پاغام عمل کا داعی
'پیغامِ
عمل'کا داعی
[خواجہ
عارف الدین]
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
یوں
تو ادھر کچھ دنوں سے روزانہ اپنے حلقۂ تعارف میں کسی نہ کسی کی وفات کی خبر سے دل
رنجیدہ رہتا ہے _ علماء ، دانش ور ، دینی تنظیموں کے رہ نما ، مدارس کے ذمے دار
اور اساتذہ ، احباب ،کسی نہ کسی کی وفات کی خبر تسلسل سے آ رہی ہے ، لیکن کل شب جب
خواجہ عارف الدین رحمہ اللہ کی وفات کی خبر ملی تو سخت دھچکا لگا _ وہ کچھ دنوں سے
بیمار تو تھے، لیکن اتنی جلدی رختِ سفر باندھ لیں گے، اس کا اندازہ نہ تھا _
عارف
الدین صاحب کی پوری زندگی خدمتِ دین سے عبارت ہے _ وہ طالب علمی کے زمانے سے تحریک
سے وابستہ تھے _ جماعت اسلامی ہند میں انھوں نے مقامی ، ریاستی اور مرکزی ، تمام
سطحوں پر ذمے داریاں نبھائیں اور رفقائے تحریک پر اپنے اثرات چھوڑے _ چنانچہ یہ
فطری بات ہے کہ ہزاروں وابستگانِ تحریک ان کی خدمات کا تذکرہ اور ان کے لیے دعائے
مغفرت کریں _ گزشتہ میقات میں مرکز جماعت اسلامی ہند میں مجھے ان کے ساتھ کام کرنے
کا موقع ملا ہے _ وہ شعبۂ خدمتِ خلق کے مرکزی سکریٹری تھے _ اس عرصہ میں ان کی
شرافت ، دین داری ، جدّوجہد ، لگن ، تحریک سے گہری وابستگی ، رفقاء سے محبت و تعلق
اور دیگر خوبیوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا
_
خواجہ
صاحب سے میرا غائبانہ تعارف جامعۃ الصفہ کے واسطے سے ہوا ، جس کے اشتہارات سہ روزہ
دعوت اور ماہ نامہ زندگی نو میں پابندی سے شائع ہوتے تھے _ معلوم ہوا کہ وہ اس کے
بانی ناظم ہیں _ اس جامعہ کو ترقی دینے اور اسے تحریک اسلامی کا مرکز بنانے کے لیے
انھوں نے بہت جدّوجہد کی _ مجھ سے ملاقات کے بعد وہ بارہا اس کا تذکرہ کرتے اور اس
کو ترقی دینے کے لیے مجھ سے مشورہ طلب کرتے _ انھوں نے کئی مرتبہ مجھ سے خواہش کی
کہ میں آپ کو جامعۃ الصفہ دکھانا چاہتا ہوں _ میں نے وعدہ کرلیا ، لیکن افسوس کہ
ریاستِ تلنگانہ کے سفر اور جامعۃ الصفہ کے معاینہ کا پروگرام نہ بن سکا _ اس طرح
ان کے ساتھ جاکر اس مدرسہ کی زیارت حسرت بن کر رہ گئی
_
دو
برس قبل سعودی سفارت خانہ کی معرفت عربی زبان میں اسلامی مصادر و مراجع کی کتابیں
بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئی تھیں _ مجھے کئی ذرائع سے خاصی کتابیں مل گئیں ، جن میں
سے بعض کتابوں کے کئی کئی نسخے تھے _ میں نے خواجہ صاحب سے عرض کیا کہ اگر آپ لے
جاسکیں تو کچھ کتابیں آپ کے مدرسے کے لیے دے دوں _ بہت خوش ہوئے _ میں نے 3 کارٹون
کتابیں ان کے حوالے کیں _ انھوں نے زحمت برداشت کرکے وہ کتابیں مدرسے منتقل کیں _
خواجہ صاحب اچھے
خطیب تھے _ طلبہ ، نوجوان اور وابستگانِ جماعت کے درمیان کی گئی ان کی بہت سی
تقریروں کی ریکارڈنگ موجود ہیں _ ان کی بعض تقریروں کے کچھ کلپس آج کل سوشل میڈیا
پر گردش میں ہیں _ مرکز جماعت کی مسجد اشاعت اسلام میں بعد نماز عصر کبھی کبھی
مختصر تذکیر کرتے تھے _ ایک مرتبہ انھوں نے بتایا کہ جامعۃ الصفہ میں اساتذہ اور
طلبہ کے درمیان بھی وہ عرصہ تک تذکیر کرتے رہے ہیں _ ان تربیتی تقاریر کا مجموعہ
انھوں نے 'پیغامِ عمل' کے نام سے مرتب کیا تھا اور جامعہ سے اس کے 2 ایڈیشن منظر
عام پر آئے تھے _ اس کتاب کو وہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے بھی شائع
کروانا چاہتے تھے _ افسوس ، ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی
_
ہم
سب تحریک کے خادم اور دین کے راہی ہیں _ ہر شخص متعین سانسیں لے کر آیا ہے _ موت
کا جو وقت متعین ہے اس سے ایک لمحہ پہلے آسکتی ہے نہ ایک لمحہ بعد _ آج ان کی باری
ہے ، کل ہماری باری ہوگی _ دعا ہے کہ اللہ
تعالیٰ جب تک زندہ رکھے ، اسلام پر قائم رکھے اور جب موت آئے تو ایمان پر ہمارا
خاتمہ ہو _ اللہ تعالیٰ محترم خواجہ عارف الدین کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات
بلند کرے ، انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ، تحریک کو ان کا نعم البدل عطا
کرے اور جملہ پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے _ آمین ، یا رب العالمین!
Comments
Post a Comment