الربع الخالی مہم جوئی کا شوق



ما ھی الربع الخالی؟-----ابو عروج خلیل احمد آلِ شیخ

وَ اذۡکُرۡ اَخَا عَادٍ ؕ اِذۡ اَنۡذَرَ قَوۡمَہٗ بِالۡاَحۡقَافِ وَ قَدۡ خَلَتِ النُّذُرُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖۤ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۲۱ ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اس نے اَحْقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا25ــــــــ اور ایسے خبردار کرنے والے اس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے ــــــ کہ ’’ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے‘‘۔

سُوْرَةُ الْاَحْقَاف حاشیہ نمبر :25

25۔ چونکہ سرداران قریش اپنی بڑائی کا زعم رکھتے تھے اور اپنی ثروت و مشیخت پر پھولے نہ سماتے تھے، اس لیے یہاں ان کو قوم عام کا قصہ سنایا جا رہا ہے۔ جس کے متعلق اگر قدیم زمانہ میں وہ اس سرزمین کی سب سے زیادہ طاقت ور قوم تھی۔ 
احقاف حِقف کی جمع ہے اور اس کے لغوی معنی ہیں ریت کے لمبے لمبے ٹیلے جو لندی میں پہاڑوں کی حد کو پہنچے ہو۔، لیکن اصلاحاً یہ صحرا عرب (
الربع الخالی)کے جنوبی مغربی حصے کا نام ہے جہاں آج کوئی آبادی نہیں ہے۔ نقشے میں اس کا مقام ملاحظہ ہو۔ 
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ عاد کا علاقہ عمان سے یمن تک پھیلا ہوا تھا اور قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ اس کا اصل وطن الاحقاف تھا جہاں سے نکل کر وہ گرد و پیش کے ممالک میں پھیلے اور کمزور ممالک پر چھا گئے۔ آج کے زمانے تک بھی جنوبی عرب کے باشندوں میں یہی بات مشہور ہے کہ عاد اسی علاقہ مین آباد تھے۔ موجودہ شہر مکلا سے تقریباً 125 میل کے فاصلہ پر شمال کی جانب حضر موت میں ایک مقام ہے جہاں لوگوں نے حضرت ہودؑ کا مزار بنا رکھا ہے اور وہ قبر ہودؑ کے نام ہی سے مشہور ہے۔ ہر سال 15 شعبان کو وہاں عرس ہوتا ہے اور عرب کے مختلف حصوں سے ہزاروں آدمی وہاں جمع ہوتے ہیں۔ یہ خبر اگرچہ تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے، لیکن اس کا وہاں بنایا جانا اور جنوبی عرب کے لوگوں کا کثرت سے اس کی طرف رجوع کرنا کم از کم اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ مقامی آبادی اسی علاقہ کو قوم عاد کا علاقہ قرار دیتی ہے اس کے لیے حضر موت میں متعدد خرابے (
Ruins) ایسے ہیں جن کو مقامی باشندے آج تک دارِ عاد کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ 
الاحقاف کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ کبھی یہاں ایک شاندار تمدن رکھنے والی ایک طاقتور قوم آباد ہو گی۔ اغلب یہ ہے کہ ہزاروں برس پہلے یہ ایک شاداب علاقہ ہو گا اور بعد میں آب و ہوا کی تبدیلی نے اس ریگزار بنا دیا ہو گا۔ آج اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایک لق و دق ریگستان ہے جس کے اندرونی حصوں میں جانے کے بھی کوئی ہمت نہیں رکھتا۔ 1843ء میں بویریا کا ایک فوجی آدمی اس کے جنوبی کنارے پر پہنچ گیا تھا۔وہ کہتا ہے کہ حضرت موت کی شمالی سطح مرتفع پر سے کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو یہ صحرا ایک ہزار فیٹ نشیب میں نظر آتا ہے اس میں جگہ جگہ ایسے سفید خطے ہیں جس میں اگر کوئی چیز گر جا
ۓ تو ریت میں غرق ہوتی چلی جاتی ہے اور بالکل بوسیدہ ہو جاتی ہے۔ عرب کے بدو اس علاقہ سے بہت ڈرتے ہیں اور کسی قیمت پر وہاں جانے پر راضی نہیں ہوتے۔ ایک موقع پر جب بدو اسے وہاں لے جانے پر راضی نہ ہوۓ تو وہ اکیلا وہاں گیا۔ اس کا بیان ہے کہ یہاں کی ریت بالکل باریک سفوف کی طرح ہے۔ میں نے دور سے ایک شا قول اس میں پھینکا تو وہ پانچ منٹ کے اندر اس میں غرق ہو گیا اور اس رسی کا سرا گل گیا۔ جس کے ساتھ وہ بندھا ہوا تھا۔ مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ ہو۔

مہم جوئی کا شوق

میں 1993 میں جب دوبارہ سعود ی عرب گیا تو اس بار میں ایک دور دراز علاقے میں بھیج دیا گیا ریاض سے 350 کیلو میٹر دور  لیلی افلاج(یہ وہی لیلی افلاج ہے جہاں کے دو نام مشہور ہیں لیلی اور مجنوں) نامی قصبہ سے مزید تیس کیلو میٹر آگے البدیع(بے نظیر) الشمالی نامی گاؤں  کے ایک شخص محمد مرزوق منصور الدوسری نے ایک نیا مؤسسہ (ایک چھوٹی سی تعمراتی کمپنی)شروع کیا تھا اور ہم کو  ویز ا فراہم کیا گیا تھا۔   اس میں میرے علاوہ کچھ اور بہاری مسلم لڑکے بھی تھے جو کہ میسن تھے ۔ہمارے اس گاؤں البدیع الشمالی پہنچنے کے بعد ہماری رہائش کا انتظام کیا گیا خورد ونوش کا سامان ،چولہا، برتن،کمبل بستر وغیرہ کا  انتظام کیا گیا۔ دوسرے روز کفیل کے گھر میں ہماری پیشی ہوئی ، اتفاق سے (کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی جو کچھ میں جانتا تھا مطالعہ قرآن و حدیث کی وجہ سے ، اور پچھلی بارکے سعودی عرب کے دیڑھ سال کے مختصر  عرصہ میں جتنی کچھ  عربی میں سیکھ سکا تھا) مجھے ہی ان سب کی طرف سے ترجمانی کے فرائض انجام دینے پڑے۔ساری تفصیلات جاننے کے بعد کہ کون کون کس کس کام میں آیا ہے، سب کو کام کے سلسلے میں بتادیا کہ یہاں کام کرنے کی کیا شرائط ہوں گی۔چھوٹے مؤسسہ کا طریقہ کار بٹائی کی بنیاد پر طے پاتی ہیں۔ اور آمدنی کا تناسب مقرر کیا جاتا ہے کہ کفیل کے کتنے ہوں گے اور ورکرس کے کتنے ۔ اکثر 40 فیصد کفیل کے ہوتے ہیں۔ اور ورکرس سارے 60 فیصد میں مل کر بانٹ لیتے ہیں۔ اور اس صورت میں بھی بڑی کمپنیوں کی بڑی بڑی تنخواہوں سے زیادہ کی کمائی ہوجاتی ہے۔ شروع میں مجھے گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے  کچھ صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔ بڑی بڑی لمبی مسافتیں پیدل ہی طے کرنی پڑتیں۔ پھر اللہ نے کرم کیا اور جب کچھ ولا (villa) مجھے مل گئے کنٹراکٹ پر تو میں نے ایک ٹویوٹا پک اپ لے لی۔ جب کہ مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی تھی۔اس گاؤں البدیع الشمالی میں بہت سارے ہندوستانی تھے۔ ایک  سرائے میر اعظم گڑھ کے ایک معمر شخص  تھے نیاز بھائی ۔ انھوں نے جب سنا تو بہت ہنسے کہ واہ گاڑی چلانی نہیں آتی اور گاڑی خریدلی۔پھر نیاز بھائی نے ہی گاڑی چلانا سکھائی۔یہ نیاز بھائی بھی سینٹرینگ کا کام کرتے تھے۔ اور کفیل کے ساتھ 40:60 کے تناسب سے آمدنی کی تقسیم ہوتی تھی۔یہ نیاز بھائی اس گاؤں کی ہندوستانی کمیونیٹی کے بزرگ شخصیت تھے۔ہر عید پر ان کے پاس سارے گاؤں کے لوگ جمع ہوتے سب وہیں پر عید ملتے اور پھر نیاز بھائی سب کی دعوت کرتے ۔ اس طرح سے وہ اس گاؤں کے سارے اردو بولنے والے ہندوستانیوں کے لیے ایک محترم شخصیت تھے۔

          البدیع الشمالی کے جنوب میں البدیع  جنوبی تھا اس کے علاوہ بھی کچھ اور گاؤں تھے ۔ البدیع الشمالی   کے شمال میں تقریباً 20 کیلو میٹر بعد سے  صحرا  شروع ہوجاتا ہو اور یہ وہی صحرا ہے جس کا نام الربع الخالی یا (empty quarter)ہے جس کا رقبہ فرانس کے رقبہ سے زیادہ ہے یعنی 650000 اسکوائیر کیلو میٹر۔ اور جس کے بارے میں مولانا مودودی نے تفہیم القرآن میں لکھا ہے کہ یہ احقاف کا علاقہ ہے۔ اور اس تمام ایریا میں کوئی انسان نہیں بستا۔ بلکہ جا ہی نہیں سکتا۔ اگر کسی طرح چلا گیا تو واپسی ناممکن ہے۔اور اس کا کچھ تجربہ میں بھی رکھتا ہوں۔ ہوا یوں کہ زندگی میں پہلی بار گاڑی ملی  تو نئی دنیائیں کھوجنے کی دھن سوار ہوگئی۔ میں نے بدیع الشمالی میں آنے کے چھ مہینے بعد ہی ایک ٹویوٹا پک اپ خرید لی تھی۔ اور  پھر گاڑی چلانا بھی اچھی طرح آگیا تو پھر اڑے اڑے پھرتے تھے۔ایک دھن سوار ہوئی کہ چلو کچھ دور صحرا میں جاتے ہیں  ۔ اور پھر ہم(میں اور ایک لڑکا سید اکبر پٹیل جو کہ گلبرگہ کا تھا) چل پڑے ۔ دور صحرا میں جہاں آدم نہ آدم زاد۔ہو کا عالم اپنی ہی آواز کی بازگشت سنو۔اگر کسی انسان کی آواز سننی ہے تو خود ہی پکارو خود ہی سنو۔

          کچھ آگے جانے کے بعد خاردار (fencing)باڑھ شروع ہوجاتی ہے اور باقاعدہ جگہ جگہ بورڈ لگے ہوئے ہیں کہ اس باڑھ کے آگے جانا منع ہے۔ لیکن ہم تجسس کے مارے خاردار باڑھ کو پھیلا کر کسی طرح اندر داخل ہوگئے۔ اور جارہے ہیں اندر ہی اندر صحرا میں۔ دور و نزدیک کوئی ہل چل نہیں کوئی آواز نہیں ایک عجیب وحشتناک  ماحول۔ دہشت زدہ کردینے والا۔ دور دور تک ریت ہی ریت۔  اس وقت تک مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہی الربع الخالی ہے۔ورنہ اتنا جوکھم نہ لیتا۔بہرحال ہم جارہے ہیں تو بظاہر ریت نظر آرہی ہے اور یہ ریت  باریک والی(sand dunes) ریت نہیں بلکہ مٹی ملی ہوئی ریت تھی جس میں پتھر بھی تھے۔ تو کہیں کہیں ایسا ہورہا تھا کہ پیر رکھتے ہی گھٹنوں تک  دھنس جاتے اور بڑی مشکلوں سے باہر نکلتے۔اس کے باوجود بھی ہم سمجھ نہیں رہے تھے کہ یہ کوئی خطرناک جگہ ہے۔کچھ اور اندر جانے کے بعد ایک اور خاردار باڑھ نظر آئی تو ہم اس باڑھ کو بھی پار کر گئے۔ جو کہ ایک سخت خطرناک غلطی تھی۔ جس کو آج ہم سمجھ سکتے ہیں۔اور ہر اس قسم کی باڑھ کئی جگہوں پر نظر آئی۔ تو ہم نے تجسس کے مارے قریب گئے تو دیکھا کہ کچھ قدرتی گڑھے ہیں۔ لیکن خاردار باڑھ کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔ اور جوکہ اوپر سے کم حجم کے دائرے میں تھے جو کہ کم از کم 20 فٹ کے قطر کا تھا ۔ لیکن جب ہم اور قریب گئے اور اللہ تعالی نے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ کھوکھلی بے ثبات کگر۔ بالکل یہی صورت حال تھی ۔ یعنی جس گڑھے کا قطر بیس فٹ کا نظر آرہا تھا اس کا قطر اندر سے تیس فٹ سے زائد تھا۔ یوں سمجھیں کہ ہم اندر جھانکنے کے لیے کچھ اور قریب گئے تو ہم کو پتہ چلا کہ ہم تو ریت کے بےثبات کگر پر کھڑے ہیں۔ آج اس بات کو سوچتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اندر پانی تھا ۔ اور وہ گڑھا کتنا گہرا ہوگا اس کا میں اندازہ نہیں کرسکا۔اور اگر ہم اس میں گرجاتے تو پھر باہر آنا مشکل تھا کیوں کہ اس کی دیواریں اندر تک تھیں اور اوپر تقریباً سات آٹھ فٹ تک چھت نما ریت کا ٹکڑا تھا ۔اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ  اگر کوئی جاندار اس گڑھے میں گرجائے اور  اوپر آنے کی کوشش میں دیوار کی طرف بھی  چلا جائےریت کے اس بے ثبات کگر میں ارتعاش پیدا ہوتا ایک بڑا ریت کا ٹیلا اوپر آگرتا اور اس ریت میں دفن ہوجاتا۔ اس وقت تک ہمارے پاس نہ تو موبائل تھے اور نہ ہی کوئی اور رابطہ کا  ذریعہ ۔ اور دور دور تک انسان کا وجود نہیں۔کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ دولڑکے مہم جوئی کی چکر میں ریت کی قبر میں اتر گئے۔ہم کو بعد معلوم ہوا کہ صحرائی بدو بھی جو کہ صحرا میں ہی پیدا ہوتے ہیں اور صحرا ہی میں پلتے بڑھتے ہیں اور صحرا کے مزاج شناس ہوتے ہیں وہ بھی کبھی کبھار صحرا میں کھوجاتے ہیں اور ان کی تلاش ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سے چار چار روز تک ہوتی ہے اس اثنا میں اگر اس کی لاش ملی گئی تو ٹھیک ورنہ تلاش ختم کردی جاتی ہے۔ اور  اس بدو کے گھر والے صبر کرلیتے ہیں۔اگر یہ تمام تفصیلات مجھے معلوم ہوتیں تو میں کبھی یہ جوکھم نہیں اٹھاتا۔ اور پھر ہم بھاگ لئےوہاں سے ۔ واپسی میں بھی وہی کیفیت کے پیر رکھو تو گھٹنوں گھٹنوں تک دھنس جاتے اور پھر بڑی مشکلوں سے ہم اس باڑھ کے باہر آئے۔ اس سلسلے میں ایک بات ہم کو معلوم ہوئی کہ جب کبھی ریت کا طوفان آتا اور اس طوفان میں اگر کوئی جاندار کسی ایک جگہ رک جائے تو پھر اس پر سینکڑوں ٹن ریت کا ٹیلہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ایسے ریتیلے طوفان کے موقع پر اونٹ ساری  رات بھاگتے رہتے ہیں کسی ایک جگہ نہیں رکتے۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طوفان کے تھم جانے کے بعد بہت سارے اونٹ یا تو اس غول میں بڑھ جاتے ہیں یا کم ہوجاتے ہیں کسی دوسرے غول میں چلے جاتے ہیں۔ پھر مالکین ان کو ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکال لاتے ہیں۔

        جب ہم نے اپنی اس مہم جوئی کی روداد نیاز بھائی اور دوسروں کو سنائی تو بہت ناراض ہوئے ۔ اور کہا کہ اللہ نے خیر کی۔ ورنہ لوگ واپس نہیں آتے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ  ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ     ١٠٩؁پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا ۔(109)التوبہ

 


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں