آخرت میں کس طرح خدا کی عدالت میں ملزموں کی پیشی ہوگی
آخرت میں کس طرح خدا
کی عدالت میں ملزموں کی پیشی ہوگی
فہرست موضوعات –تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ 44
سورہ سجدہ آیات
12تا14
وَ لَوْ
تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ
رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا
مُوْقِنُوْنَ۰۰۱۲وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ
لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ
النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۰۰۱۳فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِيْتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ
اِنَّا نَسِيْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۰۰۱۴
کاش تم دیکھو وہ وقت
جب یہ مُجرم سر جھکائے اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہوں گے (اُس وقت یہ کہہ رہے ہوں
گے)”اے ہمارے ربّ ، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ
ہم نیک عمل کرے ، ہمیں اب یقین آگیا ہے۔“(جواب میں ارشاد ہوگا)”اگر ہم چاہتے تو
پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔
مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور
انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ پس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی
ملاقات کو فراموش کردیا ، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے۔ چکھو ہمیشگی کے
عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔“
کاش
سورة السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۲
اب اُس حالت کا نقشہ
پیش کیا جاتا ہے جب اپنے رب کی طرف پلٹ کر یہ انسانی ’’اَنا‘‘ اپنا حساب دینے کے
لے اس کے حضور کھڑی ہو گی ۔
ہدایت دے دیتے
اس رکوع کو چھاپیں
سورة السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۳
یعنی ا س طرح حقیقت
کا مشاہدہ اور تجربہ کرا کر ہی لوگوں کو ہدایت دینا ہمارے پیش نظر ہوتا تو دنیا کی
زندگی میں اتنے بڑے امتحان سے گزار کر تم یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ‘ ایسی ہدایت
تو ہم پہلے ہی تم کو دے سکتے تھے لیکن تمہارے لیے تو آغاز ہی سے ہماری اسکیم یہ نہ
تھی ہم تو حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل اور حواس سے مخفی رکھ کر تمہارا امتحان لینا
چاہتے تھے کہ تم براہ راست اُس کو بے نقاب دیکھنے کے بجائے کائنات میں اور خود
اپنے نفس میں اُس کی علامات دیکھ کر اپنی عقل سے اُس کو پہچانتے ہو یا نہیں ، ہم
اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے اِس حقیقت شناسی میں تمہاری جو مدد کرتے
ہیں اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہو یا نہیں ، اور حقیقت جان لینے کے بعد اپنے نفس پر
اتنا قابو پاتے ہو یا نہیں کہ خواہشات اور اغراض کی بندگی سے آزاد ہو کر اس حقیقت
کو مان جاؤ اور اس کے مطابق اپنا طرز عمل درست کر لو۔ اس امتحان میں تم ناکام ہو
چکے ہو۔ اب دوبارہ اِسی امتحان کا سلسلہ شروع کرنے سے کیا حاصل ہو گا۔ دوسرا
امتحان اگر اس طرح لیا جائے کہ تمہیں وہ سب کچھ یاد ہو جو تم نے یہاں دیکھ اور سُن
لیا ہے تو یہ سرے سے کوئی امتحان ہی نہ ہو گا۔ اگر پہلے کی طرح تمہیں خالی الذہن
کر کے اور حقیقت کو نگاہوں سے اوجھل رکھ کر تمہیں پھر دُنیا میں پیدا کر دیا جائے
اور نئے سِرے سے تمہارا اُسی طرح امتحان لیا جائے جیسے پہلے لیا گیا تھا، تو نتیجہ
پچھلے امتحان سے کچھ بھی مختلف نہ ہو گا۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم
القرآن جلد اوّل ، صفحات ۱۶۰۔ ۱۶۱۔ ۵۶۵۔ ۶۲۵۔ ۵۳۲ ۔ ۶۰۳ ۔۶۰۴۔جلد دوّم ص، ۲۷۶ ۔ جلد سوّم ص ۳۰۰)
انسانوں سب سے بھر
دوں گا
اس رکوع کو چھاپیں
سورة السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۴
اشارہ ہے اُس قول کی
طرف جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم ؑ کے وقت ابلیس کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا تھا ۔
سورہ ص کے آخری رکوع میں اُس وقت کا پورا قصّہ بیان کیا گیا ہے ۔ ابلیس نے آدمؑ کو
سجدہ کرنے سے انکار کیا اور نسل آدم کو بہکانے کے لیے قیامت تک کی مہلت مانگی ۔
جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَا لْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ
تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ‘‘ پس
حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں کہ جہنم کو بھر دوں گا تجھ سے اور اُن
لوگوں سے جو انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ۔‘‘
اَجْمَعِیْنَ کا لفظ یہاں
اس معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ تمام جن اور تمام انسان جہنم میں ڈال دیے
جائیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے شیاطین اور ان شیاطین کے پیرو انسان سب ایک ساتھ ہی
وصل جہنم ہوں گے ۔
فراموش کردیا
سورة السجدۃ حاشیہ
نمبر۲۵
یعنی دنیا کے عیش میں
گم ہو کر تم نے اس بات کو بالکل بھلا دیا کہ کبھی اپنے رب کے سامنے بھی جانا ہے ۔
Comments
Post a Comment