میرے دعوتی تجربات ابو عروج خلیل احمد آل شیخ
میرے دعوتی تجربات:- ابو عروج خلیل
احمد
یادش بخیر! یہ سنہ 2000 کی بات ہے
کہ میں ریاض میں کوالیٹی آئیسکریم کی کمپنی میں بطور سیلس مین کام کرتا تھا۔
کوالیٹی آئیسکریم سعودی عرب میں سب سے بڑی آئسکریم کمپنی ہے اور اس کی سب سے بڑی
برانچ ریاض میں نسیم کے ایریا میں تھی۔ کل ستائیس سیلس مین تھے صبح سات بجے ساری
گاڑیاں نکلتی تھیں۔ اور ہر ایک اپنے مفوضہ علاقہ میں اپنا کام کرتا تھا۔ خیر ، ان
27 لوگوں کے لیے ایک ولا لیا گیا تھا اور میں جن چار افراد کے ساتھ رہتا تھا اس
میں ایک صاحب ہندو بھی تھے اور کافی عمر رسیدہ تھے۔یہ صاحب منگلور کےر ہنے والے
تھے۔ منگلور والے جملہ آٹھ زبانیں بولتے ہیں۔ ان کی اپنی مادری زبان
"تولو" ، کنڑی۔ ہندی ، مراٹھی، کوکنی، جو کہ گووا میں بولی جاتی ہے،
تامل اور ملیالم۔ یہ تو وہاں رہنے والے
اکثر لوگ جانتے ہیں۔ لیکن میں جن صاحب کا ذکر کررہا ہوں وہ سعودی عرب میں ہونے کی
وجہ سے ہندی، اور عربی بھی خوب بول لیتے تھے۔ ان کا نام چندرا ہاسا سرینواسا بنگارا تھا۔( chandrahasa srinivasa bangara) تھا، اور سب
لوگ ان کو بنگارا بھائی کہتے تھے۔ بنگارا بھائی اور میں ایک ہی کمرے میں رہتے تھے
اور اکثر و بیشتر بات ہوتی رہتی تھی، میں اکثر کچھ قرآن کی آیتیں اور کچھ احادیث
ان کو سنایا کرتا تھا۔ ان کی عادت تھی کہ جیسے کمرےمیں داخل ہوتے دروازے ہی میں ان
کا ریموٹ ہوتا تھا ٹی وی کا ٹی وی کھول لیتے اور رات بھر صرف زی نیوز ہی دیکھتے
اور ان ہی دنوں اتفاق سے پاکستانیوں نے
ہندوستانی طیارہ اغوا کرکے قندھار لے گئے
اور ان کے کچھ مطالبات تھے جن کو کہ ہندوستانی حکومت کو ماننے پڑے۔ اس کی ساری
کوریج زی ٹی وی پر آتی رہتی تھی اور جیسا کہ ہندوستانی میڈیا کا رویہ ہے مسلم
مخالف وہ سارا زہر اگلا جاتا تھا اور یہ بنگارا بھائی اسے مجھے سناتے اور کہتے کہ
دیکھو یہ ہوتے ہیں مسلمان ۔ ان کی باڈی لینگویج کہہ رہی ہے کہ یہ ساری ان کی ملی
بھگت ہے۔ یہ اور بہت کچھ اور سارا غصہ ان کا مسلمانوں پر ہوتا تھا۔تو یہ کچھ ان کا
رویہ تھا۔ اس رویہ کے باوجود باہمی تعلقات اچھے ہی تھے کیوں کہ وہ ایک بردبار
انسان تھے۔
یہ
سب تو ہوتا رہتا تھا، ہنسی مذاق بھی ہوتا تھا۔ اس میں میرے ساتھ کچھ اور مسلم لڑکے بھی تھے جو کہ بمبئی کے
رہنے والے تھے اور اچھے خاصے کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ، محض حالات
کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو ادھر بھیج دیتے تھے کہ حالات سدھر جائیں تو واپس
بلالیں، ایک لڑکا ایسے بڑے باپ کا بیٹا
تھا جن کا اپنا ذاتی اسٹیمر تھا، اور ( یہ ایک الگ کہانی ہے۔) بہر حال ان سب سے ہی
بنگارا بھائی کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔ ساتھ میں میرا الگ سے ان کو کتابیں اور
پمفلٹ دینا اور دعوتی گفتگو بھی رہتی۔اکثر میری باتوں پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ میں
ان کے علاوہ اور دوسرے بھی مسلم اورغیر
مسلم سب کو بھی ان کے ذوق کے مطابق کتابیں دیا کرتا تھا۔دوسرے غیر مسلم افراد کا
تاثر اتنا زیادہ جوشیلا نہیں ہوتا تھا۔ بس سن لیتے اور کچھ کہے بغیر کوئی تبصرہ کئے بغیر خاموش رہتے۔ ان میں سے ایک
ایک کے تاثرات الگ سے لکھوں گا۔ اس وقت صرف بنگارا بھائی کا ہی ذکر ہے۔
سنہ 2000 کے اواخر میں میں سعودی عرب سے واپس آیا۔جب کہ
میرا ٹکٹ اور حساب کتاب چل رہا تھا، اس وقت چونکہ میں ڈیوٹی پر نہیں جارہا تھا،
اور واپسی کی تیاریوں میں منہمک تھا۔ ایسے
میں ایک روز بنگارا بھائی دوسرے سیلز مین سے ذرا جلدی واپس آگئے۔ اور چونکہ میں
رہائش پر ہی تھا۔ اور صرف میں اور بنگارا
بھائی تنہا ہی تھے میں نے سوچا کہ آج موقع ہے اور میں جانے والا بھی ہوں اس لیے آج
بہت تفصیل سے بات کرلی جائے۔سو میں نے گفتگو چھیڑ دی اور ان کو روز کی طرح ٹی وی
کھولنے نہیں دیا۔ اور وہ بھی شاید موڈ میں تھے اس لئے بغور میری بات سن رہے تھے۔
ایک مرحلے پر انہوں نے کہا کہ کیا آپ لوگوں کی قرآن میں لکم دینکم ولی دین نہیں
ہے؟ میں نے کہا یقیناً ہے ۔ لیکن یہ میرا فرض ہے بطور حامل کتاب اللہ کے کہ میں آپ
تک اسلام کی دعوت کو پہنچاؤں۔ اور مختلف زاویے سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ ایک
بار اور انہوں نے کہا کہ قران میں لااکراہ فی الدین ہے نا۔ (واضح رہے کہ یہ سعودی
عرب میں پچیس سال سے رہ رہے تھے اور یقیناً
میرے علاوہ اور بھی دوسرےمسلمان افراد نے
ان تک دین کو پہنچانے کی کوشش کی ہوگی۔)میں نے کہا کہ یقیناً ہے اور اس کا مطلب یہ
ہے کہ کسی کو بزور کسی دین پر چلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔اس کے بعد میں نے ان سے
انتہائی سنجیدگی اور نرمی کے ساتھ کہا کہ دیکھئے بنگارا بھائی آج میں جو کچھ آپ سے
کہہ رہا ہوں اور آپ سن رہے ہیں ، یہ سارا مکالمہ اور یہ سارا منظر ہم ایک بار اور
آخرت میں دیکھیں گے۔ اس وقت کی تیاری کرلیں۔ کہ اپنے رب کو کیا جواب دیں گے۔ اور
بھی بہت کچھ جو کچھ میں ان سے کہہ سکتا تھا کہہ دیا۔ بالکل آخر میں جب میں اپنی
بات مکمل کرلیا تو انہوں نے روتے ہوئےکہا کہ " میں کیا کروں میرے پیچھے اتنا
بڑا خاندان ہے"۔اس ایک جملہ پر غور کریں کیا کیفیت اس وقت ان کی رہی ہوگی اور
ایک پیدائشی غیر مسلم کی کیا کیامجبوریاں ہوتی ہیں، ہم اللہ کے فضل و کرم سے مسلم
گھرانوں میں پیدا ہوئے اور ہم پیدائشی مسلم ہیں۔ اس پر ہم اپنے اللہ کا جتنا بھی
شکر ادا کریں کم ہے۔میں نے ان سے کہا کہ یہ سب تو رہیں گے اور ان سب کا سامنا کرتے
ہوئے حق کو اپنائیں۔ اللہ جانے ان کا کیا معاملہ ہوا۔ اللہ کرے اگر وہ زندہ ہیں تو اللہ انھیں ہدایت کی توفیق دے۔
آمین۔
قارئین کے تبصرے
محمد حنیف صاحب ملک پیٹ:- محترم ابو
عروج، آپ نے لکھا اور خوب لکھا۔ ماشاءالله
آپ کی کوشش اور الله کی توفیق سے جس
مرحلہ تک بنگارا بھائی پہنچے تھے جہاں خاندان وغیرہ کی وجہ سے مدعو پس و پیش کا شکار
ہوجاتا ہے۔ ایسے مراحل میں عبدالله طارق صاحب نے یہ بات سجھائی تھی کہ ہم یہ کہیں کہ
وہ اعلان نہ کرے اور اپنے خاندان سے بھی راز میں رکھنا چاہے تو رکھے، کم از کم کلمہ
پڑھ لے اور کفر اور شرک سے اجتناب کرنے لگے تو الله سے امید ہے ایمان والوں میں شمار
کیا جائےگا۔
آپ اتنا اچھا لکھ سکتے ہیں تو آپ لکھتے
رہیں۔ کچھ موضوعات آپ نے اس روداد میں بھی چھیڑے ہیں جس کی وجہ سے تشنگی پیدا ہوگئی
ہے۔ ہم منتظر ہیں۔
اکبر حسین جینئس:- ماشاء اللہ بہت اچھی
یادداشت ہے آپ کی جناب اللہ تعالٰی ان کوششوں کو شرف قبولیت بخشے اور انکی نجات کا
سامان بنائے آمین
Comments
Post a Comment