آخرت میں سزا پانے والے کون ہوں گے اور اس سے بچنے والے کون
آخرت میں سزا پانے
والے کون ہوں گے اور اس سے بچنے والے کون
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت
صفحہ290
سورہ صافّات آیات
61تا74
اِنَّ هٰذَا
لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۶۰لِمِثْلِ
هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ۰۰۶۱
یقیناً یہی عظیم
الشان کامیابی ہے ۔ ایسی ہی کامیابی کےلیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔
اَذٰلِكَ
خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ۰۰۶۲اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِيْنَ۰۰۶۳
بولو، یہ ضیافت اچھی
ہے یا زقوم کا درخت؟ ہم
نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے۔
زقّوم کا درخت
. زَقّوم ایک قسم کا
درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے ۔ مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے ، بو ناگوار ہوتی
ہے ، اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم
ہو جاتا ہے ۔ غالباً یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں ۔
فتنہ بنادیا ہے
یعنی منکرین یہ بات
سن کر قرآن پر طعن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر استہزاء کا ایک نیا موقع پالیتے
ہیں ۔ وہ اس پر ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں ، لو اب نئی سنو ، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں
درخت اگے گا۔
اِنَّهَا
شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِيْۤ اَصْلِ الْجَحِيْمِۙ۰۰۶۴طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّيٰطِيْنِ۰۰۶۵
وہ ایک درخت ہے جو
جہنّم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔
کسی کو یہ غلط فہمی
نہ ہو کہ شیطان کا سرکس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔
دراصل یہ تخییلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام طور پر ہر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا
جاتا ہے ۔ مثلاً ہم ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لیے کہتے ہیں وہ
پری ہے ۔اور انتہائی بدصورتی بیان کرنے کے لیے کہتے ہیں ، وہ چڑیل ہے یا بھتنی ہے
۔ کسی شخص کی نورانی شکل کی تعریف میں کہا جاتا ہے ، وہ فرشتہ صورت ہے ۔ اور کوئی
نہایت بھیانک ہیئت کذائی میں سامنے آئے تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ شیطان بنا
چلا آ رہا ہے ۔
فَاِنَّهُمْ
لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِـُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ۰۰۶۶ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيْمٍۚ۰۰۶۷ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِيْمِ۰۰۶۸
جہنّم کے لوگ اُسے
کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا ۔ اور اس کے بعد
ان کی واپسی اسی آتشِ دوزخ کی طرف ہوگی۔
37. اس سے معلوم ہوتا
ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بے تاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک
دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے ۔ پھر جب وہ
وہاں سے کھا پی کر فارغ ہو جائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔
اِنَّهُمْ
اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّيْنَۙ۰۰۶۹فَهُمْ
عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ يُهْرَعُوْنَ۰۰۷۰وَ لَقَدْ
ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَۙ۰۰۷۱وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُّنْذِرِيْنَ۰۰۷۲
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں
نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا اور اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑ چلے۔ حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے
تھے اور ان میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسُول بھیجے تھے۔
نقش قدم پر دوڑ چلے
38. یعنی انہوں نے
خود اپنی عقل سے کام لے کر کبھی نہ سوچا کہ باپ دادا سے جو طریقہ چلا آ رہا ہے وہ
درست بھی ہے یا نہیں ۔ بس آنکھیں بند کر کے اسی ڈگر پر ہولیے جس پر دوسروں کو چلتے
دیکھا۔
فَانْظُرْ
كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِيْنَۙ۰۰۷۳اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِيْنَؒ۰۰۷۴
اب دیکھ لو کہ اُن
تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا ۔ اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے
ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔
آخرت میں سزا پانے
والے کون ہوں گے اور اس سے بچنے والے کون
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت
صفحہ372
سورہ زمر آیات 32تا35
فَمَنْ
اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗ١ؕ
اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ۰۰۳۲
پھر اُس شخص سے بڑا
ظالم اور کون ہوگا جس نے اللہ پر جھُوٹ باندھا اور جب سچائی اُس کے سامنے آئی تو
اُسے جھُٹلا دیا۔ کیا ایسے کافروں کے لیے جہنّم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟
وَ الَّذِيْ
جَآءَ بِالصِّدْقِ وَ صَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ۰۰۳۳
اور جو شخص سچائی لے
کر آیا اور جنہوں نے اُس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۲
مطلب یہ ہے کہ قیامت
کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں
گے ، یہ بات تم آج ہی سُن لو۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہ کے ساتھ اس کی
ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں ، اور اس سے بھی
زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے
مان کر نہ دیا بلکہ اُلٹا اُسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی۔ رہا وہ شخص
جو سچائی لایا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت
سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
لَهُمْ مَّا
يَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِيْنَۚۖ۰۰۳۴لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَهُمْ
اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۳۵
انہیں اپنے ربّ کے
ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے۔
یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ جو بدترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں
اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے۔
جس کی وہ خواہش کریں
گے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۳
یہ بات ملحوظ رہے کہ یہاں فی ا لجنّۃ (جنّت میں )نہیں بلکہ عِنْدَ
رَبِّھِمْ (ان کے رب کے ہاں ) کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے
بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی
نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ
کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے ، روز قیامت کی سختیوں سے ، حساب کی سخت گیری
سے ، میدان حشر کی رسوائی سے ، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا
چاہے گا اور اللہ جل شانہ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔
ان کواجر عطا فرمائے
سورة الزمر حاشیہ
نمبر۵۴
نبی صلی اللہ علیہ و
سلم پر جو لوگ ایمان لائے تھے ، زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں
ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہو چکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی
ایک نیکی نہ کی تھی کہ اُس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی
قبول کر لی جسے حضورؐ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات
اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان
کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کر دیے
جائیں گے ، اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال
میں سب سے بہتر ہوں گے۔
Comments
Post a Comment