آخرت میں کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور حق کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا

 

آخرت میں کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا اور حق کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت

صفحہ 385

سورہ زمر آیات  68-75

وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِيَامٌ يَّنْظُرُوْنَ۰۰۶۸

اور اُس روز صُور پھُونکا جائے گا اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دُوسرا صُور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔

یکایک سب کے سب اُٹھ کر دیکھنے لگیں گے

سورة الزمر حاشیہ نمبر۷۹

یہاں صرف دو مرتبہ صُور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ ان کے علاوہ سورہ نمل میں ان دونوں سے پہلے ایک اور نفخ صور واقع ہونے کا ذکر آیا ہے ، جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہو جائے گی (آیت 87)۔ اسی بنا پر احادیث میں تین مرتبہ نفخ صور واقع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نفخۃالفَزَع، یعنی گھبرا دینے والا صور۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق، یعنی مار گرانے وا لا صور۔ تیسرا نفخۃ القیام لرَبّ العالمین، یعنی وہ صور جسے پھونکتے ہی تمام انسان جی اُٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنے مرقدوں سے نکل آئیں گے۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۹ وَ وُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُوْنَؒ۰۰۷۰

زمین اپنے ربّ کے نُور سے چمک اُٹھے گی ، کتابِ اعمال لا کر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے ، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا  اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا، اور ہر متنفّس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پُورا پُورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

انبیاء اور تمام گواہ

سورة الزمر حاشیہ نمبر۸۰

گواہوں سے مراد وہ گواہ بھی ہیں جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا، اور وہ گواہ بھی جو لوگوں کے اعمال کی شہادت پیش کریں گے۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ گواہ صرف انسان ہی ہوں۔ فرشتے اور جِن اور حیوانات، اور انسانوں کے اپنے اعضاء اور در و دیوار اور شجر و حجر، سب ان گواہوں میں شامل ہوں گے۔

وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَ يُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ۰۰۷۱

(اِس فیصلہ کے بعد)وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا تھا جہنّم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے  اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے”کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسُول نہیں آئے تھے ، جنہوں نے تم کو تمہارے ربّ کی آیات سُنائی ہوں اور تمہیں اِس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟“ وہ جواب دیں گے” ہاں ، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چِپک گیا۔“

دروازے کھول دئے جائيں گے

سورة الزمر حاشیہ نمبر۸١

یعنی جہنم کے دروازے پہلے سے کھلے نہ ہوں گے بلکہ ان کے پہنچنے پر کھولے جائیں گے ، جس طرح مجرموں کے پہنچنے پر جیل کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور ان کے داخل ہوتے ہی بند کر دیا جاتا ہے۔

قِيْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۰۰۷۲

کہا جائے گا، داخل ہو جاوٴ جہنّم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے یہ متکبّروں کے لیے۔

وَ سِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ۰۰۷۳

اور جو لوگ اپنے ربّ کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنّت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے ” سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاوٴ اس میں  ہمیشہ کے لیے۔“

 

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۰۰۷۴

اور وہ کہیں گے”شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا،  اب ہم جنّت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔“  پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔

جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں

سورة الزمر حاشیہ نمبر۸۳

یعنی ہم میں سے ہر ایک کو جو جنت بخشی گئی ہے وہ اب ہماری ملک ہے اور ہمیں اس میں پورے اختیارات حاصل ہیں۔

بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے

سورة الزمر حاشیہ نمبر۸۴

ہو سکتا ہے کہ یہ اہل جنت کا قول ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل جنت کی بات پر یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اضافہ ارشاد فرمایا گیا ہو۔

وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۷۵

اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گر د حلقہ بنائے ہوئے اپنے ربّ کی حمد اور تسبیح کر رہے ہونگے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چُکا دیا جائے گا ، اور پُکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے۔  ؏۸

 

حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے

یعنی پوری کائنات اللہ کی حمد پکار اُٹھے گی۔

 

Comments