سورہ بقرۃ رکوع 38آیات 274تا281
سورہ بقرۃ رکوع 38آیات 274تا281
اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ
اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ
اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ
يَحْزَنُوْنَؔ۰۰۲۷۴اَلَّذِيْنَ
يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ
يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا
الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ
الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا
سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ
النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۷۵يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ
يُرْبِي الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ۰۰۲۷۶اِنَّ الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ
لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ
يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۷۷يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ
كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۰۰۲۷۸فَاِنْ
لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ
تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ۰۰۲۷۹وَ اِنْ كَانَ
ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ
اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۸۰وَ اتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ
فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا
يُظْلَمُوْنَؒ۰۰۲۸۱
جو لوگ اپنے مال شب وروز کھُلے اور
چھُپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کےلیے کسی خوف اور رنج
کا مقام نہیں۔ مگر جو لوگ سُود کھاتے ہیں ، اُن کا حال اُس شخص کاسا ہوتا ہے، جسے
شیطان نے چُھوکر باوٴلا کر دیا ہو۔ اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ
ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے “، حالانکہ اللہ نے تجارت کو
حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت
پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ،
اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے،
وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سُود کا مَٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو
نشونما دیتا ہے۔ اور اللہ کِسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔ ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں
اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان
کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، خُدا سے
ڈرو اور جو کچھ تمہارا سُود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان
لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ اللہ اور اُس کے رسول
ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ
تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صد قہ
کردو ، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو ۔ اس دن کی رسوائی و مصیبت
سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا
بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی
پر ظلم ہر گز نہ ہوگا۔ ؏۳۸
Comments
Post a Comment