زمین ناپنے کا طریقہ


زمین کی پیمائش، البیرونی کا شہرہ آفاق کارنامہ

By Posted in Volume 03 Issue 01 | Comments (0)

Description: http://www.technologytimes.pk/wp-content/uploads/2012/11/birunis-hight-equation-300x147.jpgتحریر : شفیق منہاس

زمین کی پیمائش کرنے والے عظیم مسلمان سائنسدان البیرونی خوارزم کے مضافاتی علاقے بیرون (موجودہ ازبکستان) میں ۹۷۳ عیسوی میں پیدا ہوئے۔ آپ حکیم بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ البیرونی کا پورا نام ابو الریحان محمد بن احمد البیرونی تھا اور انہیں بیک وقت طبیعات، ریاضی، فلکیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ نہ صرف یہ، بلکہ البیرونی نے ان تمام موضوعات پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے جن کا مقصد علم کا فروغ اور انسانیت کی بھلائی ہے۔ ان کی مشہور کتابوں میں قانون المسعودی، الآثار الباقیہ عن القرون، الخالیہ، خواص الادویات اور کتاب الہند شامل ہیں۔ اس کے علاوہ البیرونی کو نہ صرف الخوارزمی بلکہ فارسی، عربی، سنسکرت، یونانی، عبرانی اور سریانی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔
البیرونی آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل محمود غزنوی کے دور میں موجودہ پاکستان آئے اور شمالی پنجاب کے شہر پنڈ دادن خاں سے ۲۲ کلومیٹر دور واقع قلعہ نندنہ میں قیام کیا۔ اسی قیام کے دورران انہوں نے زمین کا رداس یعنی ریڈیئس معلوم کیا جو آج بھی صرف ایک فیصد سے کم فرق کے ساتھ درست ہے۔ البیرونی کے بیش بہاء کارناموں کے اعتراف میں مغربی ماہرین کی جانب سے چاند کے ایک دہانے کا نام ’’البیرونی کریٹر‘‘ رکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ابوالریحان البیرونی نے آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے زمین کی پیمائش حیرت انگیز درستگی کے ساتھ کیسے کر لی؟ اور اس سے بھی زیادہ حیرت ناک حقیقت یہ ہے کہ البیرونی کا معلوم کیا گیا زمین کا رداس ۳۶ ہزار ۳۵ کلومیٹر، جبکہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق زمین کا موجودہ معلوم رداس ۶۳ ہزار ۷۱ کلومیٹر ہے۔ یعنی سائنس میں ایک ہزار سالہ ترقی کے بعد صرف ۳۶ کلومیٹر کا فرق سامنے آیا ہے۔
زمین کا رداس معلوم کرنے کی یہ کہانی البیرونی سے پہلے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے مامون الرشید سے شروع ہوتی ہے، جب اس نے ماہرین کے دو گروہوں کو زمین کی پیمائش کا کام سونپا۔ ان ماہرین نے صحراؤں میں شمال اور جنوب کی طرف سفر کیا اور دوپہر کے وقت سورج کے زاوئیے کی متعدد بار پیمائش کر کے زمین کا محیط معلوم کیا، جو بعد میں البیرونی کے معلوم کئے گئے محیط سے کافی حد تک قریب تھا۔
البیرونی بھی ان ماہرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زمین کی پیمائس مزید صحت اور درستگی کے ساتھ کرنا چاہتے تھے، لیکن سرمائے کی کمی اور صحرا میں سفر جیسے مشکل اور خطرناک کام کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکے۔ ایسے میں انہوں نے الجبرا اور جیومیٹری کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی پیمائش کے ایک ایسے طریقے کا کھوج نکالا جو نہ صرف نسبتاً آسان تھا، بلکہ نتائج کے حوالے سے انتہائی کارگر بھی تھا۔ البیرونی کے اس طریقہ کار کو تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایسی مناسب پہاڑی کا انتخاب کرنا شامل ہے جس کے سامنے دور تک ہموار میدان پھیلا ہو، تاکہ وہاں سے افق واضع نظر آسکے۔ اس مرحلے میں پہاڑی کی درست بلندی معلوم کی جاتی ہے۔ دوسرے مرحلے میں پہاڑی کی چوٹی سے افق کا درست زاویہ معلوم کیا جاتا ہے، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں الجبرا اور جیومیٹری کے استعمال سے زمین کا رداس معلوم کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ البیرونی نے افق کا زاویہ ناپنے کیلئے جس پہاڑی کا انتخاب کیا تھا وہ پنڈ دادنخان میں ’’باغاں والہ‘‘ نامی آبادی کے قریب 32 43 14.6 N اور 73 13 26.00 N پر واقع ہے، جس کا معائنہ گوگل ارتھ کے ذریعے باآسانی کیا جاسکتا ہے۔ پہاڑی کے انتخاب کے بعد دوسرا مرحلہ پہاڑی کی بلندی ناپنے کا تھا۔ اس مقصد کیلئے البیرونی نے پہاڑی سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر زمین سے پہاڑی کی چوٹی کا پہلا زاویہ ’’تھیٹا۔ون‘‘ معلوم کیا۔ پھر فاصلہ ’’ڈی‘‘ طے کرنے کے بعد دوسرا زاویہ ’’تھیٹا۔ٹو‘‘ معلوم کیا اور ان دونوں معلوم شدہ زاویوں اور انکے درمیان طے شدہ فاصلے یعنی ’’ڈی‘‘ کی قیمت متعلقہ فارمولے میں دے کر پہاڑی کی درست بلندی معلوم کر لی۔
یہ دونوں زاوئیے معلوم کر نے کیلئے البیرونی نے ایک اور مسلمان سائنسدان ابوالعباس النیریزی کا ایجاد کردہ اسطرلاب استعمال کیا، جسے انگریزی میں ایسٹرولیب بھی کہا جاتا ہے۔
اسطرلاب نامی اس ڈائل نما آلے کے درمیان گھڑی کی طرح دو رخی سوئی ہوتی ہے۔ زمین سے پہاڑی کی چوٹی کا زاویہ معلوم کرنے کیلئے اس سوئی کے ایک سرے کو آنکھ کے قریب لا کر دوسرے سرے کو پہاڑی کے بلند ترین مقام کی سیدھ میں رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے بندوق کی شست دیکھ کر نشانہ لیا جاتا ہے۔ آنکھ، سوئی اور پہاڑی کی چوٹی ایک سیدھ میں آنے کی صورت میں اسطرلاب پر لکھے درجے دیکھ کر زاویہ نوٹ کر لیا جاتا ہے۔
البیرونی نے پہاڑی کی بلندی معلوم کرنے کے بعد اسی پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر اسطرلاب کی مدد سے ہموار میدان کے دوسرے کنارے پر نظر آنے والے افق (وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں) کا زاویہ معلوم کیا۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس پیمائش کیلئے البیرونی کافی عرصہ تک نندنہ کے قلعے پر ہی قیام پذیر رہے۔ اس دوران البیرونی کو جب بھی یہ محسوس ہوتا کہ مطلع صاف ہے، تو وہ پہاڑی پر چڑھ کر یہ پیمائش کرتے اور درست نتائج کیلئے انہوں نے اسی عمل کو کئی بار دہرایا۔
پہاڑی کی چوٹی سے افق کا زاویہ معلوم کر لینے کے بعد البیرونی نے جیومیٹری کا فارمولا استمال کرتے ہوئے زمین کا رداس معلوم کرلیا۔ الجبرا اور جیومیٹری سے آگاہی رکھنے والے اس فارمولے سے بھی یقینی طور پر واقف ہوں گے۔ اس سارے عمل میں البیرونی نے مجموعی طور پر ۴ قیمتیں معلوم کیں۔ اسطرلاب کا استعمال کر کے انہوں نے پہاڑی کی بلندی معلوم کرنے کی غرض سے ۲ زاوئیے اور ایک فاصلہ معلوم کیا اور آخری نتیجہ حاصل کرنے کیلئے پہاڑی کی چوٹی سے افق کا زاویہ حاصل کیا۔
اگر آپ سائنس کے طالب علم ہیں اور البیرونی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود بھی زمین کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں، تو آپ بھی اسطرلاب کی طرز کا ایک انتہائی سادہ آلہ بنا کر یہ تجربہ کر سکتے ہیں۔ یہ آلہ تیار کرنے کیلئے آپ کو جن اشیاء کی ضرورت ہوگی ان میں عام اسکیل جیسا لکڑی کا ایک ٹکڑا، زاویہ ناپنے والا پروٹیکٹر جسے ’’ڈی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، دھاگے کا ۸ سے ۱۰ انچ لمبا ٹکڑا، دھاگے کے ساتھ لٹکانے کیلئے کوئی ہلکا سا وزن اور چند کیلیں شامل ہیں۔ ان چیزوں کو تصویر کے مطابق جوڑ کر سادہ اسطرلاب بنایا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے آپ کسی بھی عمارت، پہاڑی یا ٹاور کے اوپر چڑھے بغیر اس کی بلندی معلوم کر سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو البیرونی کی طرح زمین کا رداس بھی معلوم کرسکتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ مسلمان سائنسدانوں سے بھری پڑی ہے اور آج کی سائنس بھی انہی لوگوں کو موجودہ ٹیکنولوجی کا بانی سمجھتی ہے، لیکن افسوس  کہ ہم آج تک ان عظیم شخصیات کے نقش قدم پر چل کر خود کو اس میراث کا اہل ثابت کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔  

 


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں