آخرت کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے۔ فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم
آخرت کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے۔
فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم،
صفحہ 20سورہ حج آیت 5
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ
الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ
عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ
لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ
نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ
يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا
يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ
اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ
زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ۰۰۵ سورہ حج آیت 5
لوگو، اگر تمہیں زندگی بعدِ موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو
تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر
نطفے سے 5 ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی
ہے اور بے شکل بھی۔ (یہ ہم اِس لیے بتا رہے ہیں)تاکہ
تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے)کو چاہتے
ہیں ایک وقتِ خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچے کی صُورت میں
نکال لاتے ہیں( پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں)تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو۔ اور
تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا
جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سُوکھی پڑی ہے، پھر
جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پَھبک اُٹھی اور پُھول گئی اور اس نے
ہر قسم کی خوش منظر نباتات اُگلنی شروع کر دی۔ سورہ حج آیت 5
پھر نطفے سے
سورة الحج حاشیہ نمبر۵
اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ہر انسان اُن مادّوں سے پیدا کیا
جاتا ہے جو سب کے سب زمین سے حاصل ہوتے ہیں
اور اِس تخلیق کی ابتدا نطفے سے ہوتی ہے۔ یا
یہ کہ نوعِ انسانی کا آغاز آدم علیہ السّلام سے کیا گیا جو براہِ راست مٹی سے
بنائے گئے تھے ، اور پھر آگے نسلِ انسانی کا سلسلہ نطفے سے چلا، جیسا کہ سُورۂ
سجدہ میں فرمایا وَبَدَ ءَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ، ثُمَّ جَعَلَ
نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ۔ (آیات ۷ – ۸)” انسان
کی تخلیق مٹی سے شروع کی، پھر اس کی نسل ایک سَت سے چلائی جو حقیر پانی کی شکل میں نکلتا ہے“۔
بے شکل بھی
سورة الحج حاشیہ نمبر٦
یہ اشارہ ہے اُن مختلف ادوار کی طرف جن سے ماں کے پیٹ میں
بچہ گزرتا ہے۔ ان کی وہ تفصیلات بیان نہیں کی گئی
جو آج کل صرف طاقت ور خور دبینوں ہی سے نظر آ سکتی ہیں، بلکہ ان بڑے بڑے
نمایاں تغیرات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اُس زمانے کے عام بدّو بھی واقف تھے۔ یعنی
نطفہ قرار پانے کے بعد ابتداءً جمے ہوئے خون کا ایک لوتھڑا سا ہوتا ہے، پھر وہ
گوشت کی ایک بوٹی میں تبدیل ہو تا ہے جس میں پہلے شکل صورت کچھ نہیں ہوتی اور آگے
چل کر انسانی شکل نمایاں ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اِسقاطِ حمل کی مختلف حالتوں میں چونکہ تخلیق انسانی کے یہ سب مراحل
لوگوں کے مشاہدے میں آتے تھے، اس لیے انہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس کو سمجھنے
کے لیے علم الجنین کی تفصیلی تحقیقات کی نہ اُس وقت ضرورت تھی نہ آج ہے۔
پھر کچھ نہ جانے
سورة الحج حاشیہ نمبر۷
یعنی بڑھاپے کی وہ حالت جس میں آدمی کو اپنے تن بدن کا ہوش
بھی نہیں رہتا ۔ وہی شخص جو دوسروں کو عقل بتاتا تھا ، بوڑھا ہو کر اُس حالت کو
پہنچ جاتا ہے جو بچے کی حالت سے مشابہ ہوتی ہے۔ جس علم و واقفیت اور تجربہ کاری و
جہاں دیدگی پر اس کو ناز تھا وہ ایسی بے خبری میں تبدیل ہو جاتی ہے کہ بچے تک اس کی
باتوں پر ہنسنے لگتے ہیں۔
آخرت کا انکار دراصل خدا کا انکار ہے۔
فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم،
صفحہ 295
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا
ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠۰۰۸۲لَقَدْ
وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ
اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۸۳ سورہ مؤمنون آیات 82، 83
یہ کہتے ہیں ”کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا
پنجر بن کر رہ جائیں گے توہم کو پھر زندہ کر کے اُٹھا یا جائے گا؟ ہم نے بھی یہ
وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض
افسانہائے پارینہ ہیں۔ سورہ مؤمنون آیات 82، 83
سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۷۷
خیال رہے کہ اُن کا آخرت کو مستبعد سمجھنا صرف آخرت ہی کا
انکار نہ تھا، خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار تھا۔
اصحاب کہف کا قصہ آخرت کے وقوع کے دلائل میں سے ہے۔
فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 16، 17
سورہ کہف آیت 19
وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِيَتَسَآءَلُوْا بَيْنَهُمْ١ؕ
قَالَ قَآىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ
يَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ سورہ کہف آیت 19
ا ور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک
نے پوچھا”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “ دُوسروں نے کہا” شاید دن پھر یا اس سے
کچھ کم رہے ہوں گے۔“پھروہ بولے”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں
گزرا۔ سورہ کہف آیت 19
انہیں اُٹھا بٹھایا
سورة الکھف حاشیہ نمبر١٦
یعنی جیسے عجیب طریقے
سے وہ سلائے گئے تھے اور دنیا کو ان کے حال سے بے خبر رکھا گیا تھا، ویسا ہی عجیب
کرشمہ قدرت ان کا ایک طویل مدت کے بعد جاگنا بھی تھا۔
آخرت کا وقوع عقل و انصاف کا تقاضا ہے
فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم
صفحہ 607
سورہ نمل آيات 88تا90
وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ
تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ
اِنَّهٗ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ۰۰۸۸مَنْ جَآءَ
بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ۰۰۸۹وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ١ؕ هَلْ
تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۹۰ سورہ نمل آيات 88تا90
۔ آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے
ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرتت کا
کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم
لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں
گے۔ اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں
گے ۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟
تم لوگ کیا کرتے ہو
سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۷
یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم
کو عقل و تمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال افعال سے بے خبر رہے گا
اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے
ہو۔
صلہ ملے گا
سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۸
یعنی وہ اس لحاظ سے
بھی بہتر ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی
اس سے زیادہ انعام اسے دیا جائے گا۔ اور
اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود
زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔
ہَول سے محفوظ ہوں گے
سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹
یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے
حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ یہ سب کچھ ان توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے
سے اللہ اور اسکے رسولوں کی دی ہوئی خبروں
کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہو نی ہے ، ایک دوسری زندگی پیش آنی
ہے اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے ۔ اس لیے
ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جو مرتے دم تک اس چیزکا انکار کرنے
والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی
ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے
لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جوان
لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل
کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ
کوئی آخرت بھی ہے جس کےلیے کچھ سامان کرنا ہے ۔ منکرین کے بر عکس یہ مومنین
اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور
صعوبتیں اور مشقتیں برداشت کی تھیں، وہ دن
آگیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔
جیسا کرو ویسا بھرو
سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹(الف)۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئی ہے
کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا
اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔اس کی مزیدمثالوں کے لیے
ملاحظہ ہو ، یونس ، آیات۲۶۔۲۷۔ القصص، آیت۸۴۔ العنکبوت، آیت۷۔ سبا، آیات۳۷تا۳۸۔
المومن، آیت۴۰۔
آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا بے معنی ہے۔
فہرست موضوعات -تفہیم القرآن جلد سوم
صفحات 26، 27
سورہ کہف آیات 35،
36، 37
وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ
مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ۰۰۳۵وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى
رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا۰۰۳۶قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ
مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ۰۰۳۷
سورہ کہف آیات 35، 36، 37
پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا”میں
نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی، اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی
کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے ربّ کے حضُور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔“ اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اُس سے کہا”کیا
تُو کُفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیااور تجھے
ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟
پھر وہ اپنی جنّت میں داخل
ہوا
سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۷
یعنی جن باغوں کو وہ اپنی جنت سمجھ رہا تھا۔ کم
ظرف لوگ جنہیں دنیا میں کچھ شان و شوکت حاصل ہو جاتی ہے ، ہمیشہ اس غلط فہمی میں
مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں دنیا ہی میں جنت نصیب ہو چکی ہے ، اب اور کونسی جنت ہے
جسے حاصل کرنے کی وہ فکر کریں۔
اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں
گا۔“
سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۸
یعنی اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے بھی تو میں
وہاں اس سے بھی زیادہ خوش حال رہوں گا کیونکہ یہاں میرا خوشحال ہونا اس بات کی دلیل
ہے کہ میں خدا کا محبوب اور اس کا چہیتا ہوں۔
تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟
سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۹
اگر چہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا
تھا، بلکہ وَلَئِنْ رُّ دِدْتُّ اِلٰی رِبِّیْ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا
کے وجود کا قائل تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم
قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کے انکار ہی کا نام نہیں ہے
بلکہ تکبُّر اور فخر و غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے۔ جس نے یہ سمجھا
کہ بس میں ہی میں ہوں ، میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت
و قابلیت کا نتیجہ ہے ، اور میری دولت لازوال ہے ، کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا
نہیں ، اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں ، وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو محض
ایک وجود کی حیثیت سے مانتا ہے ، اپنے مالک اور آقا اور فرماں روا کی حیثیت سے نہیں
مانتا۔ حالانکہ ایمان باللہ اِسی حیثیت سے خدا کو ماننا ہے نہ کہ محض ایک موجود
ہستی کی حیثیت سے۔
Comments
Post a Comment