سورہ بقرۃ رکوع 34 آیات 254 تا 257
سورہ بقرۃ رکوع 34 آیات 254 تا 257
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ
لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ
الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۵۴اَللّٰهُ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ
لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ
يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا
خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ
وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۰۰۲۵۵لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ١ۙ۫
قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ١ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ
يُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ١ۗ لَا
انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۵۶اَللّٰهُ وَلِيُّ
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ۠ مِّنَ
النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا
خٰلِدُوْنَؒ۰۰۲۵
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جو
کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں
سے خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں
نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں
وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں۔
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی ، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اس
کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔نہ وہ سوتا ہے ، اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے۔ زمین اور
آسمانوں میں جو کچھ ہے، اسی کا ہے۔، کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی
وہ جانتا ہے او ر جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان
کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی اِلّا یہ کہ کسی
چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر
چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس
وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔
دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں
ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا
انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی
ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ( جس کا سہارا اس نے لیا ہے)سب کچھ سننے اور جاننے والا
ہے ۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مدد گار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں
سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کےحامی ومدد گار طاغوت ہیں اور وہ انھیں
روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ
آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ ؏۳۴
Comments
Post a Comment