دل

خان عرشیہ  شکیل (نالاسوپارہ ۔مہاراشڑ)

 

رسولﷺ نے فرمایا سنو! انسانی جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے۔ اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بھی بگڑ جاتا ہے جان لو کہ یہ قلب ہے ۔

 تربیت کےسب سے اہم  اور ضرورری نکات میں  اولین نکتہ "دل کی صفائی" ہے ـ

 قلب کی پاکیزگی کے بغیر  کوئی عمل قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ پرہیزگاری اور تقوی  کا معیار کا اظہار  دل کی کیفیات سے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن نے دل کے مختلف اقسام کا ذکر کیا ہے

 

 قلب سلیم۔۔۔ جو اپنے رب کے فیصلوں پر پر راضی ہو جائے۔ اس کا دل نعمتوں پر اللہ کا شکر کرنے والا  ہو اور ہر طرح کی تکلیفوں پر صبر کرنے والا ہو۔

 علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی  میں قلب سلیم کے پانچ پہلو بیان کیا ہے ۔

 1) دل غلط قسم کے عقیدوں  ،شرک، نفاق کی بدعت سے خالی ہوتا ہے

2) جو اپنی اولاد کو حق کی رشد و ہدایت کی طرف راہ بتاتا ہے

3)خواہش نفس کا غلام نہیں ہوتا جو اسے جہنم کی طرف لے جاتی ہے

 4) دل جس میں اللہ کے علاوہ اور کوئی نہ ہو۔

 قرآن مجید میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کے تذکرے میں ایک جگہ ارشاد فرمایا۔

 اے میرے رب مجھے اس دن رسوا نہ کرجب کہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ ہی اولاد بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو

 

قلب منیب ۔۔۔یہ وہ دل ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے ہے اپنی غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں سے توبہ و استغفار کرتا ہے اور اس کی اطاعت میں لگا رہتا

" مَن خَشِیَ الرٗحمن بالغَیبِ وجاءَ  بقلبٍ مُنِیب ـادخلوھابسلمٍ ذلک یوم الخلود۔۔۔

"ہراس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اوربڑی نگہداشت  کرنے والاتھا ،جو بے دیکھے رحمن سے ڈرتا  تھا،اور جو دل گرویدہ لیے ہوۓ آیاہے ۔داخل ہو جاو جنت میں  سلامتی  کے ساتھ"

(سورہ ق آیت نمبر 33 )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  رسولﷺ نے فرمایا ۔۔

"نبی آدم کے قلوب اللہ تعالی کی دو انگلیوں کے درمیان ہے وہ ان کو جیسے چاہتا ہے پھر دیتا ہے پھر اس کے بعد آپ نے یہ دعا فرمائی۔

" اے دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے ۔(مسلم ")

 

قلب المخبت۔۔۔یہ وہ دل ہ جو اللہ کی اطاعت میں جھکا رہتا ہے۔ اللہ کے راستے پر چل کرمطمئن  اور سکون پاتا ہے۔

"فتخبت لہ قلوبھم  و ان اللہ لھاد الذین امنوا  الی صراط  مستقیم ۔"

"ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں یقینا  اللہ ایمان لانے والوں  کو ہمیشہ  سیدها  راستہ دکھا دیتا ہے۔(سورہ الحج ۔54)"

 

قلب الوجل ۔۔۔۔یہ وہ دل ہے جو نیکی کے بعد بھی ڈرتا رہتا ہے کہ پتہ نہیں اللہ اللہ میرے اعمال قبول کرے گا یا نہیں ۔اعمال کا کوئی وزن بھی ہے یا نہیں اور اپنے رب کے عذاب سے ہر وقت ڈرتا رہتا ہے

"والذین یوتون ما اتواو قلوبھم وجلةانھم الی ربھم رجعون۔"

"جن کا حال ھیکہ جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔سورہ (المومنون ۔۔60)"

 

قلب المھدی۔۔۔یہ وہ دل ہے جو مصائب کے ہجوم میں  بھی راہ راست پر قائم  رہتے۔سخت سے سخت حالات  میں  بھی ان کے قدم نہیں  ڈگمگاتے۔اور اللہ کی ڈالی ہوئی آزمائش  میں  پورے اترتے

ومن یومن باللہ یھد قلبہ

جو شخص اللہ پرایمان رکھتا ہے۔اس کے دل کو ہدایت  بخشتا  ہے۔(سورہ التغابن۔۔11)

 

قلب المطمئن۔۔۔یہ وہ دل ہے جس کو اللہ کی توحيد  اور اس کے ذکرسے ہی سکون آتاہے۔

 

"الذین  امنوا  و تطمئن قلوبھم  بذکر اللہ

اللہ کی یاد وہی چیز ہے جس سے دلوں  کو اطمينان  نصیب  ہوا کرتا ہے۔۔۔(سورہ الرعد۔28)"

 

قلب المتکبر۔۔۔۔یہ وہ دل ہے جو دولت، منصب ،شہرت،علم،دینداری وغیرہ  کسی بھی وجہ سے گھمنڈ  میں  مبتلا  ہو جاتے۔سرکشی ان کاشیوہ بن جاتا ہے جو کچھ ہو رہا ہے وہ میری  ذات ہی ہے۔

"قلب متکبر جبار"

 اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔

 

قلب المریض۔۔یہ وہ دل ہے جو شک ،نفاق،بداخلاقی ،ہوسو لالچ وغیرہ  جیسے امراض  میں  مبتلا  ہے

فیطمع الذی فی قلبہ مرض

جس کے دل میں  مرض ہے۔وہ طمع کرے گا۔

 

قلب الاعمی۔۔۔یہ وہ دل ہے جو دیکھتا ہےنہ سنتا ہے۔احساس  سے عاری ہے

فانھا لا یعمی الابصار ولکن یعمی القلوب التی فی الصدور

حقیقت  ھیکہ آنکھیں  اندھی نہیں  ہوتی مگر ان کے دل اندھے ہے جو سینوں  میں  ہے۔(سورہ الحج ۔46)

 

قلب اللاھی۔۔۔یہ وہ دل جو قرآن  سے غافل ہے اور دنیا کی رنگینوں میں  مگن ہے۔

لاھیة قلوبھم (سورہ الانبیاء۔3)

 

غلاف  والے دل۔۔۔ایسے دل جن کے اندر توحید ،رسالت،اور آخرت کا انکار کیا۔کفر کی وجہ سے ان کے دل بند ہوگے۔

وقالو قلوبنا غلف

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں۔

مہر لگے دل۔۔۔۔گناہ کی زیادتی ان کےدل کو سیاہ کر دیتی ہے۔پھر مہر لگ جاتی۔

ختم اللہ علی قلوبھم

اللہ تعالی  نے ان کے دلوں  پر مہرکردی ہے۔

 

دلوں کو پاک کرنے کے ذرائع :

 نماز۔۔۔ اللہ تعالی کی حمد و ثنا تسبیح و تکبیر تعظیم ے۔

بندہ جب رکوع اور سجدہ کرتا تب اپنے رب کی بندگی و عجزو نیازمندی کا اظہار کرتا ہے ہے اور اس کا دل شکر کی کیفیت پیدا کرتا ہے خدا کی راہ میں برابر آگے بڑھتا ہے اور نافرمانیوں سےدور ہوتا جاتا ہے ۔

" اِنٗ الصٗلوةتنھی عن الفحشاء والمنکر

 نماز برائی اور بے حیائی سے بچاتی ہے۔"

 نبیﷺ نے فر مایا۔۔

 اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو جس میں وہ ہر دن پانچ بار غسل کرتا ہو تو بتاؤ اس کے جسم پر کچھ بھی میں میل کچیل باقی رہ سکتا ہے ۔صحابہ کرامرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا نہیں  اس پر ذرا بھی میل کچیل  نہیں رہے گا۔

 آپﷺ نے فرمایا یہی حال پانچ وقت کی نمازوں کا ہے اللہ نمازوں کے ذریعہ گناہوں کو مٹاتا ہے۔

 

  روزہ۔۔۔۔روزہ ایک ڈھال ہے جو انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے روزہ صرف پیٹ کا نہیں بلکہ جسم کے تمام اعضاء کا روزہ ہے یعنی روزہ بندے کو بے لگام نہیں چھوڑتا بلکہ بندھے گھوڑے کی طرح اپنے حدود میں رکھتا ہے  ۔ یہی تقویٰ ہے۔

 اللہ تعالی کا ارشاد ہے

"یایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتقون۔"

 تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں آئے جیسا کہ تم سے پہلے  لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم میں تقوی پیدا کی صفت پیدا ہو

اس طرح ححج،تلاوت قرآن ،ذکر اللہ اور دعائیں،نوافل،  بندہ کے دل کو پاک صاف کرتے رہتے ہیں یہاں  تک کہ بندہ سے اعمال صالحہ انجام پاتےہیں۔

نور،بصیرت ،حکمت،شرح صدر،فرقان  ،طمانيت ،سکینت

نصیب  ہوتا ہے۔

اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی کتاب بھیجی  جس نے  رہنمائی  کا سامان کیا اورہر بات کو کھول کھول کر بیان کیا  تاکہ قیامت میں  کوئی اپنے کۓ وبال میں  گرفتار  نہ ہو جاۓ ۔ اللہ ہمیں  اپنے دلوں کی اصلاح  کی توفیق  عطا فرماۓ ۔اور ایسے دلوں  سے بچائےجو ناکام و نامراد ہونگے۔

 

"یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔"(ترمذی)


Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں