بچپن کی یادیں

یادیں

بچپن کی یادیں

مجھے یاد ہے آج بھی ہم بچپن میں کیسے اسکول جاتے تھے.

چھ کتابیں ہوتیں اور سات نوٹ بک

تیلگو ہندی انگریزی سائنس حساب تاریخ

وقت سے پہلے اسکول پہنچ جاتے اور خوب کبڈی کھیلتے والد صاحب کی سخت مزاجی کے سبب ہم گھر کے پاس کے لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتے تھے، ہم کو سرے سے کسی قسم کا کھیل کھیلنا نہیں آتا تھا

جو کچھ کھیلنا ہوتا وہ ہم اسکول میں جلدی جاکر کھیلتے اور اسکول واپس آکر نمازوں کو جاتے اور پھر گھر میں، محلے کے لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں تھی. اس لئے گھروں کے پاس لڑکے بالے جس قسم کے کھیل کھیلتے تھے ان کھیلوں سے ہم ناواقف ہی رہے.

میری پرائمری و ہائی اسکول کی تعلیم بھونگیر میں ہوئی کیونکہ والد صاحب کی جاب وہیں پر تھی. بھونگیر میں ایک بڑا سا ایک پتھر کا پہاڑ ہے میلوں پر پھیلا ہوا. اکثر لوگ پکنک منانے اسی پہاڑ پر جاتے وہاں اوپر راجا کا قلعہ بھی ہے اور بالکل اوپر والے حصے میں پانی کی بڑے بڑے بڑے حوض بنے ہوئے ہیں اور ان حوضوں میں بارش کا میٹھا پانی جمع ہوتا ہے پکنک کو جانے والے اسی پانی کو پیتے. ہم نے پتہ نہیں کتنی مرتبہ اس ہمالیہ کو سر کیا ہم تو گنتی بھول گئے. بہرحال کبھی یوں بھی ہوتا کہ ہم اسکول سے انٹرول کے وقت چپکے سے نکل لیتے اور پھر اس ہمالہ کی چوٹی پر پہنچ جاتے. نیچے پہاڑ کے دامن میں ایک طرف دکانیں ہیں اور ایک مندر بھی. جہاں سے اس پہاڑ پر چڑھنا ہوتا وہ ڈھلوان راستہ بتدریج بلندی کی طرف جاتا ہے تو کبھی ہم اسی ڈھلوان پر اوپر چڑھتے اور کچھ تیزی کے ساتھ نیچے اترتے، ایسے میں اگر ایک بار دوڑ کر اترنے کی کوشش کریں تو پھر آپ کو مکمل نیچے پہنچنے تک اسی رفتار سے دوڑنا ہے اگر رکنے کی کوشش کریں گے اوندھے منہ پتھر پر گریں گے. یہ جان کر بھی ہم اس ڈھلوان پر بھاگنے کی پریکٹس کرتے اور دانتوں سے محروم ہونے کے جوکھم کو مول لیتے.


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں