اقامت دین کا مطلب
بسم الله الرحمن الرحیم
اقامت دین کا مطلب
اقامت دین کے فرض و واجب ہونے کی
دلیلیں پیش کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا مطلب اور مفہوم واضح کر دیا جائے۔
اقامت دین میں دین سے مراد وہ دین حق
ہے، جسے اللہ رب العالمین اپنے تمام انبیاءکے ذریعے مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں
میں بھیجتا رہا ہے اور جسے آخری اور مکمل صورت میں تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے
آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل فرمایا اور جواب دنیا میں
ایک ہی مستند محفوظ اور عند اللہ مقبول دین ہے اور جس کا نام اسلام ہے۔ یہ دین
انسان کے ظاہر و باطن اور اس کی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی گوشوں کو محیط
ہے۔ عقائد، عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا
کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے، جو اس کے دائرے سے خارج ہو۔
یہ دین جس طرح رضائے الہی اور فلاح
آخرت کا ضامن ہے اس طرح دنیوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظام زندگی بھی ہے۔
انفرادی و اجتماعی زندگی کی صالح اور ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔
اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی
تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرح سے یکسو
ہو کر کی جائے اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی تمام گوشوں میں اس طرح جاری
و نافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقاء، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی
دین کے مطابق ہو۔ دستور جماعت اسلامی ہند کی اس عبارت میں دین اور اقامت دین کا جو
مفہوم بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دین اسلام کو اس کے تمام احکام و
قوانین اور اس کی تمام تعلیمات و ہدایات کے ساتھ پوری انسانی زندگی کا دین بنایا
جائے۔ زندگی کو چند شعبوں اور چند خانوں میں تقسیم کر کے بعض میں اسلام کی پیروی کرنا اور بعض میں غیر اسلام
کی پیروی کرنا قطعا غلط ہے، جس طرح مسجد میں اسلام کے احکام پر عمل کر نا ضروری ہے
اس طرح بازار میں اسمبلی میں اور پارلیمنٹ میں بھی اس کے قوانین پرعمل کرنا ضروری
ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف قانون بنانا یا اپنے جی سے گھڑے ہوتے
احکام صادر کرنا اللہ سے بغاوت کرنا ہے، جو اس پوری کائنات کا تنہا بادشاہ اور
برحق حکمراں ہے اور جب تک یہ بغاوت ختم اور اللہ کاکلمہ بلند نہ ہوا قامت دین کی
تکمیل نہیں ہوسکتی۔
اقامت دین کا مثالی نمونہ
اس دین کی اقامت کا مثالی اور بہترین
نمونہ وہ ہے، جسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالی
علیہم اجمعین نے قائم فرمایا۔
اس مثالی نمونے کے لیے خلافت را شد و
خلافت علی منہاج النبوۃ(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق خلافت )
حکومت الہیہ اور اسلامی حکومت کی اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں ۔ نبی ﷺ اورخلفائے
راشدین نے جو حکومت قائم کی تھی اس میں بغیر کسی تفریق و تقسیم کے پورے دین اسلام
کی مخلصانہ پیروی کی جاتی تھی اور انفرادی
و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کر دیا گیا تھا کہ فرد
کا ارتقاء ،معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل ٹھیک ٹھیک اسی دین کے مطابق تھی۔
اس مملکت میں جا کر ہر شخص اپنی کھلی آنکھوں سے یہ دیکھ سکتاتھا کہ اسلامی حکومت
اور قرآنی معاشرہ کیسا ہوتا ہے اور" اقامت دین "کا مفہوم کیا ہے، جس طرح
ایک کھڑے ہوئے شخص کے قد وقامت جسمانی ساخت رنگ ور وپ اور چہرے مہرے کو پہچاننے کے
لیے دوآنکھیں کافی ہیں ، اسی طرح اقامت دین کا صحیح مفہوم جاننے کے لیے عہد رسالت وعہد خلافت راشدہ
کا مثالی نمونہ کافی ہے۔ جس کی بلند قامتی اور اس کے تمام رنگ و روپ تاریخ کے
صفحات نے محفوظ کر لیے ہیں۔ یہ مثالی نمونہ صرف نمونہ ہی نہیں ہے یہ فریضئہ اقامت
دین کی ایک روشن دلیل بھی ہے۔
Comments
Post a Comment