تحریکِ اسلامی کا بے باک مجاہد
تحریکِ اسلامی کا بے باک مجاہد
افتخار کاشف صفی
(حالِ
مقیم سعودی عربیہ)
جناب خواجہ عارف الدین
صاحب (جنہیں ہم چاچا کہکر بلایا کرتے تھے) 20 جولائی 2020 کو رات 9 بجے اس دار
فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرگئے.
یقین نہیں ہوتا کہ
وہ مسکراتا ہوا منور چہرہ ہمیشہ کے لیے آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، وہ محبت سے لبریز
نرم گفتگو جو سننے والوں کے دلوں کو مسخر کردیا کرتی تھی اب خاموش ہوگئی
شریف الطبع، سلیم المزاج،
ملنسار، اعلی اخلاق و کردار کا حامل، وضع قطع کا پابند، علم و عمل کا حسین پیکر،
حق گو، اور بے باک مجاہد اب ہمارے درمیان نہیں رہا،
(لیکن
موت برحق ہیں، ہر کس و ناکس کو موت کا مزہ چکھنا ہے)
جناب خواجہ عارف
الدین صاحب اپنی ساری زندگی تحریک اسلامی اور دعوتِ دین کی جدو جہد میں قربان کردی.
دورِ شباب سے ہی ایس آئی اور تحریک اسلامی کے کاموں میں
کافی متحرک اور سرگرم رہا کرتے تھے. ایس آئی او اور جماعت اسلامی کی ریاستی و
مرکزی سطح کی قیادت کی ذمہ داریاں سر انجام دی.
آپ کی تقاریر کافی متاثر
ہوا کرتی ، اور سامعین کے قلوب پر ایک چھاپ چھوڑ تی تھی،سننے والا ہر شخص دیدۂ نم
ہوجاتا بالخصوص جب آپ فکرِ آخرت پر تذکیر کیا کرتے. یقیناً آپ کی درد بھری آواز،
مقصد و عزائم میں ڈوبی آنکھیں، سینے کو چیرتی ہوئی آپکی سسکیاں کبھی نہیں بھول
پائنگے.
دعوت دین کے کام کے لیے ہمیشہ متفکر اور سرگرم رہا کرتے
تھے اسی جذبہ کے تئیں آپ نے 2002 میں جامعتہ الصفہ کا قیام عمل میں لایا کہ دین کے
داعیوں کو تیار کیا جائے اور اقامت دین کے کام کو فروغ دے سکے.
میں چونکہ جامعتہ
الصفہ سے حفظ اور عالمیت کی تکمیل کی ہے اور
10 سال عارف چاچا کے سایہ عاطفت میں
وقت گزارا ہے. اس بناء پر میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں ہوں
کہ آپ دعوت و دین اور اقامت دین کی اس درسگاہ کے لیے مخلصانہ طور پر انتھک جدوجہد
کی اور ایک نئے نہج پر طلباء کی فکری وعملی اور علمی تربیت کی اور تحریک اسلامی کو افراد فراہم کئے.
آج کئی سارے فارغين جامعہ ایس آئی او اور تحریک کا حصہ
بن کر دین اسلام کے فروغ میں لگے ہوئے ہیں.
آپ جیسا مشفق مربی
و رہنما میں نے اپنی زندگی میں کسی کو نہیں پایا. محض للہیت کے جذبات سے سرشار
ہوکر کوئی دنیوی یا مالی نفع کے بغیر آپ نے طلباءِ جامعہ کی ایک اعلی نہج پر تربیت
کرنے کی کوشش کی ہیں
روزانہ عشاء بعد پابندی کے ساتھ طلباء کی فکری وعملی
تربیت کے لئے انتہائی جامعیت اور یکسوئی کے ساتھ مختلف عنوانات پر گفتگو کیا کرتے
تھے اور ہر روز آپ کی گفتگو کا محو و مرکز دعوت دین اور فکر آخرت ہوا کرتا.
اکثر اپنے لیکچرس میں کہا کرتے تھے کہ ہمیں اقامت دین
کا کام سر انجام دینا ہے،لوگوں کے لیے مشعل راہ بننا ہے، تحریک اسلامی سے وابستگی
اور تحریک کے لیے زندگی وقف کرنے کی نصیحت بار بار کیا کرتے تھے.
ابھی گذشتہ 15 روز قبل
فارغین جامعہ کی چاچا محترم کے ساتھ
Zoom پر میٹ رکھی گئی تھی اس وقت بھی آپ نے سارے
فارغین کو اس بات کی تلقین کی کہ تحریک کو اپنی زندگی کا مقصد بناؤ.
طلباء کی اسلامی فکر اور سونچ کی پختگی کے لیے ہمیشہ
کوشاں رہتے
جس وقت آپ امیر حلقہ کی ذمہ داری کے لیے حیدر آباد میں
مقیم تھے اس وقت ہر دو تین دن بعد اپنے شہر ورنگل آیا کرتے تھے اور اکثر عشاء سے
بالکل قریب پہنچتے اور نماز عشاء جامعہ میں ادا کرنے کی کوشش کرتے اور بعد نماز
عشاء وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے جبکہ سفر کی تھکان اور طبیعت کی سستی آپ پر مائل
رہتی.
ان تمام کاوشوں کا ثمرہ وہ صرف اور صرف رضائے الٰہی اور
اپنی مغفرت کا سامان مہیا کروانا چاہتے تھے.
ہم سے اکثر کہتے تھے کہ آپ میں سے کوئی ایک شخص بھی
اللہ کے دین کے کام کے لیے چن لیا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ میری مغفرت کے لیے
کافی ہیں.
گزشتہ جب چاچا سے
Zoom پر آن لائن گفتگو ہوئی فارغین جامعہ کی
مصروفیات جان کر کافی خوشی اور اطمینان کے ساتھ کہا کہ جامعہ کا قیام جس مقصد کے
لیے ڈالا گیا تھا شاید اس مقصد میں مجھے کامیابی عطا ہوئی.
بے شک آپ نے اس اقامت دین کی درسگاہ کے قیام کے ذریعہ
ملت کے لیے ایک عظیم کام کو انجام دیا
جس سے طلباء قرآن مجید کے حفظ اور اور عالمیت کی تکمیل
کے ساتھ ساتھ ایک شعوری اور با مقصد زندگی گزار رہے ہیں
(اور
الحمد للہ اب تک جامعتہ
الصفہ سے کل 95 حفاظ اور 15 علماء فارغ ہوئے ہیں
ابھی اس سال مزید 10 طلبا کا حفظ مکمل ہونے والا ہے اور
ابھی 90 طلباءِ زیر تعلیم ہیں)
الغرض کہاں تک انکی خدمات کو شمار کرایا جائے ، کیا کیا
لکھا جائے، نہ میرے اندر انکی خدمات کو سمیٹ کر شمار کرانے کی استطاعت ہے نہ ہی
انکی خدمات کا احاطہ مجھ کم علم کے بس میں ہے ۔
بس یوں سمجھ لیں کہ جس طرح سمندر کے کنارے کھڑے ہوکر
سنمدر کی حد کو دیکھنا ممکن نہیں اسی طرح آپ کی خدمات جلیلہ کو سپرد قلم کرنا ممکن
نہیں ۔
میں ذاتی طور پر پر چاچا سے بہت زیادہ قریب تھا اور
چاچا میرے لیے کافی عزیز تھے بلکہ مجھے اپنے والدین کے بعد سب سے زیادہ محبوب اور
قابل احترام آپ ہی تھے
میرے لیے صرف آپ ایک استاد ہی نہیں بلکہ ایک باپ کی
حیثیت رکھا کرتے تھے، (جس کی بناء پر آج
میں علمی طور پر یتیم ہوگیا) زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملات میں آپ سے مشاورت
ہوتی. میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی کہ چاچا مجھے بہت زیادہ چاہتے تھے ہر ہفتہ دس
دن بعد کال کر کے خیر خیریت لیا کرتے تھے اور ہمیشہ لفظِ "بیٹا" کہ کر
بات کیا کرتے.
گذشتہ 2 سال میں 3 بار چاچا سے مسجد نبوی مدینہ منورہ
میں ملاقات کا شرف حاصل رہا
آہ وہ گھڑی بھی کیا مقدس گھڑی تھی کہ ایک عظیم اور مقدس
مقام پر چاچا جیسی عظیم شخصیت کی معیت، اور آپ کی شیریں زباں، نرم گفتگو، آپ کی
نصیحتیں، آپ کے تجاویز، آپ کی دعائیں، ایک ایک لفظ موتی کے مانند. لطف پر لطف یہ
کہ میرے والد محترم بھی اس وقت ساتھ موجود تھے
یہ میری زندگی کی میٹھی یادیں رہے گی
اور زندگی بھر اس بات کا افسوس رہے گا کہ آپ کی نماز
جنازہ میں عدم شرکت واقع ہوئی
میں صمیم قلب سے بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہوں کہ
اللہ آپ کی ساری قربانیوں کو شرف قبولیت بخشے، جامعہ کے حق میں بہترین فیصلہ عنایت
فرمائیں، اور امت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے، آپ کے سارے صغیرہ و کبیرہ کو
معاف فرمائے اور جنت کے اعلی مقامات پر فائز فرمائیں،
آمین یا رب
العالمین
Comments
Post a Comment