میں نے دیکھا
میں نے دیکھا-----ابو عروج خلیل احمد آل شیخ
ایک واقعہ
جو کہ میں نے دیکھا اور پوری تفصیل کے ساتھ دیکھا۔ یہ غالباً 1994 کا واقعہ ہے ۔
میں اس وقت سعودی عرب کے ایک چھوٹے سے گاؤں البدیع الشمالی میں معاش کے سلسلے میں
تگ و دو کررہا تھا۔ اور یہ وہ وقت تھا کہ جس عمر کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ
جنتیوں کی عمر تینتیس سال کی ہوگی۔ تو ہم بھی اس تیتینس چونتیس کے درمیان تھے۔ اور
پہاڑوں کی چوٹیوں کو سرکرنے ، سمندروں کا سینہ چیرنے ، کا حوصلہ و عزائم رکھتے تھے۔
ہوا یوں کہ
ہماری رہائش کے قریب ہی ایک روڈ کی کمپنی کی رہائش بھی تھی۔ اور میری جو بھی
دوستیاں ہوئی ہیں وہ مسجد سے ہی ہوئی ہیں اور آج تک برقرار ہیں۔ تو اس روڈ کی
کمپنی میں ایک لڑکا تھا یس نام کا اس سے جامع مسجد میں ملاقات ہوئی ۔ یہ لڑکا سوریا پیٹ کا تھا جو کہ آج ضلع ہے پہلے
یہ نلگنڈہ ضلع میں تھا۔ہم لوگ نماز کے بعد کچھ دیر تک باہر آکر ملاقات کرتے اور
چلے جاتے ۔ دو ایک بار میں بھی ان کی رہائش پر گیا اور یس بھی میری رہائش پر آیا۔
میں قریب کی مسجد کو جانے کے بجائے جامع مسجد کو جاتا تھا جو کہ بڑی تھی۔ اور وہاں
امام صاحب ایک سن رسیدہ بزرگ تھے۔ اور قرآن بڑی خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ مجھے ان
سے انسیت سی ہوگئی تھی۔ کبھی کبھی بات بھی ہوتی تھی۔بڑی اچھی طبیعت کے مالک تھے۔
یس کی
کمپنی میں مختلف جگہوں کے لوگ تھے۔ ایک مراٹھا ڈرائیور بھی تھا۔ہیمنت نام
کا ۔ یہ پانی کا ٹینکر چلاتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ٹینکر لے کر آرہا تھا اور اس کو
ایک ہائی وے کراس کرنی تھی۔ جو کہ بدیع شمالی کے شمال میں دو تین چھوٹے چھوٹے گاؤں
کو ملاتی تھی۔یہ ہیمنت جس سڑک سے آرہا تھا وہ کچی سڑک تھی اور قدرے نشیب میں تھی
ہائی وے سے آنے والے کو کچھ جھاڑیاں بھی ہونے کی وجہ سے جلدی سے اس کچی سڑک سے آنی
والی گاڑی نظر نہیں آسکتی تھی اور وہ کچی سڑک بھی بہت زیادہ استعمال نہیں ہوتی
تھی۔ اس لئے لوگوں کو گمان بھی نہیں ہوتا تھا کہ ادھر سے بھی کوئی گاڑی آرہی ہوگی۔
تو اس ٹینکر ڈرائیور کو کچی سڑک سے پکی سڑک پر کراس کرتے ہوئے دوسری طرف اتر جانا
تھا۔ یقیناً اس نے بھی اس سچویشن کے مطابق احتیاط برتی ہوگی۔ لیکن ہونی کو کون ٹال
سکے ہے۔تو ہوا یوں کہ ایک سعودی ضعیف العمر بدو جو کہ نیسان پک اپ چلا رہا تھا اور
جیسا کہ عربوں کی عادت ہے کہ بہت تیز چلتے ہیں۔ یہ بدو بھی بہت تیز آرہا تھا اور اسی
وقت ہیمنت بھی سڑک پر آگیا اور تیز رفتار پک پک اپنی ہی تیزی میں ٹینکر کے نیچے اس
طرح گھسی کہ ڈبل ڈور کی نیسان پک اپ پوری
طرح ٹینکر کے نیچے آگئی صرف اس کا کھلا ہوا حصہ ہی باہر رہ سکا۔ ساری گاڑی اوپری
حصہ مکمل طور پر جیسے کہ کسی بڑے ہتھوڑے سے اس کا گولا بنادیا گیا ہو اس طرح سے
ہوگئی۔ اس حالت میں اندر بیٹھے شخص کی کیا درگت بنی ہوگی اندازہ کرسکتے ہیں۔ اور
ہیمنت اس گاڑی کو اپنی گود میں لئے ہوئے دوسری طرف اتر گیا۔ اور گاڑی روک دی۔ چونکہ
ٹکر بہت خوفناک تھی قرب و جوار کے لوگوں کو سنائی دی اور لوگ دوڑ پڑے اور پولیس کو
فون کیا گیاپولیس کی گاڑی کوتیس کیلو میٹر
دور لیلی افلاج سے آنا تھا سو اس وقت تک بہت سارے لوگ جمع ہوگئے۔اور مکمل پرسکون
انداز میں لوگ اس پر تبصرہ کررہے تھے۔ٹینکر ڈرائیور ہمینت اپنی گاڑی میں بیٹھا
رہا۔ کوئی اس کی طرف توجہ نہیں کررہا تھا۔ لوگوں کی ساری توجہ کا مرکز مرنے والے
کی طرف تھی۔ پھر پولیس کی گاڑی آئی۔ اور چونکہ گاڑی مکمل طور پر گولا بن چکی تھی
اس میں سے لاش کو نکالناممکن نہیں تھا۔اس لئے جنریٹر سے منسلک بڑی بڑی قینچیوں سے
گاڑی کو کاٹ کاٹ کر لاش کو باہر نکالا گیا۔ اور ایمبولینس میں ڈال کر ہاسپٹل روانہ
کردیا گیا۔ اس سارے عمل کے دوران لوگ ٹینکر ڈرائیور سے نہ ہی بات کرے نہ ہی اس کی
طرف دیکھے ۔ یہاں تک کہ اس بوڑھے بدو کے جوان بیٹے بھی آگئے تھے اور (جیسا کہ
عربوں کے طرز فکر ہے کہ کسی عمر کے مرنے
والے کے تعلق سے ان کا تاثر یہ ہوتا ہے کہ مرنا تھا مرگیا) انھوں نے اس ساری
کارروائی کو دیکھا لیکن نہ ڈرائیور کی طرف دیکھا اور نہ ہی اس سے کوئی بات کی نہ
گالی گلوچ، نہ مار پیٹ نہ کوئی ہنگامہ، بس خاموشی سے دیکھا کئے۔ جب لاش کو گاڑی سے
نکال کر ہاسپٹل بھجوادیا گیا تو پولیس والوں نے ٹینکر ڈرائیور کو اشارے سے بلایا
اور گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہوگئے۔
اب ہیمنت
جیل میں تھا اورقانون کے مطابق اس کے بارے میں فیصلہ ہونا تھا۔ سو اس فیصلہ کا اسے
انتظار کرنا تھا۔سعودی عرب میں خون بہا (دیت) کی رقم سعودی عرب میں حادثاتی موت کے
معاملہ میں تین لاکھ ریال ہوتی ہے اور یہ رقم ایک ہزار ، بارہ سو ریال مہینہ کمانے
والا ڈرائیور کب تک ادا کرسکے گا۔ اور اس دورا ن میں اس کے بیوی بچوں کا کون پرسان
حال۔ لیکن اس کی یہ مشکل اس طرح آسان ہوئی کہ اس کمپنی کی جو سالانہ زکوٰۃ بنتی ہے
اس میں سے اس کمپنی کے مالک نے ایک نئی نیسان پک اپ اور تین لاکھ ریال اس مرنے والے شخص کے ورثاء
کو ادا کردئے اور اس کو چھڑالایا۔ اب ایک ہندو شخص کا اس احسان پر کیا تاثر رہا
ہوگا۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں۔ ہیمنت اپنے کفیل کے قدموں میں گرگیا اور روتے ہوئے
کہنے لگا کہ آپ میرے لیے بھگوان ہیں۔
ایک اور
واقعہ جب کہ میں کوالیٹی آئسکریم کی کمپنی میں تھا جو کہ النافع گروپ آف کمپینیز
کی ایک شاخ تھی۔ اور جدہ میں اس کی فیکٹری تھی۔ ریاض میں اس کی آئسکریم بہت چلتی تھی۔جملہ ستائیس گاڑیاں
چلتی تھیں۔ISUZU ICE CREAM CONTAINER
مجھےجب اپائنٹمنٹ دیا گیا تو سیلمSELAM TAMILNADU کا ایک
لڑکا آدم نامی اس کی چھٹی کا ٹائم ہوگیا
تھا اور اس کے ایریا "شفا"کو
مجھے کور کرنا تھا تو وہ لڑکا مجھے اس کا
روٹ دکھانے کے لیے ساتھ آیا گاڑی میں چلا رہا تھا۔ہر ایک آؤٹ لیٹ پر رکتے اور اگر
اس کے پاس رکھے فریزر( جو کہ ہماری ہی کمپنی کا دیا ہوا ہوتا تھا) میں جگہ ہوتی تو
مال دیتے اور پھر آدم میرا تعارف کرواتا کہ میں چھٹی جارہا ہوں تو یہ میرے جگہ پر
آئیں گے۔ اس طرح ہم ہر جگہ گئے اور ایک بالکل ہی دور کے مقام پر ایک آؤٹ لیٹ
تھا۔جو کہ تقریباً شہر سے باہر تھا اور ابھی نیا نیا بس رہا تھا۔ وہاں سڑکیں بھی
اونچی نیچی تھیں ہم بھی اسی سڑک سے ہوتے ہوئے آئے اور ایک دکان پر رکے۔ بات ہوئی
پھر جانے آدم کو کیا سوجھی کہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ اور اپنی گاڑی کو دھیرے
دھیرے روڈ کراس کروارہا تھا جس وقت یہ اپنی گاڑی کو روڈ کراس کروارہا تھاپیچھے سے
ایک نوجوان سعودی لڑکا نئی نیسان ڈبل ڈور
پک اپ میں اپنی ماں کو لیے ہوئے تیزی سے آرہا تھا۔ اور آدم کے کراس کرتے وقت وہ
بالکل ن شیب میں تھا اس لئے دیکھ نہیں سکا کہ ایک بڑی گاڑی روڈ کراس کررہی ہے۔جیسے
ہی وہ اوپر آیا سیدھے ہماری گاڑی سے ٹکرایا اور اس کی ماں زور سے ڈیش بورڈ سے
ٹکرائی اور اس کے سر سے خون بہنے لگا ۔ اس لڑکے نے انتہائی کوشش کی کہ ٹکر سے بچ
سکے لیکن پوری کوشش کے باوجود بھی ایک اچھی خاصی ٹکر ہوہی گئی اور گاڑی کا تو بہت سا نقصان ہوا اور اس
لڑکے کی ماں بھی زخمی ہوگئی۔ تو اس لڑکے کو اپنی ماں کو خون میں لت پت دیکھ کر بہت
غصہ آیا، اور وہ آدم پر پل پڑا اور مارنے کی کوشش کرنے لگا تب تک بہت سارے لوگ جمع
ہوچکے تھے ان لوگوں نے جو کہ سعودی تھے اور دیکھ چکے تھے کہ کچھ بے احتیاطی آدم سے
بھی ہوئی ہے اس کے باوجود اس لڑکے کو مارنے نہیں دیے۔ اور ایک شخص نے اس نوجوان
لڑکے کو کمر سے پکڑکر اس کو مارنے سے باز رکھا۔ سعودی عرب ہو کہ کہیں بھی گلف میں
طریقہ یہ ہے کہ اگر ایکسیڈنٹ ہوتا ہے تو گاڑی کو نہیں ہٹانا ہے جب تک پولیس نہیں آجاتی
اور پولیس آکرجائے وقوعہ کو دیکھ لیتی ہے اور فوٹو لیتے ہیں پھر گاڑی کو ہٹانے کے
لیے کہتے ہیں تو ہم رکے رہے تو انہی سعودی لوگوں نے آدم سے ریکویسٹ کی کہ تمہارا
تو کوئی نقصان نہیں ہوا (اصل میں ہماری
گاڑی کو پیچھے ایک بہت موٹا لوہے کا گرڈر ہوتا ہے اور یہ گرڈر بڑے سے بڑے حادثے کو
بھی برداشت کرجاتا ہے اور گاڑی کو ہر قسم کے نقصان سے بچاتا ہے) جو کچھ نقصان ہوا
ہے اسی لڑکے کا ہوا ہے ۔ اسی لیے تم پولیس میں رپورٹ نہ کرو اور نہ ہی اس حادثے کا
کوئی ذکر کرو۔ یہ سارا نقصان ہم ہی برداشت کرلیں گے۔ اصل بات یہ تھی کہ اس لڑکے کے
پاس لائسنس نہیں تھا اور اگر پولیس آتی تو اس لڑکے کو گرفتار کرتی۔ اس طرح آدم کے
سر سے ایک بڑی بلا ٹلی۔
ایک
اور واقعہ اسی کوالیٹی آئسکریم کمپنی میں سیلس
کا کام کرتے ہوئے میرے ساتھ ہوا ہے اور اس میں بھی میں بال بال بچا ۔ ہوا
یوں کہ میں صبح سات بجے اپنی گاڑی لے کر اپنے روٹ کی طرف نکلا ۔ سعودی عرب اور
خصوصاً ریاض میں صبح سات بجے انتہائی رش ہوتا ہے سڑکوں پر کیوں کہ سارے لوگوں کو
اپنے اپنے کاموں پر جانا ہوتا ہے۔ اس لئے بعض بعض روڈ پر گاڑیاں رینگتی ہیں۔ دور
تک گاڑیاں ہی گاڑیاں نظر آتی ہیں۔اور ابھی میں بہت زیادہ دور بھی نہیں گیا تھا
تقریباً چوتھائی راستہ ہی طے ہوا تھا ۔ میں نے چونکہ ٹرن لینا تھا اس لیے اسپیڈ
ٹراک پر آگیا یہ بات ایک کیپریس (امیریکن
گاڑی جو کہ ایمپالا جیسی لمبی ہوتی ہے)والے کو پسند نہیں آئے اور وہ انتہائی اسپیڈ
سے مسلسل آتا ہی رہا مجھے یوں لگ رہا تھا کہ شاید وہ میرے گاڑی کے پیچھے ٹکرا جائے
گا۔ یوں میں مسلسل بیک مرر میں پیچھے ہی دیکھا جارہا تھا۔ اچانک میں نے سامنے
دیکھا تو ساری گاڑیاں رکی ہوئی ہیں۔ میں نے پوری قوت سے بریک لگائے۔ اور میری گاڑی
تقریباً بیس فٹ گھسٹتی ہوئی اگلی گاڑی سے ٹکرائی جو کہ ایک پرانی سی نیسان پک اپ
تھی جسے ایک مصری چلا رہا تھا۔اور وہ پک اپ آگے جانے والی ہماری ایک اور گاڑی سے
جاٹکرائی اور بری طرح اس گاڑی کا کچومر
نکل گیا میں نےکہیں بتایا تھا کہ ہماری ایسوزو گاڑی کے پیچھے لوہے کا ایک موٹا گرڈر
لگا ہوتاہے اور وہ گاڑ ی کو حادثے کی صورت میں بڑے نقصان سے بچاتا ہے۔ تو یہ پک اپ
اسی گرڈر سے ٹکرائی اور اس کی تھوتھنی(بانٹ، انجن اور ریڈی ایٹر) کا کباڑا ہوگیا۔اس
طرح میں ڈیوٹی پر جانے والا رک جانا پڑا۔ خیر ہم رکے رہے اور صبح صبح پولیس بھی
انہی حادثات سے کی وجہ سے کافی مصروف رہتی ہے۔ مجھے رکے ہوئے کئی گھنٹے ہوگئے ۔
میری کمپنی کے مینیجر بھی آئے۔ جو کہ بمبئی کے رہنے والے تھے۔پولیس کی گاڑی آئی اور
انھوں نے کہا کہ "میاہ فی المیاہ انت غلطان" یعنی سو فیصدی
تمہاری غلطی ہے۔ پھر انہوں نے پک اپ والے مصری سے کہا کہ "صدیق نازل؟"
یعنی کیا تم مصالحت کرلیتے ہو ؟ تو اس نے کہا کہ نہیں میں مصالحت نہیں کروں گا۔پھر
پولیس والوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور پولیس اسٹیشن لے گئے۔ مجھے اس وقت
اس مصری کی بے بسی پرہنسی آرہی تھی جس نے پولیس والوں سے کہا تھا کہ میں بینک میں
پیسے جمع کرنے نکلا تھا اور اس حادثے میں پھنس گیا۔میں گاڑی میں بیٹھا ہنستا رہا
اور پولیس والے میری اس کیفیت پر حیران تھے۔بلکہ ان کو غصہ آرہا تھا۔لیکن انہوں نے
مجھے کچھ نہیں کہا۔ اور لے جاکر پولیس اسٹیشن میں دوسرے آفیسر کے حوالے کیا۔ اس
وقت تک وہ مصری ساتھ ہی رہا۔ پولیس اسٹیشن میں بھی ایک بار پھر اس سے پوچھا گیا کہ
کیا تم مصالحت کرتے ہو؟ لیکن وہ نہیں مانا۔ پھر مجھے ایک اور پولیس والے نے پکڑ کر
لاک اپ کی طرف لے گیا اور اندر کی طرف بھیجنے سے پہلے ایک بار اور اس مصری سے
دریافت کیا کہ کیا م مصالحت کرتے ہو؟ لیکن اس نے نہیں مانا تو پھر مجھے اندر دھکیل
دیا گیا۔ اندر جاکر میں نے دیکھا کہ بہت سارے لوگ ہیں ۔ انڈین ، مصری،پاکستانی،
اور بہت سے دوسرے ملکوں کے لوگ۔ خیر میرے لئے یہ بالکل نیا تجربہ تھا۔ میں اندر
گیا اور کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ظہر کا وقت ہوگیا تو میں نے واش روم میں جاکر وضو
بنایا اور نماز پڑھی اور بیٹھ گیا ۔ ابھی کچھ ہی دیر گذری ہوگی کہ میری کمپنی کے
نمائندے آگئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے۔ لیکن مجھے میری اپنی گاڑی اور مصری کی
گاڑی کے سارے نقصان کو اپنی تنخواہ سے ادا کرنا پڑا۔ اس حادثہ پر بھی میں اللہ کا
شکر ادا کرتا ہوں کہ کوئی جانی نقصان کسی کا نہیں ہوا ۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو بڑی
مشکل ہوجاتی۔اللہ نے بچالیا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
Comments
Post a Comment