برکت کا مفہوم

برکت کا مفہوم
علامہ یوسف القرضاوی
بعض لوگ کہتے  ہیں کہ ایک صحیح حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہر دن جب طلوع ہوتا ہے تو دو فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کو برکت اور فضل عطا فرما اور بخل کرنے والوں کو بربادی۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ اس دنیوی زندگی میں عملی طور پر بہت سے افراد ایسے ملیں گے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان کی تنگ دامانی نہیں جاتی۔ اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں اور داد عیش دے رہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ یہ  ایک صحیح  حدیث کا مفہوم ہے اور بخاری اور مسلم میں اس طرح موجود ہے:
                           حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہردن جب شروع ہوتا ہے تو دو فرشتے نازل ہوتے  ہیں ۔ ان میں سے ایک دعا کرتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو برکت عطا فرما، اور دوسرا دعا کرتا ہے کہ اے اللہ بخیل کے حصے میں بربادی رکھ دے۔" اسی مفہوم میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں۔قرآن میں بھی متعدد آیات اسی مفہوم کو پیش کرتی ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: "جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے۔"
                           سوال کرنے والوں کو اس حدیث کو سمجھنے میں جو غلط فہمی ہوئی ہے وہ یہ کہ انہوں نے نے برکت اور بربادی کو مال و دولت کی حد تک محدود کردیا ہے، جب کہ برکت کا مفہوم محض مال و دولت میں اضافہ اور بربادی کا مفہوم محض مال ودولت میں خسارہ نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ برکت کی بےشمار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ برکت کبھی صحت و تندرستی کی شکل میں ملتی ہے تو کبھی نیک اولاد کی شکل میں۔ کبھی مال ودولت کی فراوانی کی صورت میں برکت ہوتی ہے تو کبھی محض معنوی برکت عطا ہوتی ہے ، مثلا ہدایت کی توفیق، سکون قلب اور لوگوں میں عزت و مقبولیت وغیرہ۔ ان سب پر مستزاد وہ اجر ہے جو اللہ نے ان کے لئے آخرت میں تیا رکررکھا ہے۔برکت کو محض چند سکوں میں محصور کرلینا ایک زبردست غلط فہمی ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ذہنی سکون سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: " اے نبی ! کہو کہ "یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ اس نے یہ چیز بھیجی ، اس پر تو لوگوں کو خوشیاں منانی چاہیے۔ یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے  جنہیں لوگ سمیت رہے ہیں۔" (یونس آیت  58)

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں