تہاڑ میں میرے شب و روز
آج کا انتخاب ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیل میں قیدیوں کی
تعلیم کا معاملہ بھی عبرت انگیز ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا جیل میں صبح آٹھ بجے سے
دس بجے تک کلاسیں لگتی ہیں۔ان میں حاضری لگوانا لازمی ہے۔ کلاسوں کا یہ سلسلہ
دراصل کرن بیدی نے شروع کیا تھا جو ان کے جیل اصلاحات پروگرام کا حصہ تھا۔وہ چاہتی
تھیں کہ قیدیوں کو تعلیم دی جائےاور بامقصد سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔ کلاسیں
اب بھی چلتی ہیں لیکن اصل مقصد بہت پہلے فوت ہو چکا ہے۔
مجھے گریجویٹ زمرے
کی کلاس میں داخل کیا گیا۔جیل میں کوئی مستقل ٹیچر نہیں ہے۔ لہذا قیدی ہی استاد
ہوتے ہیں اور قیدی ہی شاگرد۔استاد قیدی عام تعلیم دینے کے بجائے شاگردوں کو خود
اپنے تجربات سے مستفید کرتا ہے۔ مثلاً ایک کار چور کھڑا ہوگا اور گاڑی کا تالہ
کھولنے،اسے چوری کر کے لے جانے اور ٹھکانے لگانے کے گر بتاے گا۔ بینک سے قرضہ لے
کر واپس نہ کرنے والا نادہندہ قیدی بینک کو دھوکا دینے کے طریقے سکھاتا ہے۔
پاس کے پرایمری
سیکشن میں ایک سوامی جی استاد کے فرائض انجام دیتے تھے ۔ ان کی کلاس میں بڑی بھیڑ
رہتی تھی ۔ ان کی کلاس اتنی مقبول تھی کہ گریجویٹ سیکشن کے قیدی بھی اس پرایمری
کلاس میں اپنا نام درج کرانے کے لئے رشوت تک دینے کو تیار رہتے تھے۔ میرا خیال تھا
کہ سوامی جی ان کلاسوں میں روحانیت کا درس دے کر قیدیوں کے من کی شانتی کا سامان
کرتے ہوں گے۔ لیکن جب ایک دن ان کی کلاس میں بیٹھا تو معلوم ہوا کہ سوامی جی عصمت
دری کے الزام میں گرفتار کیےگئے قیدیوں کو کھڑا کر کے ان سے اپنے تجربات مکمل
تفصیلات اور تمام تر جزئیات کے ساتھ بیان کرنے کو کہتے تھے۔ قیدی ان قصوں کا پورا
لطف لیتے اور سوامی جی ملزموں کو زنا سے متعلق قوانین کی باریکیاں سمجھا کر اور
جرم کے بعد بچ نکلنے کی ترکیبیں بتا کر ان کے علم میں خاطر خواہ اضافہ فرماتے ۔ اس
کام کے لئے سوامی جی موزوں ترین استاد تھے کیونکہ وہ خود یہی جرم کر کے جیل آئے
تھے ۔
کبھی کبھی دوران
تعلیم عجیب صورت حال پیش آ جاتی ۔ ایک مرتبہ جب ایک کار چور اپنی کامیابیوں کے قصے
کلاس میں فخریہ بیان کر رہا تھا تبھی نئے قیدیوں میں سے ایک نے بتایا کہ دہلی کے
قرول باغ علاقے سے اس کی ہونڈا سٹی کار چوری ہو گئی تھی ۔
ٹیچر نے پوچھا ۔
"کیا وہ سفید کار تھی ؟"
قیدی نے پرجوش
انداز میں جواب دیا۔ "ہاں۔ بالکل"
ٹیچر نے دوبارہ
پوچھا ۔ " کیا اس دن اسی علاقے سے ایک اسٹیم کار بھی چوری ہوئی تھی؟"
شاگرد نے حیرانی
کے عالم میں کہا ۔ "ہاں۔ ہاں ہوئی تھی ۔"
ٹیچر نے اطمینان
سے کہا۔ "معاف کرنا بھئی ۔ میں نے وہ
دونوں گاڑیاں صرف ڈیڑھ لاکھ روپے میں بیچ دی تھیں"۔ یہ سنتے ہی شاگرد غصے میں
استاد پر جھپٹ پڑا اور بڑی مشکل سے انھیں الگ کیا جا سکا ۔ بعد میں ان کے وارڈ بھی
تبدیل کرنے پڑے ۔
مجھے اعتراف
کرلینا چاہیے کہ تہاڑ جیل میں رہ کر میں ایسی بہت سی باتیں جان گیا جن سے بصورت
دیگر شاید ہمیشہ انجان رہتا ۔ مثلاً جیب کاٹنے اور تالے کھولنے ہی کو لے لیجئے۔ اس
کے لئے مجھے ان جوشیلے اساتذہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے جو اپنا ہنر دکھانے کے لئے ہمیشہ بیتاب رہتے تھے ۔
ایک روز ایک جیب کترا بڑے غصے میں تقریر کرنے لگا۔ وہ اس بات سے دکھی تھا کہ جیل
کے سماج نے تعظیم کی جو ترتیب اپنا رکھی تھی اس میں جیب کتروں کا نام سب سے نیچے
کیوں آتا ہے ۔ قتل،ڈکیتی ، دھوکا اور فراڈ کے ملزم اس سماجی درجہ بندی میں
"اعلی ذات " کے مجرم سمجھے جاتے ہیں جبکہ زانی، چور اور جیب کترے "
نچلی ذات " کے مانے جاتے ہیں۔ اپنی فصیح و بلیغ تقریر میں پاکٹ مار کہہ رہا
تھا :
"ہم
کلاکار ہیں ۔ اسی طرح جیسے سنگیت کار، گائک کلاکار اور جادوگر ہوتے ہیں ، انہی کی
طرح ہمارے کام میں بھی ہنرمندی، ریاض اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان میں اور ہم
میں بس اتنا ہی فرق ہے کہ قانون انہیں آرٹسٹ مانتا ہے اور ہمیں نہیں مانتا "۔
اس کی باتوں میں دم تھا ۔ مجھے چونکہ ان کے کام کا طریقہ جاننے کی جستجو تھی اس
لیے میں نے پاکٹ مار سے پوچھا کہ کیا وہ مجھے اپنی آرٹ سکھا سکتا ہے ۔
"اس
کے لئے تمہیں ہمارے گروجی سے ملنا ہوگا " ۔ اس نے جواب دیا ۔
گروجی بھی ان دنوں
جیل ہی میں تھے ۔ لیکن وہ وارڈ نمبر پانچ میں تھے اس لیے ان سے ملاقات اور جیب
تراشی سیکھنے کی حسرت دل میں ہی رہ گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا نام : تہاڑ میں میرے شب و روز
مصنف : افتخار گیلانی
Comments
Post a Comment