لاک ڈاؤن---کچھ ان کہی کچھ ان سنی
لاک ڈاؤن----کچھ ان کہی، کچھ ان سنی
جیسے ہی لاک ڈاؤن شروع ہوا ابتدا ہی میں میں نے کچھ
اپنے دوستوں کی مدد سے امداد شروع کی۔ لاک ڈاؤن کے کچھ ہی عرصہ بعد اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع
ہوگئے۔ اچھے خاصے ٹھیک ٹھاک لوگ بھی آمدنی کے بند ہونے کی وجہ سے تنگی کا شکار ہونے
لگے۔ میرے پاس لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ لوگ ایک دوسرے کو بتاتے ہیں کہ یہاں راشن
بانٹا جارہا ہے اس طرح سے لوگ بار بار آتے رہتے ہیں۔ آج بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔
میری استطاعت کے مطابق میں ان کی امداد کرتا ہوں۔
ایسے ہی کچھ لوگ آئے میں نے کوشش کی کہ ان کو کچھ دلوا
دوں۔ ایک میاں بیوی اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آئے کہ میاں کیاب ڈرائیور ہیں اور
آمدنی کے ذرائع بند ہونے کی وجہ سے سختیوں میں مبتلا ہیں۔ میں نے ان کو اپنے ذرائع
کے مطابق مقامی ذمہ دار سے رابطہ کیا ۔ ان سے ذکر کیا۔ انہوں نے کوئی مثبت ردعمل
ظاہر نہیں کیا تو میں نے ایک اور مقامی ذمہ دار سے بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ بھیج
دیں۔ انہوں نے راشن مہیا کیا ۔ اس دوران میں پہلے والے مقامی ذمہ دار نے بھی ان
میاں بیوی سے رابطہ کیا اور ان کو ان ہی کے گھر کے قریب ایک مکان جانے والے کے لیے
کہا وہاں سے ان کے لیے کچھ اور راشن کا انتظام ہوگیا۔ اس طرح تین مرتبہ ان کو راشن
ملا۔
میرے ایک ملاقاتی جن سے
اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ملاقاتیں ہوتی تھیں جو کہ میرے بار ے میں جانتے تھے
۔ اور وہ لاک ڈاؤن سے پہلے سعودیہ گئے
ہوئے تھے۔ نوکری کی تلاش میں ۔ انہوں نے وہاں سے واٹس اپ پر ایک مسیج بھیجا کہ ایک
مصیبت زدہ خاتون جو کہ حیدرآباد سے علاج کے سلسلےمیں اپنے دو بچوں کے ساتھ عادل
آباد گئی تھی اور لاک ڈاؤن میں پھنس گئی۔ اور وہاں بچپن کی غیر مسلم سہیلی کے گھر
میں پناہ لی ہوئی تھی۔ اس کو کچھ امداد
پہنچائی جائے۔ تو میں نے یہاں حیدرآباد کے
ایک مقامی ذمہ دار سے عادل آباد کے مقامی ذمہ دار کا نمبر حاصل کیا اور ان کو فون
کیا اور بتایا کہ اس خاتون کی مدد کی جائے۔
تو انہوں نے اس خاتون سے رابطہ کیا اور ان کو راشن فراہم کیا تیلگو میں
قرآن اور جانماز فراہم کیا ۔ پورے لاک
ڈاؤن کے دوران میں ان کو ضروریات فراہم کیں۔ اور جیسے ہی لاک ڈاؤن میں تھوڑی سی
راحت ملی۔ پورے احترام و خوش اسلوبی کے ساتھ اس خاتون کو حیدرآباد پہنچانے کا
انتظام کیا۔ اس خاتون نے یہاں پہنچنے کے بعد مجھے یہ ساری باتیں بتائیں۔
اسی طرح ایک اور واقعہ جو کہ گوا کا ہے وہاں کچھ لوگوں
کو جو کہ مالدار تھے ان کو غریبوں کی
امداد کے سلسلے میں جماعت اسلامی گوا کے کارکنان کے کام سے واقف کرواکر ان
کو انفاق کے سلسلےمیں تحریک دلائی گئی۔
Lockdown ---- Some unspoken, some unspoken
As soon as the lockdown started, I started helping with some
of my friends. Shortly after the lockdown, the effects began to show. Even
well-to-do people began to suffer because of poor income. I had a lot of people.
People tell each other that rations are being distributed here and in this way
people keep coming again and again. Even today this process has not stopped. I
help them as much as I can.
Some such people came and I tried to give them something. A
couple brought their youngest child to say that Mian Kayab is a driver and is
in dire straits due to lack of income. I contacted the local official according
to my sources. Mentioned to them. He did not respond positively, so I spoke to
another local official. "Send it," he said. They provided rations.
Meanwhile, the former local official also contacted the couple and asked them
to go to a house near their house and from there some more rations were
arranged for them. Thus, they received rations three times.
One of my visitors
who had meetings with me about social reform knew about me. And they went to
Saudi Arabia before the lockdown. Looking for a job From there, he sent a
message on WhatsApp that a distressed woman who had gone to Adilabad with her
two children from Hyderabad for treatment was stuck in a lockdown. And there
she took refuge in the home of a non-Muslim childhood friend. Give him some
help. So I got the number of the local official of Adilabad from a local
official of Hyderabad and called him and told him to help this woman. So he
contacted the woman and provided her with rations, the Qur'an in Telugu and
Janmaz. I provided them with necessities throughout the lockdown. And as soon
as the lockdown got a little relief. He arranged for her to be taken to
Hyderabad with full respect and good manners. This woman told me all these
things when she arrived here.
Comments
Post a Comment