آخرت کی جزاو سزا کاقاعدہ
آخرت کی جزاو سزا
کاقاعدہ
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد سوم-آخرت
صفحہ 665
سورہ قصص آیات
83، 84
تِلْكَ
الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي
الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ۰۰۸۳مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ
بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۸۴ سورہ قصص آیات 83،
84
وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں
کے لیے مخصُوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں
چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔
جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے ، اور جو بُرائی لے
کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔
وہ آخرت کا گھر
سورة القصص حاشیہ نمبر١۰۳
مراد ہے جنت جو حقیقی
فلاح کا مقام ہے۔
جو زمین میں اپنی
بڑائی نہیں چاہتے
سورة القصص حاشیہ نمبر١۰۴
یعنی جو خدا کی زمین
میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ جو سرکش وجبار اور متکبربن کر نہیں
رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی
کوشش نہیں کرتے۔
نہ فساد کرنا چاہتے ہیں
سورة القصص حاشیہ
نمبر١۰۵
فساد سے مراد انسانی
زندگی کےنظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازماً رونما ہوتا
ہے ۔ خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے
وہ سراسر فساد ہی فسا د ہے۔ اسی کا ایک جُز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت
سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔
اور انجام کی بھلائی
متقین ہی کے لیے ہے
سورة القصص حاشیہ
نمبر١۰٦
یعنی ان لوگوں کے لیے
جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے
پرہیز کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment