اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری دوسری دلیل
اقامت دین فرض ہے—مولانا سید احمد عروج قادری
دوسری دلیل
سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی اسی لیے ہوئی تھی کہ وہ دین حق کو
تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دیں۔ اس کی صراحت سور ہ تو بہ آیت ۳۳ سورۂ صف آیت 9 ، اور
سورہ فتح آیت 28 میں ہے۔ میں یہاں سورہ فتح کی آیت نقل کرتا ہوں
هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ
دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ١ؕ
وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًاؕ۰۰۲۸سورہ فتح آیت 28
وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے
ساتھ بھیجاہے تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کر دے اور اس حقیقت پر اللہ کی
گواہی کافی ہے۔سورہ فتح آیت 28
سورہ التوبہ اور سورہ الصّف کی آیتوں کا آخری ٹکڑا وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ہے۔ اور سورہ الفتح کی آیت کا آخری ٹکڑا ١ؕ
وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًاؕ
ہے۔ ان دونوں آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دین حق کا غلبہ مشرکوں اور کافروں کو
خواہ کتناہی ناگوار کیوں نہ ہو، ہم نے اپنے رسول کو اسی مقصد سے بھیجا ہے اور سورہ
الفتح کا آخری ٹکڑا یہ بتاتا ہے کہ بعثت محمدی
کی اس غرض وغایت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اب اگر تمام دنیا مل کر بھی یہ کہے کہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ نہیں تھا تو اس کی بات قابل سماعت نہ
ہوگی۔ سورۃ التوبہ آیت ۳۳
کے تحت مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے لکھا ہے:
"دین
کا لفظ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، عربی زبان میں اس نظام زندگی یا طریق
زندگی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس کے قائم کرنے والے کو سند اور مطاع تسلیم کر کے
اس کا اتباع کیا جائے۔ پس بعثت رسول کی غرض اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ جس
ہدایت اور دین حق کو وہ خدا کی طرف سے لایا ہے اسے دین کی نوعیت رکھنے والے تمام
طریقوں اور نظاموں پر غالب کر دے۔ دوسرے الفاظ میں رسول کی بعثت کبھی اس غرض کے
لیے نہیں ہوئی کہ جو نظام زندگی لے کر وہ آیا ہے وہ کسی دوسرے نظام زندگی کا تابع
اور اس سے مغلوب ہو کر اور اس کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں میں سمٹ کر رہے
بلکہ وہ بادشاہ ارض و سما کا نمائندہ بن
کر آتا ہے اور اپنے بادشاہ کے نظام حق کو غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر کوئی
دوسرا نظام زندگی دنیا میں رہے بھی تو اسے خدائی نظام کی بخشی ہوئی گنجائشوں میں
سمٹ کر رہنا چاہیے جیسا کہ جزیہ ادا کرنے
کی صورت میں ذمیوں کا نظام زندگی رہتا ہے۔" (تفہیم القرآن جلد2 حاشیہ ۳۲ص
۱۹۰)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقصد بعثت کو شاہ ولی
اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب " حجۃ اللہ البالغہ میں اور متعددمقامات پر
لکھا ہے۔ اس آیت کا حوالہ دیے بغیر بھی لکھا ہے اور یہ آیت پیش کرکے بھی لکھاہے۔
ایک جگہ انہوں نے اللہ کی یہ سنت پیش کی ہے کہ کس طرح وہ باغی اور سرکش قوموں کو
مغلوب اور تباہ کرتا رہتا ہے۔ اسی سلسلہ بیان میں انھوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم
کے مقصد بعثت اور ادیان باطلہ کی مغلوبیت پرروشنی ڈالی ہے
و آں وضع خاص ظهور دین ایشان است بر ادیان همه آں در
ضمن کتب حامیان ادیان و داعیان آنہا بقتل وسبی ونہب و اخذ خراج و جزیه و ازاله
دولت و شوکت ایشاں و پائمال و بے مقدار ساختن ایشان و ایں وضع خاص در اصل بعثت آن
حضرت ملفوف شد و بعثت آں جناب متضمن آں صورت گشت فذلک قوله تعالى هو الذي ارسل رسوله
بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون و قوله صلى الله عليه
وسلم انما
بعتك لا بلیک و ابتلی بک( ازالة الخفاء مقصد اول ص ۴۵ مطبع صدیقی)
" اور
وہ خاص وضع و شکل آپ کے دین کو دوسرے ادیان پر غالب کرنا ہے۔ اس طریقے پر کہ ان
ادیان باطلہ کے حامیوں اور داعیوں کو قتل اور قید کیا جائے ان سے خراج اور جزیہ
وصول کیا جائے ان کی حکومت و شوکت کو ختم اور ان کو پامال و ذلیل کیا جائے ، اور
یہ وضع خاص آپ کی اصل بعثت کے اندر داخل اور آں حضور کی بعثت اس خاص صورت پر مشتمل
تھی اور یہی مطلب ہے اس آیت کا" وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق
کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی
ناگوار ہو۔ اور یہی مطلب ہے حضور کی اس حدیث قدسی کا کہ میں نے تم کو اس لیے بھیجا
ہے کہ تمھیں آزماؤں اور تمھارے ذریعے دوسرے لوگوں کی آزمائش کروں ۔"
اسی آیت پر بحث کرتے ہوئے شاہ صاحب نے یہ بھی تحریر
فرمایا ہے: جان لینا چاہے کہ اس آیت کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ہر غلبہ جو دین حق کو
حاصل ہواوہ سب کا سب لیظهره علی الدین کلہ میں داخل ہے اور وہ عظیم الشان غلبہ جو
کسری و قیصر کی حکومتوں کو درہم برہم کر دینے کی شکل میں حاصل ہوا بدرجہ اولی اس
کلمہ میں داخل ہے اور بڑے درجے ومرتبے کے علم بردار خلفاء تھے (رضی اللہ عنہم ) ان
بزرگوں کی کوششیں آں حضرت کی بعثت کا مقتضا اور اس کے اندر داخل تھیں ۔ (ازالۃ
الخفاء، جلد 1 ص (۲۲)
بعض وہ لوگ جو غلبۂ دین حق سے مایوس ہیں یا اس کی جدو
جہد سے جان بچانا چاہیے ہیں اس آیت کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ اس میں جو کچھ کہا
گیا ہے وہ حضور کے ساتھ ہو گیا۔ اب ہم اس جد و جہد کے مکلف نہیں ہیں۔ ان کی اس
ذہنیت کا جواب بھی شاہ صاحب کی تحریر میں موجود ہے ، وہ لکھتے ہیں:
اللہ تعالی نے ہدایت اور دین حق آن حضرت پر نازل فرمایا
اور آپ کے صحابہ کرام کو اس کی تبلیغ کی ۔ صحابہ نے آپ کے مقصد و مراد کو اچھی طرح
سمجھا اور پھر اسے تابعین تک پہنچایا اور اسی طرح عہد بہ عہد وہ مقصد منتقل ہوتا
چلا آ رہا ہے اس لیے کہ ارادہ الٰہی محض یہ نہ تھا کہ صرف آن حضرت کو تعلیم دے دی
جائے اور نہ یہ تھا کہ سننے والے مقصد تبلیغ سمجھیں یانہ سمجھیں۔ آپ عہدۂ تبلیغ سے
عہدہ برآ ہو جا ئیں بلکہ مراددین حق کاظہور اور غلبہ ہے۔
قرناً
بعد قرنِ (یعنی ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میں اور پھر تیسرے میں اور اسی طرح )
(ازالۃ الخفاء جلد ا ص ۳۶)
حضرت شاہ ولی اللہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب 'حجۃ اللہ
البالغہ میں متعدد ابواب میں اور مختلف انداز سے بار بار یہ حقیقت دہرائی ہے کہ
اللہ تعالی انبیاء کرام کو اقامت دین ہی کے لیےمبعوث فرماتا رہا ہے اور اس نے سید
نا محمد ﷺ کو کبھی اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ وہ دین حق کوباطل ادیان پر غالب
کریں ۔ ابواب الایمان کی تمہید میں وہ لکھتے ہیں:
اعلم ان النبي لما كان مبعوثا الى الخلق عاما ليغلب
دينه على الأديان كلها بعز عزیز و ذل ذليل حصل في دينه انواع من الناس فوجب
التمييز بين الذين يدينون دين الإسلام و بين غيرهم الخ ( حجۃ اللہ البالغہ ج ا ص ۱۲۲ مطبوع مصر )
جان لو کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم چوں کہ تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیے گئے ہیں تا کہ اپنے دین کو
تمام ادیان پر غالب کر دیں ، عزت والے کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کےساتھ۔ اس
لیے آپ کے دین میں مختلف قسم کے لوگ داخل ہو گئے۔ لہذا ضر وری ہوا کہ مسلمانوں اور
غیر مسلموں کے درمیان تمیز کی جائے ۔
ایک جگہ وہ
جہاد کی ضرورت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
اعلم ان النبی سے بعث بالخلافة العامة وغلبة دينه على
سائر الاديان لا يتحقق الا بالجهاد و اعداد الالة فاذا تركوا الجهاد والتبعوا
اذناب البقر احاط بهم الذل وغلب اهل سائر الأديان.
(حجتہ اللہ البالغہ
ج ۲
ص ۷۳)
جان لو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خلافت عامہ کے ساتھ
مبعوث ہوئے تھے اور آپ کے دین کا دوسرے تمام ادیان پر غالب ہونا جہاد اور سامان
جہاد کی تیاری کے بغیر ممکن نہیں ہے تو جب وہ جہاد ترک کردیں اور بیلوں کی دموں کے
پیچھے لگ جائیں (یعنی وہ صرف حصول معاش میں مشغول اور جہاد سے غافل ہو جائیں )
توذلت ان کو گھیر لے گی اور دوسرے ادیان والے ان پر غالب آجا ئیں گے۔"
ہم طوالت کےخوف سے اس طرح کی دوسری عبارتیں نقل نہیں کر
رہے ہیں، جو عبارتیں نقل کی گئی ہیں ان سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ شاہ ولی اللہ
محدث دہلوی نے پورے عزم اور یقین کے ساتھ یہ حقیقت بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد دین حق کو تمام ادیان پر غالب کرنا تھا۔ ہم مسلمانوں کے
لیے اقامت دین کے فرض و واجب ہونے کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہم جس رسول کی امت
ہیں ان کی بعثت کا مقصد ہی اقامت دین تھا۔
Comments
Post a Comment