شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
بشکریہ سہ روزہ دعوت یکم اکتوبر 2018
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
عبد الرشید طلحہ نعمانی
جب کوئی جماعت سرکشی پر اتر آتی ہے ، عدل و انصاف دنیا سے
محو ہونے لگتا ہے ، قانون خداوندی کے خلاف علم بغاوت بلند کیا جاتا ہے، ظالموں کے ناپاک
اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ و برباد ہوتے ہیں، تو ایسی حالت میں انسانیت کی سب سے بڑی
خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے ظلم
سے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم و بے کس بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان
کی امت بن کر اولاد آدم پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں،
وہ لوگ انسان نہیں؛ درندے اور انسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں۔ایسے وقت میں ہر سچے،
انسانیت کے ہمدرد و غمخوار کا اولین فرض ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قدم اٹھائے اور اس
وقت تک آرام نہ کرے ، جب تک کہ خدا کی مخلوق کو اس کے کھوئے ہوئے حقوق واپس نہ مل جائیں۔
اسی کو جہاد کہتے ہیں جہاد اللہ رب العزت کا ایک قطعی و محکم فریضہ ہے۔ اللہ تعالٰی
نے اس فریضے کی ادائی کے لئے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک
شہید ہوئے، آپ کا خون مبارک بہا اور آپ کے رخسار اور پہلو پر زخم آئے۔ اسی لئے حضارت
صحابہ کرام نے اس عبادت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا۔
شہادت وہ عظیم مرتبہ
ہے جو ہر انسان کے حصے میں نہیں آتا، اس رتبے کو حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ کرنا پڑتا
ہے جو کسی دنیاوی منزل کو پانے کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ شہید ہونے کے لئے سب سے مشکل
کام جسے گلے لگانا پڑتا ہے وہ ظاہری موت ہے۔شہادت وہ ہے جو موت سے بچاتی ہے مگر اس
کو پانے کے لئے جسمانی موت کو گلے لگانا پڑتا ہے۔ شہید مردہ نہیں زندہ ہوتا ہے جو اللہ
تعالٰی کی راہ میں جان دیتا ہے ، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔
مولانا یوسف بنوری لکھتے
ہیں "اسلام میں شہادت فی سبیل اللہ کو
وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدّیقیت کے بعد ) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو
نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان
شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا،
جنھوں نے اللہ ربّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہ اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔
شہادت سے ایک ایسی پائدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدۂ عالم پر ثبت رہتا
ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دھندلاسکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی
معاشرے میں رہتی دنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل
حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنٰی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ (اسلام میں شہادت فی
سبیل اللہ کا مقام)۔
مقام شہادت قرآن مجید
کی روشنی میں:- شہید کے فضائل اور مقامات بے شمار ہیں، اختصار کے پیش نظر چند ایک آیتوں
کا ترجمہ ذیل میں نقل کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:- "وَلَا
تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ
بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ (154) جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں،
انھیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور
نہیں ہوتا۔ البقرۃ 154 دوسری جگہ شہداء کی حیات برزخ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد باری ہے:
وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ
بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ۰۰۱۶۹فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ
اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ
وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠
بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ
اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۘ۰۰۱۷۰يَسْتَبْشِرُوْنَ۠
بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ
وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَۚ"جو
لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں،
اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ
نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اُس پر خوش وخُرم ہیں ، اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ِ ایمان ان کے پیچھے
دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کاموقع
نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل
پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم
ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ آل عمران 169تا171
ایک اور مقام پر اطاعت
خدا اور رسول پر معیتِ شہداء کی خدا خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے: وَ مَنْ
يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ
مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠
وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ
وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًاؕ "جو اللہ اور رسُول کی اطاعت کرے گا وہ ان
لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء
اور صالحین۔ کیسے اچّھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسّر آئیں۔ النساء 69
شہیدوں کے لئے اجر
عظیم کی بشارت دیتے ہوئے حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں: "فَلْيُقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ
اللّٰهِ الَّذِيْنَ يَشْرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ
وَ مَنْ يُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيُقْتَلْ اَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ
اَجْرًا عَظِيْمًا74النساء (ایسے لوگوں کو معلوم ہوکہ)اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن
لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دُنیا کی زندگی کو فروخت کردیں، پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے
گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے۔
ان آیات کریمہ سے اندازہ
لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک شہید کا مقام و مرتبہ کس درجہ بلند و بالا اور ارفع
و اعلیٰ ہے۔
فضائل شہادت ، احادیث مبارکہ کی روشنی میں:- نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم شہادت کی تمنا کرتے ہوئے فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَدِدْتُ
أَنِّي أُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ
أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلُ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُهُنَّ ثَلَاثًا أَشْهَدُ بِاللَّهِ
" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میری آرزو ہے کہ میں اللہ کے راستے
میں جنگ کروں اور قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا
جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں"(بخاری)
Comments
Post a Comment