آخرت میں کسی کے ساتھ ظلم نہ ہوگا
آخرت میں کسی کے ساتھ ظلم نہ ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن-جلد سوم-آخرت
صفحہ 29
سورہ کہف آیت 49
وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ
فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ
يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً
اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ
لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًاؒ۰۰۴۹ سورہ کہف آیت 49
اور نامہٴ اعمال
سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے
اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی
کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ کی گئی ہو۔
جو جو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا ربّ کسی پر
ذرا ظلم نہ کرے گا۔
سورة الکھف حاشیہ
نمبر۴٦
یعنی ایسا ہر گز نہ
ہوگا کہ کسی نے کوئی جرم نہ کیا ہو اور وہ خواہ مخواہ اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیا
جائے ، اور نہ یہی ہوگا کہ آدمی کو اس کے جرم سے بڑھ کر سزا دی جائے یا بیگناہ پکڑ
کر سزا دے ڈالی جائے۔
آخرت میں کسی کے ساتھ
ظلم نہ ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن-جلد سوم-آخرت
صفحہ
127
سورہ طہ آیت 112
وَ مَنْ
يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا
هَضْمًا۰۰۱۱۲ سورہ طہ آیت 112
اور کسی ظلم یا حق
تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۷
یعنی وہاں فیصلہ ہر
انسان کے اوصاف (Merits ) کی بنیاد پر ہو گا۔ جو شخص کسی ظلم کا
بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس
نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلقِ خدا کے حقوق پر ، یا خود اپنے نفس پر
، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور
عملِ صالح (محض عمل ِ صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عملِ صالح، اور محض ایمان بھی
نہیں بلکہ عملِ صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوئے آئیں گے ، اُن کے لیے وہاں نہ
تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہو گا، یونہی خواہ
مخواہ بے قصُور ان کو سزا دی جائے گی، اور
نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور ان
کے جائز حقوق مار کھائے جائیں گے۔
آخرت میں کسی کے ساتھ
ظلم نہ ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن-جلد سوم-آخرت
صفحہ 162
سورہ انبیاء آیت 47
وَ نَضَعُ
الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا١ؕ
وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا
حٰسِبِيْنَ۰۰۴۷ سورہ انبیاء آیت 47
قیامت کے روز ہم ٹھیک
ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے ، پھر کسی شخص پر ذرا برابر ظلم نہ ہوگا۔ جس کا
رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم سامنے لے آئیں گے۔ اور حساب
لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔
سورة الانبیاء حاشیہ
نمبر۴۸
تشریح کے لیے ملاحظہ
ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف ،حاشیہ نمبر ۸ – ۹۔
ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہےکہ اس ترازو کی
نوعیت کیا ہو گی۔ بہر حال وہ کوئی ایسی چیز ہو گی جو مادّی چیزوں کو تولنے کے
بجائے انسان کے اخلاقی اوصاف و اعمال اور اس کی نیکی و بدی کو تولے گی اور ٹھیک ٹھیک
وزن کر کے بتا دے گی کہ اخلاقی حیثیت سے کس شخص کا کیا پایہ ہے۔ نیک ہے تو کتنا نیک
ہے اور بد ہے تو کتنا بد۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہماری زبان کے دوسرے الفاظ کو چھوڑ کر ”ترازو“ کا لفظ یا
تو اس وجہ سے انتخاب فرمایا ہے کہ اس کی
نوعیت ترازو سے اشبہ ہو گی ، یا اس انتخاب کا مقصد یہ تصوّر دلانا ہے کہ جس طرح ایک
ترازو کے پلڑے دو چیزوں کے وزن کا فرق ٹھیک ٹھیک بتا دیتے ہیں ، اسی طرح ہماری میزان
عدل بھی ہر انسان کے کارنامۂ زندگی کو جانچ کر بے کم و کاست بتا دے گی کہ اس میں
نیکی کا پہلو غالب ہے یا بدی کا۔
آخرت میں کسی کے ساتھ
ظلم نہ ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن-جلد سوم-آخرت
صفحہ287، 288
سورہ مؤمنون آیت 62
وَ لَا
نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ
هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۲ سورہ مؤمنون آیت 62
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور
ہمارے پاس ایک کتاب ہے ، جو (ہر ایک کا
حال )ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا۔
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے
سورة الموٴمنون حاشیہ
نمبر۵۵
اس سیاق و سباق میں یہ
فقرہ اپنے اندر بڑی گہری معنویت رکھتا ہے جسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ پچھلی آیتوں میں
بتایا گیا ہے کہ بھلائیاں لوٹنے والے اور سبقت
کر کے انہیں پا لینے والے دراصل کون لوگ ہیں اور ان کی صفات کیا ہیں۔ اس
مضمون کے بعد فوراً ہی یہ فرمایا کہ ہم کسی کو اس کی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے،
یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ سیرت، یہ اخلاق اور یہ کردار کوئی فوق البشری چیز نہیں ہے
۔ تم ہی جیسے گوشت پوست کے انسان اس روش پر چل کر دکھا رہے ہیں۔ لہٰذا تم یہ نہیں
کہہ سکتے کہ تم سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو انسانی مقدرت سے باہر
ہے۔ انسان کو تو مقدرت اُس رویّے کی بھی حاصل ہے جس پر تم چل رہے ہو ، اور اُس کی
بھی حاصل ہے جس پر تمہاری اپنی قوم کے چند اہلِ ایمان چل رہے ہیں۔ اب فیصلہ جس چیز
پر ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان دونوں امکانی رویّوں میں سے کون کس کا انتخاب کرتا ہے۔
اس انتخاب میں غلطی کر کے اگر آج تم اپنی ساری محنتیں اور کوششیں برائیاں سمیٹنے میں
صرف کر دیتے ہو اور بھلائیوں سے محروم رہ جاتے ہو، تو کل اپنی اس حماقت کا خمیازہ بھگتنے سے تم کو یہ جھوٹی
معذرت نہیں بچا سکے گی کہ بھلائیوں تک پہنچنے کا راستہ ہماری مقدرت سے باہر تھا۔
اُس وقت یہ عذر پیش کرو گے تو تم سے پوچھا جائے گا کہ اگر یہ راستہ انسانی مقدرت
سے باہر تھا تو تم ہی جیسے بہت سے انسان
اس پر چلنے میں کیسے کامیاب ہو گئے۔
اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے ، جو (ہر ایک کا حال )ٹھیک ٹھیک
بتا دینے والی ہے
سورة الموٴمنون حاشیہ
نمبر۵٦
کتاب سے مراد ہے
نامۂ اعمال جو ہر ایک شخص کا الگ الگ مرتب ہو رہا ہے ، جس میں اُس کی ایک ایک بات، ایک ایک حرکت، حتٰی کہ خیالات اور ارادوں
تک کی ایک ایک حالت ثبت کی جارہی ہے۔ اسی کے متعلق سورۂ کہف میں فرمایا گیا ہے کہ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ
فَتَرَ ی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ
یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ھٰذَا لْکِتٰبِ لَا یُغَادِ رُ صَغِیْرَ ۃً وَّلَا کَبِیْرَ
ۃً اِلَّآ اَحْصٰھَا ج وَوَ جَدُوْا مَا عَمِلُوْ ا حَاضِرًا ط وَلَا یَظْلِمُ
رَبُّکَ اَحَدًا o ”اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جا ئے گا ، پھر تم دیکھو گے کہ
مجرم لوگ اُس کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم
بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی یا
بڑی حرکت ایسی نہیں رہ گئی جو اس میں درج نہ ہو۔ جو جو کچھ انہوں نے کیا
تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے ، اور تیرا ربّ کسی پر ظلم کرنے والا نہیں ہے “۔ (آیت ۴۹)۔
بعض لوگوں نے یہاں کتاب سے مراد قرآن لے کر آیت کا مطلب خبط کر دیا ہے۔
اور لوگوں پر ظلم
بہرحال نہیں کیا جائے گا۔
سورة الموٴمنون حاشیہ
نمبر۵۷
یعنی نہ تو کسی کے
ذمے کوئی ایسا الزام تھوپا جائے گا جس کا وہ در حقیقت قصور وار نہ ہو، نہ کسی کی کوئی ایسی نیکی ماری جائے گی جس کے
صلے کا وہ فی الواقع مستحق ہو، نہ کسی کو بے جا
سزا دی جائے گی اور نہ کسی کو حق کے مطابق بجا انعام سے محروم رکھا جائے
گا۔
Comments
Post a Comment