میرے مربی میرے محسن
بسم اللہ الرحمان الرحیم
میرے مربی،میرے محسن
استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب کو میں نے پہلی بار عنبر نگر (جو کہ وارث گوڑہ اور جامعہ عثمانیہ سکندرآبادکے درمیان ایک محلہ ہے )کی مسجد میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے دیکھا۔ سفید کرتے پاجامے میں ملبوس سفید بھری بھری ریش والے ایک صاحب منبر کی پہلی سیڑھی پر ٹھیر کر خطبۂ دے رہے تھے، گھن گرج کے ساتھ پہلے اردو میں تقریر کرتے، خطبۂ ثانیہ عربی میں، اتنی روانی کے ساتھ اور گرجدار آواز میں، ایک ایک لفظ جیسے دل میں اترا جارہا ہو۔ سارے لوگ دم بخود سے ہوکر ان کی تقریر کے ایک ایک لفظ کو بغورسن رہے تھے، جیسے یاد کررہے ہوں۔اس زمانے میں لوگ یا تو اردو میں خطبات موعظت نامی کتاب دیکھ کر پڑھتے یا صرف عربی خطبہ بھی کتاب دیکھ کر ہی پڑھتے۔ایک ایسے دور میں اگر کوئی پورے یقین اور خلوص سے بھرپور ہوکر دلائل کے ساتھ گفتگو کررہا ہو تو وہ بات یقینا دلوں کو موہ لیتی ہے۔ اور خطاب میں سلاست اور روانی، کسی ایچ پیچ کے بغیر سیدھا سادا سا اسلوب ،اپنائیت بھرا لہجہ یقینا دلوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مجھے الفاظ اور جملےمن و عن تو یاد نہیں رہے، لیکن میں اسی وقت ان سے متاثر ہوگیا، اتنا زور دار انداز بیان اور اخلاص سے بھر پور لہجہ میں نے محسوس کیا کہ مانو جیسے میرا ایمان بڑھ گیا ہے۔بس اسی دن سے میں نے اپنا تعلق ان سےجوڑ لیا۔ یہ تھی میری ان سے پہلی ملاقات۔ اور میں پہلی ہی ملاقات میں ان کا ہوکر رہ گیا۔
یہ اس دور کی بات ہے جبکہ ہم وارث گوڑہ سکندرآبادمیں رہتے تھے۔ اوائل 1978 سنہ میں اس وقت میں 16، 17 سال کا ایک نوجوان تھا۔اور اس وقت میں وارث گوڑہ سکندرآباد کی مسجد کوثر کا مصلی تھا۔ میری بچپن سے دوستیاں جو کچھ بھی ہوئی ہیں وہ سب کی سب مسجد سے ہی شروع ہوئی ہیں اور وہ آج تک برقرار ہیں۔ان دوستوں میں سید سلطان محی الدین، سید قاسم عرف شکیل بہت قریب ہیں اور دوسرے تمام زمانے کی گردشوں میں گم ہوگئے ۔ میں ذکرکررہا تھا میرے استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب کا، اور ان تک پہنچنے کا ذریعہ تھے ناصر بھائی جو کہ مسجد کوثر وارث گوڑہ کے مصلی تھے اور میرے اور سلطان کے مشترکہ دوست تھے ، گو کہ وہ(ناصر بھائی) ہم دونوں سے بڑے تھے لیکن ہمارے ساتھ ان کا رویہ کافی مشفقانہ ہوتا تھا۔اور وہ ہم کو مولانا مودودی کی کتابیں لاکر دیا کرتے تھے اور چونکہ سلطان انگلش میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے اور ان کی اردو اس وقت بس یوں ہی سی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنی کاوشوں سے اپنی اردو کو کافی بہتر کرلیا تھا۔ بچپن ہی میں والد محترم شیخ محمد عبد الطیف صاحب اور بڑے بھائی عبد العلی صاحب نے گھر پر اردو کی تعلیم دی تھی۔میری اپنی کوششوں سے میں نے اپنی اردو کو کافی رواں کرلیا تھا، اور اس میں کافی حد تک دخل میری مطالعہ سے دلچسپی تھی، اور اس وقت گھر میں نور، ہلال، حجاب،بتول، الحسنات،اور ترجمان القرآن،ھدی، ھما، شبستان،نامی متعدد رسالے اور ماہنامے آتے تھے، میں ان تمام رسالوں،ماہناموں کو پڑھتا تھا، اسلئے میری اردو کافی بہتر تھی۔ میں ناصر بھائی کی دی ہوئی کتابوں کو بھی پڑھتا تھا،اس طرح میں مطالعہ کے ہی ذریعہ سے مولانا مودودی سے بہتر طور پر واقف ہوا۔ویسے بچپن ہی میں والد صاحب کے ذریعہ میں بہت پہلے سے مولانا مودودی سے واقف تھا۔ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ اس وقت کے سب سے بڑے عالم مولانا مودودی ہیں۔میں ،سلطان ،ناصر بھائی اکثرعصر ،و مغرب کی نمازوں میں ملتے اور گفتگو ہوتی بہت ساری باتوں میں ہمارے خیالات میں ہم آہنگی تھی۔ انہی ملاقاتوں کے دوران میں گاہے گاہے ناصر بھائی کہا کرتے تھے کہ عنبر نگر جو کہ پڑوس کا محلہ تھا وہاں میں خطبۂ جمعہ میں شریک ہوں، وہاں شیخ غلام حسین صاحب خطبۂ جمعہ دیتے ہیں۔میں اگلے ہی جمعہ کو عنبر نگر کی مسجد میں نماز جمعہ کے لئے پہنچ گیااور پھر میں شیخ صاحب تک پہنچ ہی گیا۔
اسی مسجد قادریہ عنبر نگر کے مصلیان میں عبد الحفیظ بھائی، ثناءالدین صاحب، لیاقت علی خان(سلیم بھائی)،یعقوب خان صاحب یہ لوگ پہلے سے شیخ صاحب کے ارادت مندوں میں سے تھے۔ پھر ان ہی لوگوں کے ساتھ میں شیخ صاحب کے گھر تک بھی پہنچ گیا۔مشیرآباد میں ان کے مکان پر ہفتہ وار درس قرآن میں شریک ہوتا رہا۔ اللہ سے قربت ان ہی کی تربیت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔آج میں اللہ کوبالکل اپنے قریب پاتا ہوں ،اس سے باتیں کرتا ہوں تو یہ یقین کی کیفیت ان ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ محترم شیخ غلام حسین صاحب اس زمانے میں جماعت اسلامی کے سکندرآباد کے ناظم تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ سکندر آباد کی کوئی بھی بااثر شخصیت ان کے نام سے ناواقف نہیں تھی۔چاہے وہ عوامی لیڈر ہوں ،سائنٹسٹ ہوں،کسی ادارے کے ڈائریکٹر ہوں،نامور و بے نام ہر کس و ناکس ان سے واقف تھا۔ ہر عوامی کام میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا۔عثمانیہ یونیورسٹی کے تمام اساتذہ،پروفیسر،ڈین، ریڈر سب سے ملتےاور ان میں جو مسلم ہوتے تو ان کو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کو کہتے اور غیر مسلم ہو تو اس کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے۔ این جی آر آئی، سی سی ایم بی، پراگا ٹولس، ہر ادارہ کے ڈائریکٹر ہوں یا سائنٹسٹ ہوں، کوئی بھی ان سے ناواقف نہ ہوتا۔ سب تک پہنچتے اور ان تک اسلام کی دعوت پہنچاتے، اسلام کا پیغام امن ،اور جماعت کی دعوت اور اس کے کام سے واقف کرواتے۔غرض کہ بحیثیت ناظم سکندرآباد ڈیویژن سکندرآباد کے تمام عمائدین و زعماء شہر مسلم و غیر مسلم سب تک پہنچتے یہاں تک کہ شیخ غلام حسین اور جماعت اسلامی شہر بھر میں معلوم و معروف ہوگئے تھے کہ اگر کوئی شخص نامپلی ریلوےاسٹیشن پر اتر کر اگر رکشا والے سے یہ کہے کہ شیخ غلام حسین کے گھر جانا ہے تو وہ پہنچا جاتا۔
استاد محترم شیخ غلام حسین مہاراشٹراسے تعلق رکھتے تھے،ان کی زندگی تمام کارناموں، اور جدوجہد سے پر ہے۔ جماعت اسلامی میں آنے سے پہلے وہ ایک آزاد شخص تھے،اور کانگریس کے بہت با اثر اور ریلوے کے یونین لیڈر تھے۔ایک وقت میں ان کا ایسا اثر تھا کہ ریلوے کے ایک ہڑتال کے موقع پر ان کے اثرات اس حد تک تھے کہ آدھی رات کو تمام ساؤتھ سنٹرل ریلوے معطل ہوکر رہ گیا،گاڑیاں جہاں تہاں رک گئیں۔اس دور میں سب نے ان کی تقریری صلاحیت کا لوہا مانا تھا۔وہ اسٹیچ پر چلتے ہوئے تقریر کرتے تھے۔خیارکم فی الجاھلیہ،وخیارکم فی الاسلام کی ایک واضح مثال تھے۔جماعت اسلامی میں آنے کے بعد ان کی یہی صلاحیت اقامت دین کی جدوجہد میں ،اسلام کی راہ میں کام آئی۔کسی موقع پر ایک جلسہ عام میں انہوں نے مولانا عبد الرزاق لطیفی مرحوم امیر جماعت اسلامی آندھرا پردیش و اڑیسہ کی تقریر سنی تھی۔ اور اسی وقت انہوں نے طئے کرلیا تھا کہ اب پرانی روش کو ترک کردیں گے اور اللہ ہی کے ہو جائیں گے۔ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٣١اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے ربّ نے اس سے کہا! ’’ مسلم ہو جا ‘‘ تو اس نے فوراً کہا :’’ میں مالکِ کائنات کا ’’مسلم‘‘ ہوگیا۔ ‘‘ (131)البقرۃہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢ۙکہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبوریت، میرنا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ (162) ۔اور اس عہد کو انہوں نے مرتے دم تک نبھایا۔انہوں نے مجھ سے خود کہا تھا کہ اسی رات کو انہوں نے وہ سارے سوٹ اور سارے ناول گھر کے آنگن میں ڈھیر لگا کر جلادی تھیں۔ پھر اس دن کے بعد سے انہوں نے مسلسل چھ مہینے تک رات رات بھر قرآن، حدیث و سیرت کا مطالعہ کیا اور صرف دو گھنٹے سوتے۔قابلیتیں اور صلاحیتیں چھی نہیں رہ سکتیں۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر لطیفی مرحوم ان پر خصوصی توجہ فرماتے۔اور اکثر ان کو اپنے ساتھ رکھتے۔1971 میں احمد آباد کے فسادات کے موقع پر استاد محترم نےمرحوم امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابوللیث اصلاحی ندوی کے ساتھ ریلیف کا کام کیا۔ملت نگر نامی نئی بستی کاقیام بھی اسی دوران ہوا۔ ایک واقعہ انہوں نے سنایا تھا کہ ایک مشہور فلمی شخصیت نے ایک لاکھ روپےلے کر آئے۔ ملت کی حالت زار پر ان کی ہمدردی جاگ اٹھی تھی ۔وہ اس رقم کو ریلیف میں دینا چاہتے تھے لیکن مولانا ابوللیث مرحوم نے قبول نہیں فرمایا۔ ان صاحب نے اپنے طور پر وہ رقم تقسیم کرتی چاہی تو لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کی رقم کے ساتھ ساتھ ان کے کپڑے تک پھاڑ ڈالے گئے۔
حیدرآباد میں فسادات کے موقع پر وہ جماعت کے دفتر میں بیٹھے رہتے۔ اس زمانے میں کیونکہ موبائل فون نہیں ہوتے تھے، صرف لینڈ لائن ہی ہوتے تھے۔ جہاں جہاں سے اطلاع ملتی کہ یہاں فسادی آپہنچے ہیں اور فساد پرپا کئے ہوئے ہیں تو شیخ صاحب پولیس افسران تک یہ اطلاع پہنچاتے اور حتی المقدور جانی و مالی نقصانات روکنے کی کوشش کرتے۔ایک مرتبہ ایسے ہی ایک موقع پر جبکہ فساد تھمنے میں نہیں آرہا تھا اور مسلسل کرفیو لگا ہوا تھا۔جیسے ہی کرفیو میں نرمی کی جاتی پھر کوئی قتل ہوجاتا اور دوبارہ کرفیو نافذ ہوجاتا۔مزدور پیشہ اور چھوٹے کاروبار والوں کے جانوں کے لالے پڑگئے، چھوٹے بچوں کو دودھ تک میسر نہیں آرہاتھا،ایسے میں امن وفود اس علاقے میں امن کی بحالی کی کوششوں کے لئے جاتے اور پتھر کھاکر لوٹ جاتے۔اس موقع پر عبدالرزاق لطیفی مرحوم نے شیخ غلام حسین صاحب سے کہا کہ جائیے اور کرفیو ختم کروائیے۔ اور یہ بھی ایسے ہی اٹھ کر گئے کہ جیسےیہ ایک پورا بٹالین ہیں اور لوگ ان کو دیکھتے ہی شرارت سے باز آجائیں گے۔یہ واقعہ انہی کی زبانی میں نے سنا کہ وہ اپنی راج دوت موٹر سائیکل پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے،ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی تھے جو انہی کی طرح جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔دونوں کرتے پاجامے ٹوپی میں ملبوس موٹر سائیکل پر جارہے ہیں اور چاروں طرف سناٹا طاری ہے موٹر سائیکل کے شور کے سوا ماحول میں کوئی دوسری آواز نہیں۔لال دروازہ جو ہندوؤں کا گڑھ ہے اور فساد ہمیشہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ لال دروازہ کے مکین جھانک جھانک کر دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب سے بے نیاز وبے پرواسیدھے اس فساد کے سرغنہ کے گھر پہنچتے ہیں اس سے مل کر بات کرتے ہیں کہ اس حالت کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اس کو ساتھ لیکر تمام گلی کوچوں میں پھرتے ہیں ایک ایک سے بات کرتے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام دکانیں کھل گئیں اور کرفیو ختم ہوگیا۔
انہی کی تحریک اور تعلیم و تربیت میں ہم نے درس دینا سیکھا۔ مشیرآباد ، بھولک پور،زمستان پور کے محلہ جات میں شب بیداری کی نشستیں ہوتیں۔ ان شب بیداریوں میں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ مولانا عبدالعزیز صاحب آتے،انواراللہ محمود آتے،مولانا سراج الحسن جو کہ اس وقت امیر حلقہ کرناٹک تھےوہ آتے ،سید غلام اکبر آتے۔ جناب مظفر حسین آتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مشقی درس کے مبصر جناب سید غلام اکبر صاحب تھے، اس روز میں نے سورہ عنکبوت کی ابتدائی تین آیتوں پر ایک مشقی درس دیا تھا۔جس پر غلام اکبر صاحب نے مجھے 60٪ نشانات دئے تھے۔
ہم سب لوگ جو شیخ غلام حسین صاحب کے تربیت یافتہ تھے ان سے بہت محبت کرتے۔ان کے کہے ہوئے ہر کام کو انجام دینے کے لئے ہم اپنے آپ کو تیار پاتے۔فضل الرحمان بھائی کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیخ صاحب کے ڈنڈے کھائے ہوئے ہیں یعنی ان کے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ بھی ہمارے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔وہ ہم لوگوں کے اندر ایسی تحریک پیدا کرتے کہ ہم لوگ ہر کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔چرم قربانی جمع کرنی ہے،اور سکندرآباد کا علاقہ کافی وسیع ہے۔ مسلمان کافی بکھرے ہوئے ہیں اور دور دور تک پھیلی ہوئی بستیاں۔اس کے باوجود ہم لوگ سائکلوں پر دوڑ پڑتے، کبھی عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں ہیں کبھی تو شمالی لالہ گوڑہ، تو کبھی جنوبی لالہ گوڑہ، تارناکہ،حبشی گوڑہ،مولا علی،وارث گوڑہ، عنبر نگر،پہلے وعدہ کوپن لےکر گھومتے، اور لوگوں سے وعدے لیتے، اور عید کے روز مسلسل دوڑتے رہتے اور ہر فرد زیادہ سے زیادہ چرم جمع کرنے کی کوشش کرتا۔
اسی طرح جماعت کی طرف سے انسداد فحشاء و منکرات کا ہفتہ منایا گیا۔سردیوں کے دن تھے اور ہم لوگ رات رات بھر اس کڑاکے کی سردی میں پوسٹرس لگاتے پھرتے۔ برف جیسی لئی ہوتی تھی۔سائکلوں پر سیڑھی باندھ کر ہم لوگ سکندرآباد کے ہر ہر محلے میں پوسٹرس لگائے ہیں۔ بسوں میں چھوٹے چھوٹے اسٹیکرس لگاتے سکندرآباد اسٹیشن پر رکی ہوئی بسوں پر پوسٹرس چپکاتے،اور یہ سب کرتے ہوئے ہم یہ محسوس کرتے کہ گویا ہم نے کوئی معرکہ سر کیا ہے، سکندر آعظم ہیں۔ اور یہ سب شیخ صاحب کی دی ہوئی تحریک پر ہوتا۔ ایک ایک فرد جس میں مجھ جیسے،سلطان جیسے نوجوان بھی ہوتے، سلیم بھائی، حفیظ بھائی جیسے جوان بھی، مصطفی صاحب، ثناء الدین صاحب جیسے پختہ عمر کے افراد بھی۔سب ایک سرور کی کیفیت سے سرشار ہوتے۔لالہ پیٹ میں ایک کل یومی اجتماع تھا، اور شام کو خطاب عام بھی ہوا تھا گاندھی چوک پر، اس میں ایک تلگو مقرر جناب عباد اللہ صاحب نے تلگو میں بھی تقریر کی۔اس کل یومی اجتماع میں جو کہ لالہ پیٹ کی ایک مسجد میں ہوا تھا، مطالعہ قرآن،اور مختلف موضوعات پر تقاریر ہوئی تھیں۔
1981 میں آل انڈیا اجتماع وادئ ھدای میں پندھرویں صدی ہجری کے آغاز کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس کے لئے جماعت نے وادئ ھدی میں چالیس ایکڑ وسیع و عریض اراضی پر شامیانے اور پنڈال نصب کروائے تھے۔ اس اجتماع کی خاطر اس وسیع و عریض زمین کو مسطح اور ہموار کرنے کے لئے، بڑے بڑے پتھر ہٹوانے کے لئے مہینوں پہلے کام آغاز کردیا گیا تھا۔استاد محترم ہم کو بھی اس کام میں حصہ لینے کے لئے سکندرآباد سے بھیجتے۔اس سلسلے میں بھی ہم لوگ مہینوں پہلے سکندرآباد سے حیدرآباد کے اس نواحی علاقے کو جاتے، اس وقت تک اس علاقے میں کوئی بستی آباد نہیں تھی۔وادئ ھدی سے کچھ کیلو میٹر دور پر جل پلی نام کا گاؤں آباد تھا۔اور شہر کا سب سے قریبی علاقہ بارکس، و صلالہ وہاں سے میلوں دوری پر تھے۔وہاں پر ہم دن دن بھر مختلف قسم کے کام انجام دیتے۔کبھی پھاؤڑا کدال چلا رہے ہیں تو کبھی پتھر ہٹارہے ہیں۔ اس زمانے میں نصیر بھائی بھی وہاں آتے اور کاموں میں حصہ لیتے۔امیر حلقہ مولانا عبدالعزیز صاحب اس اجتماع کے ناظم تھےوہ بھی رہتے۔اجتماع کے موقع پر سکندرآباد والوں کے ذمہ شعبۂ آبرسانی کا کام سونپاگیا ۔ جس کو انجام دینے کے لئے ہم لوگ تین روز تک رات دن مصروف رہے۔ پہلے حوض بنائے گئے تھے،اور پانی سے بھر لئے گئے تھے، لیکن عین وقت پر پائپ لائن ٹوٹ گئی۔ اور پانی کا مسئلہ ہوگیا۔ تو مصری گنج،شمشیر گنج ریزروائیر سے ٹینکروں میں پانی سپلائی کیا گیا۔ایک ٹینکر پر میں بھی تھا۔تین دن تین رات نیند نہ ہونے اور مسلسل کام کرنے کے سبب سے تھکن کے مارے برا حال تھا۔ ریزروائیر پر جتنی دیر تک ٹینکر بھرتا اسی دوران میں مجھے نیند لگ جاتی۔ اجتماع کے شرکاء کے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اور لوگ اندازوں سے زیادہ شریک ہوئے۔ اور پورے تین دن تک شریک رہے۔اجتماع کے لئےشہر بھر سے خصوصی بسیں چلائی گئیں۔ اور تین دن تک لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔اس کے بعد آل انڈیا قسم کا عام اجتماع نہیں ہوسکا۔ آج تو یہ حال ہے کہ ریاستی سطح پر بھی عام اجتماع منعقد کرنا ممکن نہیں رہا۔
استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب لوگوں کے اندر وہ جذبۂ فدائیت وہ جوش بھردیتے کہ لوگ بڑے سے بڑے کام کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتے۔ اور کام کی انجام دہی کے دوران ہم یہ یقین رکھتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کو راضی کرنے کے لئے کررہے ہیں۔ بچپن میں والدین کی تعلیم و تربیت کے اثرات تو باقی تھےہی اس یقین و ایمان کو استاد محترم نے اور زیادہ پختہ کردیا۔آج اتنا زیادہ ہم کو اپنے رب پر یقین اور اتنا بہتر طریقے سے اپنے رب سے تعلق رکھتے ہیں تو اس کا سارا سہرا استاد محترم کے ہی سر جاتا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اتر جانے والے انداز میں قبول عام پانے والے انداز میں لوگوں سے خطاب کرتے۔
ایمرجنسی کے دوران میں استاد محترم کو بھی میسا کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔اور دو سال تک وہ جیل میں رہے۔آر ایس ایس کے ساتھ کسی مسلم تنظیم کو بھی نتھی کرنا بیلینس کرنے کے لئے اس وقت کی اندرا حکومت کی ضرورت تھی۔ اس لئے قرعۂ فال جماعت اسلامی کے نام نکلا۔ اور جماعت کے ارکان ملک و قوم کے مخلص کارکنان نظر بند کردئے گئے۔ایسے میں جب کہ گھرکی کفالت کا ذمہ دار واحد فرد جیل میں محصور کردیا جائے تو اس گھر پر کیا بیتتی ہے وہ وہی جان سکتا ہے جس پر کہ بیتی ہے۔شیخ صاحب کی والدہ محترمہ اور اہلیہ محترمہ اور چھوٹے چھوٹے بچے جن میں غالبا شفیق الرحمان و نعیم الرحمان ہی نوجوانی کی عمر کو پہنچے تھے۔ باقی سب چھوٹے تھے ایسے میں ان دونوں لڑکوں کو گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے گھر سے نکلنا پڑا۔ فٹ پاتھ پر لنگی بنیان بیچ کر گھر کے اخراجات چلائے گئے ،خودداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
استاد محترم نے سکندرآباد کے علاقہ میں ایک گشتی (موبائیل )لائبریری شروع کی۔جو کہ استاد محترم کے دیوان خانہ ہی میں تھی۔ جس میں جماعت کا بنیادی لٹریچرتھا اس کو عوام میں متعارف کروانا مقصود تھا۔ اس میں صرف تحریکی لٹریچر ہی تھا۔ اس لائبریری کاطریقۂ کار یہ تھا کہ مختلف مسلم محلوں میں جاکر ان لوگوں کوابتدائی تحریکی لٹریچر کی کتابیں جو کہ بہت چھوٹی چھوٹی سی ہیں ،اور ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکتی ہیں۔بنیادی طور پر لوگوں کو یہ تحریکی لٹریچر پڑھانا مقصود تھا۔ ہر تیسرے روز ایک کتاب دی جاتی اور پہلی والی کتاب واپس لی جاتی۔میں اور سلطان اس موبائیل لائبریری کو چلاتے تھے۔جب دن بھر کی تقسیم کے بعد ہم واپس لوٹتے تو کتابوں کے ڈھیر کو یوں ہی ایک طرف رکھ کر اپنے اپنے گھر لوٹ جاتے۔ایک مرتبہ رفیع الدین فاروقی ملنے کے لئے آئے تو کتابوں کے ڈھیر اسی طرح پڑے ہوئے تھےاستاد محترم نے ان کو کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے۔ میں تو شاعر نہیں ہوں اللہ کے فضل سے لیکن یہ لڑکے مجھے شاعر بنائے دے رہے ہیں۔ رفیع بھائی بھی خوب ہنسےکہ اللہ کے فضل والی بات بھی خوب ہے۔
اسی لائبریری کے چلانے دوران میں جب کہ میرے گھر کا خرچ پورا نہیں پڑرہا تھا تو میرے گھر والوں کا دباؤ پڑا کہ یہ کیا کام تم کررہے ہو۔گھر والوں کا دباؤ بڑھا تو میں نے استاد محترم سے کہا کہ مجھے اب اس کام میں دلچسپی نہیں رہی اور میں اب یہ کام نہیں کرسکوں گا تو انہوں نے مجھے اتنا ڈانٹا کہ میں روپڑا۔ اس پر انہوں نے پھر مجھے گلے لگا کر تسلی دی۔
ایمرجنسی میں جو لوگ جیلوں میں بند تھے وہ مختلف بہانوں سے باہر آتے گئے لیکن استاد محترم نے کوئی مصالحت اس ظالم حکومت سے نہیں کی۔اور اس پورے دورانیے میں جیل ہی میں رہے۔ جب جنتا پارٹی کی حکومت بنی تو سب کے ساتھ استاد محترم بھی رہا کئے گئے۔
میرے مربی،میرے محسن
استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب کو میں نے پہلی بار عنبر نگر (جو کہ وارث گوڑہ اور جامعہ عثمانیہ سکندرآبادکے درمیان ایک محلہ ہے )کی مسجد میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے دیکھا۔ سفید کرتے پاجامے میں ملبوس سفید بھری بھری ریش والے ایک صاحب منبر کی پہلی سیڑھی پر ٹھیر کر خطبۂ دے رہے تھے، گھن گرج کے ساتھ پہلے اردو میں تقریر کرتے، خطبۂ ثانیہ عربی میں، اتنی روانی کے ساتھ اور گرجدار آواز میں، ایک ایک لفظ جیسے دل میں اترا جارہا ہو۔ سارے لوگ دم بخود سے ہوکر ان کی تقریر کے ایک ایک لفظ کو بغورسن رہے تھے، جیسے یاد کررہے ہوں۔اس زمانے میں لوگ یا تو اردو میں خطبات موعظت نامی کتاب دیکھ کر پڑھتے یا صرف عربی خطبہ بھی کتاب دیکھ کر ہی پڑھتے۔ایک ایسے دور میں اگر کوئی پورے یقین اور خلوص سے بھرپور ہوکر دلائل کے ساتھ گفتگو کررہا ہو تو وہ بات یقینا دلوں کو موہ لیتی ہے۔ اور خطاب میں سلاست اور روانی، کسی ایچ پیچ کے بغیر سیدھا سادا سا اسلوب ،اپنائیت بھرا لہجہ یقینا دلوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ مجھے الفاظ اور جملےمن و عن تو یاد نہیں رہے، لیکن میں اسی وقت ان سے متاثر ہوگیا، اتنا زور دار انداز بیان اور اخلاص سے بھر پور لہجہ میں نے محسوس کیا کہ مانو جیسے میرا ایمان بڑھ گیا ہے۔بس اسی دن سے میں نے اپنا تعلق ان سےجوڑ لیا۔ یہ تھی میری ان سے پہلی ملاقات۔ اور میں پہلی ہی ملاقات میں ان کا ہوکر رہ گیا۔
یہ اس دور کی بات ہے جبکہ ہم وارث گوڑہ سکندرآبادمیں رہتے تھے۔ اوائل 1978 سنہ میں اس وقت میں 16، 17 سال کا ایک نوجوان تھا۔اور اس وقت میں وارث گوڑہ سکندرآباد کی مسجد کوثر کا مصلی تھا۔ میری بچپن سے دوستیاں جو کچھ بھی ہوئی ہیں وہ سب کی سب مسجد سے ہی شروع ہوئی ہیں اور وہ آج تک برقرار ہیں۔ان دوستوں میں سید سلطان محی الدین، سید قاسم عرف شکیل بہت قریب ہیں اور دوسرے تمام زمانے کی گردشوں میں گم ہوگئے ۔ میں ذکرکررہا تھا میرے استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب کا، اور ان تک پہنچنے کا ذریعہ تھے ناصر بھائی جو کہ مسجد کوثر وارث گوڑہ کے مصلی تھے اور میرے اور سلطان کے مشترکہ دوست تھے ، گو کہ وہ(ناصر بھائی) ہم دونوں سے بڑے تھے لیکن ہمارے ساتھ ان کا رویہ کافی مشفقانہ ہوتا تھا۔اور وہ ہم کو مولانا مودودی کی کتابیں لاکر دیا کرتے تھے اور چونکہ سلطان انگلش میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے اور ان کی اردو اس وقت بس یوں ہی سی تھی۔ بعد میں انہوں نے اپنی کاوشوں سے اپنی اردو کو کافی بہتر کرلیا تھا۔ بچپن ہی میں والد محترم شیخ محمد عبد الطیف صاحب اور بڑے بھائی عبد العلی صاحب نے گھر پر اردو کی تعلیم دی تھی۔میری اپنی کوششوں سے میں نے اپنی اردو کو کافی رواں کرلیا تھا، اور اس میں کافی حد تک دخل میری مطالعہ سے دلچسپی تھی، اور اس وقت گھر میں نور، ہلال، حجاب،بتول، الحسنات،اور ترجمان القرآن،ھدی، ھما، شبستان،نامی متعدد رسالے اور ماہنامے آتے تھے، میں ان تمام رسالوں،ماہناموں کو پڑھتا تھا، اسلئے میری اردو کافی بہتر تھی۔ میں ناصر بھائی کی دی ہوئی کتابوں کو بھی پڑھتا تھا،اس طرح میں مطالعہ کے ہی ذریعہ سے مولانا مودودی سے بہتر طور پر واقف ہوا۔ویسے بچپن ہی میں والد صاحب کے ذریعہ میں بہت پہلے سے مولانا مودودی سے واقف تھا۔ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ اس وقت کے سب سے بڑے عالم مولانا مودودی ہیں۔میں ،سلطان ،ناصر بھائی اکثرعصر ،و مغرب کی نمازوں میں ملتے اور گفتگو ہوتی بہت ساری باتوں میں ہمارے خیالات میں ہم آہنگی تھی۔ انہی ملاقاتوں کے دوران میں گاہے گاہے ناصر بھائی کہا کرتے تھے کہ عنبر نگر جو کہ پڑوس کا محلہ تھا وہاں میں خطبۂ جمعہ میں شریک ہوں، وہاں شیخ غلام حسین صاحب خطبۂ جمعہ دیتے ہیں۔میں اگلے ہی جمعہ کو عنبر نگر کی مسجد میں نماز جمعہ کے لئے پہنچ گیااور پھر میں شیخ صاحب تک پہنچ ہی گیا۔
اسی مسجد قادریہ عنبر نگر کے مصلیان میں عبد الحفیظ بھائی، ثناءالدین صاحب، لیاقت علی خان(سلیم بھائی)،یعقوب خان صاحب یہ لوگ پہلے سے شیخ صاحب کے ارادت مندوں میں سے تھے۔ پھر ان ہی لوگوں کے ساتھ میں شیخ صاحب کے گھر تک بھی پہنچ گیا۔مشیرآباد میں ان کے مکان پر ہفتہ وار درس قرآن میں شریک ہوتا رہا۔ اللہ سے قربت ان ہی کی تربیت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔آج میں اللہ کوبالکل اپنے قریب پاتا ہوں ،اس سے باتیں کرتا ہوں تو یہ یقین کی کیفیت ان ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ محترم شیخ غلام حسین صاحب اس زمانے میں جماعت اسلامی کے سکندرآباد کے ناظم تھے۔ ان کا یہ حال تھا کہ سکندر آباد کی کوئی بھی بااثر شخصیت ان کے نام سے ناواقف نہیں تھی۔چاہے وہ عوامی لیڈر ہوں ،سائنٹسٹ ہوں،کسی ادارے کے ڈائریکٹر ہوں،نامور و بے نام ہر کس و ناکس ان سے واقف تھا۔ ہر عوامی کام میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا۔عثمانیہ یونیورسٹی کے تمام اساتذہ،پروفیسر،ڈین، ریڈر سب سے ملتےاور ان میں جو مسلم ہوتے تو ان کو پورے کے پورے اسلام میں داخل ہونے کو کہتے اور غیر مسلم ہو تو اس کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے۔ این جی آر آئی، سی سی ایم بی، پراگا ٹولس، ہر ادارہ کے ڈائریکٹر ہوں یا سائنٹسٹ ہوں، کوئی بھی ان سے ناواقف نہ ہوتا۔ سب تک پہنچتے اور ان تک اسلام کی دعوت پہنچاتے، اسلام کا پیغام امن ،اور جماعت کی دعوت اور اس کے کام سے واقف کرواتے۔غرض کہ بحیثیت ناظم سکندرآباد ڈیویژن سکندرآباد کے تمام عمائدین و زعماء شہر مسلم و غیر مسلم سب تک پہنچتے یہاں تک کہ شیخ غلام حسین اور جماعت اسلامی شہر بھر میں معلوم و معروف ہوگئے تھے کہ اگر کوئی شخص نامپلی ریلوےاسٹیشن پر اتر کر اگر رکشا والے سے یہ کہے کہ شیخ غلام حسین کے گھر جانا ہے تو وہ پہنچا جاتا۔
استاد محترم شیخ غلام حسین مہاراشٹراسے تعلق رکھتے تھے،ان کی زندگی تمام کارناموں، اور جدوجہد سے پر ہے۔ جماعت اسلامی میں آنے سے پہلے وہ ایک آزاد شخص تھے،اور کانگریس کے بہت با اثر اور ریلوے کے یونین لیڈر تھے۔ایک وقت میں ان کا ایسا اثر تھا کہ ریلوے کے ایک ہڑتال کے موقع پر ان کے اثرات اس حد تک تھے کہ آدھی رات کو تمام ساؤتھ سنٹرل ریلوے معطل ہوکر رہ گیا،گاڑیاں جہاں تہاں رک گئیں۔اس دور میں سب نے ان کی تقریری صلاحیت کا لوہا مانا تھا۔وہ اسٹیچ پر چلتے ہوئے تقریر کرتے تھے۔خیارکم فی الجاھلیہ،وخیارکم فی الاسلام کی ایک واضح مثال تھے۔جماعت اسلامی میں آنے کے بعد ان کی یہی صلاحیت اقامت دین کی جدوجہد میں ،اسلام کی راہ میں کام آئی۔کسی موقع پر ایک جلسہ عام میں انہوں نے مولانا عبد الرزاق لطیفی مرحوم امیر جماعت اسلامی آندھرا پردیش و اڑیسہ کی تقریر سنی تھی۔ اور اسی وقت انہوں نے طئے کرلیا تھا کہ اب پرانی روش کو ترک کردیں گے اور اللہ ہی کے ہو جائیں گے۔ اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٣١اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے ربّ نے اس سے کہا! ’’ مسلم ہو جا ‘‘ تو اس نے فوراً کہا :’’ میں مالکِ کائنات کا ’’مسلم‘‘ ہوگیا۔ ‘‘ (131)البقرۃہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢ۙکہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبوریت، میرنا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے ۔ (162) ۔اور اس عہد کو انہوں نے مرتے دم تک نبھایا۔انہوں نے مجھ سے خود کہا تھا کہ اسی رات کو انہوں نے وہ سارے سوٹ اور سارے ناول گھر کے آنگن میں ڈھیر لگا کر جلادی تھیں۔ پھر اس دن کے بعد سے انہوں نے مسلسل چھ مہینے تک رات رات بھر قرآن، حدیث و سیرت کا مطالعہ کیا اور صرف دو گھنٹے سوتے۔قابلیتیں اور صلاحیتیں چھی نہیں رہ سکتیں۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر لطیفی مرحوم ان پر خصوصی توجہ فرماتے۔اور اکثر ان کو اپنے ساتھ رکھتے۔1971 میں احمد آباد کے فسادات کے موقع پر استاد محترم نےمرحوم امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابوللیث اصلاحی ندوی کے ساتھ ریلیف کا کام کیا۔ملت نگر نامی نئی بستی کاقیام بھی اسی دوران ہوا۔ ایک واقعہ انہوں نے سنایا تھا کہ ایک مشہور فلمی شخصیت نے ایک لاکھ روپےلے کر آئے۔ ملت کی حالت زار پر ان کی ہمدردی جاگ اٹھی تھی ۔وہ اس رقم کو ریلیف میں دینا چاہتے تھے لیکن مولانا ابوللیث مرحوم نے قبول نہیں فرمایا۔ ان صاحب نے اپنے طور پر وہ رقم تقسیم کرتی چاہی تو لوگ ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کی رقم کے ساتھ ساتھ ان کے کپڑے تک پھاڑ ڈالے گئے۔
حیدرآباد میں فسادات کے موقع پر وہ جماعت کے دفتر میں بیٹھے رہتے۔ اس زمانے میں کیونکہ موبائل فون نہیں ہوتے تھے، صرف لینڈ لائن ہی ہوتے تھے۔ جہاں جہاں سے اطلاع ملتی کہ یہاں فسادی آپہنچے ہیں اور فساد پرپا کئے ہوئے ہیں تو شیخ صاحب پولیس افسران تک یہ اطلاع پہنچاتے اور حتی المقدور جانی و مالی نقصانات روکنے کی کوشش کرتے۔ایک مرتبہ ایسے ہی ایک موقع پر جبکہ فساد تھمنے میں نہیں آرہا تھا اور مسلسل کرفیو لگا ہوا تھا۔جیسے ہی کرفیو میں نرمی کی جاتی پھر کوئی قتل ہوجاتا اور دوبارہ کرفیو نافذ ہوجاتا۔مزدور پیشہ اور چھوٹے کاروبار والوں کے جانوں کے لالے پڑگئے، چھوٹے بچوں کو دودھ تک میسر نہیں آرہاتھا،ایسے میں امن وفود اس علاقے میں امن کی بحالی کی کوششوں کے لئے جاتے اور پتھر کھاکر لوٹ جاتے۔اس موقع پر عبدالرزاق لطیفی مرحوم نے شیخ غلام حسین صاحب سے کہا کہ جائیے اور کرفیو ختم کروائیے۔ اور یہ بھی ایسے ہی اٹھ کر گئے کہ جیسےیہ ایک پورا بٹالین ہیں اور لوگ ان کو دیکھتے ہی شرارت سے باز آجائیں گے۔یہ واقعہ انہی کی زبانی میں نے سنا کہ وہ اپنی راج دوت موٹر سائیکل پر سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے،ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی تھے جو انہی کی طرح جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے۔دونوں کرتے پاجامے ٹوپی میں ملبوس موٹر سائیکل پر جارہے ہیں اور چاروں طرف سناٹا طاری ہے موٹر سائیکل کے شور کے سوا ماحول میں کوئی دوسری آواز نہیں۔لال دروازہ جو ہندوؤں کا گڑھ ہے اور فساد ہمیشہ وہیں سے شروع ہوتا ہے۔ لال دروازہ کے مکین جھانک جھانک کر دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب سے بے نیاز وبے پرواسیدھے اس فساد کے سرغنہ کے گھر پہنچتے ہیں اس سے مل کر بات کرتے ہیں کہ اس حالت کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اس کو ساتھ لیکر تمام گلی کوچوں میں پھرتے ہیں ایک ایک سے بات کرتے ہیں اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کو اب ختم ہونا چاہیے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام دکانیں کھل گئیں اور کرفیو ختم ہوگیا۔
انہی کی تحریک اور تعلیم و تربیت میں ہم نے درس دینا سیکھا۔ مشیرآباد ، بھولک پور،زمستان پور کے محلہ جات میں شب بیداری کی نشستیں ہوتیں۔ ان شب بیداریوں میں ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ مولانا عبدالعزیز صاحب آتے،انواراللہ محمود آتے،مولانا سراج الحسن جو کہ اس وقت امیر حلقہ کرناٹک تھےوہ آتے ،سید غلام اکبر آتے۔ جناب مظفر حسین آتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مشقی درس کے مبصر جناب سید غلام اکبر صاحب تھے، اس روز میں نے سورہ عنکبوت کی ابتدائی تین آیتوں پر ایک مشقی درس دیا تھا۔جس پر غلام اکبر صاحب نے مجھے 60٪ نشانات دئے تھے۔
ہم سب لوگ جو شیخ غلام حسین صاحب کے تربیت یافتہ تھے ان سے بہت محبت کرتے۔ان کے کہے ہوئے ہر کام کو انجام دینے کے لئے ہم اپنے آپ کو تیار پاتے۔فضل الرحمان بھائی کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیخ صاحب کے ڈنڈے کھائے ہوئے ہیں یعنی ان کے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ بھی ہمارے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔وہ ہم لوگوں کے اندر ایسی تحریک پیدا کرتے کہ ہم لوگ ہر کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔چرم قربانی جمع کرنی ہے،اور سکندرآباد کا علاقہ کافی وسیع ہے۔ مسلمان کافی بکھرے ہوئے ہیں اور دور دور تک پھیلی ہوئی بستیاں۔اس کے باوجود ہم لوگ سائکلوں پر دوڑ پڑتے، کبھی عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں ہیں کبھی تو شمالی لالہ گوڑہ، تو کبھی جنوبی لالہ گوڑہ، تارناکہ،حبشی گوڑہ،مولا علی،وارث گوڑہ، عنبر نگر،پہلے وعدہ کوپن لےکر گھومتے، اور لوگوں سے وعدے لیتے، اور عید کے روز مسلسل دوڑتے رہتے اور ہر فرد زیادہ سے زیادہ چرم جمع کرنے کی کوشش کرتا۔
اسی طرح جماعت کی طرف سے انسداد فحشاء و منکرات کا ہفتہ منایا گیا۔سردیوں کے دن تھے اور ہم لوگ رات رات بھر اس کڑاکے کی سردی میں پوسٹرس لگاتے پھرتے۔ برف جیسی لئی ہوتی تھی۔سائکلوں پر سیڑھی باندھ کر ہم لوگ سکندرآباد کے ہر ہر محلے میں پوسٹرس لگائے ہیں۔ بسوں میں چھوٹے چھوٹے اسٹیکرس لگاتے سکندرآباد اسٹیشن پر رکی ہوئی بسوں پر پوسٹرس چپکاتے،اور یہ سب کرتے ہوئے ہم یہ محسوس کرتے کہ گویا ہم نے کوئی معرکہ سر کیا ہے، سکندر آعظم ہیں۔ اور یہ سب شیخ صاحب کی دی ہوئی تحریک پر ہوتا۔ ایک ایک فرد جس میں مجھ جیسے،سلطان جیسے نوجوان بھی ہوتے، سلیم بھائی، حفیظ بھائی جیسے جوان بھی، مصطفی صاحب، ثناء الدین صاحب جیسے پختہ عمر کے افراد بھی۔سب ایک سرور کی کیفیت سے سرشار ہوتے۔لالہ پیٹ میں ایک کل یومی اجتماع تھا، اور شام کو خطاب عام بھی ہوا تھا گاندھی چوک پر، اس میں ایک تلگو مقرر جناب عباد اللہ صاحب نے تلگو میں بھی تقریر کی۔اس کل یومی اجتماع میں جو کہ لالہ پیٹ کی ایک مسجد میں ہوا تھا، مطالعہ قرآن،اور مختلف موضوعات پر تقاریر ہوئی تھیں۔
1981 میں آل انڈیا اجتماع وادئ ھدای میں پندھرویں صدی ہجری کے آغاز کے موقع پر منعقد ہوا۔ اس کے لئے جماعت نے وادئ ھدی میں چالیس ایکڑ وسیع و عریض اراضی پر شامیانے اور پنڈال نصب کروائے تھے۔ اس اجتماع کی خاطر اس وسیع و عریض زمین کو مسطح اور ہموار کرنے کے لئے، بڑے بڑے پتھر ہٹوانے کے لئے مہینوں پہلے کام آغاز کردیا گیا تھا۔استاد محترم ہم کو بھی اس کام میں حصہ لینے کے لئے سکندرآباد سے بھیجتے۔اس سلسلے میں بھی ہم لوگ مہینوں پہلے سکندرآباد سے حیدرآباد کے اس نواحی علاقے کو جاتے، اس وقت تک اس علاقے میں کوئی بستی آباد نہیں تھی۔وادئ ھدی سے کچھ کیلو میٹر دور پر جل پلی نام کا گاؤں آباد تھا۔اور شہر کا سب سے قریبی علاقہ بارکس، و صلالہ وہاں سے میلوں دوری پر تھے۔وہاں پر ہم دن دن بھر مختلف قسم کے کام انجام دیتے۔کبھی پھاؤڑا کدال چلا رہے ہیں تو کبھی پتھر ہٹارہے ہیں۔ اس زمانے میں نصیر بھائی بھی وہاں آتے اور کاموں میں حصہ لیتے۔امیر حلقہ مولانا عبدالعزیز صاحب اس اجتماع کے ناظم تھےوہ بھی رہتے۔اجتماع کے موقع پر سکندرآباد والوں کے ذمہ شعبۂ آبرسانی کا کام سونپاگیا ۔ جس کو انجام دینے کے لئے ہم لوگ تین روز تک رات دن مصروف رہے۔ پہلے حوض بنائے گئے تھے،اور پانی سے بھر لئے گئے تھے، لیکن عین وقت پر پائپ لائن ٹوٹ گئی۔ اور پانی کا مسئلہ ہوگیا۔ تو مصری گنج،شمشیر گنج ریزروائیر سے ٹینکروں میں پانی سپلائی کیا گیا۔ایک ٹینکر پر میں بھی تھا۔تین دن تین رات نیند نہ ہونے اور مسلسل کام کرنے کے سبب سے تھکن کے مارے برا حال تھا۔ ریزروائیر پر جتنی دیر تک ٹینکر بھرتا اسی دوران میں مجھے نیند لگ جاتی۔ اجتماع کے شرکاء کے متعلق تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ اور لوگ اندازوں سے زیادہ شریک ہوئے۔ اور پورے تین دن تک شریک رہے۔اجتماع کے لئےشہر بھر سے خصوصی بسیں چلائی گئیں۔ اور تین دن تک لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔اس کے بعد آل انڈیا قسم کا عام اجتماع نہیں ہوسکا۔ آج تو یہ حال ہے کہ ریاستی سطح پر بھی عام اجتماع منعقد کرنا ممکن نہیں رہا۔
استاد محترم شیخ غلام حسین صاحب لوگوں کے اندر وہ جذبۂ فدائیت وہ جوش بھردیتے کہ لوگ بڑے سے بڑے کام کو بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتے۔ اور کام کی انجام دہی کے دوران ہم یہ یقین رکھتے کہ یہ سب کچھ ہم اللہ کو راضی کرنے کے لئے کررہے ہیں۔ بچپن میں والدین کی تعلیم و تربیت کے اثرات تو باقی تھےہی اس یقین و ایمان کو استاد محترم نے اور زیادہ پختہ کردیا۔آج اتنا زیادہ ہم کو اپنے رب پر یقین اور اتنا بہتر طریقے سے اپنے رب سے تعلق رکھتے ہیں تو اس کا سارا سہرا استاد محترم کے ہی سر جاتا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اتر جانے والے انداز میں قبول عام پانے والے انداز میں لوگوں سے خطاب کرتے۔
ایمرجنسی کے دوران میں استاد محترم کو بھی میسا کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔اور دو سال تک وہ جیل میں رہے۔آر ایس ایس کے ساتھ کسی مسلم تنظیم کو بھی نتھی کرنا بیلینس کرنے کے لئے اس وقت کی اندرا حکومت کی ضرورت تھی۔ اس لئے قرعۂ فال جماعت اسلامی کے نام نکلا۔ اور جماعت کے ارکان ملک و قوم کے مخلص کارکنان نظر بند کردئے گئے۔ایسے میں جب کہ گھرکی کفالت کا ذمہ دار واحد فرد جیل میں محصور کردیا جائے تو اس گھر پر کیا بیتتی ہے وہ وہی جان سکتا ہے جس پر کہ بیتی ہے۔شیخ صاحب کی والدہ محترمہ اور اہلیہ محترمہ اور چھوٹے چھوٹے بچے جن میں غالبا شفیق الرحمان و نعیم الرحمان ہی نوجوانی کی عمر کو پہنچے تھے۔ باقی سب چھوٹے تھے ایسے میں ان دونوں لڑکوں کو گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے گھر سے نکلنا پڑا۔ فٹ پاتھ پر لنگی بنیان بیچ کر گھر کے اخراجات چلائے گئے ،خودداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
استاد محترم نے سکندرآباد کے علاقہ میں ایک گشتی (موبائیل )لائبریری شروع کی۔جو کہ استاد محترم کے دیوان خانہ ہی میں تھی۔ جس میں جماعت کا بنیادی لٹریچرتھا اس کو عوام میں متعارف کروانا مقصود تھا۔ اس میں صرف تحریکی لٹریچر ہی تھا۔ اس لائبریری کاطریقۂ کار یہ تھا کہ مختلف مسلم محلوں میں جاکر ان لوگوں کوابتدائی تحریکی لٹریچر کی کتابیں جو کہ بہت چھوٹی چھوٹی سی ہیں ،اور ایک ہی نشست میں پڑھی جاسکتی ہیں۔بنیادی طور پر لوگوں کو یہ تحریکی لٹریچر پڑھانا مقصود تھا۔ ہر تیسرے روز ایک کتاب دی جاتی اور پہلی والی کتاب واپس لی جاتی۔میں اور سلطان اس موبائیل لائبریری کو چلاتے تھے۔جب دن بھر کی تقسیم کے بعد ہم واپس لوٹتے تو کتابوں کے ڈھیر کو یوں ہی ایک طرف رکھ کر اپنے اپنے گھر لوٹ جاتے۔ایک مرتبہ رفیع الدین فاروقی ملنے کے لئے آئے تو کتابوں کے ڈھیر اسی طرح پڑے ہوئے تھےاستاد محترم نے ان کو کتابوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے۔ میں تو شاعر نہیں ہوں اللہ کے فضل سے لیکن یہ لڑکے مجھے شاعر بنائے دے رہے ہیں۔ رفیع بھائی بھی خوب ہنسےکہ اللہ کے فضل والی بات بھی خوب ہے۔
اسی لائبریری کے چلانے دوران میں جب کہ میرے گھر کا خرچ پورا نہیں پڑرہا تھا تو میرے گھر والوں کا دباؤ پڑا کہ یہ کیا کام تم کررہے ہو۔گھر والوں کا دباؤ بڑھا تو میں نے استاد محترم سے کہا کہ مجھے اب اس کام میں دلچسپی نہیں رہی اور میں اب یہ کام نہیں کرسکوں گا تو انہوں نے مجھے اتنا ڈانٹا کہ میں روپڑا۔ اس پر انہوں نے پھر مجھے گلے لگا کر تسلی دی۔
ایمرجنسی میں جو لوگ جیلوں میں بند تھے وہ مختلف بہانوں سے باہر آتے گئے لیکن استاد محترم نے کوئی مصالحت اس ظالم حکومت سے نہیں کی۔اور اس پورے دورانیے میں جیل ہی میں رہے۔ جب جنتا پارٹی کی حکومت بنی تو سب کے ساتھ استاد محترم بھی رہا کئے گئے۔
Comments
Post a Comment