آخرت میں ہر شخص کے اس کے اپنے عمل کی بازپرس ہوگی

 

آخرت میں ہر شخص کے اس کے اپنے عمل کی بازپرس ہوگی

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلدچہارم-آخرت-صفحہ200

سورہ سبا آیت 24تا26

قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِيَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۰۰۲۴قُلْ لَّا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۵قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيْمُ۰۰۲۶

(اے نبیؐ )اِن سے پوچھو” کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ “کہو” اللہ ۔ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھُلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ “ ان سے کہو” جو قصُور ہم نے کیا ہواس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی ۔“ کہو”ہمارا ربّ ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ “ اِن سے کہو” ذرامجھے دکھاوٴ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے۔  “ ہر گز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے۔

(اے نبیؐ )اِن سے پوچھو” کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ “کہو” اللہ

سورة سبا حاشیہ نمبر۴۲

سوال اور جواب کے درمیان ایک لطیف خلا ہے۔ مخاطب مشرکین تھے جو صرف یہی نہیں کہ اللہ کی ہستی کے منکر نہ تھے بلکہ یہ بھی جانتے تھے کہ رزق کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کو خدائی میں شریک ٹھیراتے تھے۔ اب جو ان کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا کہ بتاؤ کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے، تو وہ مشکل میں پڑ گئے۔ اللہ کے سوا کسی کا نام لیتے ہیں تو خود اپنے اور اپنی قوم کے عقیدے کے خلاف بات کہتے ہیں۔ ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسی بات کہہ بھی دیں تو ڈرتے ہیں کہ خود اپنی قوم کے لوگ ہی اس کی تردید کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور اگر تسلیم کر لیتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے تو فوراً دوسرا سوال یہ سامنے آ جاتا ہے کہ پھر یہ دوسرے کس مرض کی دوا ہیں جنہیں تم نے خدا بنا رکھا ہے؟ رزق تو دے اللہ، اور پو جے جائیں یہ، آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ اس دو گونہ مشکل میں پڑ کر وہ دم بخود رہ جاتے ہیں۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ نہ یہ کہتے ہیں کہ کوئی دوسرا معبود رازق ہے۔ پوچھنے والا جب دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کچھ نہیں بولتے، تو وہ خود اپنے سوال کا جواب دیتا ہے کہ ’’ اللہ‘‘۔

یا کھُلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے

سورة سبا حاشیہ نمبر۴۳

اس فقرے میں حکمت تبلیغ  کا ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے۔ اوپر کے سوال و جواب کا منطقی نتیجہ یہ تھا کہ جو اللہ ہی کی بندگی و پرستش کرتا ہے وہ ہدایت پر ہو اور جو اس کے سوا دوسروں کی بندگی بجا لاتا ہے وہ گمراہی میں مبتلا ہو۔ اس بنا پر بظاہر تو اس کے  بعد کہنا یہ چاہیے تھا کہ ہم ہدایت پر ہیں اور تم گمراہ ہو۔ لیکن اس طرح دو ٹوک بات کہ دینا حق گوئی کے اعتبار  سے خواہ کتنا ہی درست ہوتا حکمت تبلیغ کے لحاظ سے درست نہ ہوتا۔ کیوں کہ جب کسی شخص کو مخاطب کر کے آپ صاف صاف  گمراہ کہہ دیں اور خود اپنے برسر ہدایت ہونے کا دعویٰ کریں تو وہ ضد میں مبتلا ہو جائے  گا اور سچائی کے لیے اس کے دل کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اللہ کے  رسولؐ چونکہ مجرد حق گوئی کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ ان کے سپرد یہ کام بھی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ حکیمانہ طریقے سے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کریں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے نبی، اس سوال و جواب کے بعد اب  تم ان لوگوں سے صاف کہہ دو کہ تم سب گمراہ ہو اور ہدایت پر صرف ہم ہیں۔ اس کے بجائے تلقین یہ فرمائی گئی کہ انہیں اب یوں سمجھاؤ۔ ان سے کہو ہمارے اور تمہارے درمیان یہ فرق تو کھل گیا کہ ہم اسی کو معبود مانتے  جو رزق دینے والا ہے، اور تم ان کو معبود بنا رہے ہو  جو رزق دینے والے نہیں ہیں۔ اب یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ ہم اور تم دونوں بیک وقت راہ راست پر ہوں۔ اس صریح فرق کے ساتھ تو ہم میں سے ایک ہی راہ راست پر ہو سکتا ہے، اور دوسرا لامحالہ گمراہ ٹھیرتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوچنا تمہارا اپنا کام ہے کہ دلیل کس کے برسر ہدایت ہونے کا فیصلہ کر رہی ہے اور کون اس کی رو سے گمراہ ہے۔

جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی

 

سورة سبا حاشیہ نمبر۴۴

اوپر کی بات سامعین کو پہلے ہی سوچنے پر مجبور کر چکی تھی۔ اس پر مزید ایک فقرہ یہ فرما دیا گیا تاکہ وہ اور زیادہ تفکر سے کام لیں۔ اس سے ان کو یہ احساس دلایا گیا کہ ہدایت اور گمراہی کے اس معاملے کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ہم میں سے ہر ایک کے اپنے مفاد کا تقاضا ہے۔ فرض کرو کہ ہم گمراہ ہیں تو اپنی اس گمراہی کا خمیازہ ہم ہی بھگتیں گے، تم پر اس کی کوئی پکڑ نہ ہو گی۔ اس لیے یہ ہمارے اپنے مفاد کا تقاضا ہے کہ کوئی عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے خوب سوچ لیں کہ کہیں ہم غلط راہ پر تو نہیں جا رہے ہیں۔ اسی طرح تم کو بھی ہماری کسی غرض کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ہی خیر خواہی کی خاطر ایک عقیدے پر جمنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا چاہیے کہ کہیں تم کسی باطل نظریے پر تو اپنی زندگی کی ساری پونجی نہیں لگا رہے ہو۔ اس معاملے میں اگر تم نے ٹھوکر کھائی تو تمہارا اپنا ہی نقصان ہو گا، ہمارا کچھ نہ بگڑے گا۔

وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔

سورة سبا حاشیہ نمبر۴۵

یہ اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے آخری اور سب سے بڑا محرک ہے جس کی طرف سامعین کی توجہ دلائی گئی ہے۔ بات اسی حد پر ختم نہیں ہو جاتی کہ  اس زندگی میں ہمارے اور تمہارے درمیان حق و باطل کا اختلاف ہے اور ہم میں سے کوئی ایک ہی حق پر ہے، بلکہ اس کے آگے حقیقت نفس الامری یہ بھی ہے کہ ہمیں اور تمہیں، دونوں ہی کو اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور رب وہ ہے جو حقیقت کو بھی جانتا ہے اور ہم دونوں گروہوں کے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ وہاں جا کر نہ صرف اس امر کا فیصلہ ہو گا کہ ہم میں اور تم میں سے حق پر کون تھا اور باطل پر کون۔ بلکہ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہو جائے گا کہ ہم نے تم پر حق واضح کرنے کے لیے کیا کچھ کیا اور تم نے باطل پرستی کی ضد میں آ کر ہماری مخالفت کس کس طرح کی۔

وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے

سورة سبا حاشیہ نمبر۴٦

یعنی قبل اس کی کہ تم ان معبودوں کے بھروسے پر اتنا بڑا خطرہ مول لو، ذرا مجھے یہیں بتا دو کہ ان میں کون اتنا زور آور ہے کہ اللہ کی عدالت میں وہ تمہارا حمایتی بن کر اٹھ سکتا ہو اور تمہیں اس کی گرفت سے بچا سکتا ہو۔

 

Comments