"گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں" سید محی الدین شاکر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں"

          اہم موضوع: "وقت" جس سے اکثرلوگ غفلت برتتے ہیں۔

حدیث (بخاری) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں کہ ان میں بہت سے لوگ دھوکا کھاجاتے ہیں" 1۔ تندرستی 2۔ فراغت"۔

 مسلمانوں کی موجودہ صورتحال"معاشی\سماجی\سیاسی\فکری\عملی۔۔۔۔۔۔ہرسطح پر پستی \غلامی\ذلت

          اس صورت حال سے نکلنے کے لیے مختلف حل پیش کئے جاتے ہیں۔

Ø     مثلاً تعلیم میں ترقی،

Ø     معیشت میں سدھار،

Ø     سیاسی قوت کا حصول ،

Ø      دینی علم کا فروغ،

Ø     عملی زندگی گذارنا،

Ø     آپسی اتحاد، وغیرہ۔

          حل کی جو صورتیں پیش کی گئی ہیں/کی جاتی ہیں۔ ان پر گفتگو کرنا مقصود نہیں۔

  ان میں حقیقی کیا ہیں اور غیر حقیقی کیا ہیں ان کو واضح کرنا آج کی گفتگو کا موضوع نہیں۔

          دیرپا حل اور عارضی حل بتانا آج کا محرک نہیں۔

          بلکہ آج ۔۔ ایک ایسی جنس ۔۔۔ پھر ایسا سرمایہ۔۔۔ ایسی اہم چیز کے بارے میں توجہ دلانا مطلوب ہے جو

دراصل آپ کی اور میری زندگی ہے۔

·        تمام کام

·        تمام جدوجہد

·        تمام دوڑ دھوپ

·        ہر حرکت

·        ہر عمل

·         اور ہر حل

صرف اور صرف اسی پر منحصر ہے۔

اور وہ ہے " وقت جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں"

          وقت کیا ہے؟ وقت کی تعریف کیا ہے؟

          انسان کی زندگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجموعہ ہے۔سال ، دن،مہینے،گھنٹے،منٹ،اور سکنڈ کا ۔

وقت درصل۔

Ø     مہلت ہے جو آپ کو ملی ہے۔

Ø     سرمایہ ہے جس کو آپ استعمال کرسکتے ہیں۔

Ø     متاع ہے جس سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مہلت۔ آپ کی زندگی ہے۔

Ø     جسے آپ کو گذارنا ہے۔۔۔ ورنہ وہ ختم ہوجائے گی۔

Ø     سرمایہ۔جسے استعمال کرنا ہے۔ ورنہ بے کا ر ہوجائے گا۔

Ø     متاع۔جس سے فائدہ اٹھانا ہے ۔ ورنہ نقصان ہوگا۔

وقت ہی  زندگی ہے ۔ اور زندگی ہی وقت ہے۔

حظرت حسن بصری "   اے آدم کے بیٹے تو مجموعۂ ایام ہے ۔ جب ایک دن گذر گیا تو گویا تیری زند گی کا کوئی حصہ گذر گیا"۔

وقت اصل سرمایہ ہے

·        مال و متاع ۔ روپیہ پیسہ، مقام و منصب،جائدا د و املاک۔۔۔۔۔۔ہر چیز کو حاصل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

·        وقت ہے تو سب کچھ ممکن ہے ۔لیکن وقت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

·        دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لیے ۔ آخرت سنوارنے کے لیے ، وقت درکار ہے۔

·        کچھ حاصل کرنے کے لیے۔ کچھ کمانے کے لیے،بگڑی بنانے کے لیے ۔ وقت درکار ہے۔

·        ہر انسان کو برابر وقت ملتا ہے۔ یعنی 24 گھنٹے۔ کسی کو کچھ اضافہ نہیں۔

کوئی ہو

·        صدر ہو

·        وزیر آعظم ہو

·        بڑا تاجر

·        ریسرچ کرنے والا ہو

اسی 24 گھنٹوں کو استعمال کرتا ہے۔۔۔کوئی مقام بلند حاصل کرتا ہے۔ اور کوئی وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔

ہر صبح 24٭منٹ60٭60سکنڈ=86400 سکنڈس۔ بہت برا سرمایہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ at your disposal۔ بہتر استعمال کرکے ترقی کریں۔یا

اگر ایک سکنڈ کی قیمت جاننا ہو تو اس شخص سے پوچھو جو کسی حادثہ میں بال بال بچا ہو۔

 اگر ایک ملی سکنڈ کی قیمت جاننا ہو تو اس شخص سے پوچھو جو اولمپک میں تیسرے، چوتھے نمبر پر آیا ہو۔

وقت۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سب سے زیادہ اپنے اس دن پر نادم ہوتا ہوں۔ جس کا سورج ڈوب جاتا ہے اور میری عمر کا ایک دن کم ہوجاتا ہے، مگر اس میں میرے عمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

لیکن ہمارا طرز عمل            سالگرہ مناتے ہیں۔ دھوم دھام ہوتی ہے ۔ خوشیاں مناتے ہیں۔

جب کہ

·        زندگی کا ایک اور سال کم ہوگیا۔

·        مہلت عمل اور کم ہوگئی

·        حساب کا دن اور قریب آگيا۔

وقت کی خصوصیات

1.     ایک عجیب سرمایہ

§        ڈیپازٹ نہیں کیا جاسکتا۔ جمع نہیں کیا جاسکتا۔

§        قرض نہیں لیا جاسکتا۔

§        ادھار نہیں دیا جاسکتا۔

حضرت  حسن بصری  فرماتے ہیں "روزانہ طلوع فجر کے وقت دن پکارتا ہے۔

"اے آدم کے بیٹو، میں ایک نئی مخلوق ہوں،اور تمہارے عمل پر گواہ ہوں،

 تم مجھ سے خوب فائدہ اٹھالو۔اس لیے کہ میں جانے کے بعد قیامت تک نہیں لوٹوں گا۔

Ø     جو گذر گیا وہ چلا گیا۔ وہ ختم ہوگیا۔ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔

2.     تیز رفتار ہے

¨     پلک جھپکتے گذر جاتا ہے۔

¨     ہر لمحہ ہر منٹ ماضی بنتا جارہا ہے۔

¨     ساری زندگی گویا ایک بہت مختصر مدت ہے۔

كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا  46؀ۧ

كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا  46 النازعات

جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں۔ (ایک شام یا اس کی صبح سے زیادہ وقفہ نہیں گزرا) (۴۶) النازعات

·          غم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔ اب ٹلے گا نہیں۔لیکن وہ بھی گذرجاتا ہے۔

·          خوشی ۔ انسان مدہوش ہوجاتا ہے۔ جیسے ہمیشہ اسی حالت میں رہے گا۔لیکن وہ بھی گذر جاتی ہے۔

منٹ اور سکنڈ کیا دن مہینے سال اور عشرے گذرے جارہے ہیں۔

مثلاً ۔ برف تیزی سے پگھلتی چلی جاتی ہے ۔ سرمایہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔

وقت کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں:

1۔نماز

¨     نماز روزانہ پانچ وقت فرض کی گئی ہے۔

¨     متعین اوقات میں نماز پڑھنا ضروری ہے۔

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا      ١

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا      سورہ النساء103

نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔(۱۰٣)النساء

¨      ایک مسلمان کا دن بھر کا شیڈول طے ہوجاتا ہے۔

¨     اسے ہر وقت ہر کام کے ساتھ وقت کا خیال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

¨     گویا دن بھر وقت کی پلاننگ کرتے رہنا پڑتا ہے۔

¨     کوئی کام کرنے کے لیے ۔ کتنا وقت درکار ہے۔ کتنا وقت بچا ہوا ہے۔ کام کب کیا جاسکتا ہے۔کونسا کام اہم ہے۔۔۔۔۔

2۔ حج

Ø     اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ۔حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ مہینے متعین ہیں، تاریخ طے ہے۔

   زکٰوۃ       ایک سال گذرنےپر

    قرآن میں دن، رات، زمانے۔۔۔۔۔۔ کی قسم   والیل۔والفجر۔ والضحیٰ۔ والعصر

5۔ ابن آدم کے قدم ۔ قیامت کےدن، ہل نہیں سکیں گے، تاآنکہ ۵ سوالوں کا جواب نہ دے دے۔(1) عمر کہاں گذاری۔(2) جوانی کس کام میں کھپائی(3) مال کہاں سے کمایا اور (4) کہاں خرچ کیا، (5) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟

6۔ پانچ چیزیں    عمرو بن میمون سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو ۱۔ جوانی پڑھاپے سے پہلے ۔۲۔ صحت بیماری سے پہلے۔٣۔ خوشحالی ناداری سے پہلے۔۴۔ فراغت مشغولیت سے پہلے۔۵۔ زندگی موت سےپہلے۔

7                 ۔ ۶۰ سال کی عمر    "اللہ تعالٰی جس کو ساٹھ سال مہلت دیتا ہے ، اس کے عذر قبول نہیں کرتا۔ حدیث  (بخاری)

                   ۶۰ سال =           30٭12٭60= 21600 دن

                                                          =518400 گھنٹے

                                                          = 31104000 کروڑ منٹ ایک بہت بری مہلت

                             وَهُمْ يَصْطَرِخُوْنَ فِيْهَا ۚ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِيْ كُنَّا نَعْمَلُ ۭ اَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاۗءَكُمُ النَّذِيْرُ ۭ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ 37؀ۧفاطر

وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ " اے ہمارے رب، ہمیں یہاں سے نکال لے تاکہ ہم نیک اعمال کریں اس اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے ہیں۔ (انہیں جواب دیا جائے گا) " کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو لے سکتا تھا؟ اور تمہارے پاس متنبہ کرنے والا بھی آچکا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالمون کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے"۔ فاطر ٣۷

 

ہماری  موجودہ صورتحال"معاشی\سماجی\سیاسی\فکری\عملی۔۔۔۔۔۔ہرسطح پر پستی \غلامی\ذلت

لیکن پھر بھی غفلت

·        اپنے آپ سے غافل

·        اپنے انجام سے غافل

·        اپنے مستقبل سے غافل

وقت کاٹنا ، ضائع کرنا

·        ضرورت سے زیادہ کھیل کھیلنا۔ کھیل دیکھنا

·        بے مقصد تفریحات۔ آوارہ گردی۔

·        TV, CABLE, DISH, INTERNET,FACEBOOK,TWITTER

·        آرام طلبی، ضرورت سے زیادہ سونا۔ صبح سویرے سونے کی عادت

·        لایعنی گفتگو۔ بے مقصد محفلیں

بچپن کھیل میں کھویا             جوانی نیند بھر سویا    بڑھاپا دیکھ کر رویا۔

      کاہلی سستی         

·        ٹال مٹول کی عادت، کام کو غیر ضروری ملتوی کرنا

·        خیالات کی دنیا میں زندگی گذارنا

·        باتیں بڑی بڑی کام صفر

·        گاڑی "دھکا اسٹارٹ" کوئی تڑپ جستجو نہیں۔

جبکہ ہمیں دعا سکھلائی گئی۔

                             اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ الْہَمِّ وَالْحَزَنِ وَاعوذ بک من الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ

                             اے اللہ میں تیری پنا ہ مانگتا ہوں رنج و غم سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور کسل مندی سے

3۔ بے کاری 

§        کوئی کام نہیں۔ کوئی مقصد نہیں۔

§        جس سے پوچھو ایک ہی جواب۔ گذر رہی ہے۔

زندگی کا جائزہ۔ کچھ نہیں کیا

§        نوجوانوں کی سب سے بڑی دشمن  "دنیا میں بدترین چیز بے کاری ہے" عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (بیہقی)

آج کی ضرورت-مطلوب

1۔ وقت کی اہمیت کا احساس

·        کسی چیز کی قدر و قیمت کا احساس، اس کے بہتر استعمال کا پہلا زینہ

·        اگر وقت کی قدر نہیں کریں گے تو وقت آپ کی قدرنہیں کرے گا۔

2۔ تنظیمِ وقت

§        ترجیحات کا تعین     دور اندیشی کے ساتھ منصوبہ بندی

§        فارغ اوقات کی نشاندھی اور بہتر استعمال

§        معیار کا خیال رکھتے ہوئے ۔ سرعت ِ عمل کی عادت

Ø     مثال ایک جگہ میں بڑے پتھر- کنکر-ریت-پانی

WATER, SAND, GRAVEL, BIG ROCKS

JUG   1        2        3        4        FULL

آپ کا وقت          کس کے لیے        استعمال ہو

Ø     آپ کی ذات کے لیے صحت    آرام     مطالعہ    عبادات

Ø     آپ کے خاندان کے لیے        ماں باپ  بیوی بچے           بھائی بہنیں

خدمت   صحت    تعلیم     بھلائی   

Ø     آپ کی تحریک کے لیے         شرح صدر          میدانِ عمل         دعوت،تنظیم، تربیت

Ø     آپ کے کاروبار کے لیے        حلال روزی

Ø     آپ کے معاشرے کے لیے     خدمت خلق        اصلاح معاشرہ       دعوت و تبلیغ

Ø     دیگر رشتہ داروں ، احباب کے لیے نصح و خیر خواہی

ایک بامقصد زندگی   نفع بخش تجارت     زندگی کا بھرپور استعمال

 

 

 


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں