آخرت پر آفاقی استدلال
آخرت پر آفاقی استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 110تا113
سورہ ق آیت 6
اَفَلَمْ
يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَ زَيَّنّٰهَا وَ
مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ۰۰۶
اچھا، تو کیا انہوں
نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔
اچھا
سورۃ ق حاشیہ نمبر۶
اوپر کی پانچ آیتوں میں
کفار مکہ کے موقف کی نا معقولیت واضح کرنے
کے بعد اب بتایا جا رہا ہے کہ آخرت کی جو خبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے
اس کی صحت کے دلائل کیا ہیں۔ اس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کفار
جن دو باتوں پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے ان میں سے ایک، یعنی محمد صلی اللہ علیہ
و سلم کی نبوت کے بر حق ہونے کی دو دلیلیں ابتدا ہی میں دی جاچکی ہیں۔ اول یہ کہ
وہ تمہارے سامنے قرآن مجید پیش کر رہے ہیں جو ان کے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے۔
دوم یہ کہ وہ تمہاری اپنی ہی جنس اور قوم
اور برادری کے آدمی ہیں۔ اچانک آسمان سے یا کسی دوسری سر زمین سے نہیں آ گئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کی زندگی اور سیرت
و کردار کو جانچ کر یہ تحقیق کرنا مشکل ہو کہ وہ قابل اعتماد آدمی ہیں یا نہیں اور
یہ قرآن ان کا اپنا گھڑا ہوا کلام ہو بھی سکتا ہے یا نہیں، اس لیے ان کے دعوائے
نبوت پر تمہارا تعجب بے جا ہے۔ یہ استدلال تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کے بجائے دو
مختصر اشاروں کی شکل میں بیان کیا گیا ہے، کیونکہ جس زمانے میں محمد صلی اللہ علیہ
و سلم خود مکہ میں کھڑے ہو کر ان لوگوں کو قرآن سنا ہے تھے جو بچپن سے جوانی اور
ادھیڑ عمر تک آپ کی ساری زندگی دیکھے ہوئے تھے، اس وقت ان اشاروں کی پوری تفصیل
ماحول کے ہر شخص پر آپ ہی واضح تھی۔ اس لیے اس کو چھوڑ کر اب تفصیلی استدلال اس
دوسری بات کی صداقت پر کیا جا رہا ہے جس کو وہ لوگ عجیب اور عقل سے بعید کہہ رہے
تھے۔
آراستہ کیا
سورۃ ق حاشیہ نمبر۷
یہاں آسمان سے مراد
پورا عالم بالا ہے جسے انسان شب و روز اپنے اوپر چھایا ہوا دیکھتا ہے۔ جس میں دن
کو سورج چمکتا ہے اور رات کو چاند اور بے حد و حساب تارے روشن نظر آتے ہیں۔ جسے
آدمی برہنہ آنکھ ہی سے دیکھے تو حیرت طاری ہو جاتی ہے، لیکن اگر دوربین لگا لے تو
ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو نا پیدا کنار ہے، کہیں سے شروع
ہو کر کہیں ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنے بڑے عظیم الشان سیارے
اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن
تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں
پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم 3 ارب دوسرے تارے
(ثوابت) موجود ہیں، اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی ایسی دس لاکھ کہکشانوں کا پتہ
دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشانوں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے
پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ 86 ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس
لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو
اب تک انسان کے علم اور اس کے مشاہدہ میں آئی ہے۔ خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے، اس
کا کوئی اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات اس پوری
کائنات کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم
کار گاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا
یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے
بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا، تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ کائنات کے
خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہو جائے گی!
کوئی رخنہ نہیں ہے
سورۃ ق حاشیہ نمبر۸
یعنی اپنی اس حیرت
انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظام کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس
کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں ہے اور اس کا تسلسل
کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید
زمانے کے ریڈیائی ہیئت دانوں نے ایک
کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ منبع 3 ج
295 (Source
3c,295) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ان کا اندازہ یہ
ہے کہ اس کی جو شعاعیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ 4 ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے
اس میں سے روانہ ہوئی ہونگی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا
آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے
ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی
طرف اشارہ کر کے در اصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس
نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشان دہی بھی نہیں کر سکتے تو میری قدرت میں اس
کمزوری کا تصور کہاں سے تمہارے دماغ میں آگیا کہ تمہاری مہلت امتحان ختم ہو جانے
کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمہیں پھر زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کرنا
چاہوں تو نہ کر سکوں گا۔
یہ صرف امکان آخرت ہی
کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے چار ارب سال نوری (Light Years) کی مسافت سے
ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا، اور یہاں انسان کے بنائے ہوئے آلات کی گرفت میں آنا
صریحاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کہکشاں سے لے کر زمین تک کی پوری دنیا مسلسل
ایک ہی مادے سے بنی ہوئی ہے، ایک ہی طرح کی قوتیں اس میں کار فرما ہیں، اور کسی
فرق و تفاوت کے بغیر وہ سب ایک ہی طرح کے قوانین پر کام کر رہی ہیں۔ اگر ایسا نہ
ہوتا تو یہ شعاعیں نہ یہاں تک پہنچ سکتی تھیں اور نہ ان آلات کی گرفت میں آسکتی تھیں
جو انسان نے زمین اور اس کے ماحول میں کام کرنے والے قوانین کا فہم حاصل کر کے
بنائے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق و مالک اور
حاکم و مدبر ہے۔
آخرت پر آفاقی
استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 124، 125
سورہ ق آیات 36، 37
وَ كَمْ
اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا
فِي الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ۰۰۳۶اِنَّ فِيْ
ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ
شَهِيْدٌ۰۰۳۷
ہم ان سے پہلے بہت سی
قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا۔ پھر کیا وہ کوئی
جائے پناہ پا سکے؟ اس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا
جو توجہ سے بات کو سنے۔
چھان مارا تھا
سورۃ ق حاشیہ نمبر۴۶
یعنی صرف اپنے ملک ہی
میں وہ زور آور نہ تھیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی وہ جا گھسی تھیں اور ان
کی تاخت کا سلسلہ روئے زمین پر دور دور تک پہنچا ہوا تھا۔
کوئی جائے پناہ پاسکے
سورۃ ق حاشیہ نمبر۴۷
یعنی جب خدا کی طرف
سے ان کی پکڑ کا وقت آیا تو کیا ان کی وہ طاقت ان کو بچاسکی؟ اور کیا دنیا میں پھر
کہیں ان کو پناہ مل سکی؟ اب آخر تم کس بھروسے پر یہ امید رکھتے ہو کہ خدا کے
مقابلے میں بغاوت کر کے تمہیں کہیں پناہ مل جائے گی؟
جو توجہ سے بات کو
سنے
سورة البقرة حاشیہ
نمبر۴۸
بالفاظ دیگر جو یا تو
خود اپنی گرہ کی اتنی عقل رکھتا ہو کہ صحیح بات سوچے، یا نہیں تو غفلت اور تعصب سے
اتنا پاک ہو کہ جب دوسرا کوئی شخص اسے حقیقت سمجھائے تووہ کھلے کانوں سے اس کی بات سنے۔ یہ نہ ہو کہ
سمجھانے والے کی آواز کان کے پردے پر سے گزر رہی ہے اور سننے والے کا دماغ کسی اور
طرف مشغول ہے۔
آخرت پر آفاقی
استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 133تا135
سورہ زاریات آیات
5تا8
اِنَّمَا
تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ۰۰۵وَّ اِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِعٌؕ۰۰۶
حق یہ ہے کہ جس چیز
کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔
خوف دلایا جارہا ہے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۳
اصل میں لفظ
تُوْعَدُوْنَ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اگر
وَعْد سے ہو تو اس کا مطلب ہو گا ’’جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ‘‘۔
اور وَعید سے ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ ’’ جس چیز کا تم کو ڈراوا دیا جا رہا ہے ‘‘۔
زبان کے لحاظ سے دونوں مطلب یکساں درست ہیں۔ لیکن موقع و محل کے ساتھ دوسرا مفہوم
زیادہ مناسبت رکھتا ہے، کیونکہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو کفر و شرک اور فسق و فجور میں
غرق تھے اور یہ بات ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ کبھی ان کو محاسبے اور جزائے
اعمال سے بھی سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اسی لیے ہم نے تُوْعَدُوْنَ کو وعدے کے بجائے
وعید کے معنی میں لیا ہے۔
ضرور پیش
آنی ہے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴
یہ ہے وہ بات جس پر
قسم کھائی گئی ہے۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس بے نظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ
بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اور جو حکمت اور
مصلحتیں اس میں صریح طور پر کار فرما نظر آتی ہیں، وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں
کہ یہ دنیا کوئی بے مقصد اور بے معنی گھروندا نہیں ہے جس میں لاکھوں کروڑوں برس سے
ایک بہت بڑا کھیل بس یوں ہی الل ٹپ ہوئے جا رہا ہو، بلکہ یہ در حقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے
جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔ اس نظام میں یہ کسی طرح
ممکن نہیں ہے کہ یہاں انسان جیسی ایک مخلوق کو عقل، شعور، تمیز اور تصرف کے اختیارات
دے کر، اس میں نیکی و بدی کی اخلاقی حس پیدا کر کے، اور اسے ہر طرح کے اچھے اور
برے، صحیح اور غلط کاموں کے مواقع دے کر، زمین میں تُرکتازیاں کرنے کے لیے محض
فضول اور لایعنی طریقے سے چھوڑ دیا جائے، اور اس سے کبھی یہ باز پرس نہ ہو کہ دل و
دماغ اور جسم کی جو قوتیں اس کو دی گئی تھیں، دنیا میں کام کرنے کے لیے جو وسیع
ذرائع اس کے حوالے کیے گئے تھے، اور خدا کی بے شمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات
اسے دیے گئے تھے،انکو اس نے کس طرح استعمال کیا۔ جس نظام کائنات میں سب کچھ با
مقصد ہے، اس میں صرف انسان جیسی عظیم مخلوق کی تخلیق کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے ! جس
نظام میں ہر چیز مبنی بر حکمت ہے اس میں تنہا ایک انسان ہی کی تخلیق کیسے فضول اور
عبث ہو سکتی ہے؟ مخلوقات کی جو اقسام عقل و شعور نہیں رکھتیں ان کی تخلیق کی مصلحت تواسی عالم طبعی میں پوری ہو
جاتی ہے۔ اس لیے اگر وہ اپنی مدت عمر ختم ہونے کے بعد ضائع کر دی جائیں تو یہ عین
معقول بات ہے، کیونکہ انہیں کوئی اختیارات دیے ہی نہیں گئے ہیں کہ ان سے محاسبے کا کوئی سوال پیدا ہو۔ مگر عقل
و شعور اور اختیارات رکھنے والی مخلوق، جس کے افعال محض عالم طبیعت تک محدود نہیں
ہیں بلکہ اخلاقی نوعیت بھی رکھتے ہیں، اور جس کے اخلاقی نتائج پیدا کرنے والے
اعمال کا سلسلہ محض زندگی کی آخری ساعت تک ہی نہیں چلتا بلکہ مرنے کے بعد بھی اس
پر اخلاقی نتائج مترتب ہوتے رہتے ہیں، اسے صرف اس کا طبعی کام ختم ہو جانے کے بعد
نباتات و حیوانات کی طرح کیسے ضائع کیا جا سکتا ہے؟ اس نے تو اپنے اختیار و ارادہ
سے جو نیکی یا بدی بھی کی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک
مبنی برحق و انصاف جزاء اس کو لازماً ملنی ہی چاہیے، کیونکہ یہ اس مصلحت کا
بنیادی تقاضا ہے جس کے تحت دوسری مخلوقات کے برعکس اسکو ایک ذی اختیار مخلوق بنایا
گیا ہے۔ اس سے محاسبہ نہ ہو، اس کے اخلاقی اعمال پر جزاء و سزانہ ہو، اور اس کو بھی
بے اختیار مخلوقات کی طرح عمر طبعی ختم ہونے پر ضائع کر دیا جائے، تو لامحالہ اس کی
تخلیق سراسر عبث ہو گی، اور ایک حکیم سے فعل عبث کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس کے علاوہ آخرت
اور جزاء و سزا کے وقوع پر ان چار مظاہر
کائنات کی قسم کھانے کی ایک اور وجہہ بھی ہے۔ منکرین آخرت زندگی بعد موت کو جس بنا
پر غیر ممکن سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جب مر کر خاک میں رل مل جائیں گے اور ہمارا
ذرہ ذرہ جب زمین میں منتشر ہو جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ سارے منتشر اجزائے جسم
پھر اکٹھے ہو جائیں اور ہمیں دو بارہ بنا کر کھڑا کیا جائے۔ اس شبہ کی غلطی ان
چاروں مظاہر کائنات پر غور کرنے سے خود بخود رفع ہو جاتی ہے جنیہں آخرت کے لیے دلیل
کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورج کی شعاعیں روئے زمین کے ان تمام ذخائر آپ پر اثر
انداز ہوتی ہیں جن تک ان کی حرارت پہنچتی ہے۔ اس عمل سے پانی کے بے حد و حساب قطرے
اڑ جاتے ہیں اور اپنے مخزن میں باقی نہیں رہتے۔ مگر وہ فنا نہیں ہو جاتے بلکہ بھاپ بنکر ایک ایک قطرہ ہوا میں
محفوظ رہتا ہے۔ پھر جب خدا کا حکم ہوتا ہے تو یہی ہوا ان قطروں کی بھاپ کو سمیٹ
لاتی ہے،اس کو کثیف بادلوں کی شکل میں جمع کرتی ہے، ان بادلوں کے لے کر روئے زمین
کے مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے، اور خدا کی طرف سے جو وقت مقرر ہے ٹھیک اسی وقت ایک
ایک قطرے کو اسی شکل میں جس میں وہ پہلے تھا، زمین پر واپس پہنچا دیتی ہے۔ یہ منظر
جو آئے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے، اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ مرے
ہوئے انسانوں کے اجزائے جسم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر جمع ہو سکتے ہیں اور
ان انسانوں کو اسی شکل میں پھر اُٹھا کھڑا کیا جا سکتا ہے جس میں وہ پہلے موجود
تھے۔ یہ اجزا خواہ مٹی میں ہوں، یا پانی میں، یا ہوا میں، بہر حال رہتے اسی زمین
اور اس کے ماحول ہی میں ہیں۔ جو خدا پانی کے بخارات کو ہوا میں منتشر ہو جانے کے
بعد پھر اسی ہوا کے ذریعہ سے سمیٹ لاتا ہے اور انہیں پھر پانی کی شکل میں برسا دیتا
ہے، اس کے لیے انسانی جسموں کے بکھرے ہوئے اجزاء کو ہوا، پانی اور مٹی میں سے سمیٹ
لانا اور پھر سابق شکلوں میں جمع کر دینا آخر کیوں مشکل ہو؟
قسم ہے متفرق شکلوں
والے آسمان کی۔(آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سےمختلف ہے۔ اس سے وہی بر گشتہ ہوتا ہے جو حق سے پِھرا ہوا
ہے۔
متفرق شکلوں والے
آسمان کی
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۵
اصل میں لفظ ذاتِ الْحُبُکِ
استعمال ہوا ہے۔ حبُک راستوں کو بھی کہتے ہیں۔ ان لہروں کو بھی کہتے ہیں جو ہوا
چلنے ریگستان کی ریت اور ٹھیرے ہوئے پانی میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور گھونگھر والے
بالوں میں جو لٹیں سی بن جاتی ہیں ان کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ یہاں آسمان
کو حُبک والا یا تو اس لحاظ سے فرمایا گیا ہے کہ آسمان پر اکثر طرح طرح کی شکلوں
والے بادل چھائے رہتے ہیں جن میں ہوا کے اثر سے بار بار تغیر ہوتا ہے اور کبھی کوئی
شکل نہ خود قائم رہتی ہے، نہ کسی دوسری شکل سے مشابہ ہوتی ہے۔ یا اس بنا پر فرمایا
گیا ہے کہ رات کے وقت آسمان پر جب تارے بکھرے ہوتے ہیں تو آدمی دیکھتا ہے کہ ان کی
بہت سے مختلف شکلیں ہیں اور کوئی شکل دوسری شکل سے نہیں ملتی۔
تمہاری
بات ایک دوسرے سےمختلف ہے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۱
اس اختلاف اقوال پر
متفرق شکلوں والے آسمان کی قسم تشبیہ کے طور پر کھائی گئی ہے۔ یعنی جس طرح آسمان
کے بادلوں اور تاروں کے جھرمٹوں کی شکلیں مختلف ہیں اور ان میں کوئی مطابقت نہیں
پائی جاتی اسی طرح آخرت کے متعلق تم لوگ بھانت
بھانت کی بولیاں بول رہے ہو اور ہر ایک کی بات دوسرے سے مختلف ہے۔ کوئی
کہتا ہے کہ یہ دنیا ازلی و ابدی ہے اور کوئی قیامت برپا نہیں ہو سکتی۔ کوئی کہتا
ہے کہ یہ نظام حادث ہے اور ایک وقت میں یہ جا کر ختم بھی ہو سکتا ہے، مگر انسان سمیت
جو چیز بھی فنا ہو گئی، پھر اس کا اعادہ ممکن نہیں ہے۔ کوئی اعادے کو ممکن مانتا
ہے، مگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعمال کے اچھے اور برے نتائج بھگتنے کے لیے
بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔ کوئی جنت اور جہنم کا بھی قائل ہے، مگر اس کے
ساتھ تناسُخ کو بھی ملاتا رہتا ہے، یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ گناہ گار جہنم میں بھی
جا کر سزا بھگتتا ہے اور پھر اس دنیا میں بھی سزا پانے کے لیے جنم لیتا رہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ دنیا کی زندگی خود ایک عذاب ہے جب تک انسان کے نفس کو مادی زندگی
سے لگاؤ باقی رہتا ہے اس وقت تک وہ اس دنیا میں مر مر کر پھر جنم لیتا رہتا ہے،
اور اس کی حقیقی نجات (نِروان) یہ ہے کہ وہ بالکل فنا ہو جائے۔ کوئی آخرت اور جنت
و جہنم کا قائل ہے، مگر کہتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو صلیب پر موت دے کر
انسان کے ازلی گناہ کا کفارہ ادا کر دیا ہے، اور اس بیٹے پر ایمان لا کر آدمی اپنے
اعمال بد کے برے نتائج سے بچ جائے گا۔ کچھ دوسرے لوگ آخرت اور جزا و سزا، ہر چیز
کو مان کر بعض ایسے بزرگوں کو شفیع تجویز کر لیتے ہیں جو اللہ کے ایسے پیارے ہیں، یا
اللہ کے ہاں ایسا زور رکھتے ہیں کہ جو ان کا دامن گرفتہ ہو وہ دنیا میں سب کچھ کر
کے بھی سزا سے بچ سکتا ہے۔ ان بزرگ ہستیوں کے بارے میں بھی اس عقیدے کے ماننے
والوں میں اتفاق نہیں ہے،بلکہ ہر ایک گروہ نے اپنے الگ الگ شفیع بنا رکھے ہیں۔ یہ
اختلاف اقوال خود ہی اس امر کا ثبوت ہےکہ وحی و رسالت سے بے نیاز ہو کر انسان نے
اپنے اور اس دنیا کے انجام پر جب بھی کوئی رائے قائم کی ہے،علم کے بغیر قائم کی
ہے۔ ورنہ اگر انسان کے پاس اس معاملہ میں فی الواقع براہ راست علم کا کوئی ذریعہ
ہوتا تو اتنے مختلف اور متضاد عقیدے پیدا نہ ہوتے۔
آخرت پر آفاقی
استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 150تا152
سورہ زاریات آیات
43تا46
وَ فِيْ
ثَمُوْدَ اِذْ قِيْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِيْنٍ۰۰۴۳فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ
يَنْظُرُوْنَ۰۰۴۴فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِيَامٍ وَّ مَا كَانُوْا
مُنْتَصِرِيْنَۙ۰۰۴۵وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا
قَوْمًا فٰسِقِيْنَؒ۰۰۴۶
اور (تمہارے لیے نشانی
ہے) ثمود میں ، جب ان سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو۔
اور ان سب سے پہلے ہم
نے نوح ؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے۔
ایک
خاص وقت تک مزے کر لو
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۰
مفسرین میں اس امر پر
اختلاف ہے کہ اس سے مراد کون سی مہلت ہے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ یہ اشارہ سورہ
ہود کی اس آیت کی طرف ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ثمود کے لوگوں نے جب حضرت صالح
کی اونٹنی کو ہلاک کر دیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو خردار کر دیا گیا کہ تین
دن تک مزے کر لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا۔ بخلاف اس کے حضرت حسن بصری کا خیال
ہے کہ یہ بات حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی دعوت کے آغاز میں اپنی قوم سے فرمائی
تھی اور اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم توبہ و ایمان کی راہ اختیار نہ کرو گے
تو ایک خاص وقت تک ہی تم کو دنیا میں عیش کرنے کی مہلت نصیب ہو سکے گی اور اس کے
بعد تمہاری شامت آ جائے گی۔ ان دونوں تفسیروں میں سے دوسری تفسیر ہی زیادہ صحیح
معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بعد کی آیت فَعَتَوْ ا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ (پھر انہوں نے
اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی)یہ بتاتی ہے کہ جس مہلت کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے وہ
سرتابی سے پہلے دی گئی تھی اور انہوں نے سرتابی اس تنبیہ کے بعد کی۔اس کے برعکس
سورہ ہود والی آیت میں تین دن کی جس مہلت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ان ظالموں کی طرف
سے آخری اور فیصلہ کن سرتابی کا ارتکاب ہو جانے کے بعد دی گئی تھی۔
مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کےحکم سے
سرتابی کی ۔ آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتےایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے ان کو آلیا۔ پھر نہ ان میں اٹھنے کی سکت تھی
اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے۔
اچانک
ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۱
قرآن مجید میں مختلف
مقامات پر اس عذاب کے لیے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہیں اسے رَجْفہ (دہلا دینے
والی اور ہلا مارنے والی آفت) کہا گیا ہے۔ کہیں اس کو صیحہ (دھماکے اور کڑکے ) سے
تعبیر کیا گیا ہے۔کہیں اس کے لیے طاغیہ (انتہائی شدید آفت) کا لفظ استعمال کیا گیا
ہے۔ اور یہاں اسی کو صاعقہ کہا گیا ہے جس کے معنی بجلی کی طرح اچانک ٹوٹ پڑنے والی
آفت کے بھی ہیں اور سخت کڑک کے بھی۔ غالباً یہ عذاب ایک ایسے زلزلے کی شکل میں آیا
تھا جس کے ساتھ خوفناک آواز بھی تھی۔
نہ وہ
اپنا بچاؤ کر سکتے تھے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۲
اصل الفاظ ہیں مَاکَا
نُوْا مُنْتَصِرِیْنَ۔ انتصار کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں کے لیے استعمال کیا
جاتا ہے۔ اس کے ایک معنی ہیں اپنے آپ کو کسی کے حملہ سے بچانا۔ اور دوسرے معنی ہیں
حملہ کرنے والے سے بدلہ لینا۔
سورہ زاریات آیات
47تا49
وَ
السَّمَآءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۰۰۴۷وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ۰۰۴۸وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۰۰۴۹
آسمان کو ہم نے اپنے
زور سے بنایا ہے اور ہم اس کی قدرت رکھتے ہیں
آسمان کو
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۳
آخرت کے حق میں تاریخی
دلائل پیش کرنے کے بعد اب پھر اسی کے ثبوت میں آفاقی دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔
ہم اس کی قدرت رکھتے
ہیں
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۴
اصل الفاظ ہیں
وَاِنَّا لَمُوْ سِعُوْنَ۔ موسع کے معنی طاقت و مقدرت رکھنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں
اور وسیع کرنے والے کے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ
آسمان ہم نے کسی کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے زور سے بنایا ہے اور اس کی تخلیق ہماری
مقدرت سے باہر نہ تھی۔ پھر یہ تصور تم لوگوں کے دماغ میں آخر کیسے آ گیا کہ ہم تمہیں
دو بارہ پیدا نہ کر سکیں گے؟ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس عظیم کائنات
کو ہم بس ایک دفعہ بنا کر نہیں رہ گئے ہیں بلکہ مسلسل اس میں توسیع کر رہے ہیں اور
ہر آن اس میں ہماری تخلیق کے نئے نئے کرشمے رونما ہو رہے ہیں۔ ایسی زبردست خلاق
ہستی کو آخر تم نے اعادہ خلق سے عاجز کیوں سمجھ رکھا ہے؟
۔ زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار
کرنے والے ہیں۔ اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے
بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو۔
ہم نےجوڑے بنائے ہیں
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۶
یعنی دنیا کی تمام اشیاء
تزویج کے اصول پر بنائی گئی ہیں۔ یہ سارا کارخانہ عالم اس قاعدے پر چل رہا ہے کہ
بعض چیزوں کا بعض چیزوں سے جوڑا لگتا ہے اور پھر ان کا جوڑ لگنے ہی سے طرح طرح کی
ترکیبات وجود میں آتی ہیں۔ یہاں کوئی شے بھی ایسی منفرد نہیں ہے کہ دوسری کوئی شے
اس کا جوڑ نہ ہو، بلکہ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر ہی نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰس،
حاشیہ 31۔ الزخرف، حاشیہ 12)۔
شاید کہ تم اس سے سبق
لو
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴۷
مطلب یہ ہے کہ ساری
کائنات کا تزویج کے اصول پر بنا یا جانا، اور دنیا کی تمام اشیاء کا زَوج زَوج
ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو آخرت کے وجوب پر صریح شہادت دے رہی ہے۔ اگر تم غور کرو
تو اس سے خود تمہاری عقل یہ نتیجہ اخذ کر سکتی ہے کہ جب دنیا کی ہر چیز کا ایک
جوڑا ہے، اور کوئی چیز اپنے جوڑے سے ملے بغیر نتیجہ خیز نہیں ہوتی، تو دنیا کی یہ
زندگی کیسے بے جوڑ ہو سکتی ہے؟ اس کا جوڑا لازماً آخرت ہے۔ وہ نہ ہو تو یہ قطعاً
بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔
آگے مضمون کو سمجھنے
کے لیے اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر چہ یہاں تک ساری بحث آخرت کے
موضوع پر چلی آ رہی ہے، لیکن اسی بحث اور انہی دلائل سے توحید کا ثبوت بھی ملتا
ہے۔ بارش کا انتظام، زمین کی ساخت، آسمان کی تخلیق، انسان کا اپنا وجود، کائنات میں
قانون تزویج کی حیرت انگیز کار فرمائی، یہ ساری چیزیں جس طرح آخرت کے امکان و وجوب
پر گواہ ہیں اسی طرح یہی اس بات کی شہادت بھی دے رہی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا
ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں، بلکہ ایک خدائے حکیم و قادر مطلق ہی اس کا خالق
اور مالک اور مدبر ہے۔ اس لیے آگے انہی دلائل کی بنیاد پر توحید کی دعوت پیش کی جا
رہی ہے۔ علاوہ بریں آخرت کو ماننے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خدا سے بغاوت کا
رویہ چھوڑ کر اطاعت و بندگی کی راہ اختیار کرے۔ وہ خدا سے اسی وقت تک پِھرا رہتا
ہے جب تک کہ وہ اس غفلت میں مبتلا رہتا ہے کہ میں کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں
اور اپنی دنیوی زندگی کے اعمال کا کوئی حساب مجھے کسی کو دینا نہیں ہے۔ یہ غلط فہمی
جس وقت بھی رفع ہو جائے، اس کے ساتھ ہی فوراً آدمی کے ضمیر میں یہ احساس ابھر آتا
ہے کہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر وہ بڑی بھاری غلطی کر رہا تھا اور یہ احساس
اسے خدا کی طرف پلٹنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
آخرت پر آفاقی
استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 165
سور طور آیات 5، 6
وَ السَّقْفِ
الْمَرْفُوْعِۙ۰۰۵وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ۰۰۶
اور اُونچی چھت کی، اور مَوجْزَن سمندر کی
اُونچی چھت (آسمان)
اور موجزن سمندر کی قَسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ کی حکمت اور
اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور اسی حکمت و قدرت سے آخرت کا امکان بھی ثابت ہوتا
ہے اور اس کا وقوع و وجوب بھی۔ آسمان کی دلالت پر ہم اس سے پہلے تفسیر سورۃ ’’ق‘‘ حاشیہ
نمبر 7 میں کلام کرچکے ہیں ۔ رہا سمندر، تو جو شخص بھی انکار کا پیشگی فیصلہ کیے
بغیر اس کو نگاہ غور سے دیکھے گا اس کا دل یہ گواہی دے گا کہ زمین پر پانی کے اتنے
بڑے ذخیرے کا فراہم ہو جانا بجائے خود ایک ایسی کاریگری ہے جو کسی اتفاقی حادثے کا
نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے ساتھ اتنی بے شمار حکمتیں وابستہ ہیں کہ اتفاقاً ایسا
حکیمانہ نظام قائم ہو جانا ممکن نہیں ہے ۔ اس میں بے حد و حساب حیوانات پیدا کیے
گئے ہیں جن میں سے ہر نوع کا نظام جسمانی ٹھیک اس گہرائی کے لیے موزوں بنایا گیا
ہے جس کے اندر اسے رہنا ہے ۔ اس کے پانی
کو نمکین بنا دیا گیا ہے تاکہ روزانہ کروڑوں جانور جو اس میں مرتے ہیں ان کی لاشیں
سڑ نہ جائیں ۔ اس کے پانی کو ایک خاص حد پر اس طرح روک رکھا گیا ہے کہ نہ تو وہ زمین
کے شگافوں سے گزر کر اس کے پیٹ میں اتر جاتا ہے اور نہ خشکی پر چڑھ کر اسے غرق کر
دیتا ہے ، بلکہ لاکھوں کروڑوں برس سے وہ اسی حد پر رُکا ہوا ہے ۔اسی عظیم ذخیرہ آب
کے موجود اور برقرار رہنے سے زمین کے خشک حصوں پر بارش کا انتظام ہوتا ہے جس میں
سورج کی گرمی اور ہواؤں کی گردش اس کے ساتھ پوری باقاعدگی کے ساتھ تعاون کرتی ہے ۔
اسی کے غیر آباد نہ ہونے اور طرح طرح کی مخلوقات اس میں پیدا ہونے سے یہ فائدہ
حاصل ہوا ہے کہ انسان اس سے اپنی غذا اور اپنی ضرورت کی بہت سی چیزیں کثیر مقدار میں
حاصل کر رہا ہے ۔ اسی کے ایک حد پر رکے رہنے سے وہ بر اعظم اور جزیرے قائم ہیں جن
پر انسان بس رہا ہے اور اسی کے چند اٹل قواعد کی پابندی کرنے سے یہ ممکن ہوا ہے کہ
انسان اس میں جہاز رانی کر سکے ۔ ایک حکیم کی حکمت اور ایک قادر مطلق کی زبردست
قدرت کے بغیر اس انتظام کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے
کہ انسان اور زمین کی دوسرے مخلوقات کے مفاد سے سمندر کے اس انتظام کا یہ گہرا
تعلق بس الل ٹپ ہی قائم ہو گیا ہے ۔ اب اگر فی الواقع یہ اس امر کی ناقابل انکار
شہادت ہے کہ ایک خدائے حکیم و قادر نے انسان کو زمین پر آباد کرنے کے لیے دوسرے بے
شمار انتظامات کے ساتھ یہ بحر شور بھی اس شان کا پیدا کیا ہے تو وہ شخص سخت احمق
ہوگا جو اس حکیم سے اس نادانی کی توقع رکھے کہ وہ اس سمندر سے انسان کی کھیتیاں سیراب
کرنے اور اس کے ذریعہ سے انسان کو رزق دینے کا انتظام تو کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ
نہ پوچھے گا کہ تو نے میرا رزق کھا کر اس کا حق کیسے ادا کیا، اور وہ اس سمندر کے
سینے پر اپنے جہاز دوڑانے کی قدرت تو انسان کو عطا کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ نہ
پوچھے گا کہ یہ جہاز تو نے حق اور راستی کے ساتھ دوڑائے تھے یا ان کے ذریعے سے دنیا
میں ڈاکے مارتا پھرتا تھا۔ اسی طرح یہ تصور کرنا بھی ایک بہت بڑی کند ذہنی ہے کہ
جس قادر مطلق کی قدرت کا ایک ادنیٰ کرشمہ اس عظیم الشان سمندر کی تخلیق ہے ، جس نے
فضا میں گھومنے والے اس معلق کُرّے پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کو تھام رکھا ہے ،
جس نے نمک کی اتنی بڑی مقدار اس میں گھول دی ہے ، جس نے طرح طرح کی ان گنت مخلوقات
اس میں پیدا کی ہیں اور ان سب کی رزق رسانی کا انتظام اسی کے اندر کر دیا ہے ، جو
ہر سال اربوں ٹن پانی اس میں سے اٹھا کر ہوا کے دوش پر لے جاتا ہے اور کروڑوں مربع
میل کے خشک علاقوں پر اسے بڑی باقاعدگی کے ساتھ بر ساتا رہتا ہے ، وہ انسان کو ایک
دفعہ پیدا کر دینے کے بعد ایسا عاجز ہو جاتا ہے کہ پھر اسے پیدا کرنا چاہے بھی تو
نہیں کر سکتا۔
آخرت پر آفاقی
استدلال
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 228
اِقْتَرَبَتِ
السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۰۰۱
قیامت کی گھڑی قریب
آگئی اور چاند پھٹ گیا۔
یعنی چاند کا پھٹ
جانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قیامت کی گھڑی ، جس کے آنے کی تم لوگوں کو خبر دی
جاتی رہی ہے ، قریب آ لگی ہے اور نظام عالم کے درہم برہم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے ۔
نیز یہ واقعہ کہ چاند جیسا ایک عظیم کُرہ شق ہو کر دو ٹکڑے ہو گیا ، اس امر کا
کھلا ثبوت ہے کہ جس قیامت کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ برپا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر
ہے کہ جب چاند پھٹ سکتا ہے تو زمین بھی پھٹ سکتی ہے ، تاروں اور سیاروں کے مدار بھی
بدل سکتے ہیں اور افلاک کا یہ سارا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے ۔ اس میں کوئی چیز
ازلی و ابدی اور دائم و مستقل نہیں ہے کہ قیامت برپا نہ ہو سکے ۔
بعض لوگوں نے اس فقرے
کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’ چاند پھٹ جائے گا‘‘۔ لیکن عربی زبان کے لحاظ سے چاہے یہ
مطلب لینا ممکن ہو ، عبارت کا سیاق و سباق اس معنی کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتا
ہے ۔ اول تو یہ مطلب لینے سے پہلا فقرہ ہی بے معنی ہو جاتا ہے ۔ چاند اگر اس کلام
کے نزول کے وقت پھٹا نہیں تھا، بلکہ وہ آئندہ کبھی پھٹنے والا ہے تو اس کی بنا پر یہ
کہنا بالکل مہمل بات ہے کہ قیامت کی گھڑی قریب آ گئی ہے ۔ آخر مستقبل میں پیش آنے
والا کوئی واقعہ اس کے قرب کی علامت کیسے قرار پا سکتا ہے کہ اسے شہادت کے طور پر
پیش کرنا ایک معقول طرز استدلال ہو۔ دوسرے ، یہ مطلب لینے کے بعد جب ہم آگے کی
عبارت پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی ۔ آگے
کی عبارت صاف بتا رہی ہے کہ لوگوں نے اس وقت کوئی نشانی دیکھی تھی جو امکان قیامت
کی صریح علامت تھی مگر انہوں نے اسے جادو کا کرشمہ قرار دے کر جھٹلا دیا اور اپنے
اس خیال پر جمے رہے کہ قیامت کا آنا ممکن نہیں ہے ۔اس سیاق و سباق میں اِنْشَقَّ
الْقَمَرُ کے الفاظ اسی صورت میں ٹھیک بیٹھ سکتے ہیں جب کہ ان کا مطلب ’’ چاند پھٹ
گیا ‘‘ ہو ۔’’ پھٹ جائے گا‘‘ کے معنی میں ان کو لے لیا جائے تو بعد کی ساری بات بے
جوڑ ہو جاتی ہے ۔ سلسلہ کلام میں اس فقرے
کو رکھ کر دیکھ لیجیے ، آپ کو خود محسوس ہو جائے گا کہ اس کی وجہ سے ساری عبارت بے
معنی ہو گئی ہے :
’’قیامت کی گھڑی قریب
آ گئی اور چاند پھٹ جائے گا۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ،
منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو
چلتا ہوا جادو ہے ۔ انہوں نے جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی‘‘۔
Comments
Post a Comment