آخرت میں حق کی طرف بلانے والوں اور منکرین حق کا مقدمہ پیش ہوگا
آخرت میں حق کی طرف
بلانے والوں اور منکرین حق کا مقدمہ پیش ہوگا
فہرست موضوعات -تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت
صفحہ 372
سورہ زمر آیات 30-35
اِنَّكَ
مَيِّتٌ وَّ اِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَٞ۰۰۳۰ثُمَّ
اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَؒ۰۰۳۱ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ
كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ اَلَيْسَ فِيْ
جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۰۰۳۲وَ الَّذِيْ
جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۰۰۳۳لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا
الْمُحْسِنِيْنَۚۖ۰۰۳۴لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا
وَ يَجْزِيَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۳۵
(اے نبیؐ )تمہیں بھی
مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا
ہے۔ آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے ربّ
کے حضُور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔ پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس نے
اللہ پر جھُوٹ باندھا اور جب سچائی اُس کے سامنے آئی تو اُسے جھُٹلا دیا۔ کیا ایسے
کافروں کے لیے جہنّم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور
جنہوں نے اُس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔ انہیں اپنے ربّ کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی
وہ خواہش کریں گے۔ یہ ہے نیکی کرنے والوں
کی جزا۔ تاکہ جو بدترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر
دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن
کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے
عذاب سے بچنے والے ہیں
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۲
مطلب یہ ہے کہ قیامت
کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں
گے ، یہ بات تم آج ہی سُن لو۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہ کے ساتھ اس کی
ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں ، اور اس سے بھی
زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے
مان کر نہ دیا بلکہ اُلٹا اُسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی۔ رہا وہ شخص
جو سچائی لایا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت
سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جس کی وہ خواہش کریں
گے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۳
یہ بات ملحوظ رہے کہ یہاں فی ا لجنّۃ (جنّت میں )نہیں بلکہ عِنْدَ
رَبِّھِمْ (ان کے رب کے ہاں ) کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے
بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی
نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ
کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے ، روز قیامت کی سختیوں سے ، حساب کی سخت گیری
سے ، میدان حشر کی رسوائی سے ، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا
چاہے گا اور اللہ جل شانہ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔
اُن کو اجر عطا
فرمائے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۴
نبی صلی اللہ علیہ و
سلم پر جو لوگ ایمان لائے تھے ، زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں
ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہو چکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی
ایک نیکی نہ کی تھی کہ اُس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی
قبول کر لی جسے حضورؐ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات
اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان
کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کر دیے
جائیں گے ، اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال
میں سب سے بہتر ہوں گے۔
Comments
Post a Comment