انوکھا واقعہ
آج ایک انوکھا واقعہ ہوا جو کہ میرے لیے تو تازیانہ تھا۔
ہوا یہ کہ میں حلقہ کے پروگرام "محمد سب کے لیے "
سے واپس گھر آیا تو میرے گھر کی گلی میں دو لڑکیاں "بہار ہو کہ خزاں لاالہ
الا اللہ" کانفرنس کے سلسلے میں گھر گھر کانفرنس کے فولڈر اور ڈیلیگیٹ کارڈ
پہنچارہی تھیں اور کانفرنس کا تعارف کروارہی تھیں۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کون
لڑکیاں تھیں۔ لیکن جس انہماک سے یہ تمام کام انجام دے رہی تھیں اس نے مجھے بہت
متاثر کیا۔ میں نے سوچا تھا کہ اپنے قریب کے دو چار گلیوں میں کل سے کانفرنس کے
سلسلے میں ملاقاتیں کروں گا۔ تاکہ لوگوں
کے ذہنوں میں بات تازہ رہے اور وہ لوگ آسکیں۔ میں نے اپنی گلی میں سب کو کانفرنس
کا تعارف اور فولڈر، ڈیلیگیٹ کارڈ پہنچا دیا تھا۔ لیکن یہ لڑکیاں خواتین تک پہنچ
کر ان سے گفتگو کرکے کانفرنس کا تعارف کروارہی تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ
وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ
تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ
بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ
الْفٰسِقِيْنَ 24ۧ اے
نبی ﷺ ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور
تمہاری بیویاں ، اور تمہارے عزیز و اقارب ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں،
اور تمہارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو
تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر
ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق
لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔(24)التوبۃ
اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وَاِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّ لَا
يَكُوْنُوْٓا اَمْثَالَكُمْ 38ۧ اگر
تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ
ہوں گے ۔(38)محمد
اللہ کو تمہاری حاجت نہیں اللہ کے کام تو پورے ہوکر
رہیں گے۔ چاہے تم کام کرو یا نہ کرو۔اللہ اپنے کام کرنے کے لیے کسی اور کو چن لے گا اگر تم نہ
کروگے تو اللہ تعالی ٰ میناکشی پورم سے لوگوں کو اٹھائے گا اور وہ لوگ اللہ کے دین
کا کام کریں گے۔ اگر تم نہ کروگے تو اللہ ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جو تم جیسے نہ
ہوں گے۔اللہ نے موقع عنایت کیا ہے تو اس کی قدر کرو(شکر ادا کرو، اور تندہی سے کام
کرو، کہ اس نے تمہیں اس کام کے لیے موقع عنایت کیا ہے) ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ
تو یہ ہے کہ نبی کا مشن پورا ہوتے ہی نبی کو تک واپس بلا لیتا ہے کہ اب ہم کسی اور
کے ذریعہ سے اس کام کو جاری رکھیں گے۔اِذَا
جَاۗءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ Ǻۙوَرَاَيْتَ النَّاسَ
يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا
Ąۙفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ڼ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا Ǽۧ جب
اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے(1) اور (اے نبی ﷺ) تم دیکھ لیں کہ لوگ
فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں(2) تو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی
تسبیح کرو ، اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو ، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا
ہے۔(وہ بڑا ہی معاف فرمانے والا ہے)(3)النصر۔
فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ
وَعِيْدِ بس
تم اس قرآن کے ذریعے سے ،ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔
سورۂ ق
وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ
الْمُؤْمِنِيْنَ 55البتہ
نصیحت کرتے رہو ! کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔(55)
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ
فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17ہم
نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول
کرنے والا؟(17)سورۂ قمر
سوچنے والوں کے لیے اس میں بڑی تنبیہ ہے۔ ہے کوئی نصیحت
قبول کرنے والا۔
ابو عروج خلیل احمد آلِ شیخ
Comments
Post a Comment