ اِس
طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کر
دے گا۔ اُن سے کہا جائے گا”یہ تمہارا انجام اِس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر حق
پر مگن تھے اور پھر اُس پر اِتراتے تھے۔ اب جاوٴ ، جہنّم کے دروازوں میں داخل ہو
جاوٴ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے متکبّرین کا۔“
کہاں سے وہ
پھرائے جا رہے ہیں؟
سورة المومن حاشیہ
نمبر۹۹
مطلب یہ ہے کہ اوپر
والی تقریر کے بعد بھی کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ ان لوگوں کی غلط بینی
اور غلط روی کا اصل سر چشمہ کہاں ہے اور کہاں سے ٹھوکر کھا کر یہ اس گمراہی کے
گڑھے میں گرے ہیں؟ (واضح رہے کہ یہاں تم
کا خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص مخاطب ہے جو ان آیات
کو پڑھے یا سنے )
اپنے
رسُولوں کے ساتھ بھیجی تھیں؟
سورة المومن حاشیہ
نمبر١۰۰
یہ ہے ان کے ٹھوکر
کھانے کی اصل وجہ۔ ان کا قرآن کو اور اللہ کے رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کو نہ
ماننا اور اللہ کی آیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے بجاۓ جھگڑالو پن سے
ان کا مقابلہ کرنا، یہی وہ بنیادی سبب ہے جس نے ان کو بھٹکا دیا ہے اور ان کے لیے
سیدھی راہ پر آنے کے سارے امکانات ختم کر دیے ہیں۔
دوزخ کی آگ
میں جھونک دیے جائیں گے
سورة المومن حاشیہ
نمبر١۰١
یعنی جب وہ پیاس کی
شدت سے مجبور ہو کر پانی مانگیں گے تو دوزخ کے کارکن ان کو زنجیروں سے کھینچتے ہوۓ ایسے چشموں کی
طرف لے جائیں گے جن سے کھولتا ہوا پانی نکل رہا ہو گا۔ اور پھر جب وہاں سے پی کر
فارغ ہوں گے تو پھر وہ انہیں کھینچتے ہوۓ واپس لے جائیں گے اور دوزخ کی آگ
میں جھونک دیں گے۔
تم شریک
کرتے تھے؟
سورة المومن حاشیہ
نمبر١۰۲
یعنی اگر وہ واقعی
خدایا خدائی میں شریک تھے، اور تم اس امید پر ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ برے وقت
پر تمہارے کام آئیں گے تو ان کیوں وہ آ کر تمہیں نہیں چھڑاتے؟
ہم اس سے
پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے۔
سورة المومن حاشیہ
نمبر١۰۳
یہ مطلب نہیں ہے کہ
ہم دنیا میں شرک نہیں کرتے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اب ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ
ہم جنھیں دنیا میں پکارتے تھے وہ کچھ بھی نہ تھے، ہیچ تھے، لاشے تھے۔
تم زمین میں
غیر حق پر مگن تھے اور پھر اُس پر اِتراتے تھے
سورة المومن حاشیہ
نمبر١۰۴
یعنی تم نے صرف اتنے
ہی پر اکتفا نہ کیا کہ جو چیز حق نہ تھی اس کی تم نے پیروی کی، بلکہ تم اس غیر حق
پر ایسے مگن سے کہ جب حق تمہارے سامنے پیش کیا گیا تو تم نے اس کی طرف التفات نہ کیا
اور الٹے اپنی باطل پرستی پر اتراتے رہے۔
مشرکین اپنے معبودوں
کا انکار کریں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ466، 467
اِلَيْهِ
يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ
مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ يَوْمَ
يُنَادِيْهِمْ اَيْنَ شُرَكَآءِيْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ
شَهِيْدٍۚ۰۰۴۷وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ
ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ۰۰۴۸
اُس ساعت کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے، وہی اُن
سارے پھَلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ
کونسی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے۔
پھر جس روز وہ ان لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ یہ کہیں گے،
”ہم عرض کر چکے ہیں، آج ہم میں سے کوئی اس کی گواہی دینے
والا نہیں ہے۔“ اُس وقت وہ سارے
معبُود ان سے گم ہو جائیں گے جنہیں یہ اِس سے پہلے پُکارتے تھے، اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ ان کے لیے اب کوئی
جائے پناہ نہیں ہے۔
آج ہم میں
سے کوئی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦۳
یعنی اب ہم پر حقیقت
کھل چکی ہے اور ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ جو کچھ ہم سمجھے بیٹھے تھے وہ سراسر غلط
تھا۔ اب ہمارے درمیان کوئی ایک شخص بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ خدائی میں کوئی
دوسرا بھی آپ کا شریک ہے۔’’ ہم عرض کر چکے ہیں ‘‘ کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ
قیامت کے روز بار بار ہر مرحلے میں کفار سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم خدا کے
رسولوں کا کہا ماننے سے انکار کرتے رہے، اب بولو حق پر وہ تھے یا تم؟ اور ہر موقع پر کفار اس بات کا اعتراف
کرتے چلے جائیں گے کہ واقعی حق وہی تھا جو انہوں نے بتایا تھا اور غلطی ہماری تھی
کہ اس علم کو چھوڑ کر اپنی جہالتوں پر اصرار کرتے رہے۔
جنہیں یہ
اِس سے پہلے پُکارتے تھے
سورة حٰم السجدۃ حاشیہ
نمبر٦۴
یعنی مایوسی کے عالم
میں یہ لوگ ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے، شاید ان میں سے کوئی مدد کو آئے اور ہمیں خدا کے
عذاب سے چھڑا لے، یا کم از کم ہماری سزا ہی کم کرا دے، مگر کسی طرف سے کوئی مددگار
بھی ان کو نظر نہ آئے گا۔
Comments
Post a Comment