آخرت میں مجرمین پر ان کے اعمال کی برائی کھل جائے گی اور وہ اس کا اعتراف کریں گے

 

آخرت میں مجرمین پر ان کے اعمال کی برائی کھل جائے گی اور وہ اس کا اعتراف کریں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ397

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ۰۰۱۰قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَ اَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ۰۰۱۱ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ۰۰۱۲

جن لوگوں نے کُفر کیا ہے ، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا” آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اُوپر آرہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے۔“  وہ کہیں گے” اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی،   اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں،  کیا اب یہاں  سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“  (جواب ملے گا)”یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتےتھے اور جب اُس کے ساتھ دُوسروں کو مِلایا جاتا تو تُم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔

اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں

سورة المومن حاشیہ نمبر١٦

یعنی ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس دوسری زندگی  کا انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی اور اس غلط نظریے پر کام کر کے ہماری زندگی گناہوں سے لبریز ہو گئی۔

آخرت میں مجرمین پر ان کے اعمال کی برائی کھل جائے گی اور وہ اس کا اعتراف کریں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم -آخرت-صفحہ593

سورہ جاثیہ آیات 31 تا33

وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ۰۰۳۱وَ اِذَا قِيْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِيْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ۰۰۳۲وَ بَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ۠۰۰۳۳

اور جن لوگوں نے کُفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا” کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبّر کیا اور مجرم بن کر رہے۔ اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے  میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔“ اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جِس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔

ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی

سورۃ الجاثیۃ نمبر۴۵

یعنی وہاں ان کو پتہ چل جائے گا کہ اپنے جن طور طریقوں اور عادات و خصائل اور اعمال و مشاغل کو وہ دنیا میں بہت خوب سمجھتے تھے وہ سب ناخوب تھے۔ اپنے آپ کو غیر جوابدہ فرض کر کے انہوں نے ایسی بنیادی غلطی کر ڈالی جس کی وجہ سے ان کا پورا کارنامہ حیات ہی غلط ہو کر رہ گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں