"وہ کیسی عورتیں تھیں "____
یہ نظم میں ساری خاندان کی خواتین کو dedicate کرتا ہوں۔ انکو بھی جو اب
ہمارے درمیان نہیں رہیں۔
ایک بڑی پیاری نظم
"وہ
کیسی عورتیں تھیں "____
وہ کیسی عورتیں تھیں
...
جو گیلی لکڑیوں کو پھونک کر چولہا جلا تی تھیں
جو سل پر سرخ
مرچیں پیس کر سالن پکا تی تھیں
صبح سے شام تک مصروف، لیکن مسکراتی
تھیں
بھری
دوپہر میں سر اپنا ڈھک کر ملنے
آتی تھیں
جوپنکھےہاتھ کےجھلتی تھیں اوربس پان کھاتی تھیں
جو دروازے پہ رک کردیر تک رسمیں نبھاتی تھیں
پلنگوں پر نفاست سے دری چادر بچھاتی
تھیں
بصد اصرار مہمانوں
کو سرہانے بٹھاتی تھیں
اگر گرمی زیا
دہ ہو تو روح افزا پلاتی
تھیں
جو اپنی بیٹیوں کو
سوئیٹر بننا سکھاتی تھیں
سلائی کی
مشینوں پر کڑے روزے بتاتی تھیں
بڑی پلیٹوں میں جو افطار کے حصّے بناتی تھیں
جوکلمےکاڑھکرلکڑی کےفریموں میں سجاتی تھیں
دعا ئیں پھونک کر بچوں کو بستر پرسلا تی تھیں
اور اپنی جا
نمازیں موڑ کر تکیہ لگاتی
تھیں
کوئی سائل جودستک دےاسے کھانا کھلا تی تھیں
پڑوسن مانگ لے کچھ ، باخوشی دیتی دلاتی تھیں
جورشتوں کو برتنے کے کئی نسخے بتاتی تھیں
محلے میں کوئی مر جائے تو آنسو بہا تی تھیں
کوئی بیمار پڑ جائے تو اسکے پاس جاتی تھیں
کوئی تہوار ہو تو خوب مل جل کر مناتی تھیں
وہ کیسی عورتیں تھیں
.....
میں جب گھراپنےجاتا ہوں توفرصت کے زمانوں میں
انہیں
ہی ڈھونڈتا پھرتا ہوں گلیوں اور مکانوں
میں
کسی میلاد میں
، جزدان میں ، تسبیح دا نوں
میں
کسی برآمدے کے
طاق پر ، باورچی خانوں میں
مگر اپنا زمانہ
ساتھ لیکر کھو گئی ہیں
وہ
کسی اک قبرمیں ساری کی ساری سو گئی ہیں وہ
ابو عروج بھائ۔دل کو چھونے والا، حقیقت کو آئینہ دکھانے
والا کلام۔
بہت عمدہ۔۔بہت ہی خوب۔
سچ ہے
قبر میں ساری کی ساری سو گئ ہیں وہ
مگر کچھ نیم جانیں رہتی ہیں اب بھی
وہ بہت کچھ نہ کریں مگر پھر
کبھی کچھ کچھ کر گزرتی ہیں
صبح سے شام تک اب بھی
ردا دردوں کی لے سر پر
ابھی بھی مسکراتی ہیں
وہ پانوں کی جگہ سونفوں کو منھ میں چباتی ہیں
امان للہ کہہ کے در پر ذرا سا مسکرا جاتی ہیں
پلنگ سلوٹ سے پاک ہے اب بھی
وہ روح افزاکا شربت آج بھی مزہ دیتا ہے ویسا ہی
سوئیٹر بھی بناتی ہیں، سلائ بھی کراتی ہیں
سکھانا چاہتی ہیں سب کچھ
کہاں ہیں سیکھنے والے وہ ویسے ہی
بڑے تھالے سمٹ گئے ہیں پلیٹں وہ سجاتی ہیں اب بھی
دعائیں آج بھی بچوں کو وہ دیوی سکھاتی ہے
پڑوسن
مانگنے نہیں ہے آتی
دیکھ
یہ شاد رہتی ہیں اب بھی
عیادت کرتی ہے اب بھی
یہ عظمت فطرت میں
گوندھی ہے
اگر تہوار آئے تو وہ ہلا مچاتی ہے
وہ روزے رکھتی ہے اب بھی
مصلے وہ بچھاتی ہے
ہر اک چھوٹی ہو بڑی ہو
ہر اک کی جان ہے اب بھی
نہیں ڈھونڈوں مکینوں تم
وہ چلمن کے درازوں سے
مسکراتیں ہیں اب بھی
بھائ۔۔مکمل حق ادا تو نہیں ہوا
لیکن دل کی بات کہنے کی کوشش ضرور کی ہے۔
بے ڈھنگی شاعری میں۔ فریدہ نثار انصاری
😌ما
شا اللہ بہترین انتخاب👌👌👌👌آنکهوں
میں آنسو آگئے
بہت خوب عالیہ گوہر😌😌
😌😌سچ
باجی بہت دنوں سے میں بھی سوچ رہی تھی اس کا جواب
آپ نے درست فرمایا تسنیم
فرزانہ
خوبصورت انتخاب محترم رخسانہ
نازنین
واااااہ بہترین لا جواب...
الفاظ نہیں اس نظم کے لئے اسرار دانش
گھر کی رونقیں
مسٹر مرید اس دن بہت خوشگوار موڈ میں گھر آئے تھے، انکی
اور درخشاں بیگم کی شادی کو پورے پندرہ سال ہو گئے تھے. وہ اپنی بیگم کیلئے ایک قیمتی
سوٹ اور اسکی پسند کا پرفیوم لائے تھے.
یہ پندرہ سال انکے لڑنے جھگڑنے میں گزر گئے تھے. مجال ہے
جو کوئی دن لڑے بغیر گزرا ہو. درخشاں بیگم مزاج اور زبان دونوں کی تیز تھی، بات سے
بات نکالنے کی ماہر تھی، مسٹر مرید بھی کچھ کم نہیں تھے، گھر میں روز ہی دھماچوکڑی
لگتی تھی، ہمسائے بھی اس شور شرابے کے عادی ہو چکے تھے.
مسٹر مرید نے اپنی بیگم سے کہا "درخشاں بیگم میں نے
سوچ لیا ہے، آج کے بعد میں تم سے نہیں لڑوں گا، نہ ہی بحث کروں گا، تاکہ گھر میں سکون
رہے". درخشاں بیگم بولی "شکر ہے تم نے مانا تو سہی کہ تم ایک لڑاکا انسان
ہو اور فضول بحثیں کرتے ہو، جس کی وجہ سے گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو چکا ہے".
مسٹر مرید کو جھٹکا لگا، انہوں نے تو سیز فائر کرنے کی کوشش
کی تھی، بیگم نے میزائل ہی چلا دیئے، انہوں
نے تحمل سے کہا " بیگم جو گزر گیا اسے دونوں بھول جاتے ہیں، آگے مل جل کر گھر
کا ماحول اچھا بناتے ہیں".
" کیسے بھول جاوں، زندگی برباد کر کے رکھ
دی تم نے میری، مرید احمد، میں نہیں بھول سکتی". بیگم نے آہ و زاری جاری رکھی.
مسٹر مرید تھوڑا گھبرا گئے، لڑنے سے احتیاط جو کرنی تھی چنانچہ بولے "اچھا درخشاں
بیگم میں اپنی تمام زیادتیوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتا ہوں، بس مجھے تمہاری خوشی
اور گھر کا سکون چاہئیے".
درخشاں بیگم نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر کہا، "مرید
احمد، میں نے تمہارے لئے اپنے تایا کا بیٹا عابد ٹھکرایا، آج وہ کینیڈا میں سیٹل ہے،
ماموں کی کتنی لاڈلی تھی میں، انکا بیٹا امجد، آج اتنا بڑا بزنس مین ہے، اسکو انکار
کیا، کتنے رشتے تھے میرے لئے، مرید احمد، تیرے پیچھے سب ٹھکرا دیے، میرے تو نصیب پھوٹ
گئے کہ تم سے شادی کی، کتنے خوش قسمت ہو مرید احمد کہ تمہاری شادی اس نصیبوں جلی درخشاں
سے ہو گئی".
مسٹر مرید نے بھی نہ لڑنے کہ قسم کھائی ہوئی تھی، سکون سے
بولے " درخشاں بیگم، تایا کے بیٹے کو تم عابد لسوڑا بولتی تھی ناں اور امجد کو
لوفر آوارہ کہتی تھی، اب کیوں پرانی باتیں یاد کر رہی ہو، جو مقدر میں لکھا تھا مل
گیا". درخشاں بیگم جھٹ سے بولی "مقدر ہی تو خراب تھے میرے، مرید احمد، جو
تمہارے پلے باندھ دی گئی".
مسٹر مرید نے اسی طرح پرسکون لہجے میں کہا "درخشاں
بیگم، کبھی انصاف بھی کر لیا کرو، تمہاری باتوں کے مطابق بھی دیکھیں تو تمہاری شادی
ایک خوش قسمت انسان سے ہوئی ہے، جبکہ میری شادی ایک نصیبوں جلی سے، رونا تو مجھے چاہیئے
ناں".
درخشاں بیگم کو اس بات پر غصہ آ گیا، کہنے لگی "مرید احمد، میرے ماں باپ کو پتا نہیں تم میں
کیا نظر آیا تھا کہ تم سے بیاہ دیا، ہائے میری ماں کتنا پیار کرتی تھی مجھ سے، راج
دلاری تھی ماں باپ کی،،، میرے دم سے گھر بھر میں رونق تھی، مرید احمد، تم نا قدرے نکلے،
درخشاں کی قدر نہ کر سکے، کرتے بھی کیسے، آسانی سے جو تمہاری ڈولی میں بیٹھ گئی تھی".
مسٹر مرید ہنوز اپنے پر سکون انداز کو برقرار رکھے ہوئے
تھے، بولے "درخشاں بیگم، تمہاری امی نے مجھے خود بتایا تھا کہ تمہاری شادی ہونے
پر انہوں نے ایک ہزار شکرانے کے نفل ادا کئے تھے، آخر کوئی تو بات تھی نا".......
"آنکھوں پر پٹی آ گئی تھی ابا میاں کے، کہتے تھے بہن کو انکار نہیں کر سکتا، بیٹی
کو اپنے ہاتھوں اندھے کنویں میں دھکیل گئے". درخشاں بیگم کہاں چپ رہنے والی تھی.
مسٹر مرید نے مزید بحث سے اجتناب کرتے ہوئے کہا "درخشاں بیگم گزرا وقت تو گزر گیا، اب ہماری
اولاد جوان ہو رہی ہے ہمیں ان کا سوچنا چاہئیے".
درخشاں بولی "مرید احمد، میں کیا سوچوں، میرے پاس کیا
ہے جو سوچوں، سارا کچھ تو تم نے اس کالے بیگ میں ڈال کر الماری میں رکھا ہوا ہے، اور
اس پر اچھا دھاری سانپ بن کر بیٹھ گئے ہو، مجھ پر تو تمہیں اعتبار ہی نہیں".
مسٹر مرید نے اٹھ کر الماری کھولی، اس کے اندر سے کالا بیگ
نکالا اور درخشاں کے سامنے رکھ دیا، بیگ کو کھول کر اس میں سے مختلف چیزیں نکالتے ہوئے
کہا "یہ لو درخشاں بیگم پراپرٹی کے کاغذات، اور یہ لو پرائز بانڈ، زیورات بھی
اسکے اندر ہیں، تسلی سے بیٹھ کر دیکھ لینا، کل کو ہماری گڈی کے کام آئیں گے"
ساتھ ہی مسٹر مرید نے الماری کی چابی بھی درخشاں کے حوالے
کر دی. درخشاں بیگم کے پاس فوری طور پر جنگ بندی کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو بولی
"ٹھیک ہے مرید احمد، تم کہتے ہو تو میں یہ ذمہ داری بھی اٹھا لیتی ہوں".
مسٹر مرید نے درخشاں بیگم کے ہاتھوں کو تھام کر کہا
"بیگم تم جیسے خوش رہنا چاہو میں تمہارے ساتھ ہوں". اگلے دو تین دن کافی
سکون سے گزرے، درخشاں کی ساس اور بچوں نے گھر میں پرسکون قسم کی تبدیلی محسوس کی، پڑوسن
بھی محلے میں درخشاں بیگم کی آواز نہ گونجنے کی وجہ سے حال چال پوچھنے آ گئی کہ کہیں
بیمار نہ ہو.
چوتھے دن درخشاں بیگم کی بہن کا فون آیا جس کو درخشاں روزانہ
اپنے گھر کے دکھڑے سنایا کرتی تھی، اور وہ بیچاری اسکو تسلیاں ہی دیتی رہہ جاتی تھی،
درخشاں نے سلام دعا کی اور مختصر بات کر کے فون بند کر دیا.
اب درخشاں بیگم زیادہ تر کمرے میں لیٹی رہتی، سوچتی رہتی
اور سوچتے سوچتے رونے لگ جاتی، عجیب سی بے چینی محسوس کرتی تھی ، سر پر اکثر دوپٹہ
باندھے رکھتی، مسٹر مرید سے اس دن کے بعد کوئی لڑائی نہیں ہوئی، ہر وقت توجہ الماری
پر ہی رہتی تھی کہ اس میں سارا قیمتی سامان پڑا ہوا ہے.
درخشاں کی ساس کو یہ پرسکون ماحول اور خاموشی بری طرح کھٹک
رہی تھی. اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا. مسٹر مرید نے بھی سکھ کا سانس لیا کہ اب معاملات
بہت حد تک نارمل ہو گئے ہیں. گھر میں آجکل مکمل خاموشی ہوتی تھی، بچے بوکھلائے بوکھلائے
پھرتے تھے، ساس بے چینی محسوس کرتی تھی، پڑوس والوں کو بھی لگتا تھا کہ کہیں کسی بات
کی کمی ہے...
وہ ہفتے کا دن تھا، درخشاں بیگم سارا دن چپ چاپ لیٹی رہی،
بچوں سے بھی بات نہیں کر رہی تھی، ساس کو کھانا کھلا کر پھر لیٹ جاتی، شام کو وہ غیر
ارادی طور پر آٹھ کر ٹہلنے لگی، اس کی نظریں بار بار دروازے کی طرف جا رہی تھیں، مسٹر
مرید کے آنے کا وقت ہو گیا تھا، لیکن وہ ابھی نہیں پہنچے تھے، گڈی نے دیکھا کہ ماں
بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی ہے تو بولی
"امی، بابا صبح بتا کر تو گئے تھے کہ تھوڑا دیر سے آئیں گے". درخشاں
بیگم کو یاد آیا کہ مسٹر مرید نے بتایا تھا کہ ہیڈ آفس سے ہو کر آئیں گے، تو شاید آتے
آتے رات ہو جائے.
مسٹر مرید نو بجے کے لگ بھگ گھر میں داخل ہوئے تو گھر میں
مکمل سناٹا تھا، بچے دادی کے کمرے میں سوئے ہوئے تھے. درخشاں بیگم نے کھانا لگایا،
مسٹر مرید چپ چاپ کھانا کھاتے رہے، کھانے کے بعد درخشاں نے چائے کا کپ لا کر سامنے
رکھا، مسٹر مرید خاموشی سے چائے پینے لگ گئے.
اسی دوران درخشاں بیگم آہستگی سے اٹھی، الماری کھول کر اس
میں سے کالا بیگ نکالا اور مسٹر مرید کے سامنے پٹخ دیا، اور دھاڑتے ہوئے بولی "مرید احمد، تم کیا سمجھتے ہو، یہ رشوت کی
پوٹلی دے کر تم میری زبان بند کر لو گے، تم جیسے گھنے مردوں کو میں خوب جانتی ہوں،
مجھے اس مردود کالے بیگ کی نگرانی پر لگا کر تم پتہ نہیں کون سے گلچھڑے اڑا رہے ہو،
دوسری شادی کے خواب تو تم کافی عرصے سے دیکھ ہی رہے تھے، اب اپنے عزائم پورے کرنے کے
سپنے دیکھ رہے ہو، تم ابھی درخشاں کو جانتے نہیں ہو، میری تو جو زندگی برباد ہونی تھی
سو ہو گئی، کس اور مظلوم عورت پر میں یہ ظلم ہرگز ہرگز نہیں ہونے دوں گی، تم نے سمجھ
کیا رکھا ہے خود کو"
مسٹر مرید سٹپٹا گئے ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یکایک
یہ کیا ماجرا ہو گیا، وہ خاموشی سے درخشاں بیگم کو دیکھے جا رہے تھے، دوسرے کمرے میں
موجود دادی اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل گئیں، دادی نے باری باری گڈی اور پپو
کو پیار کیا اور سکھ کا سانس لیا.
پڑوسن کے گھر آوازیں گئیں تو انہیں لگا جیسے زندگی دوبارہ
لوٹ آئی ہو،
اگلے دن درخشاں بیگم نے ناشتہ کروانے کے بعد برتن دھوتے
ہوئے ایک گلاس اور کپ توڑا، پھر پورے گھر کی صفائی کی، ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ڈانٹتی
رہی، ساس کو بھی باتیں سناتی رہی اور مسٹر مرید کی شان میں بھی قصیدے پڑھتی رہی، ساس
کو درخشاں کی کوئی بات بری نہیں لگ رہی تھی، انکے گھر کی رونقیں بحال ہو گئی تھیں.....
(عین حیدر)
Comments
Post a Comment