آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

 آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 31

سورہ کہف آیات 52،  53

وَ يَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا۰۰۵۲وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًاؒ۰۰۵۳ سورہ کہف آیات 52،  53

پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا ربّ اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔  یہ اُن کو پکاریں گے ، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔  سارے مُجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔

پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔

سورة الکھف حاشیہ نمبر۵۰

یہاں پھر وہی مضمون بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے بھی کئی جگہ قرآن میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے احکام اور رہنمائی کا اتباع کرنا در اصل اس کو خدائی میں اللہ کا شریک ٹھیرانا ہے ، خواہ آدمی اس دوسرے کو زبان سے خدا کا شریک قرار دیتا ہو یا نہ قرار دیتا ہو۔ بلکہ اگر آدمی ان دوسری ہستیوں پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی امر الہٰی کے مقابلے میں ان کے اوامر کا اتباع کر رہا ہو تب بھی وہ شرک کا مجرم ہے۔ چنانچہ یہاں شیاطین کے معاملے میں آپ علانیہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر ایک ان پر لعنت کرتا ہے ، مگر اس لعنت کے باوجود جو لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں ، قرآن ان سب کو یہ الزام دے رہا ہے کہ تم شیاطین کو خدا کا شریک بنائے ہوئے ہو۔ یہ شرک اعتقادی نہیں بلکہ شرک عملی ہے اور قرآن اس کو بھی شرک ہی کہتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول، النساء حاشیہ ۹۱۔ ۱۴۵۔ الانعام، حاشیہ ۶۷۔ ۱۰۷ جلد دوم التوبہ ، حاشیہ ۳۱۔ ابراہیم، حاشیہ ۲۳۔ جلد سوم، مریم، حاشیہ ۲۷۔ المومنون، حاشیہ ۴۱۔ الفرقان، حاشیہ ۵۶۔ القصص، حاشیہ ۸۶ جلد چہارم ، سَبَا ، حاشیہ ۵۹۔ ۶۰۔ ۶۱۔ ۶۲ ۶۳۔ یٰسین ، حاشیہ ۵۳ ، الشوریٰ، حاشیہ ۳۸۔ لجاثیہ، حاشیہ ۳۰۔

ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔

سورة الکھف حاشیہ نمبر۵١

مفسرین نے اس آیت کے دو مفہوم بیان کیے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے اوپر ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ’’ ہم ان کے درمیان عداوت ڈال دیں گے ‘‘۔ یعنی دنیا میں ان کے درمیان جو دوستی تھی آخرت میں وہ سخت عداوت میں تبدیل ہو جائے گی۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 49،  50 

سورہ کہف آیات  103تا106

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًاؕ۰۰۱۰۳اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۰۰۱۰۴اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا۰۰۱۰۵ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ وَ رُسُلِيْ هُزُوًا۰۰۱۰۶ سورہ کہف آیات  103تا106

اے محمدؐ ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی  اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔

ان کی جزا جہنّم ہے اُس کُفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات  اور میرے رسُولوں کے ساتھ کرتے رہے۔

وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی

سورة الکھف حاشیہ نمبر۷٦

اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ’’ جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی‘‘۔ یعنی انہوں نے جو کچھ بھی کیا خدا سے بے نیاز اور اور آخرت سے بے فکر ہو کر صرف دنیا کے لیے کیا۔ دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھا۔ دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو اپنا مقصود بنا یا۔ خدا کی ہستی کے اگر قائل ہوئے بھی تو اس بات کی کبھی فکر نہ کی کہ اس کی رضا کیا ہے اور ہمیں کبھی اس کے حضور جا کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے۔ اپنے آپ کو محض ایک خود مختار و غیر ذمہ دار حیوان عاقل سمجھتے رہے جس کے لیے دنیا کی اس چراگاہ سے تمتع کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔

قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

 

سُوْرَةُ الْكَهْف حاشیہ نمبر :77

 

 یعنی اس طرح کے لوگوں نے دنیا میں خواہ کتنے ہی بڑے کارنامے کیے ہوں ، بہر حال وہ دنیا کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گے۔ اپنے قصر اور محلات،اپنی یونیورسٹیاں اور لائبریریاں ، اپنے کار خانے اور معمل ، اپنی سڑکیں اور ریلیں ، اپنی ایجادیں اور صنعتیں ، اپنے علوم و فنون اور اپنی آرٹ گیلریاں ، اور دوسری وہ چیزیں جن پر وہ فخر کرتے ہیں ، ان میں سے تو کوئی چیز بھی اپنے ساتھ لیے ہوئے وہ خدا کے ہاں نہ پہنچیں گے کہ خدا کی میزان میں اس کو رکھ سکیں۔ وہاں جو چیز باقی رہنے والی ہے وہ صرف مقاصد عمل اور نتائج عمل ہیں۔ اب اگر کسی کے سارے مقاصد دنیا تک محدود تھے اور نتائج بھی اس کو دنیا ہی میں مطلوب تھے اور دنیا میں وہ اپنے نتائج عمل دیکھ بھی چکا ہے تو اس کا سب کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ ہی فنا ہو گیا۔ آخرت میں جو کچھ پیش کر کے وہ کوئی وزن پا سکتا ہے وہ تو لازماً کوئی ایسا ہی کارنامہ ہونا چاہیے جو اس نے خدا کی رضا کے لیے کیا ہو، اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے کیا ہو اور ان نتائج کو مقصود بنا کر کیا ہو جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسا کوئی کارنامہ اگر اس کے حساب میں نہیں ہے تو وہ ساری دوڑ دھوپ بلاشبہ اکارت گئی جو اس نے دنیا میں کی تھی۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ   107

سورہ طہ آیت 74

اِنَّہٗ مَنۡ یَّاۡتِ رَبَّہٗ مُجۡرِمًا فَاِنَّ لَہٗ جَہَنَّمَ ؕ لَا یَمُوۡتُ فِیۡہَا وَ لَا یَحۡیٰی ﴿۷۴

حقیقت  یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گا اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا

حقیقت  یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گا

 

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :50

یہ جادو گروں کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے۔ انداز کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ عبارت جادو گروں کے قول کا حصہ نہیں ہے۔

اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :51

 

یعنی موت اور زندگی کے درمیان لٹکتا رہے گا۔ نہ موت آۓ گی کہ اس کی تکلیف اور مصیبت کا خاتمہ کر دے۔ اور نہ جینے کا ہی کوئی لطف اسے حاصل ہو گا کہ زندگی کو موت پر ترجیح دے سکے۔ زندگی سے بیزار ہو گا، مگر موت نصیب نہ ہو گی۔ مرنا چاہے گا مگر مر نہ سکے گا۔ قرآن مجید میں دوزخ کے عذابوں کی جتنی تفصیلات دی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک صورت عذاب یہی ہے جسکے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 121،  122

سورہ طہ آیات 99تا101

کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ مَا قَدۡ سَبَقَ ۚ وَ قَدۡ اٰتَیۡنٰکَ مِنۡ لَّدُنَّا ذِکۡرًا ﴿ۖۚ۹۹﴾ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡہُ فَاِنَّہٗ یَحۡمِلُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وِزۡرًا ﴿۱۰۰﴾ۙ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہِ ؕ وَ سَآءَ لَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ حِمۡلًا ﴿۱۰۱

اے محمدؐ،  اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ ﴿درسِ نصیحت﴾ عطا کیا ہے۔  جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بارِ گناہ اُٹھائے گا، اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے ﴿اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ﴾ بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :77

 

 اس میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی کہ جو شخص اس درس نصیحت ، یعنی قرآن سے منہ موڑے گا اور اس کی ہدایت و رہنمائی قبول کرنے سے انکار کرے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ، محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے بھیجنے والے خدا کا کچھ نہ بگاڑے گا۔ اس کی یہ حماقت در اصل اس کی خود اپنے ساتھ دشمنی ہو گی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ کوئی شخص ، جس کو قرآن کی یہ نصیحت پہنچے اور پھر وہ اسے قبول کرنے سے پہلو تہی کرے ، آخرت میں سزا پانے سے بچ نہیں سکتا۔ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ کسی قوم ، کسی ملک، کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ جب تک یہ قرآن دنیا میں موجود ہے ، جہاں جہاں ، جس جس ملک اور قوم کے ، جس شخص کو بھی یہ پہنچے گا، اس کے لیے دو ہی راستے کھلے ہوں گے۔ تیسرا کوئی راستہ نہ ہوگا‘‘۔ یا تو اس کو مانے اور اس کی پیروی اختیار کرے۔ یا اس کو نہ مانے اور اس کی پیروی سے منہ موڑ لے۔ پہلا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام آگے آ رہا ہے۔ اور دوسرا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام یہ ہے جو اس آیت میں بتا دیا گیا ہے۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 186

سورہ انبیاء آیت 97

وَ اقۡتَرَبَ الۡوَعۡدُ الۡحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبۡصَارُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ یٰوَیۡلَنَا قَدۡ کُنَّا فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا بَلۡ کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۹۷ سورہ انبیاء آیت 97

اور وعدہٴِ بر حق کے پُورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا  تو یکایک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کُفر کیا تھا۔ کہیں گے” ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے۔ سورہ انبیاء آیت 97

اور وعدہٴِ بر حق کے پُورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا 

سُوْرَةُ الْاَنْۢبِیَآء حاشیہ نمبر :93

یاجوج و ماجوج کی تشریح سورہ کہف حاشیہ 62 ، 69 میں کی جاچکی ہے ۔ ان کے کھول دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے کہ جیسے کوئی شکاری درندہ یکایک پنجرے یا بندھن سے چھوڑ دیا گیا ہو۔ ’’ وعدہ حق پروا ہونے کا وقت قریب آ لگے گا‘‘ کا اشارہ صاف طور پر اس طرف ہے کہ یاجوج و ماجوج کی یہ عالمگیر یورش آخری زمانہ میں ہو گی اور اس کے بعد جلدی ہی قیامت آ جاۓ گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ ارشاد اس معنی کو اور زیادہ کھول دیتا ہے جو مسلم نے حذیفہ بن اَسید الغِفاری کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ’’ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو : دھواں ، دجال ، دابۃ الارض ، مغرب سے سورج کا طلوع ، عیسیٰ ابن مریم کا نزول ، یاجوج و ماجوج کی یورش ، اور تین بڑے خسوف (زمین کا دھنسنا یاLandslide ) ایک مشرق میں ، دوسرا مغرب میں ، اور تیسرا جزیرۃ العرب میں ، پھر سب سے آخر میں یمن سے ایک سخت آگ اٹھے گی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی (یعنی بس اس کے بعد قیامت آ جاۓ گی) ۔ ایک اور حدیث میں یاجوج و ماجوج کی یورش کا ذکر کر کے حضور نے فرمایا اس وقت قیامت اس قدر قریب ہو گی جیسے پورے پیٹوں کی حاملہ کہ نہیں کہہ سکتے کب وہ بچہ جن دے ، رات کو یا دن کو(کالحامل المتم لا یدری اھلھا متی تفجؤ ھم بولدھا لیلا او نھاراً ) لیکن قرآن مجید اور حدیث میں یا جوج ماجوج کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ مترشح نہیں ہوتا کہیہ دونوں متحد ہوں گے اور مل کر دنیا پر ٹوٹ پڑیں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں یہ دونوں آپس ہی میں لڑ جائیں اور پھر ان کی لڑائی ایک عالمگیر فساد کی موجب بن جاۓ ۔

بلکہ ہم خطا کار تھے

 

سُوْرَةُ الْاَنْۢبِیَآء حاشیہ نمبر :94

’’ غفلت‘‘ میں پھر ایک طرح کی معذرت پائی جاتی ہے ، اس لیے وہ اپنی غفلت کا ذکر کرنے کے بعد پھر خود ہی صاف صاف اعتراف کریں گے کہ ہم کو انبیاء نے آ کر اس دن سے خبر دار کیا تھا، لہٰذا در حقیقت ہم غافل و بے خبر نہ تھے بلکہ خطا کار تھے ۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ188

سورہ انبیاء آیات 98،  99

اِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ ﴿۹۸﴾ لَوۡ کَانَ ہٰۤؤُلَآءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوۡہَا ؕ وَ کُلٌّ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۹۹ سورہ انبیاء آیات 98،  99

بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پُوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں، وہیں تم کو جانا ہے۔  اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔

وہیں تم کو جانا ہے۔

 

سُوْرَةُ الْاَنْۢبِیَآء حاشیہ نمبر :95

 

روایات میں آیا ہے کہ اس آیت پر عبداللہ بن الذَّ بَعْریٰ نے اعتراض کیا کہ اس طرح تو صرف ہمارے ہی معبود نہیں ، مسیح اور عُزیر اور ملائکہ بھی جہنم میں جائیں گے ، کیونکہ دنیا میں ان کی بھی عبادت کی جاتی ہے ۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : نعم، کل من احب ان یعبد من دون اللہ فھو مع من عبدہٗ ، ’’ ہاں ، ہر وہ شخص جس نے پسند کیا کہ اللہ کے بجاۓ اس کی بندگی کی جاۓ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جنہوں نے اس کی بندگی کی ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے خلق خدا کو خدا پرستی کی تعلیم دی تھی اور لوگ ان ہی کو معبود بنا بیٹھے ، یا جو غریب اس بات سے بالکل بے خبر ہیں کہ دنیا میں ان کی بندگی کی جا رہی ہے اور اس فعل میں ان کی خواہش اور مرضی کا کوئی دخل نہیں ہے ، ان کے جہنم میں جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ البتہ جنہوں نے خود معبود بننے کی کوشش کی اور جن کا خلق خدا کے اس شرک میں واقعی دخل ہے وہ سب اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ۔ اسی طرح  وہ لوگ بھی جہنم میں جائیں گے جنہوں نے اپنی اغراض کے لیے غیر اللہ کو معبود بنوایا ، کیونکہ اس صورت میں مشرکین کے اصلی معبود وہی قرار پائیں گے نہ کہ وہ جن کو ان اشرار نے بظاہر معبود بنوا یا تھا ۔ شیطان بھی اسی ذیل میں آتا ہے ، کیونکہ اس کی تحریک پر جن ہستیوں کو معبود بنایا جاتا ہے ، اصل معبود وہ نہیں بلکہ خود ہوتا ہے جس کے امر کی اطاعت میں یہ فعل کیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ پتھر اور لکڑی کے بتوں اور دوسرے سامان پرستش کو بھی مشرکین کے ساتھ جہنم میں داخل کیا جاۓ گا، تاکہ وہاں پر آتش جہنم کے اور زیادہ بھڑکنے کا سبب بنیں اور یہ دیکھ کر انہیں مزید تکلیف ہو کہ جن سے وہ شفاعت کی امیدیں لگاۓ بیٹھے تھے وہ ان پر الٹے عذاب کی شدت کے موجب بنے ہوۓ ہیں ۔

 

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ206

سورہ حج آیت 10

ثَانِیَ عِطۡفِہٖ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ لَہٗ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ نُذِیۡقُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۹﴾ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۱۰ سورہ حج آیت 10

بعض اور لوگ ایسے ہیں کہ کسی علم  اور ہدایت  اور روشنی بخشنے والی کتاب کے بغیر، گردن اکڑائے ہوئے  ، خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں۔  ایسے شخص کے لیے دنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔۔۔۔ یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

کسی علم

سُوْرَةُ الْحَجّ حاشیہ نمبر :10

 

10۔ یعنی وہ ذاتی واقفیت جو براہ راست مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوئی ہو۔

اور ہدایت

سُوْرَةُ الْحَجّ حاشیہ نمبر :11

11۔ یعنی وہ واقفیت جو کسی دلیل سے حاصل ہوئی ہو یا کسی علم رکھنے والے کی رہنمائی سے۔

روشنی بخشنے والی کتاب

سُوْرَةُ الْحَجّ حاشیہ نمبر :12

12۔ یعنی وہ واقفیت جو خدا کی نازل کردہ کتاب سے حاصل ہوئی ہو۔

گردن اکڑائے ہوئے

سُوْرَةُ الْحَجّ حاشیہ نمبر :13

13۔ اس میں تین کیفیتیں شامل ہیں : جاہلانہ ضد اور ہٹ دھرمی۔ تکبر اور غرور نفس۔ اور کسی سمجھانے والے کی بات کی طرف التفات نہ کرنا۔

خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں۔

سُوْرَةُ الْحَجّ حاشیہ نمبر :14

14۔ پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو خود گمراہ ہیں۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو خود ہی گمراہ نہیں ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر تلے رہتے ہیں۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ  288

سورہ مؤمنون آیات 64تا67

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذۡنَا مُتۡرَفِیۡہِمۡ بِالۡعَذَابِ اِذَا ہُمۡ یَجۡـَٔرُوۡنَ ﴿ؕ۶۴﴾ لَا تَجۡـَٔرُوا الۡیَوۡمَ ۟ اِنَّکُمۡ مِّنَّا لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾ قَدۡ کَانَتۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ تَنۡکِصُوۡنَ ﴿ۙ۶۶﴾ مُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ٭ۖ بِہٖ سٰمِرًا تَہۡجُرُوۡنَ ﴿۶۷ سورہ مؤمنون آیات 64تا67

۔ وہ اپنے یہ کرتُوت کیے چلے جائیں گے یہاں تک کہ جب ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے  تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے  ۔۔۔۔  اب بند کرو اپنی فریاد و فغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی۔ میری آیات سُنائی جاتی تھیں تو تُم ﴿رسُول کی آواز سُنتے ہی﴾ اُلٹے پاوٴں بھاگ نکلتے تھے،  اپنے گھمنڈ میں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے، اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے  اور بکواس کیا کرتے تھے۔

ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے

 

سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :59

’’عیاش‘‘ یہاں ’’مُتْرَفِیْن‘‘ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ’’مترفین ‘‘ اصل میں ان لوگوں کو کہتے ہیں جو دنیوی مال و دولت کو پا کر مزے کر رہے ہوں اور خدا و خلق کے حقوق سے غافل ہوں۔ اس لفظ کا صحیح مفہوم لفظ عیاش سے ادا ہو جاتا ہے ، بشرطیکہ اسے صرف شہوت رانی کے معنی میں نہ لیا جاۓ بلکہ عیش کوشی کے وسیع تر معنوں میں لیا جاۓ۔

عذاب سے مراد یہاں غالباً آخرت کا عذاب نہیں بلکہ دنیا کا عذاب ہے جو اسی زندگی میں ظالموں کو دیکھنا پڑے۔

پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے

سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :60

اصل میں لفظ ’’ جُؤَار ‘‘ استعمال کیا گیا ہے جو بیل کی اس آواز کو کہتے ہیں جو سخت تکلیف کے وقت وہ نکالتا ہے۔ یہ لفظ یہاں محض فریاد و فغان کے معنی میں نہیں بلکہ اس شخص کی فریاد و فغان کے معنی میں بولا گیا ہے جو کسی رحم کا مستحق نہ ہو۔ اس میں تحقیر اور طنز کا انداز چھپا ہوا ہے۔ اس کے اندر یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ ’’ اچھا، اب جو اپنے کرتوتوں کا مزا چکھنے کی نوبت آئی تو بلبلانے لگے ‘‘

تُم ﴿رسُول کی آواز سُنتے ہی﴾ اُلٹے پاوٴں بھاگ نکلتے تھے،

سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :62

یعنی اس کی بات سننا تک تمہیں گوارا نہ تھا۔ یہ تک برداشت نہ کرتے تھے کہ اس کی آواز کان میں پڑے۔

اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے

سُوْرَةُ الْمُؤْمِنُوْن حاشیہ نمبر :63

اصل میں لفظ’’ سٰمِراً‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ سمر کے معنی ہیں رات کے وقت بات چیت کرنا ، گپیں ہانکنا، قصے کہانیاں کہنا۔ دیہاتی اور قصباتی زندگی میں یہ راتوں کی گپیں عموماً چو پالوں میں ہوا کرتی ہیں ، اور یہی اہل مکہ کا بھی دستور تھا۔

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 301،  302

سورہ مؤمنون آیات 101تا115

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَلَاۤ اَنۡسَابَ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾ وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فِیۡ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ۚ تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَ ہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾ اَلَمۡ تَکُنۡ اٰیٰتِیۡ تُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فَکُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾ قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَیۡنَا شِقۡوَتُنَا وَ کُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ ﴿۱۰۶﴾ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡہَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾ اِنَّہٗ کَانَ فَرِیۡقٌ مِّنۡ عِبَادِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۚۖ فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَ کُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾ اِنِّیۡ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّہُمۡ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾ قٰلَ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾ قَالُوۡا لَبِثۡنَا یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ فَسۡـَٔلِ الۡعَآدِّیۡنَ ﴿۱۱۳﴾ قٰلَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِیۡلًا لَّوۡ اَنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۱۴﴾ اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵سورہ مؤمنون آیات 101تا115

پھر جونہی کہ صُور پھونک دیا گیا، اِن کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔  اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے  وہی فلاح پائیں گے۔ اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔  وہ جہنّم میں ہمیشہ رہیں گے۔ آگ اُن کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور اُن کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔۔۔۔” کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سُنائی جاتی تھیں تو تم اُنہیں جُھٹلاتے تھے؟“ وہ کہیں گے ”اے ہمارے ربّ، ہماری بد بختی ہم پر چھا گئی تھی ۔ ہم واقعی گُمراہ لوگ تھے۔ اے پروردگار، اب ہمیں یہاں سے نکال دے پھر ہم ایسا قصُور کریں تو ظالم ہوں گے۔“ اللہ تعالیٰ جواب دے گا”دُور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اِسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔  تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے، تو تم نے ان کا مذاق بنالیا۔ یہاں تک کہ ان کی ضِد نے تمہیں یہ بھی بھُلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں، اور تم اُن پر ہنستے رہے۔ آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں۔“  پھر اللہ تعالیٰ اُں سے پوچھے گا”بتاوٴ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟“ وہ کہیں گے”ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں،  شُمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔“ اِرشاد ہو گا”تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا۔ کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا۔  کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضُول ہی پیدا کیا ہے  اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟“

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ370

سورہ نور آیت 19

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِیۡعَ الۡفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۹ سورہ نور آیت 19

جولوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں،  اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں،

 

سُوْرَةُ النُّوْر حاشیہ نمبر :12

 

12۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے لوگوں ،یا اپنی ملت اور اپنے معاشرے کے لوگوں سے نیک گمان کیوں نہ کیا۔ آیت کے الفاظ دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں ، اور اس ذو معنی فقرے کے استعمال میں ایک لطیف نکتہ ہے جسے خوب سمجھ لینا چاہیے۔ جو صورت معاملہ حضرت عائشہ اور صفوان بن معطل کے ساتھ پیش آئی تھی وہ یہی تو تھی کہ قافلے کی ایک خاتون(قطع نظر اس سے کہ وہ رسول کی بیوی تھیں ) اتفاق سے پیچھے رہ گئی تھیں اور قافلے ہی کا ایک آدمی جو خود اتفاق سے پیچھے رہ گیا تھا، انہیں دیکھ کر اپنے اونٹ پر ان کو بٹھا لایا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ معاذ اللہ یہ دونوں تنہا ایک دوسرے کو پاکر گناہ میں مبتلا ہو گئے تو اس کا یہ کہنا اپنے ظاہر الفاظ کے پیچھے دو اور مفروضے بھی رکھتا ہے۔ ایک یہ کہ قائل (خواہ وہ مرد ہو یا عورت) اگر خود اس جگہ ہوتا تو کبھی گناہ کیے بغیر نہ رہتا، کیونکہ وہ اگر گناہ سے رکا ہوا ہے تو صرف اس لیے کہ اسے صنف مقابل کا کوئی فرد اس طرح تنہائی میں ہاتھ نہ آگیا، ورنہ ایسے نادر موقع کو وہ چھوڑنے والا نہ تھا۔ دوسرے یہ کہ جس معاشرے سے وہ تعلق رکھتا ہے اس کی اخلاقی حالت کے متعلق اس کا گمان یہ ہے کہ یہاں کوئی عورت بھی ایسی نہیں ہے اور نہ کوئی مرد ایسا ہے جسے اس طرح کا کوئی موقع پیش آ جاۓ اور وہ گناہ سے باز رہ جاۓ۔ یہ تو اس صورت میں ہے جب کہ معاملہ محض ایک مرد اور ایک عورت کا ہو۔ اور بالفرض اگر وہ مرد اور عورت دونوں ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہوں ، اور عورت جو اتفاقاً قافلے سے بچھڑ گئی تھی، اس مرد کے کسی دوست یا رشتہ دار یا ہمساۓ یا واقف کار کی بیوی بہن ، یا بیٹی ہو تو معاملہ اور بھی زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ اس کے معنی پھر یہ ہو جاتے ہیں کہ کہنے والا خود اپنی ذات کے متعلق بھی اور اپنے معاشرے کے متعلق بھی ایسا سخت گھناؤنا تصور رکھتا ہے جسے شرافت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ کون بھلا آدمی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس کے کسی دوست یا ہمساۓ یا واقف کار کے گھر کی کوئی عورت اگر اتفاق سے کہیں بھولی بھٹکی اسے راستے میں مل جاۓ تو وہ پہلا کام بس اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے ہی کا کرے گا، پھر کہیں اسے گھر پہنچانے کی تدبیر سوچے گا۔ لیکن یہاں تو معاملہ اس سے ہزار گنا زیادہ سخت تھا۔ خاتون کوئی اور نہ تھیں ، رسولؐ اللہ کی بیوی تھیں جنہیں ہر مسلمان اپنی ماں سے بڑھ کر احترام کے لائق سمجھتا تھا،جنہیں اللہ نے خود ہر مسلمان پر ماں کی طرح حرام قرار دیا تھا۔ مرد نہ صرف یہ کہ اسی قافلے کا ایک آدمی، اسی فوج کا ایک سپاہی اور اسی شہر کا ایک باشندہ تھا، بلکہ وہ مسلمان تھا، ان خاتون کے شوہر کو اللہ کا رسول اور اپنا ہادی و پیشوا مانتا تھا، اور ان کے فرمان پر جان قربان کرنے کے لیے جنگ بدر جیسے خطرناک معرکے میں شریک ہو چکا تھا۔ اس صورت حال میں تو اس قول کا ذہنی پس منظر گھناؤنے پن کی اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے جس سے بڑھ کر کسی گندے تخیل کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ مسلم معاشرے کے جن افراد نے یہ بات زبان سے نکالی یا اسے کم از کم شک کے قابل خیال کیا انہوں نے خود اپنے نفس کا بھی بہت برا تصور قائم کیا اور اپنے معاشرے کے لوگوں کو بھی بڑے ذلیل اخلاق و کردار کا مالک سمجھا۔

اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

سُوْرَةُ النُّوْر حاشیہ نمبر :17

17۔ یعنی تم لوگ نہیں جانتے کہ اس طرح کی ایک ایک حرکت کے اثرات معاشرے میں کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ، کتنے افراد کو متاثر کرتے ہیں اور مجموعی طور پر ان کا کس قدر نقصان اجتماعی زندگی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس چیز کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اللہ پر اعتماد کرو اور جن برائیوں کی وہ نشان دہی کر رہا ہے انہیں پوری قوت سے مٹانے اور دبانے کی کوشش کرو۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں نہیں ہیں جن کے ساتھ رواداری برتی جاۓ۔ در اصل یہ بڑی باتیں ہیں جن کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔

 

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ373

سورہ نور آیت 23

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۲۳ سورہ نور آیت 23

جو لوگ پاک دامن ، بے خبر،  مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دُنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

جو لوگ پاک دامن ، بے خبر

سُوْرَةُ النُّوْر حاشیہ نمبر :21

اصل میں لفظ ’’غافلات ‘‘ استعمال ہوا ہے جس سے مراد ہیں وہ سیدھی سادھی شریف عورتیں جو چھل بٹے نہیں جانتیں ، جن کے دل پاک ہیں ، جنہیں کچھ خبر نہیں کہ بد چلنی کیا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے ، جن کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ اندیشہ نہیں گزرتا کہ کبھی کوئی ان پر بھی الزام لگا بیٹھے گا۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ہے جو ’’ موبقات‘‘(تباہ کن) ہیں۔ اور طبرانی میں حضرت حذیفہ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا قذف المحصنۃ یھدم عمل مأۃ سَنَۃ،’’ ایک پاک دامن عورت پر تہمت لگانا سو برس کے اعمال کو غارت کر دینے کے لیے کافی ہے ‘‘۔

 

آخرت میں عذاب کے مستحق کون لوگ ہوں گے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ           608

سورہ نمل آیت 90

وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ ؕ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۰ سورہ نمل آیت 90

اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے ۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟

 

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹(الف)۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔اس کی مزیدمثالوں کے لیے ملاحظہ ہو ، یونس ، آیات۲۶۔۲۷۔ القصص، آیت۸۴۔ العنکبوت، آیت۷۔ سبا، آیات۳۷تا۳۸۔ المومن، آیت۴۰۔

 

Comments