سر آئینہ
سرِ آئینہ
تحریک اسلامی کے منتخب افراد، زمین کا نمک، باشعور (یعنی جن
کے دم سے ہی زمانے میں شعور کی پہچان ہے) ان کا یہ انداز ہے کہ موقع(آزمائش کا
موقع نہیں، صرف اندیشہ کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے، کہیں ویسا نہ ہوجائے) آنے پر ایسے
تھڑدلے ثابت ہوتے ہیں کہ ان کے رویہ کو
دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ اللہ و رسول اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ مَّا
نَدْرِيْ مَا السَّاعَةُ ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ
بِمُسْتَيْقِنِيْنَ ہم
نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں
ہے۔ ان کے جسم کی ایک ایک حرکت، ایک ایک بات، ایک ایک طرز عمل کو دیکھ کر
یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ ان کو نہ اللہ کے ہونے پر یقین ہے ، نہ آخرت کے آنے پر،اور
تو اور جن کے ذمہ لوگوں کی قیادت ہے وہ بھی انھی اندیشوں کے شکار ہیں، آخرقرآن
وحدیث و سیرت ، صالح لٹریچر کے مطالعہ کا
کوئی تو اثر ہوتا، اور لوگ خود کو آزماتے کہ کیا واقعی ایسا کچھ پیش آنا ہی ہے جس
کی بدولت ہم پر قید و بند کی صعوبتیں آسکتی ہیں۔ سرِ منبر خطابت کے جوہر دکھانے
والے ، نجی گفتگو میں بھی جن کے پاس لوگوں کو قائل کرنے کی بے شمار دلیلیں ہوتی
ہیں، یہی افراد جب عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے وہاں سے راہ فرار اختیار
کرتے ہیں۔
آپ حضرات یہ بات اچھی
طرح ذہن نشین کرلیں کہ آپ دراصل امۃ وسط بننے کے امیدوار ہیں، آپ کا مقصود یہ ہے
کہ اس مقام بلند کو حاصل کرلیں۔ اتنے بڑے منصب کی امیدواری کے لیے اٹھ کھڑے ہونا
پھر اس کی عظمت کو محسوس نہ کرنا ، نہ اس کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا ایک عظم
الشان بے خبری ہے۔اور اس سے بڑھ کر بے خبری یہ ہے کہ ایک طرف تو آپ ان کم سے کم
صفات سے بھی ابھی تک متّصف نہ ہوئے ہوں جو اس کار عظیم کے لئے ضروری ہیں، اور
دوسری طرف آپ تقاضا کریں کہ فوراً ہی کوئی بڑا قدم اٹھادیا جائے۔ کیا آپ اتنا نہیں
سمجھتے اور اس سے ڈرتے نہیں کہ اگر آپ نے کوئی ایسا قدم اٹھایا جس کے لئے ضروری
استعداد آپ نے اپنے اندر پیدا نہیں کی ہے، تو آپ منہ کی کھاکر پسپا ہوں گے اور اس
راہ میں پیچھے ہٹنا فرار من الزحف ہے جو خدا کی شریعت میں بہت بڑا گناہ ہے۔
ہم دعویدار ہیں امامت میں تغیر کے، اور اس دعوے کے ساتھ ہمارے حوصلوں کا یہ
حال ہے کہ اندیشوں کے گرفتار ہیں۔
وَاِذَا قِيْلَ
اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّالسَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيْهَا قُلْتُمْ مَّا
نَدْرِيْ مَا السَّاعَةُ ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ
بِمُسْتَيْقِنِيْنَ 32
الجاثیہ
اور جب کہا جاتا
تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے
کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم
کو نہیں ہے ۔‘‘ (32) الجاثیہ
وَنَضَعُ
الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ
شَـيْــــــًٔا ۭ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ
حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا ۭ
وَكَفٰى بِنَا حٰسِـبِيْنَ 47
قیامت کے روز ہم
ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے ، پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔
جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے ۔ اور
حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔ الانبیاء 47
فَرَجَعُوْٓا اِلٰٓى
اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْٓا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ 64ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰي رُءُوْسِهِمْ ۚ لَــقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓـؤُلَاۗءِ
يَنْطِقُوْنَ 65
یہ سن کر وہ لوگ
اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں) کہنے لگے ’’ واقعی تم خود ہی ظالم
ہو۔‘‘ (64)
مگر
پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے ’’ تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ ‘‘ (65)الانبیاء
فرار من الزحف
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں:
یٰٓا أَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ
کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْہُمُ الْاَدْبَارَo وَمَنْ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ
اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ
بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰیہُ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُo} [الانفال:۱۵
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، ایک لشکر
کی صورت میں ملو تو ان سے پیٹھیں نہ پھیرو۔ اور جو کوئی اس دن ان سے اپنی پیٹھ
پھیرے، ماسوائے اس کے جو لڑائی کے لیے پینترا بدلنے والا ہو، یا کسی جماعت کی طرف
جگہ لینے والا ہو تو یقینا وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے
اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے۔‘‘
یہاں اس آیت کریمہ میں مذکور لفظ ’’زَحْفًا‘‘ کا معنی ہے: کافروں سے جنگ
اور دشمن کی طرف پیش قدمی کرنا اور ’’اَلتّوَلِّي‘‘ کا مطلب ہے: کسی چیز سے پھر
جانا۔ یعنی پیٹھ موڑ کر مڑنا اور یہاں اس کا معنی ہے: جہاد و قتال فی سبیل اللہ سے
فرار اختیار کرنا۔ ابن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ادبار، دُبر کی جمع ہے اور اس آیت
کریمہ میں ’’دبر‘‘ سے مراد اس فعل شنیع کی فصاحت کو بیان کرنا ہے۔ اس لیے کہ یہ
کام ایک بڑے جرم کی مذمت کو بیان کر رہا ہے۔
دشمن کی طرف پیش قدمی کے دن راہِ فرار اختیار کرنا کیا ہے؟
دشمن کی طرف پیش قدمی اور حملے والے دن پیٹھ دکھا کر راہِ فرار اختیار کرنے
والا وہ شخص ہوتا ہے جو کافر سپاہ کا سامنا کرنے سے گھبرا کر میدان قتال سے بھاگ
اٹھے۔ اس معاملے میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہوگا جو کافروں کو مسلمانوں کے اموال
و اسلحہ اور ان کی عورتوں اور بچوں کے بارے میں خبر دے اور اسے معلوم ہو کہ وہ
عورتوں اور بچوں کو قتل کردیں گے یا انہیں قیدی بنالیں گے۔
اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو دشمن سے آمنا سامنا کے دن اور معرکہ والے دن
میدانِ قتال سے کافروں کے سامنے سے فرار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب
جہاد فی سبیل اللہ اور کافروں سے قتال کو فرض کیا تو اہل ایمان مجاہدین اور مسلم
سپاہ پر اس جرم شنیع کو حرام قرار دیا۔ یعنی جب تم کافر دشمنوں کے قریب ہوجاؤ تو
پھر انہیں اپنی پشتیں نہ دکھاؤ اور نہ ہی اپنے مسلمان ساتھیوں کو چھوڑ کر ان سے
فرار ہوجاؤ۔ جو کوئی شخص ایسا کرے گا وہ اللہ کا غضب لے کر پلٹے گا اور قیامت والے
دن اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، جو کہ سب سے برا ٹھکانا ہے۔ الا یہ کہ بندہ خلوص دل سے
معافی مانگ لے اور اللہ عزوجل اپنی عفو و
اللہ عزوجل نے اس ضمن میں ایک حالت کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اور وہ اس طرح
کہ دشمن کو دھوکہ دینے کی خاطر یا جنگی چال اختیار کرنے کے لیے مسلمان سپاہی پیچھے
کی جانب دوڑنے والی کیفیت پیدا کرے۔ تاکہ وہ دشمن پر بھرپور طریقے سے حملہ کرسکے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَنْ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَئِذٍ
دُبُرَہٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ…مگر جو کوئی کترا کر ایک طرف چلے لڑنے کے لیے یا
مسلمانوں کی دوسری جماعت (یونٹ، کمپنی یا بریگیڈ، کور وغیرہ) میں شامل ہونے کے
لیے۔‘‘ (تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے)
یا مسلمانوں کی دوسری فوج، جماعت یا گروہ سے مدد طلب کرنے کے لیے پیچھے
ہٹتا ہے تاکہ وہ اس کے ساتھی مجاہدین کی آکر مدد کریں تو یہ بھی درست ہے۔
اگر ان اسباب کے علاوہ کسی بھی وجہ سے معرکہ والے دن میدان قتال سے فرار
اختیار کرے گا تو وہ ان سات ہلاک کرنے والے بڑے جرائم میں سے ایک جرم کا ارتکاب
کرے گا جن کے بارے میں سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
إِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!
وَمَا ھُنَّ؟ قَالَ: ’’اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ
الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَکْلُ الرِّبَا، وَأَکْلُ مَالِ
الْیَتِیْمِ، وَالتَّوَلِّي یَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ
الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔
صحیح البخاري، کتاب الحدود، حدیث : ۶۸۵۷۔
’’سات ہلاک کردینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو۔‘‘ صحابہ کرامe نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! یہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟
فرمایا: (۱)… اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ (۲)… جادو۔ (۳)… حق شرعی کے سوا کسی بھی جان کو قتل کرنا کہ جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے حرام
کر رکھا ہے۔ (۴)… سود کھانا۔ (۵)… ناحق یتیم کا مال کھاجانا۔ (۶)… معرکہ والے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا (۷)… غفلت کا شکار (سادہ طبیعت والی بیاہی ہوئی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت
لگانا۔‘‘
میدانِ قتال سے فرار
ایک کبیرہ گناہ اور جرم ہے کہ جس کے ساتھ دوسرے سپاہیوں اور لڑنے والوں کو فرار کا
موقع ملتا ہے اور وہ بھی اس مفرور کی تقلید میں راہِ فرار اختیار کرنے لگتے ہیں
اور پھر اس کے ساتھ لشکر اسلامی کی صفوں میں خلل واقع ہوکر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ بلکہ
بسا اوقات یہ فرار جنگ و قتال میں شریک باقی لوگوں کے حوصلوں کو پست کردیتا ہے اور
لوگ لڑنے میں کمزوری دکھانے لگتے ہیں۔ نتیجتاً اس جرم کی وجہ سے اس جنگ میں ناکامی
اور شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے معرکہ اور قتال والے دن میدان جنگ سے پیٹھ
دکھا کر راہِ فرار اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے وہاں اُس نے کافروں سے لڑائی کے
وقت ثابت قدمی اور صبر و استقامت اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ نہی اور امر
دونوں کو برابر بیان کرکے دشمن کے مقابلے میں اہل ایمان مجاہدین کو ڈٹ جانے کی
تاکید فرما دی اور پھر اس کے ساتھ ساتھ اللہ کریم نے اپنے مومن مجاہدین کو اپنے
کافر دشمنوں پر نصرت اور فتح حاصل کرنے کے لیے انہیں اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر
کرتے رہنے اور اُس سے نصرت و فتح کی بکثرت دعا مانگتے رہنے کا بھی حکم فرمایا ہے۔
تاکہ وہ اثبات و دعا کے ساتھ اپنے دشمنوں پر فتح یاب ہوسکیں اور اللہ رب العالمین
ان کی مدد فرمادے۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo} [الانفال:۴۵]
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ
کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ ‘‘
اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کو دشمن
سے آمنے سامنے کے وقت کی تعلیم اور دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت شجاعت اور دلیری کے لیے
راہنمائی ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا:
یَا اَیُّھَا النَّاسُ! لَا تَمَنَّوا لِقَائَ الْعَدُّوِ وَسَلُوا اللّٰہَ
الْعَافِیَۃَ، فَإِذَا لَقِیْتُمُوْھُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوْا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ۔ ثُمَّ قَالَ: اَللّٰہُمَّ مَنْزِلَ
الْکِتَابِ، وَمُجْرِيَ السَّحَابِ، وَھَازِمَ الْأَحْزَابِ، اھْزِمْھُمْ
وَانْصُرْنَا عَلَیْھِمْ۔))
أخرجہ البخاري في کتاب الجھاد، باب: لا تمنوا لقاء العدو۔ ۳۰۲۵۔
’’لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی خواہش نہ کیا کرو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ سے عاقبت کا
سوال کیا کرو اور جب تمہارا اُن سے آمنا سامنا ہوجائے تو پھر صبر سے کام لیا کرو۔
جان لو کہ جنت (کا حصول) تلواروں کے سائے تلے ہے۔‘‘ پھر نبی مکرمa اللہ تبارک و تعالیٰ سے عرض گزار ہوئے: ’’اے کتاب عظیم کو اتارنے والے
اللہ! بادلوں کو چلانے والے خالق کائنات! فوجوں کو شکست سے دو چار کرنے والے اللہ!
ان کو شکست سے دو چار کر اور ہمیں ان پر فتح عطا فرما۔‘‘
فرار من الزحف
القتال تكرهه النفوس، ولكن النفوس المؤمنة تستلذه إذا
كان في سبيل الله؛ لما فيه إحقاق الحق، ودفع الباطل، ورفع الظلم، وحفظ الأمة،
وإقامة العدل، ولما فيه من الثواب العظيم، ورضوان الله، ومحبة الله.
1- قال
الله تعالى: {فَلْيُقَاتِلْ
فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ
وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ
نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا [74]} [النساء: 74].
2- وقال
الله تعالى: {إِنَّ
اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ
لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ
وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ
أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي
بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [111]} [التوبة: 111].
3- وقال
الله تعالى: {وَلَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ
عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [169]} [آل عمران: 169].
4- وقال
الله تعالى: {إِنَّ
اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ
بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ [4]} [الصف: 4].
. حكم الفرار من الزحف:يجب على المسلم الثبات أمام الكفار عند
القتال.
وإذا التقى الجيشان فيحرم الفرار من الزحف إلا في
حالتين:
التحرف للقتال.. والتحيز إلى فئة.
قال الله تعالى: {يَا أَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ
الْأَدْبَارَ [15] وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا
لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ
وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ [16]} [الأنفال: 15- 16].
.فضل الشهادة في سبيل الله:
1- قال الله تعالى: {وَلَا تَحْسَبَنَّ
الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ
رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [169] فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ
وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا
خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ [170] يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ
اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ [171]} [آل عمران: 169- 171].
2- وقال
الله تعالى: {فَلْيُقَاتِلْ
فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ
وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ
نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا [74]} [النساء: 74].
3- وَعَنْ
أنَس بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَا أحَدٌ يَدْخُلُ
الجَنَّةَ، يُحِبُّ أنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَهُ مَا عَلَى الأرْض مِنْ
شَيْءٍ إِلا الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ
عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الكَرَامَةِ». متفق عليه.
4- وَعَنْ
أنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ
يَمُوتُ، لَهُ عِنْدَ الله خَيْرٌ، يَسُرُّهُ أنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا،
وَأنَّ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، إِلاَّ الشَّهِيدَ، لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ
الشَّهَادَةِ، فَإِنَّهُ يَسُرُّهُ أنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، فَيُقْتَلَ
مَرَّةً أخْرَى».
متفق عليه
.كرامات الشهداء في سبيل الله:
1- عَنْ مَسْرُوقٍ
قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدالله هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ هَذِه الآيةِ: {وَلَا تَحْسَبَنَّ
الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ
رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [169]} قَالَ: أَمَا إِنّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ،
فَقَالَ: «أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلّقَةٌ
بِالعَرْشِ تَسْرَحُ مِنَ الجَنّةِ حَيْثُ شَاءَتْ، ثُمّ تَأْوِي إلَىَ تِلْكَ
القَنَادِيلِ، فَاطّلَعَ إلَيْهِمْ رَبّهُمُ اطّلاَعَةً، فَقَالَ: هَلْ
تَشْتَهُونَ شَيْئاً؟ قَالُوا: أَيّ شَيْءٍ نَشْتَهِي؟ وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنَ
الجَنّةِ حَيْثُ شِئْنَا، فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِمْ ثَلاَثَ مَرّاتٍ، فَلَمّا
رَأَوْا أَنّهُمْ لَنْ يُتْرَكُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا، قَالُوا: يَا رَبّ
نُرِيدُ أَنْ تَرُدّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتّىَ نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ
مَرّةً أُخْرَىَ، فَلَمّا رَأَىَ أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِكُوا». أخرجه مسلم.
2- وَعَنْ
أنَس بن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أنَّ أُمَّ الرُّبَيِّعِ بِنْتَ البَرَاءِ،
وَهِيَ أُمُّ حَارِثَةَ بْنِ سُرَاقَةَ، أتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم
فَقالتْ: يَا نَبِيَّ الله، ألا تُحَدِّثُنِي عَنْ حَارِثَةَ-وَكَانَ قُتِلَ
يَوْمَ بَدْرٍ، أصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ- فَإِنْ كَانَ فِي الجَنَّةِ صَبَرْتُ،
وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ، اجْتَهَدْتُ عَلَيْهِ فِي البُكَاءِ؟ قال: «يَا أُمَّ
حَارِثَةَ، إِنَّهَا جِنَانٌ فِي الجَنَّةِ، وَإِنَّ ابْنَكِ أصَابَ الفِرْدَوْسَ
الأعْلَى». أخرجه البخاري.
3- وَعَنِ
المِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ الله عَزَّ وَجَلَّ خِصَالاً: يُغْفَرُ لَهُ فِي
أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الجَنَّةِ، وَيُحَلَّى
حُلَّةَ الإِيْمَانِ، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الحُورِ
العِينِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذاب القَبْرِ، وَيَأْمَنُ يَوْمَ الفَزَعِ الأَكْبَرِ،
وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الوَقَارِ؛ اليَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ
الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إنْسَاناً مِنْ أَقَارِبهِ». أخرجه سعيد بن منصور
والبيهقي في شعب الإيمان.
4- وَعَنْ
عَبْدِالله بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ الله
صلى الله عليه وسلم قَالَ: «يُغْفَرُ لِلشّهِيدِ كُلّ ذَنْبٍ، إلاّ الدّيْنَ». أخرجه مسلم.
5- وَعَنْ
جَابِر بن عَبْدِالله رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا قَالَ: لَمَّا قُتِلَ أَبِي، جَعَلْتُ
أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ، وَالنَّبِيُّ
صلى الله عليه وسلم لاَ يَنْهَانِي، فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي،
فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «تَبْكِينَ أَوْ لاَ تَبْكِينَ، مَا زَالَتِ المَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ
بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ».
متفق عليه.
.أحكام الشهداء في سبيل الله:
الشهداء في سبيل الله قسمان:
الأول: من قُتِل في سبيل الله أمام العدو، فهذا لا
يغسل، ويكفن في ثيابه التي استُشهد فيها، ويستحب تكفينه بثوب أو أكثر فوق ثيابه.
وشهداء المعركة في سبيل الله الإمام مخير فيهم:
إن شاء صلى عليهم صلاة الجنازة، وإن شاء ترك، والصلاة
أفضل، والسنة دفنهم في مصارعهم، كما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهداء
بدر وأحد.
الثاني: كل ما سوى الشهيد في المعركة في سبيل الله
كالغريق، ومن مات دفاعاً عن ماله ونحوهم من الشهداء في ثواب الآخرة، فهؤلاء الشهيد
منهم يغسل، ويكفن، ويصلى عليه، ويدفن في مقابر المسلمين كغيره من الأموات.
.فضل الجرح في سبيل الله:
عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ رَضيَ اللهُ عَنهُ أنَّ رَسُولَ
الله صلى الله عليه وسلم قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لا يُكْلَمُ أحَدٌ فِي سَبِيلِ الله، وَاللهُ
أعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ القِيَامَةِ،
وَاللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالرِّيحُ رِيحُ المِسْكِ». متفق عليه.
1- قال
الله تعالى: {مَا
كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ
عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [67]} [الأنفال: 67].
2- وقال
الله تعالى: {فَإِذَا
لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ
فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ
الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا} [محمد: 4]..
لَا
مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا
تمہارے
لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو۔
اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ظاہری مطلب یہ ہے کہ
خندق کے سامنے کفار کے مقابلے پر ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، شہر کی طرف پلٹ
چلو۔ اور باطنی مطلب یہ ہے کہ اسلام پر ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، اب اپنے
آبائی مذہب کی طرف پلٹ جانا چاہیے تاکہ سارے عرب کی دشمنی مول لے کر ہم نے جس خطرے میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے اُس
سے بچ جائیں۔ منافقین اپنی زبان سے اس طرح کی باتیں اس لیے کہتے تھے کہ جو ان کے
دام میں آ سکتا ہو اس کو تو اپنا باطنی مطلب سمجھا دیں ، لیکن جو ان کی بات سُن کر
چوکناّ ہو اور اس پر گرفت کرے اس کے سامنے اپنے ظاہر الفاظ کی آڑ لے کر گرفت سے بچ
جائیں۔
آئینہ
دکھادیا ہے تو لوگ یہی کہیں گے
اَخْرِجُوْهُمْ
مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚاِنَّهُمْ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوْنَ
نکالو
اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاک باز بنتے ہیں یہ۔
عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ، فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً ،
فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَاخْتَبَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا : هَلَكْنَا ، ثُمَّ
أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا : يَا
رَسُولَ اللَّهِ ، نَحْنُ الْفَرَّارُونَ " ، قَالَ : " بَلْ أَنْتُمُ
الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ
"
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو
ایک سریہ میں روانہ کیا، (پھر ہم) لوگ
لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا:
ہلاک ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم
لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں“۔
درگزر کے ساتھ اس پر
اپنا فضل کردے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِيْ لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ
الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْہِ، غُفِرَ لَہُ وَإِنْ کَانَ فَرَّ مِنَ
الزَّحْفِ۔
صحیح سنن أبي داود، رقم ۱۳۴۳۔
’’جس شخص نے (اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے خلوص دل سے) یہ کہا: میں اُس
اللہ کریم سے مغفرت طلب کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ ازل سے
تاابد زندہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہے اور میں اُسی رب کریم کی طرف رجوع کرتا
ہوں۔‘‘ تو اسے معاف کردیا جائے گا، اگرچہ اُس نے دشمن پر حملہ والے دن راہِ فرار
کیوں نہ اختیار کی ہو۔‘‘
Comments
Post a Comment