آج کا دل
آج کا دن ۔ (
دو دن قبل کی تحریر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا دن بھی سخت گذرا صبح صبح ہی ہمارے پڑوسی بزرگ کی
طبیعت ناساز ہوگئی موصوف ایک عرصے سے صاحب فراش تھے اکلوتی بیٹی ان کی دن رات خدمت
کرتی تھی ناشتے کے وقت ابا کو آواز دی کوئی جواب نہ ملنے پر گھبراکر زور زور
سے رونے لگی شور کی آواز سن کر میں، امی اور ہمارے دو پڑوسی ان
کے پاس گئے دیکھا کہ موصوف اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ان کی حالت درست کروائی
سرہانے بیٹھ کر کچھ اذکار و اوراد کا ورد کیا ان کے دوسرے رشتہ دار بھی آ گئے جو
دواخانہ لے جانے کے لئے مصر تھے لیکن موجودہ وبا اور مریض کی حالت دیکھ کر انھیں
خاموشی اختیار کرنی پڑی ۔
بجھے دل کے ساتھ دکان کی راہ لی پورا محلہ کورونا متاثر
علاقے میں شامل ہے جگہ جگہ راستوں کو ٹین پترے ڈال کر بند کر دیا گیا ہے گھوم پھر
کر دکان پہنچے تھوڑی دیر بعد گھر سے فون آیا کہ موصوف کا انتقال ہوگیا ہے ۔ واپس
گھوم پھر کر گھر پہنچے اور میت کی تدفین وغیرہ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے والوں
میں شامل ہوگئے۔
نماز
ظہر کا وقت نکلا جا رہا تھا گھر کی راہ لی اپنے آپ کو ڈس انفیکٹ کیا اور نماز
اداکی کہ بارش شروع ہو گئی محدود افراد ہی کو قبرستان تک جانے کی اجازت ملی
تھی ناچار گھر پر رکنا پڑا بارش رک رک کر ہورہی تھی مغرب کے وقت لوگ قبرستان سے
واپس آئے تو ایک دوسری بری خبر منتظر تھی پڑوس کے لڑکے نے بتایا :" بھیا-
تمہارا شیوا مر گیا ' ابھی ابھی اس کی ارتھی لے گئے" ۔
شیوا ہمارے گھر کے سامنے والی گلی کے مندر کے احاطے میں
بنے دو کمروں میں مدت سے کرایہ دار ہے ۔ تارا پان سینٹر کے پاس رکشہ اسٹینڈ
سے وہ دھندا کرتا تھا اور زیادہ تر اسی ایریا کی کسی ہوٹل میں یا رکشے پر
موجود ہوتا اس کے لگے بندے گاہک اس کے تمام ٹھکانوں سے واقف تھے ۔ وہ پہلے
میرے دو چھوٹے بھائیوں کو اسکول لیجانے اور لانے پر مامور تھا ۔ شہر میں یوں تو
آٹو رکشہ ڈرائیورز کی کوئی کمی نہیں لیکن شیوا جیسے خوش مزاج اور ڈسپلن کے پابند
ڈرائیور آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اس کے گاہکوں میں عثمان پورہ کے
سکھ، ہندو اور مسلم سبھی شامل تھے وہ ہر روز صبح ایک سردار جی کو شہر کے تین
گوردواروں میں ماتھا ٹیکنے لیجاتا پھر ایک ہندو استانی کو اسکول چھوڑتا اس کے بعد
مجھے دکان تک لے جاتا ۔ اتوار یا تعطیل کے دن استانی کا ناغہ ہو تو ہو لیکن سردار
جی اور میری ڈیوٹی میں کوئی چھٹی نہیں آتی تھی الا ماشاءاللہ ۔
اس میں بس ایک عیب یہ تھا کہ دن ڈھلتے ہی رکشہ کنارے
لگاتے دیتا اور اپنے خاص دوستوں کے ساتھ شراب کی محفل جما لیتا پھر کتنا ہی جان
پہچان کا بھاڑا ہو وہ انکار کر دیتا شراب کی لت میں گاؤں کی کھیتی باڑی بیچ
کھوچ کر کب کا اڑا چکا تھا اب اس کی اولاد اس کو اسی بات کا طعنہ دیتی رہتی تھی
لاک ڈاؤن میں تو روز ہی یہ ناگوار قضیہ چھڑا رہتا تھا ' تو کائے کیلا آمچا
ساٹھی سگڑے شیتی و گھری بیچون سواتا عیش کیلا' ( تو نے ہمارے لئے کیا کیا کھیتی
اور گھر بیچ کر خود عیش کیا ) ۔
گھر میں جاری کرکری سے کئی بار وہ رکشہ ہی میں رات گذارتے
نظر آیا ۔ اور آج ہمیشہ کے لیے ان جھگڑوں سے چھٹکارا پا گیا ۔ پرسہ دینے اس
کے گھر گیا ابھی تک اس کے گھر والے شمشان سے لوٹے نہیں تھے البتہ مندر کی
سیڑھی پر چند خواتین بیٹھی تھی ان میں سے ایک خاتون دوسری سے کہنے لگی "ہے
بھاوا لا سوڑت ہوتو در روج " ( اس بھیا کو وہ روز دکان لیجاتا تھا )
میں نے پوچھا- " کیا کرونا سے گیا ؟"
تو بولی-' ناہی، دارو زاستی جھالی ہوتی ' ( نہیں،
شراب زیادہ ہوگئی تھی )
“میں یہاں سے آج دو تین بار گذرا لیکن مجھے کسی نے بتایا
نہیں" - میں نے پوچھا ۔
'تمہالا
سانگنار ہوتو پن تمہی پئلی ایک میتا مدھی ہوتو منہون راہیلے کرونا مڑے زاست لوکا
لا منہالےیچ ناہی' (تمہیں بتانے والے تھے لیکن تم پہلے ہی ایک میت میں مصروف تھے ،
کرونا کی وجہ سے زیادہ لوگوں کو بتایا ہی نہیں) ۔
میرے دوست انیس الدین احمد کا مضمون
Comments
Post a Comment