نو آموز
نو آموز ایک نو مشق شاعر کے نام:
(از محترم
محمد یعقوب آسی صاحب)
=======================
تکلف بر طرف، میں نے آپ کی
ٹائم لائن کا ایک چکر لگایا ہے۔
سب سے پہلی بات! شعر کہنا کوئی
فرضِ عین نہیں۔ یہ آپ کا شوق ہے اور اختیاری عمل ہے، چاہے تو کر لیں چاہے تو نہ کریں۔
آپ نے شعر کہنا اختیار کر لیا تو پھر اس میں آسانیاں اور شارٹ کٹ تلاش کرنے سے
کہیں بہتر ہے کہ اس کو ترک کر دیں۔ آپ واقعی سنجیدہ ہیں تو آپ کو بہت محنت کرنی
پڑے گی۔ شاعر کی سب سے پہلی ضرورت شعری ذوق
اور شعر کہنے کی طرف فطری میلان ہے۔ یہ میلان ودیعت ہوتا ہے، پیدا نہیں کیا
جا سکتا۔ یعنی آپ کسی غیرشاعر کو شاعر نہیں بنا سکتے؛ ایک برے شاعر کو اچھا شاعر
بننے میں مدد کی جا سکتی ہے۔
دوسری بات! یہ تصور غلط ہے کہ
آپ ڈاک سے یا ٹیلیفون سے یا انٹرنیٹ سے شاعر بن سکتے ہیں۔ اس کے لئے شعری محفلوں
میں شریک ہونا اور ان محفلوں کے بعد ہونے والی غیر رسمی نشستوں میں ان لوگوں کے
ساتھ وقت گزارنا لازمی ہوتا ہے، کہ اس کے بغیر تربیت نہیں ہوتی۔ ہم شعر کو یوں
نہیں ناپ سکتے کہ اس کی زبان کیسی ہے، کہا گیا ہے، اوزان وغیرہ کا معاملہ کیسا ہے،
ردیف قوافی وغیرہ کیسے ہیں۔ شعر میں سب سے اہم بات اظہار کا سلیقہ اور جمالیاتی حس ہے، زبان و بیان کی غلطی، ہجوں اور
تلفظ کی غلطی، محاورے اور ضرب المثل کی غلطی، ترکیب بنانے کی غلطی؛ یہ باتیں کسی
بھی شاعر کے لئے خاص طور پر ناقابلِ معافی ہیں۔ اوزان، ردیف اور قوافی میں کمی
بیشی ہو جانا اتنی بڑی بات نہیں، جتنی بُری بات زبان و بیان اور اظہار کی غلطی ہے۔
فیس بکیوں کی تعریفات اور واہ
واہ بلے بلے پر مت جائیے گا۔ شعر کا عام قاری اس کو اپنے ذوق اور ذہنی اور علمی سطح کے مطابق دیکھے گا۔ شعر کی پرکھ
اور اس کے مضبوط یا کمزور، درست یا ناقص ہونے کے بارے میں عام قاری پر اعتماد نہیں
کیا جا سکتا، یہاں ان لوگوں کی رائے کو اعتبار دیا جائے گا جو ایک عرصے سے شعر کے
میدان میں ہیں۔ آپ کو ابھی شعر کے سنجیدہ مطالعے کی ضرورت ہے، شعر کہنا اس کے بعد
کا مرحلہ ہے۔
آپ کو دو تین کام کرنے ہوں گے۔
آپ جہاں بھی رہتے ہیں، وہاں یا کسی قریبی محلے، شہر وغیرہ میں کوئی نہ کوئی ادبی
تنظیم کام کر رہی ہو گی۔ ان لوگوں سے رابطہ کیجئے، تنظیم کے ادبی اجلاسوں میں شرکت
کیجئے۔ اجلاس کے انتظار میں اور اس کے بعد بھی کچھ دوست مقامِ اجلاس پر بیٹھے ہوتے
ہیں، ان کے ساتھ وقت گزارئیے، ان کی باتیں سنئے، اپنی باتیں کیجئے۔ یہ سیکھنے کا
عمل ہوتا ہے اور بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر تربیت اول تو ہوتی نہیں اور اگر ہو تو
بھی ناقص رہتی ہے۔
فکری اور فنی پختگی تو آتے آتے
آتی ہے، میں نے جن عناصر کا ذکر کیا ہے ان کو درست رکھنا از بس ضروری ہے۔ وہ زمانہ
تو اب آ بھی نہیں سکتا جب ایک نوآموز باضابطہ طور پر کسی سینئر کی شاگردی میں آتا
تھا، اور دستار بندی، اور ہدیے، اور حاضریاں، اور تواضع؛ وغیرہ۔ تب شعراء وظیفوں
پر پلا کرتے تھے، آج کا شاعر عام طور پر دال روٹی کے چکر میں پہلے ہوتا ہے اور کچھ
وقت بچ رہے تو خود بھی لکھتا ہے اور اگر کوئی سنجیدہ طالب علم ہو تو اسے کچھ بتائے
گا۔ اُن لوگوں کے پاس وقت ہوتا ہی فکرِ سخن کے لئے تھا، اب نہیں ہوتا۔ اس لئے کوئی
بھی شخص آپ سے پکا وعدہ نہیں کر سکتا کہ ٹھیک ہے میں آپ کو اصلاح دوں گا؛ کوئی
کہتا ہے تو بھی جان لیجئے کہ اس کا مطلب ہے بوقتِ فراغت وغیرہ۔ یعنی کسی خوش فہمی
کا شکار نہ ہوئیے۔ محنت آپ کو کرنی ہے، آپ اپنا کلام کسی سینئر کو بھیجتے ہیں تو
وہ اس کو اپنے حساب سے پڑھے گا، کون جانے کہ لکھنے والے نے بھی ویسے پڑھا ہے یا
نہیں۔ اس لئے یہ عمل بالمشافہ نہ ہو تو مکمل نہیں ہوتا۔
ہم شعر پڑھتے ہیں، اپنا ہو،
کسی کا ہو، ترنم کے ساتھ ہو، تحت اللفظ ہو یا جیسے بھی ہو؛ یا چلئے ایک غزل پڑھتے
ہیں۔ اس میں حروف پر واقع ہونے والی حرکات و سکنات کی ایک خاص ترتیب ہوتی ہے، اس
کا دھیان رکھیں تو شعر میں نغمگی کا احساس ہو جاتا ہے۔ اور یہ ترتیب پورے فن پارے
کے ہر مصرعے میں ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کو آپ کوئی بھی نام دے لیجئے: لے، سر، تال،
طرز، بحر، وزن وغیرہ۔ اس کا ادراک آپ کے اندر سے پھوٹتا ہے اور وہ نہ ہو تو آپ کو
پتہ ہی نہیں چلتا کہ آپ نے وزن میں پڑھا یا وزن سے خارج ہو گئے۔ یہ چیز آپ کو کوئی
اور نہیں سکھا سکتا، اور نہ کوئی آپ کے دماغ میں ڈال سکتا ہے۔ اگر یہ آپ میں ہے تو
ہے، نہیں ہے تو نہیں ہے۔ نثر لکھئے، اس میں کم از کم یہ پابندی تو نہیں ہوتی۔ نثر
کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہاں بھی بنیادی ناقابلِ معافی غلطیاں وہی ہیں جو شعر میں ہیں۔
مشق کے طور پر آپ ناصر کاظمی
کی کتاب لے لیجئے "پہلی بارش" وہ شعر پڑھنے میں بھی بے انتہا آسان ہے
اور مطالب و معانی کے لحاظ سے بھی۔ اس کو بہ آوازِ بلند پڑھئے، کہیں کلامِ شاعر
بزبانِ شاعر میں بھی مل جائے گی۔ اس کو سنئے کہ شاعر نے خود کیسے پڑھا ہے۔ الف،
واو، یے، ہے کو کہاں مختصر پڑھا ہے کہاں لمبا کیا ہے؛ زیر کو کھینچ پر یے کے برابر
کہاں کہاں لمبا کیا ہے اور دس بارہ پندرہ شعروں کے پڑھنے میں یکسانی اور توازن
کیسے آیا ہے۔ پھر اور پڑھیں، پھر اور
پڑھیں۔ کلاسیکی شاعری سے ابتدا نہ کریں، یہ ضروری بات ہے۔ جب آپ مختلف بحروں میں
لکھی گئی غزلوں نظموں کو سہولت سے درست پڑھنے لگیں تو چلئے نام بھی دے دیتا ہوں
احمد فراز کو پڑھئے۔ پھر صوفی تبسم، قمر جلالوی، پھر اساتذہ اور پھر اقبال۔ سہولت سے درست پڑھنے والا پیمانہ ہر جگہ کے لئے
ہے۔ اس کے بعد لکھئے۔ اور لکھنے میں ان بہت ساری طرزوں میں سے کوئی ایک دو چار کا
انتخاب کریں جو خود آپ کو اچھی لگنے لگی ہوں۔ اپنی طرف سے کوئی تجربہ نہ کیجئے، نہ
کوئی وزن وضع کیجئے۔ تجربہ اور وضع بہت بہت بہت بعد کی بات ہے۔
جب اور جیسے جیسے آپ شاعری
پڑھتے ہیں، اس میں زبان و بیان کا بھی مشاہدہ کیجئے کہ کرنے والا بات کس انداز میں
کرتا ہے اور ایک ہی معنی کے مختلف پہلو بیان کرنے کے لئے الفاظ کا چناؤ کیسے کرتا
ہے۔ ترکیب سازی کیسے کرتا ہے، ترتیب کیسے کیسے دیتا ہے، بات کو خوبصورت اور پراثر
کیسے بناتا ہے؛ وغیرہ۔ بہ این ہمہ شاعروں کے ساتھ بیٹھنا اور شعر محفلوں میں شریک
ہونا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
عروض؟ یہ ایک بڑا مسئلہ بنا دیا
گیا ہے۔ آپ کو عروض نہیں آتا تو آپ شاعر نہیں ہو سکتے؟ یا عروض آتا ہے تو آپ پکے
شاعر؟ عروض کی ضرورت ہی کیا ہے؟ وغیرہ۔ معاملے کو یوں دیکھنا ہی غلط ہے۔ بعض لوگ
یہ کہتے ہیں کہ علم عروض کو جاننا آپ کی شعر کہنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور
آپ فاعلاتن فاعلاتن کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ خیال بھی درست نہیں۔عروضیا ہونا
اور بات ہے، شاعر ہونا اور بات ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے پر منحصر بھی نہیں؛ ہاں
عروض سے شناسائی رکھنا مفید ہے بہ شرطے کہ ایک شاعر کی حیثیت میں آپ کی ترجیح شعر
کو درست اوزان میں رکھنا ہو۔ علمِ عروض کو
آپ کا نائب ہونا چاہئے، کہ جہاں اطلاقی سطح پر اس کی ضرورت ہے آپ اس کو اختیار کر
سکیں۔ نہ کہ آپ اس کی باریکیوں اور تجربوں میں پڑ کر اپنی ساری صلاحیتیں ادھر وقف
کر دیں اور شعر کے دیگر تقاضوں سے لاتعلق ہو جائیں۔ وزن کا ادراک شاعر کے اندر
ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے، عروضی مباحث کومناظرے کی صورت دے لینا کسی طور بھی مفید نہیں۔ معروف
شعراء، اساتذہ اور مشاہیر کے ہاں بھی بحروں کے تجربات اور عروضی موشگافیاں کم کم
ہی ملتی ہیں۔ خود بھی سہولت میں رہئے اور اپنے قاری کو بھی سہولت میں رکھئے۔ مانوس
بحروں میں کہئے۔ تجربات میں کوئی حرج بھی
نہیں، اگر آپ شعر کو اس کے شعری مقام سے گرنے نہ دیں۔
Coppied
Comments
Post a Comment