آخرت میں ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس کے سامنے یا جس پر انسان نے کوئی کام کیا ہوگا

 

آخرت میں ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس کے سامنے یا جس پر انسان نے  کوئی کام کیا ہوگا

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت

صفحہ450، 451

سورہ حم سجدہ آیت 20

حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۰ وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۰۰۲۱

پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے” تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ جواب دیں گی” ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے۔ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔

سورة حٰم السجدۃ حاشیہ نمبر۲۵

احادیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ جب کوئی ہیکڑ مجرم اپنے جرائم کا انکار ہی کرتا چلا جاٴئے گا اور تمام شہادتوں کو بھی جھٹلانے پر تُل جاٴئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے جسم کے اعضاء ایک ایک کر کے شہادت دیں گے کہ اس نے ان سے کیا کیا کام لیے تھے۔ یہ مضمون حضرت انسؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت بن عباسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کیا ہے اور مسلم، نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزّار وغیرہ محدثین نے ان روایات کو نقل کیا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰس، حاشیہ 55)۔

 

یہ آیت منجملہ ان بہت سی آیات کے ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم آخرت محض ایک روحانی عالَم نہیں ہو گا بلکہ انسان وہاں دوبارہ اسی طرح جسم و روح کے ساتھ زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ اب اس دنیا میں ہیں ۔ یہی نہیں ، ان کو جسم بھی وہی دیا جاٴئے گا جس میں اب وہ رہتے ہیں ۔ وہی تمام اجزاء اور جواہر (Atoms)جن سے ان کے بدن اس دنیا میں مرکب تھے، قیامت کے روز جمع کر دیٴئے جائیں گے اور وہ اپنے انہی سابق جسموں کے ساتھ اٹھاٴئے جائیں گے جن کے اندر رہ کر وہ دنیا میں کام کر چکے تھے ظاہر ہے کہ انسان کے اعضاء وہاں اسی صورت میں تو گواہی دے سکتے ہیں جبکہ وہ وہی اعضاء ہوں جن سے اس نے اپنی پہلی زندگی میں کسی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس مضمون پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات بھی دلیل قاطع ہیں : بنی اسرائیل، آیات  49 تا 51۔ 98۔ المومنون، 35 تا 38۔ 82 83۔ النور، 24۔ السجدہ، 10۔ یٰسٓ، 65۔78۔ 79۔ الصافات، 16 تا 18۔ الواقعہ، 47 تا 50۔النازعات، 10 تا 14۔

جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے

سورة حٰم السجدۃ حاشیہ نمبر۲٦

اس سے معلوم صرف انسان کے اپنے اعضاٴئے جسم ہی قیامت کے روز گواہی نہیں دیں گے،بلکہ ہر وہ چیز بول اٹھے گی جس کے سامنے انسان نے کسی فعل کا ارتکاب کیا تھا۔ یہی بات سورہ زلزال میں فرمائی گئی ہے کہ : وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ۰۰۲وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ۰۰۳يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۰۰۴بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ۰۰۵ زمین وہ سارے بوجھ نکال پھینکے گی جو اس کے اندر بھرے پڑے ہیں ، اور انسان کہے گا کہ یہ اسے کیا ہو گیا ہے، اس روز زمین اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی (یعنی جوجو کچھ انسان نے اس کی پیٹھ پر کیا  ہے اس کی ساری داستان بیان کر دے گی)۔ کیونکہ تیرا رب اسے بیان کرنے کا حکم دے چکا ہو گا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں