اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری مسلمانوں کے انحطاط وزوال کا نتیجہ

 

اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری

مسلمانوں کے انحطاط وزوال کا نتیجہ

 

سیکڑوں سال سے مسلمان جس زوال و انحطاط کا شکار ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مسلمان بھی عام طور سے دین اسلام کو اسی طرح کا ایک مذہب سمجھتے ہیں، جس طرح کے اور دوسرے مذاہب پائے جارہے ہیں۔ انھوں نے بھی اپنے مذہب کو نماز، روزہ، زکٰوۃ، حج،نکاح، طلاق ، وراثت اور اس طرح کے چند مسئلوں تک محدود کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک وعظ ونصیحت کی مجلسوں ، میلاد کی محفلوں اور کلمہ و نماز کی تعلیم سے دین وایمان کے تمام تقاضے پورے ہو جاتے ہیں باقی رہی سیاست و حکومت تو انھوں نے اسے دنیا داری کے خانے میں ڈال کر اسے دنیا دار لوگوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اس میں قصور مسلمان عوام کا نہیں بلکہ ان خاص لوگوں کا ہے، جنھوں نے ان کے دماغوں میں دین اسلام کا یہ محدود مفہوم اتارا اور جمایا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ اب جماعت اسلامی اور اس طرح کی دوسری جماعتوں کی بھی سعی و کوشش سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی دین اسلام کے بارے میں یہ بے بنیاد خیال ختم ہوتا جارہا ہے اور مسلمان اسے پوری زندگی کا مکمل نظام اور قانون سمجھنے لگے ہیں۔ انھیں قرآن مجید کی آیات اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی دلیلوں سے بتایا جار ہاہے کہ ان کی زندگی کا مقصد اور ان کا نصب العین کیا ہے اور کس چیزکو ان کی تمام کوششوں اور جدو جہد کا مرکز ہونا چاہیے۔

 

قرآن مجید کے دلائل

اقامت دین مسلمانوں پر فرض ہے اور اس کے فرض و واجب ہونے کے دلائل سے قرآن بھر ہو اہے ہم اس کی دلیلیں اختصار کے ساتھ ذیل کے چند نکات کے تحت پیش کریں گے۔

1. حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اور انھیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد

2. سیدنا محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کی نبوت اور رسالت کا مقصد

3. قرآن اور اس سے پہلے کی آسمانی کتا میں نازل کرنے کا مقصد۔

4. اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے خلاف حکم چلانے اور فیصلہ کرنے والے کافر،ظالم اور فاسق ہیں۔

5. چور کا ہاتھ کاٹنے اور زانی کو کوڑے لگانے کا حکم۔

6. اقامت دین کے لفظ کے ساتھ قرآن کا صریح حکم۔

7. دین اسلامی کوغالب کرنے کی  جدوجہد کرنے والوں سے مدد کا وعدہ۔

8. غلبۂ دین کی جدوجہد میں مال خرچ نہ کرنے والوں اور جان چرانے والوں کا حکم۔

9. انسان اور جنات کو پیدا کرنے کی غرض۔

10.   امت مسلمہ کا نصب العین اور اس کا مقصد حیات

 

ان دس نکات میں سے ہرایک نکتہ اس بات کی دلیل ہے کہ دین اسلام کو غالب کرنا، اس کو قائم کرنا اور  قرآن مجید کے  تمام قوانین کو نافذکر نامسلمانوں کی ذمے داری اور ان کی زندگی کا اہم ترین فریضہ ہے۔

 

پہلی دلیل

 

ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کا مقصدکیا تھا ان کی حیثیت کیا تھی اوراللہ تعالی نے انہیں دنیا میں کس لیے بھیجا تھا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ  اس دنیا میں سب سے پہلے انسان ہی نہیں بلکہ اللہ کے سب سے پہلے پیغمبر بھی تھے، اس لیے انھیں دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد ہوگا اس کے اہم ترین فریضئہ حیات ہونے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا مقصد کیا تھا، ان کی حیثیت کیا تھی اور انھیں کس ہدایت کے ساتھ دنیا میں بھیجا گیا تھا۔ اس کا مفصل بیان سورہ بقرہ کی آیت ۳۰ سے آیت ۳۹  تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ آیتیں واضح الفاظ میں یہ بتاتی ہیں کہ اللہ تعالٰی نے انھیں اپنی خلافت و نیابت  کے اہم ترین  میں کام کی انجام دہی کے لیے دنیا میں بھیجا تھا اور یہی ان کی تخلیق کا مقصد تھا۔ دنیا میں ان کی حیثیت اللہ کے خلیفہ اور نائب کی تھی ۔ آیت خلافت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا صدر الدین اصلاحی تحریرفر ماتے ہیں:

خلیفہ اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کے ملک میں اس کے سونپے ہوئے اختیارات اس کے نائب کی حیثیت سے استعمال کرے۔ خلیفہ مالک نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک کا نائب ہوتا ہے۔ اس کے اختیارات ذاتی نہیں بلکہ مالک کے عطا کر دہ ہوتے ہیں ۔ وہ ذاتی منشا کے مطابق کام کرنے کا حق نہیں رکھتا بلکہ اس کا کام مالک کے منشا کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اپنے کو مالک سمجھ بیٹھے اور تفویض کیے ہوئے اختیارات کو من مانے طریقے سے استعمال کرنے لگے یا اصل مالک کے سوا کسی اور کو مالک تسلیم کر کے اس کے منشا کی پیروی اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے لگے تو یہ سب نمک حرامی غداری اور بغاوت کے افعال ہوں گے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ انسان اس زمین پر خدا کا خلیفہ ہے۔ یہ منصب خلافت اس کے تاج عظمت کا وہ درخشاں گو ہر ہے جو کسی بھی مخلوق کو نہیں بخشا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالٰی نے اپنی نعمتوں کے سلسلۂ بیان میں اس بے نظیر نعمت کا ذکر بھی ایک خاص اہتمام سے فرمایا۔ پھر اس کی جناب سے ملائکہ کے سامنے تخلیق آدم سے پہلے ہی اس کے ارادے کاذکر اور وہ بھی اسی منصب خلافت ہی کا نام لے کر اس کی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ شاید انسان کے اس نوعی شرف کا اس سے اونچا تخیل اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ اب انسان کی جس طرح یہ خود ناشناسی اور اپنی تحقیر ہے کہ وہ ان مخلوقات کے آگے سر نیاز خم کردے جن پر اس کو نیابتی، آقائی اور حکمرانی کا مقام بخشا گیا ہے۔ اسی طرح اس کی یہ خود فریبی ، خیانت اور غداری ہوگی کہ وہ اپنے اصل مالک کی مرضیات سے بے نیاز ہو کر من مانے طریقے سے زندگی بسر کرنے لگے۔

اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی اصل حقیقت ٹھیک ٹھیک بیان کردی گئی ہے اور نوع انسانی کی تاریخ کا وہ باب پیش کر دیا گیا ہے۔ جس کے معلوم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ انسان کو میسر نہیں ہے۔ اس باب سے جوا ہم نتائج حاصل ہوتے ہیں وہ ان نتائج سے بہت زیادہ قیمتی اور فلاح بخش  ہیں جنھیں زمین کی تہوں سے متفرق ہڈیاں نکال کر اور انھیں قیاس سے ربط دے  کراخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ " (1)

 

مولانا عبد الماجد دریا بادی اپنی تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں۔

 

اور خلیفتہ اللہ وہ ہے، جوز مین پر اللہ کی شریعت کی حکومت قائم کرے۔(2)) ہمارے اگلے مفسرین نے اس کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، ہم یہاں صرف ترجمہ نقل کرتے ہیں ۔ امام بغوی اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں: اور صحیح بات یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اللہ کی زمین پر اس کے احکام کی اقامت کرنے اور اس کے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے اللہ کے خلیفہ تھے۔

خلیفہ کی تفسیر جلالین میں یہ ہے:

 

"وہ ز مین پر میرے احکام کو نافذ کرنے میں میری نیابت کرے گا اور وہ خلیفہ آدم ہیں ۔

 

بیضا وی میں اس طرح ہے۔

" اور خلیفہ اس کو کہتے ہیں، جو دوسرے کا قائم مقام اور اس کا نائب ہو اور اس سے مراد آدم علیہ السلام ہیں اس لیے کہ وہ زمین میں اللہ کے خلیفہ تھے اور اسی طرح ہر نبی اللہ کے خلیفہ تھے ۔ اللہ نے تمام انبیاء کو زمین کی آبادی، لوگوں کے امور کی تدبیر، ان کے نفوس کی تکمیل اور ان پر احکام الٰہی کی تنفیذ کے لیے اپنا خلیفہ بنایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ اللہ کسی نائب

-----------------------------------------------------------------

تیسیر القرآن حاشیہ 41 ص 71،72

 

) مولانا عبد الماجد دریا بادی تفسیر ماجدی، ج 1، ص  ۹۵ نا شرمجلس تحقیقات و نشریات اسلام لکھنؤ۔

 

کا محتاج ہے، بلکہ اس لیے کہ جن لوگوں پر اس نے اپنا نائب مقرر کیا وہ بلا واسطہ اس کے اوامر اس کے فیض کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔

اس طرح کی عبارت روح المعانی میں بھی ہے، جس کے ابتدائی جملے یہ ہیں: آدم زمین میں اللہ کے خلیفہ تھے اور اسی طرح تمام انبیاء اللہ کے خلیفہ تھے ۔"

" مفسرین کرام کی ان عبارتوں سے پوری وضاحت کے ساتھ معلوم ہوا کہ نہ صرف حضرت  آدم علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کو جو خلافت ارضی عطا کی گئی تھی اس کا مقصد یہ تھا:

زمین کی آبادی ، لوگوں کے لیے سیاست کی انجام دہی (یعنی ان کے تمام امور و معاملات کا انتظام او رتدبیر) ان کے نفوس کی تکمیل اللہ کےشرعی فیصلوں کی تنفیذ ،اور حدود الٰہی کی اقامت۔"

ہم نے اوپر دستور جماعت اسلامی ہند کے حوالے سے "اقامت دین" کا جو مطلب ومفہوم واضح  کیاوہ اس کے سو اور کیا ہےمفسرین کرام نے ان چار نکات میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے انسانی زندگی کا کون سا شعبہ خارج ہے مسلمانوں پر اقامت دین کے فرض ووا جب ہونے کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو گی ؟ جو کام انسان کی غایت تخلیق اور اس کا مقصد وجود ہو وہ بھی اس پر فرض نہ ہو گا تو آخرکون سا کام اس پرفرض ہو گا ؟

سور ۃالبقرہ کی آیت ۳۰ وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً،خلیفہ کا لفظ ایک جگہ اور قرآن میں آیا ہے:

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ

"اے داوٴدؑ ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔"

اس آیت میں اللہ نے صراحت کے ساتھ حضرت داؤد کو اپنا خلیفہ اور نائب کہا ہے اور اس کا مقصد بھی یہی بیان کیا ہے کہ و ہ اللہ کے اُتارے ہوئے قانون عدل کے مطابق حکومت کریں اور مقدمات کا فیصلہ سنائیں۔ اگرچہ منشائے تخلیق کے لحاظ سے تو ہر انسان خدا کا خلیفہ ہے۔ لیکن اس عظیم منصب کی عین فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ یہ منصب، صفات کے ساتھ مشروط ہو، غیر مشروط نہ ہو۔ اس کے اہل اور جائز حق دار وہی لوگ ہوں جو خدا کی خلافت کے حق کو وفاداری کے ساتھ ادا کریں اور جولوگ اس حق کو ادا نہ   کریں وہ خدا کےخلیفہ نہیں بلکہ اس کے باغی اور غدار ہیں۔ جب مومنین صالحین ہی  خلافت الٰہی کے حق دار ہیں تو ان کے منصب کا یہ عین تقاضا ہے کہ وہ دوسرے گرے ہوئے انسانوں کو بغاوت کی پستی سے اٹھا کر انھیں خلافت الٰہی کی بلندی تک پہنچانے کی سعی کریں۔ اوپر کی تفصیل سے یہ بات خود ظا ہر ہورہی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فرماں بردار بندوں کو جو خدمت سپرد کی ہے وہ ایک ایسے نظام کی متقاضی ہے، جس کی بنیاد نیابت الٰہی کے نظریے پر رکھی گئی ہو۔ کیوں کہ اس کے بغیر یہ خدمت پوری طرح انجام نہیں دی جاسکتی۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں