آخرت کو نہ ماننے والے ہمیشہ انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں۔ تفہیم القرآن جلد سوم

 آخرت کو نہ ماننے والے وہی ہیں جو راہ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔

تفہیم القرآن جلد سوم

صفحہ

292،  293

سورہ مؤمنون آیت 74

وَ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ۰۰۷۴ سورہ مؤمنون آیت 74

تُو تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بُلا رہا ہے۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۷١

یعنی آخرت کے انکار نے ان کو غیر ذمہ دار ، اور احساس ذمہ داری کے فقدان نے ان کو بے فکر بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب وہ سرے سے یہی نہیں سمجھتے کہ ان کی اس زندگی کا کوئی مآل اور نتیجہ بھی ہے اور کسی کے سامنے اپنے اس پورے کارنامۂ حیات کا حساب بھی دینا ہے، تو پھر انہیں اس کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ جانوروں کی طرح ان کی بھی غایتِ مقصود بس یہ ہے کہ ضروریات ِ نفس و جسم خوب اچھی طرح پوری ہوتی رہیں۔ یہ مقصود حاصل ہو تو پھر حق و باطل کی بحث ان کے  لیے محض لا یعنی ہے۔ اور اس مقصد کے حصول میں کوئی خرابی رونما ہو جائے تو زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ سوچیں گے وہ صرف یہ کہ اُس خرابی کا سبب کیا ہے اور اسے کس طرح دُور کیا جا سکتا ہے ۔ راہِ راست اس ذہنیت کے لوگ نہ چاہ سکتے ہیں نہ پا سکتے ہیں۔

آخرت کو نہ ماننے والے ہمیشہ انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں۔

تفہیم القرآن جلد سوم

صفحہ  277تا279 سورہ مؤمنون آیات 31تا44

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَۚ۰۰۳۱فَاَرْسَلْنَا فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَؒ۰۰۳۲وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ۰۰۳۳وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ۰۰۳۴اَيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ۰۰۳۵هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ۰۰۳۶اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ۪۠ۙ۰۰۳۷اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ ا۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۳۸قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ۰۰۳۹قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَۚ۰۰۴۰فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۱ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِيْنَؕ۰۰۴۲مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا يَسْتَاْخِرُوْنَ۠ؕ۰۰۴۳ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۴۴ سورہ مؤمنون آیات 31تا44

ان کے بعد ہم نے ایک دُوسرے دور کی قوم اُٹھائی۔  پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسُول بھیجاّجس نے انہیں دعوت دی)کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھُٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسُودہ کر رکھا تھا،  وہ کہنے لگے”یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا ۔ جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے۔ 36 یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاوٴگے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاوٴ گے اُس وقت تم (قبروں سے)نکالے جاوٴ گے؟ بعید، بالکل بعید ہےیہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے۔ زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی ۔ یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھُوٹ گھڑ رہا ہے  اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں۔“ رسُول  نے کہا”پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر تُو ہی میری نُصرت فرما۔“ جواب میں ارشاد ہوا” قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے۔“ آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ ٴ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا  بنا کر پھینک دیا۔۔۔۔ دُور ہو ظالم قوم!

ان کے بعد ہم نے ایک دُوسرے دور کی قوم اُٹھائی

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۳۴

بعض لوگوں نے اس سے مراد قوم ثمود لی ہے، کیونکہ آگے چل کر  ذکر آرہا ہے کہ یہ قوم صَیْحَہ کے عذاب سے تباہ کی گئی ، اور دوسرے مقامات پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ثمود و ہ قوم ہے جس پر یہ عذاب آیا، (ہُود، ۶۷۔الحجر، ۸۳۔القمر، ۳۱)۔ بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ یہ ذکر دراصل قوم عاد کا ہے، کیونکہ قرآن کی رُو سے قومِ نوح کے بعد یہی قوم اُٹھا ئی گئی تھی،   وَاذْ کُرُوْ آ اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآ ءَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (اعراف، آیت ۶۹)۔ صحیح بات یہی دوسری معلوم ہوتی ہے کہ ، کیونکہ ”قومِ نوح کے بعد“ کا اشارہ اسی طرح رہنمائی کرتا ہے۔ رہا  صَیْحَہ (چیخ ، آوازہ، شور، ہنگامۂ عظیم) تو محض اس کی مناسبت اس قوم کو ثمود قرار دینے کےلیے کافی نہیں ہے، اس لیے کہ یہ لفظ جس طرح اُس آوازۂ تند کے لیے استعمال ہوتا ہے جو ہلاکتِ عام کی موجب ہو، اُسی طرح اُس شورو ہنگامہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو ہلاکتِ عام کے وقت برپا ہوا کرتا ہے خواہ سببِ ہلاکت کچھ بھی ہو۔

جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسُودہ کر رکھا تھا

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۳۵

یہ خصوصیات لائقِ غور ہیں۔ پیغمبر کی  مخالفت کے لیے اُٹھنے والے اصل لوگ وہ تھے جنہیں قوم کی سرداری حاصل تھی۔ ان سب کی مشترک گمراہی یہ تھی کہ وہ آخرت کے منکر تھے ، اس لیے خدا کے سامنے کسی ذمہ داری و جواب دِہی کا انہیں اندیشہ نہ تھا ، اور اسی لیے وہ دنیا کی اِس زندگی پر فریفتہ تھے اور ”مادّی فلاح و بہبُود“ سے بلند تر کسی قدر کے قائل نہ تھے۔ پھر اس گمراہی میں جس چیز نے ان کو بالکل ہی غرق کر دیا تھا وہ خوشحالی و آسودگی تھی جسے وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ وہ عقیدہ، وہ نظامِ اخلاق ، اور وہ طرزِ زندگی غلط بھی ہو سکتا ہے  جس پر چل کر انہیں دنیا میں یہ کچھ کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں۔ انسانی تاریخ بار بار اس حقیقت کو دُہراتی رہی ہے کہ دعوتِ حق کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ اِنہی تین خصوصیات  کے حامل لوگ ہوئے ہیں۔ اور یہی اُس وقت کا منظر بھی تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکّے میں اصلاح کی سعی فرما رہے تھے۔

اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے۔

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۳٦

36۔ بعض لوگوں نے یہ غلط سمجھا ہے کہ یہ باتیں وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ نہیں یہ خطاب در اصل عوام الناس سے تھا۔ سرداران قوم کو جب خطرہ ہوا کہ عوام پیغمبر کی پاکیزہ شخصیت اور دل لگتی باتوں سے متاثر ہو جائیں گے۔ اور ان کے متاثر ہو جانے کے بعد ہماری سرداری پھر کس پر چلے گی، تو انہوں نے یہ تقریریں کر کر کے عام لوگوں کو بہکانا شروع کیا۔ یہ اسی معاملے کا ایک دوسرا پہلو ہے جو اوپر سرداران قوم نوح کے ذکر میں بیان ہوا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ خدا کی طرف سے پیغمبری ویغمبری کچھ نہیں ہے ، محض اقتدار کی بھوک ہے جو اس شخص سے یہ باتیں کرا رہی ہے۔ یہ فرماتے ہیں کہ بھائیو ، ذرا غور تو کرو کہ آخر یہ شخص تم سے کس چیز میں مختلف ہے۔ ویسا ہی گوشت پوست کا آدمی ہے جیسے تم ہو۔ کوئی فرق اس میں اور تم میں نہیں ہے۔ پھر کیوں یہ بڑا بنے اور تم اس کے فرمان کی اطاعت کرو؟ ان تقریروں میں یہ بات گویا بلا نزاع تسلیم شدہ تھی کہ ہم جو تمہارے سردار ہیں تو ہمیں تو ہونا ہی چاہیے ، ہمارے گوشت پوست اور کھانے پینے کی نوعیت کی طرف دیکھنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ زیر بحث ہماری سرداری نہیں ہے ، کیونکہ وہ تو آپ سے آپ قائم اور مسلم ہے ، البتہ زیر بحث یہ نئی سرداری ہے جو اب قائم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس طرح ان لوگوں کی بات سرداران قوم نوح کی بات سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی جن کے نزدیک قابل الزام اگر کوئی چیز تھی تو وہ ’’ اقتدار کی بھوک‘‘ تھی جو کسی نئے آنے والے کے اندر محسوس ہو یا جس کے ہونے کا شبہ کیا جا سکے۔ رہا ان کا اپنا پیٹ، تو وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار بہر حال ان کی فطری خوراک ہے جس سے اگر وہ بد ہضمی کی حد تک بھی بھر جائے تو قابل اعتراض نہیں۔

یہ شخص خدا کے نام پر محض جھُوٹ گھڑ رہا ہے ۔

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۳٦ الف

یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کےیہ لوگ بھی منکر نہ تھے، ان کی بھی اصل گمراہی شرک ہی تھی۔ دوسرے مقامات پر بھی قرآن مجید میں اس قوم کا یہی جرم بیان کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو الاعراف ، آیت ۷۰۔ ہُود، آیات ۵۳ – ۵۴۔ حمٰ السجدہ، آیت ۱۴۔ الاحقاف، آیات ۲۱ -۲۲۔

ہم نے ان کو کچرا  بنا کر پھینک دیا

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۳۷

اصل میں لفظ غُثَاء استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں وہ کوڑا کرکٹ جو سیلاب کے ساتھ بہتا ہوا آتا ہے اور پھر کناروں پر لگ لگ کر پڑا سڑتا رہتا ہے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں