مشرکین اپنے انجام سے ڈر رہے ہوں گے مگر وہ ان پر آکر رہے گا۔
مشرکین اپنے انجام سے ڈر رہے ہوں گے
مگر وہ ان پر آکر رہے گا۔
فہرست موضوعات- تفہیم القرآن جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 500
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا
شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا
كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ
اَلِيْمٌ۰۰۲۱تَرَى
الظّٰلِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریکِ خدا رکھتے
ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیّت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے
جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی
بات پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضّیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً اِن ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تم دیکھو
گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آکر رہے
گا۔ سورہ شوری آیات 21،22
جب ظالم جہنم کے
سامنے لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے زمین میں گڑے جارہے ہوں گے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد چہارم-آخرت
صفحہ513
سورہ شوری آیات
44تا46
وَ تَرَى
الظّٰلِمِيْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ
سَبِيْلٍۚ۰۰۴۴وَ تَرٰىهُمْ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا خٰشِعِيْنَ مِنَ
الذُّلِّ يَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِيٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا
اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ
الْقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ۰۰۴۵وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِيَآءَ يَنْصُرُوْنَهُمْ۠ مِّنْ دُوْنِ
اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِيْلٍؕ۰۰۴۶
تم دیکھو گے کہ یہ
ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟ اور تم دیکھوں گے کہ یہ جہنّم کے سامنے جب لائے
جائیں گے تو ذلّت کے مارے جُھکے جا رہے
ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن اَنکھیوں سے دیکھیں گے۔ اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ
واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلّقین
کو خسارے میں ڈال دیا ہے۔ خبر دار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو
اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں ۔ جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے
بچاوٴ کی کوئی سبیل نہیں۔
اب پلٹنے کی بھی کوئی
سبیل ہے
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۷۰
یعنی آج جب کہ پلٹ
آنے کا موقع ہے ، یہ پلٹنے سے انکار کر رہے ہیں۔ کل جب ، فیصلہ ہو چکے گا اور سزا
کا حکم نافذ ہو جائے گا اس وقت اپنی شامت دیکھ کر یہ چاہیں گے کہ اب انہیں پلٹنے
کا موقع ملے۔
کن اَنکھیوں سے دیکھیں
گے
سورة الشوریٰ حاشیہ
نمبر۷١
انسان کا قاعدہ ہے کہ
جب کوئی ہولناک منظر اس کے سامنے ہوتا ہے اور وہ جان رہا ہوتا ہے کہ عنقریب وہ اس
بلا کے چنگل میں آنے والا ہے جو سامنے نظر
آ رہی ہے ، تو پہلے تو ڈر کے مارے وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ پھر اس سے رہا
نہیں جاتا۔دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ بلا کیسی ہے اور ابھی اس سے کتنی دور ہے۔
لیکن اس کی بھی ہمت نہیں پڑتی کہ سر اٹھا کر نگاہ بھر کر اسے دیکھے۔ اس لیے بار
بار ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے گوشہ چشم سے دیکھتا ہے اور پھر ڈر کے مارے آنکھیں
بند کر لیتا ہے۔ جہنم کی طرف جانے والوں کی اسی کیفیت کا نقشہ اس آیت میں کھینچا گیا
ہے۔
Comments
Post a Comment