آخرت میں مومن اور فاسق کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا

 

آخرت میں مومن اور فاسق کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد چہارم-آخرت-صفحہ46،47

سورہ سجدہ آیات 18تا20

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا يَسْتَوٗنَؐ۰۰۱۸اَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى ١ٞ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۹وَ اَمَّا الَّذِيْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِيْدُوْا فِيْهَا وَ قِيْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۰۰۲۰

بھلا کہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے جو فاسق ہو؟یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں  ، ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں ۔ اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائیگا کہ چکھو اب اسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

جو فاسق ہو

سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۳۰

یہاں مومن اور فاسق کی دو متقابل اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں ۔ مومن سے مُراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب واحد مان کر اُس قانون کی اطاعت اختیار کر لے جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے ۔ اس کے برعکس فاسق وہ جو فسق (خروج از طاعت ،یا با الفاظ دیگر بغاوت ، خود مختاری اور اطاعت غیر اللہ) کا رویّہ اختیار کرے ۔

یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۳١

یعنی نہ دُنیا میں ان کا طرزِ فِکر و طرز حیات یکساں ہو سکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کے ساتھ خدا کا معاملہ یکساں ہو سکتا ہے ۔

جنتوں کی قیام گاہیں ہیں

سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۳۲

یعنی وہ جنّتیں اُن کی سیر گاہیں نہیں ہوں گی بلکہ وہی ان کی قیام گاہیں بھی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں