تفہیم القران سیریز جلد چہارم عنوان -آخرت آخرت کے دلائل-1
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز جلد
چہارم
عنوان -آخرت
آخرت کے دلائل-1
صفحہ 37تا41
سورہ السجدہ آیات 4تا11
اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ
اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا
شَفِيْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۴يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ
السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ
مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۰۰۵ذٰلِكَ عٰلِمُ
الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُۙ۰۰۶الَّذِيْۤ
اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍۚ۰۰۷ثُمَّ جَعَلَ
نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍۚ۰۰۸ثُمَّ سَوّٰىهُ
وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ
الْاَفْـِٕدَةَ١ؕ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۰۰۹وَ قَالُوْۤا
ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِي الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ
بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ۰۰۱۰قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ
الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَؒ۰۰۱۱ سورہ السجدہ آیات 4تا11
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین
کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد
عرش پر جلوہ فرما ہوا ، اُس کے سوا نہ
تمہارا کوئی حامی ومددگار ہے اور نہ کوئی اس کے آگے سفارش کرنے والا ، پھر کیا تم
ہوش میں نہ آوٴ گے؟ وہ آسمان سے زمین تک
دُنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس
تدبیرکی روداد اوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں
جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔
وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا
، زبردست اور رحیم ۔ جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی ۔ اُس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی ،
پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے ، پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی ، اور تم کو کان دیے ، آنکھیں دیں اور دل
دیے ۔ تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں”جب ہم مٹی میں
رَل مِل چکے ہوں گےتوکیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟“اصل بات یہ ہے کہ
یہ اپنے ربّ کی ملاقات کے منکر ہیں۔ اِن
سے کہو ”موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرّر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے
میں لے لے گا اور پھر تم اپنے ربّ کی طرف پلٹا لائے جاوٴ گے۔
وہ اللہ ہی ہے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر٦
اب مشرکین کے دوسرے اعتراض کو لیا
جاتا ہے جو وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوتِ توحید پر کرتے تھے ۔ ان کو اس بات
پر سخت اعتراض تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے دیوتاؤں ،اور بزرگوں کی
معبودیت سے انکار کرتے ہیں اور ہانکے پکارے یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایک اللہ کے سوا
کوئی معبود کوئی کار ساز ، کوئی حاجت روا ، کوئی دعائیں سننے والا، اور بگڑی بنانے
والا ، اور کوئی حاکمِ ذی اختیار نہیں ہے ۔
عرش پر جلوہ فرما ہوا
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۷
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن
جلد دوم ص ۳۶۔۲۶۱۔۲۶۲۔۴۴۱۔۴۴۲۔
پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۸
یعنی تمہارا اصل خدا تو خالق زمین و
آسمان ہے ۔ تم کس خیالِ خام میں مبتلا ہو کہ کائنات کی اس عظیم الشان سلطنت میں
اُس کے سوا دوسروں کو کار ساز سمجھ بیٹھے ہو ۔ اس پوری کائنات کا اور اس کی ہر چیز
کا پیدا کرنے والا اللہ ہے ۔ اس کی ذات کے سوا ہر دوسری چیز جو یہاں پائی جاتی ہے
، مخلوق ہے ۔ اور اللہ اس دُنیا کو بنا دینے کے بعد کہیں جا کر سو بھی نہیں گیا ہے
، بلکہ اپنی اِس سلطنت کا تخت نشین اور حاکم و فرما روا بھی وہ آپ ہی ہے ۔ پھر
تمہاری عقل آخر کہاں چرنے چلے گئی ہے کہ تم مخلوقات میں سے چند ہستیوں کو اپنی
قسمتوں کا مالک قرار دے رہے ہو ؟ اگر اللہ تمہاری مدد نہ کرے تو ان میں سے کس کی
یہ طاقت ہے کہ تمہاری مدد کر سکے ؟ اگر اللہ تمہیں پکڑے تو ان میں سے کس کا یہ زور
ہے کہ تمہیں چھڑا سکے ؟اگر اللہ سفارش نہ
سنے تو ان میں سے کون یہ بل بوتا رکھتا ہے کہ اس سے اپنی سفارش منوا لے ؟
ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے
شمار سے ایک ہزار سال ہے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۹
یعنی تمہاری نزدیک جو ایک ہزار برس کی
تاریخ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گویا ایک دن کا کام ہے جس کی اسکیم آج کارکنان قضا
و قدر کے سپرد کی جاتی ہے اور کل وہ اس کی روداد اس کے حضور پیش کرتے ہیں تاکہ
دوسرے دن ( یعنی تمہارے حساب سے ایک ہزار برس ) کا کام ان کے سپرد کیا جائے ۔ قرآن
مجید میں یہ مضمون دو مقامات پر اور بھی آیا ہے جنہیں نگاہ میں رکھنے سے اس کا
مطلب اچھی طرح سمجھ میں آ سکتا ہے ۔ کفّارِ عرب کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و
سلم) کو نبوت کا دعویٰ لے کر سامنے آئے کئی برس گزر چکے ہیں ۔ وہ بار بار ہم سے
کہتے ہیں کہ اگر میری اس دعوت کو تم لوگ قبول نہ کرو گے اور مجھے جھٹلاؤ گے تو تم
پر خدا کا عذاب آ جائے گا ۔ مگر کئی برس سے وہ اپنی یہ بات دوہرائے جا رہے ہیں اور
آج تک عذاب نہ آیا ، حالانکہ ہم ایک دفعہ نہیں ہزاروں مر تبہ انہیں صاف صاف جھٹلا
چکے ہیں ۔ اُن کی یہ دھمکیاں واقعی سچی ہوتیں تو ہم پر نہ معلوم کبھی کا عذاب آ
چکا ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ سُورۂ حج میں فرماتا ہے
:
وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ
وَ لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ
سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۰۰۴۷ یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں
۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے
گا۔ مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تم لوگوں کے شمار سے ہزار برس جیسا ہوا کرتا ہے
۔
دوسری جگہ اسی بات کا جواب یہ دیا گیا
ہے :
سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ
وَّاقِعٍۙ۰۰۱لِّلْكٰفِرِيْنَ
لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰۲مِّنَ
اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِؕ۰۰۳تَعْرُجُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ
الرُّوْحُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِيْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ۰۰۴فَاصْبِرْ
صَبْرًا جَمِيْلًا۰۰۵اِنَّهُمْ
يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًاۙ۰۰۶وَّ
نَرٰىهُ قَرِيْبًاؕ۰۰۷
پوچھنے والا پوچھتا ہے اُس عذاب کو جو واقع
ہونے والا ہے کافروں کے لیے جس کو
دفع کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اُس خدا
کی طرف سے جو چَڑھتے درجوں والا ہے (یعنی درجہ بدرجہ کام کرنے والا
)۔چَڑھتے ہیں اس کی طرف ملائکہ اور روح ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار برس
ہے ۔ پس اے نبی ! صبر جمیل سے کام لو ۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب
دیکھ رہے ہیں ۔
ان تمام ارشادات سے جو بات ذہن نشین
کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں خدا کے فیصلے دنیا کی گھڑیوں اور
جنتریوں کے لحاظ سے نہیں ہوتے ۔ کسی قوم سے اگر کہا جائے کہ تم فلاں روش اختیار
کرو گے تو اس کا انجام تمہیں یہ کچھ دیکھنا ہو گا، تو وہ قوم سخت احمق ہو گی اگر
اس کا مطلب سمجھے کہ آج وہ روش اختیار کی جائے اور کل اس کے بُرے نتائج سامنے آ
جائیں ۔ ظہور نتائج کے لیے دن اور مہینے اور سال تو کیا چیز ہیں ، صدیاں بھی کوئی
بڑی مدّت نہیں ہیں ۔
وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے
والا
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۰
یعنی دوسرے جو بھی ہیں ان کے لیے ایک
چیز ظاہر ہے تو بے شمار چیزیں ان سے پوشیدہ ہیں ۔ فرشتے ہوں یا جن ،یا نبی اور ولی
اور برگزیدہ انسان ، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو سب کچھ جاننے والا ہو ۔
یہ صفت صرف اللہ تعا لیٰ کی ہے کہ اس پر ہر چیز عیاں ہے ۔ جو کچھ گزر چکا ہے ، جو
کچھ موجود ہے ، اور جو کچھ آنے والا ہے ،سب اس پر روشن ہے ۔
زبردست
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١١
یعنی ہر چیز پر غالب۔ کائنات میں کوئی
طاقت ایسی نہیں جو اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے اور اس کے حکم کو نافذ ہونے سے روک
سکے ۔ ہر شے اس سے مغلوب ہے اور کسی میں اس کے مقابلے کا بل بوتا نہیں ہے ۔
اور رحیم
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۲
یعنی اس غلبے اور قوتِ قاہرہ کے
باوجود وہ ظالم نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر رحیم و شفیق ہے ۔
جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۳
یعنی اس عظیم الشان کائنات میں اس نے
بے حد و حساب چیزیں بنائی ہیں ، مگر کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں ہے جو بے ڈھنگی
اور بے تُکی ہو۔ ہر شے اپنا ایک الگ حسن رکھتی ہے ۔ ہر شے اپنی جگہ متناسب اور
موزوں ہے ۔ جو چیز جس کام کے لیے بھی اُس نے بنائی ہے اس کے لیے موزوں ترین ہے ۔
جو چیز جس کام کے لیے بھی اس نے بنائی ہے اُس کے لیے موزوں ترین شکل پر ، مناسب
ترین صفات کے ساتھ بنائی ہے ۔ دیکھنے کے لیے آنکھ اور سننے کے لیے کان کی ساخت سے
زیادہ موزوں کسی ساخت کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا ۔ ہوا اور پانی جن مقاصد کے لیے
بنائے گئے ہیں ان کے لئے ہوا ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ہونی چاہیے ،اور پانی وہی اوصاف
رکھتا ہے جیسے ہونے چاہییں ۔ تم خدا
کی بنائی ہوئی کسی چیز کے نقشے میں کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کر سکتے ہو ۔
پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی
جو حقیر پانی کی طرح کا ہے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۴
یعنی پہلے اس نے براہ راست اپنے
تخلیقی عمل(Direct Creation ) سے انسان کو پیدا
کیا ،اور اس کے بعد خود اسی انسان کے اندر تناسل کی یہ طاقت رکھ دی کہ اس کے نطفہ
سے ویسے ہی انسان پیدا ہوتے چلے جائیں ۔ ایک کمال یہ تھا کہ زمین کے مواد کو جمع
کر کے ایک تخلیقی حکم سے اُس میں وہ زندگی اور وہ شعور و تعقل پیدا کر دیا جس سے
انسان جیسی ایک حیرت انگیز مخلوق وجود میں آ گئی۔اور دوسرا کمال یہ ہے کہ آئندہ
مزید انسانوں کی پیدائش کے لیے ایک ایسی عجیب مشینری خود انسانی ساخت کے اندر رکھ
دی جس کی ترکیب اور کارگزاری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔
یہ آیت قرآن مجید کی اُن آیات میں سے
ہے جو انسان اوّل کی براہ راست تخلیق کی تصریح کرتی ہیں ۔ ڈارون کے زمانہ سے سائنس
داں حضرات اس تصور پر بہت ناک بھوں چَڑھاتے ہیں اور بڑی حقارت کے ساتھ وہ اس کو
ایک غیر سائنٹیفک نظریہ قرار دے کر گویا پھینک دیتے ہیں ۔ لیکن انسان کی نہ سہی،
تمام انواعِ حیوانی کی نہ سہی، اوّلین جرثومۂ حیات کی براہِ راست تخلیق سے تو وہ
کسی طرح پیچھا نہیں چھڑا سکتے ۔ اس تخلیق کو نہ مانا جائے تو پھر یہ انتہائی لغو
بات ماننی پڑے گی کہ زندگی کی ابتدا محض ایک حادثہ کے طور پر ہوئی ہے ، حالاں کہ
صرف ایک خُلیّہ (Cell )والے
حیوان میں زندگی کی سادہ ترین صورت بھی اتنی پیچیدہ اور نازک حکمتوں سے لبریز ہے
کہ اسے حادثہ کا نتیجہ قرار دینا اُس سے لاکھوں درجہ غیر سائنٹیفک بات ہے جتنا
نظریۂ ارتقاء کے قائلین نظریۂ تخلیق کو ٹھیراتے ہیں ۔ اور اگر ایک دفعہ آدمی یہ
مان لے کہ حیات کا پہلا جرثومہ براہِ راست تخلیق سے وجود میں آیا تھا ، پھر آخر
یہی ماننے میں کیا قباحت ہے کہ ہر نوعِ حیوانی کا پہلا فرد خالق کے تخلیقی عمل سے
پیدا ہوا ہے ، اور پھر اس نسل تناسُل (Procreation )کی
مختلف صورتوں سے چلی ہے ۔ اس بات کو مان لینے سے وہ بہت سی گتھیاں حل ہو جاتی ہیں
جو ڈارونیت کے علمبرداروں کی ساری سائنٹیفک شاعری کے باوجود ان کے نظریۂ ارتقاء
میں غیر حل شدہ رہ گئی ہیں ۔(مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اوّل ،
صفحات ۲۵۹۔۳۱۹۔۵۶۶۔جلد دوم، صفحات ۱۰۔۱۱۔۱۰۶۔۵۰۴۔ جلد سوّم ، صفحات ۲۰۱۔ ۲۶۹)۔
پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۵
یعنی ایک باریک خورد بینی وجود سے
بڑھا کر اسے پوری انسانی شکل تک پہنچایا اور اس کا جسم سارے اعضاء و جوارح کے ساتھ
مکمل کر دیا۔
اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١٦
روح سے مراد محض وہ زندگی نہیں ہے جس
کی بدولت ایک ذی حیات جسم کی مشین متحرک ہوتی ہے ، بلکہ اس سے مُراد وہ خاص جوہر
ہے جو فکر و شعور اور عقل و تمیز اور فیصلہ و اختیار کا حامل ہوتا ہے ، جس کی
بدولت انسان تمام دوسری مخلوقاتِ ارضی سے ممتاز ایک صاحبِ شخصیّت ہستی ، صاحبِ
اَنا ہستی، اور حامِل خلافت ہستی بنتا ہے ۔اِس روح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی روح یا
تو اس معنی میں فرمایا ہے کہ وہ اُسی کی مِلک ہے اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف اس کا
انتساب اُسی طرح کا ہے جس طرح ایک چیز اپنے مالک کی طرف منسُوب ہو کر اُس کی چیز
کہلاتی ۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر علم،فکر ، شعور، ارادہ،فیصلہ،اختیار
اور ایسے ہی دوسرے جو اوصاف پیدا ہوئے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تُو
ہیں ۔ ان کا سر چشمہ مادّے کی کوئی ترکیب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔
اللہ کے علم سے اس کو علم ملا ہے ، اللہ کی حکمت سے اس کو دانائی ملی ہے ، اللہ کے
اختیار سے اس کو اختیار ملا ہے ۔ یہ اوصاف کسی بے علم ،بے دانش اور بے اختیار ماخذ
سے انسان کے اندر نہیں آئے ہیں ۔ (مزید تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جِلد
دوّم ، صفحات ۵۰۴۔۵۰۵)۔
سورہ حجر آیت 25
وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ
يَحْشُرُهُمْ
یقیناً تمہارارب ان سب کو اکٹھا کرے گا
یعنی اس کی حکمت یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ سب کو اکٹھا کرے،اور اس کا علم سب پر
اس طرح حاوی ہے کہ کوئی متنفس اس سے چھوٹ نہیں سکتا، بلکہ اگلے پچھلے انسان کی خاک کا کوئی ذرّہ بھی اس سے گم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جو شخص
حیات اخروی کو مستبعد سمجھتا ہے ، وہ خدا کی صفت حکمت سے بے خبر ہے، اور جو شخص
حیران ہوکر پوچھتا ہے کہ"جب مرنے کے بعد ہماری خاک کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے
گا تو ہم کیسے دوبارہ پیدا کئے جائیں گے وہ خدا کی صفت علم کو نہیں جانتا۔
اور تم کو کان دیے ، آنکھیں دیں اور
دل دیے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۷
یہ ایک لطیف انداز بیان ہے ۔ روح
پھونکنے سے پہلے انسان کا سارا ذکر صیغۂ غائب میں کیا جاتا رہا ۔’’اُس کی تخلیق
کی‘‘ ، ’’ اُس کی نسل چلائی ‘‘،’’اُس کو نِک سُک سے درست کیا ‘‘،’’ اُس کے اندر
روح پھونکی ‘‘۔ اس لیے اُس وقت تک وہ خطاب کے لائق نہ تھا ۔ پھر جب رُوح پھونک دی
گئی تو اب اُس سے فرمایا جا رہا ہے کہ ’’ تم کو کان دیے ‘‘،’’ تم کو آنکھیں دیں
‘‘،’’ تم کو دِل دیے ‘‘ اس لیے کہ حامِل رُوح ہو جانے کے بعد ہی وہ اس قابل ہوا کہ
اُسے مخاطب کیا جائے ۔
کان اور آنکھوں سے مُراد وہ ذرائع ہیں
جن سے انسان علم حاصل کرتا ہے ۔ اگرچہ حصُولِ علم کے ذرائع ذائقہ اور لامسہ اور
شامّہ بھی ہیں ، لیکن سماعت و بینائی تمام دوسرے حواس سے زیادہ بڑے اور اہم ذرائع
ہیں ، اس لیے قرآن جگہ جگہ انہی دو کو خدا کے نمایاں عطیّوں کی حیثیت سے پیش کرتا
ہے ۔ اس کے بعد ’’دِل ‘‘سے مُراد وہ ذہن
(Mind )ہے جو حواس کے ذریعہ سے حاصل شدہ معلومات
کو مرتب کر کے ان سے نتائج نکالتا ہے اور عمل کی مختلف اِمکانی راہوں میں سے کوئی
ایک راہ منتخب کرتا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔
تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر١۸
یعنی یہ عظیم القدر انسانی روح اِتنے
بلند پایہ اوصاف کے ساتھ تم کو اس لیے تو عطا نہیں کی گئی تھی کہ تم دنیا میں
جانوروں کی طرح رہو اور اپنے لیے بس وہی زندگی کا نقشہ بنا لو جو کوئی حیوان بنا
سکتا ہے ۔ یہ آنکھیں تمہیں چشم بصیرت سے دیکھنے کے لیے دی گئی تھیں نہ کہ اندھے بن
کر رہنے کے لیے ۔ یہ کان تمہیں گوش ہوش سے سننے کے لیے دیے گئے تھے نہ کہ بہرے بن
کر رہنے کے لیے ۔ یہ دِل تمہیں اس لیے دیے گئے تھے کہ حقیقت کو سمجھو اور صحیح
راہِ فکر و عمل اختیار کرو، نہ اِس لیے کہ اپنی ساری صلاحیتیں صرف اپنی حیوانیت کی
پرورش کے وسائل فراہم کرنے میں صرف کر دو ، اور اس سے کچھ اونچے اُٹھو تو اپنے
خالق سے بغاوت کے فلسفے اور پروگرام بنانے لگو ۔ یہ بیش قیمت نعمتیں خدا سے پانے
کے بعد جب تم دہریّت یا شرک اختیار کرتے ہو، جب تم خود خدا یا دوسرے خداؤں کے بندے
بنتے ہو ، جب تم خواہشات کے غلام بن کر جسم و نفس کی لذّتوں میں غرق ہو جاتے ہو،
تو گویا اپنے خدا سے یہ کہتے ہو کہ ہم ان نعمتوں کے لائق نہ تھے ، ہمیں انسان
بنانے کے بنائے تجھے ایک بندر، یا ایک بھیڑیا ، یا ایک مگر مچھ یا ایک کوّا بنانا
چاہیے تھا۔
اور یہ لوگ کہتے ہیں
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر ۱۹
رسالت اور توحید پر کفار کے اعتراضات
کا جواب دینے کے بعد اب اسلام کے تیسرے بُنیادی عقیدے یعنی آخرت پر اُن کے اعتراض
کو لے کر اس کا جواب دیا جاتا ہے ۔ آیت میں وَقَالُوْا کا واؤ عطف مضمونِ
ماسبق سے اس پیراگراف کا تعلق جوڑتا ہے ۔
گویا ترتیب کلام یوں ہے کہ ’’ وہ کہتے ہیں محمدؐ اللہ کے رسول نہیں ہیں ‘‘ ،اور ’’
وہ کہتے ہیں کہ ہم مر کر دوبارہ نہ اُٹھیں گے ‘‘۔
یہ اپنے ربّ کی ملاقات کے منکر ہیں
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۲۰
اوپر کے فقرے اور اس فقرے کے درمیان
پوری ایک داستان کی داستان ہے جسے سامع کے ذہن پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کفّار کا جو
اعتراض پہلے فقرے میں نقل گیا ہے وہ اتنا مہمل ہے کہ اس کی تردید کی حاجت محسوس
نہیں کی گئی۔ اس کا محض نقل کر دینا ہی اس کی لغویت ظاہر کرنے کے لیے کافی سمجھا
گیا ۔ اس لیے کہ ان کا اعتراض جن دو اجزاء پر مشتمل ہے وہ دونوں ہی سراسر غیر
معقول ہیں ۔ ان کا یہ کہنا کہ ’’ ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے ‘‘ آخر کیا معنی
رکھتا ہے ۔’’ہم‘‘ جس چیز کا نام ہے وہ مٹی میں کب رَ لتی مِلتی ہے ؟( مٹی میں تو
صرف وہ جسم ملتا ہے جس سے ’’ہم ‘‘ نکل چکا ہوتا ہے ۔ اس جسم کا نام ’’ہم ‘‘ نہیں
ہے ۔ زندگی کی حالت میں جب اس جسم کے اعضاء کاٹے جاتے ہیں تو عضو پر عضو کٹتا چلا
جاتا ہے مگر ’’ہم ‘‘پورا کا پورا اپنی جگہ موجود رہتا ہے ۔ اس کا کوئی جُز بھی کسی
کٹے ہوئے عضو کے ساتھ نہیں جاتا ۔ اور جب یہ ’’ہم ‘‘ کسی جسم میں سے نکل جاتا ہے
تو پورا جسم موجود ہوتے ہوئے بھی اس پر اس ’’ہم ‘‘ کے کسی ادنی شائبے تک کا اطلاق
نہیں ہوتا ۔اسی لیے تو ایک عاشق جاں نثار اپنے معشوق کے مُردہ جسم کو لے جا کر دفن
کر دیتا ہے ‘ کیونکہ معشوق اس جسم سے نکل چکا ہوتا ہے ۔ اور وہ معشوق نہیں بلکہ اس
کے خالی جسم کو دفن کر تا ہے جس میں کبھی اس کا معشوق رہتا تھا ۔پس معترضین کے
اعتراض کا پہلا مقدمہ ہی بے بنیاد ہے ۔ رہا اس کا دوسرا جز: ’’ کیا ہم پھر نئے سرے
سے پیدا کیے جائیں گے ‘‘ ؟تو یہ ا نکار و تعجب کے انداز کا سوال سرے سے پیدا ہی نہ
ہوتا اگر معترضین نے بات کرنے سے پہلے اس ’’ ہم‘‘ اور اس کے پیدا کیے جانے کے
مفہوم پر ایک لمحہ کے لیے کچھ غور کر لیا ہوتا۔اس ’’ہم‘‘ کی موجودہ پیدائش اس کے
سوا کیا ہے کہیں لوہا کہیں سے چونا اور
اسی طرح کے دوسرے اجزاء جمع ہوئے اور اس کالبُد خاکی میں یہ ’’ ہم‘‘ براجمان ہو
گیا ۔ پھر اس کی موت کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس لبدِ خاکی میں سے جب ’’ہم‘‘ نِکل
جاتا ہے تو اس کا مکان تعمیر کرنے کے لیے جو اجزاء زمین کے مختلف حصوں سے فراہم
کیے گئے تھے وہ سب اسی زمین میں واپس چلے جاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جس نے پہلے اس
’’ ہم ‘‘کو یہ مکان بنا کر دیا تھا، کیا وہ دوبارہ اسی سر و سامان سے وہی مکان بنا
کر اسے از سر نو اس میں نہیں بسا سکتا ؟ یہ چیز جب پہلے ممکن تھی اور واقعہ کی
صورت میں رونما ہو چکی ہے ، تو دوبارہ اس کے ممکن ہونے اور واقعہ بننے میں آخر کیا
امر مانع ہے ؟ یہ باتیں ایسی ہیں جنہیں ذرا سی عقل آدمی استعمال کرے تو خود ہی
سمجھ سکتا ہے ۔ لیکن وہ اپنی عقل کو اس رُخ پر کیوں نہیں جانے دیتا ؟ کیا وجہ ہے
کہ وہ بے سوچے سمجھے حیات بعد الموت اور آخرت پر اس طرح کے لا یعنی اعتراضات جڑتا
ہے ؟بیچ کی ساری بحث چھوڑ کر اللہ تعالیٰ دوسرے فقرے میں اسی فقرے میں اسی سوال کا
جواب دیتا ہے کہ ’’دراصل یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں ‘‘۔یعنی اصل بات یہ
نہیں ہے کہ دوبارہ پیدائش کوئی بڑی ہی انوکھی اور بعید از امکان بات ہے جو ان کی
سمجھ میں نہ آسکتی ہو، بلکہ دراصل جو چیز انہیں یہ بات سمجھنے سے روکتی ہے وہ ان
کی یہ خواہش ہے کہ ہم زمین میں چھُوٹے پھریں اور دِل کھول کر گناہ کریں اور پھر
نِلُوہ (Scot-free )یہاں
سے نکل جائیں ۔پھر ہم سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہو ۔ پھر اپنے کرتوتوں کا کوئی حساب
ہمیں نہ دینا پڑے ۔
تم اپنے ربّ کی طرف پلٹا لائے جاوٴ گے
سورة السجدۃ حاشیہ نمبر۲١
یعنی تمہارا ’’ہم ‘‘ مِٹی میں رَل مِل
نہ جائے گا، بلکہ اس کی مہلتِ عمل ہوتے ہی خدا کا فرشتہ ، موت آئے گا اور اُسے جسم
سے نکال کر سَمُوچا اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ اُس کا کوئی ادنیٰ جُز بھی جسم کے
ساتھ مِٹی میں نہ جا سکے گا ۔ اور وہ پورا کا پورا حراست(Cuatody
)میں لے لیا جائے گا اور اپنے رب کے حضور پیش کر دیا
جائے گا ۔
اس مختصر سی آیت میں بہت سے حقائق پر
روشنی ڈالی گئی ہے جن پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے
:
۱)۔اس میں تصریح ہے کہ موت کچھ یوں ہی نہیں آ
جاتی کہ ایک گھڑی چل رہی تھی ، کُوک ختم ہوئی اور وہ چلتے چلتے یکایک بند ہو گئی ۔
بلکہ دراصل اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص فرشتہ مقرر کر رکھا ہے جو آ کر
باقاعدہ رُوح کو ٹھیک اُسی طرح وصول کرتا ہے جس طرح ایک سرکاری امین (Official Receiver )کسی چیز کو اپنے
قبضے میں لے لیتا ہے ۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر اس کی مزید تفصیلات جو بیان کی گئی
ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس افسرِ موت کے ماتحت فرشتوں کا ایک پورا عملہ ہے جو
موت وارد کرنے اور روح کو جسم سے نکالنے اور اس کو قبضے میں لینے کی بہت سی مختلف
النوع خدمات انجام دیتا ہے ۔ نیز یہ کہ اس عملے کا برتاؤ مجرم روح کے ساتھ کچھ
اَور ہوتا ہے اور مومنِ صالح رُوح کے ساتھ کچھ اور۔(اِن تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو
سورۂ نساء، آیت ۹۷۔الانعام
، ۹۳۔
النحل ، ۲۸۔
الواقعہ، ۸۳۔۹۴۔
۲)۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت سے انسان
معدوم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی روح جسم سے نکل کر باقی ر ہتی ہے ۔قرآن کے الفاظ ’’
موت کا فرشتہ تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لیگا ۔ ‘‘ اسی حقیقت پر دلالت
کرتے ہیں کیونکہ کوئی معدوم چیز قبضے میں لینے کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ مقبوضہ چیز
قابض کے پاس رہے ۔
۳) اس
سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت جو چیز قبضے میں لی جاتی ہے وہ آدمی کی حیوانی
زندگی (Biological life
)نہیں بلکہ اس کی وہ خود ی ‘ اس کی وہ
اَنا (Ego
)ہے جو ’’ میں ‘‘ اور ’’ ہم‘‘ اور’’ تم‘‘ کے الفاظ تعبیر کی جاتی ہے ۔یہ انا دنیا
میں کام کر کے جیسی کچھ شخصیت بھی بنتی ہے وہ پوری جوں کی توں (Intact )نکال لی جاتی ہے بغیر اس کے کہ اس کے اوصاف میں کو ئی کمی بیشی
ہو ۔ اور وہی چیز موت کے بعد اپنے رب کی طرف پلٹا ئی جاتی ہے ۔ اسی کو آخرت میں نیا
جنم اور نیا جسم دیا جائے گا اُسی پر
مقدمہ قائم کیا جائے گا ‘ اسی سے حساب لیا جائے گا اور اسی کو جزا و سزا دیکھنی ہو
گی ۔
Comments
Post a Comment