عالم آخرت کانقشہ، تفہیم القران جلد سوم

 عالم آخرت کانقشہ، تفہیم القران جلد سوم

صفحہ 121،  128،  605،  606،  607

صفحہ 121تا128

سورہ طہ آیات 99تا112

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ۰۰۹۹مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وِزْرًاۙ۰۰۱۰۰خٰلِدِيْنَ فِيْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ حِمْلًاۙ۰۰۱۰۱يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًاۚۖ۰۰۱۰۲يَّتَخَافَتُوْنَ۠ بَيْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا۰۰۱۰۳نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ اِذْ يَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِيْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا يَوْمًاؒ۰۰۱۰۴وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًاۙ۰۰۱۰۵فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ۰۰۱۰۶لَّا تَرٰى فِيْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ۰۰۱۰۷يَوْمَىِٕذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا۰۰۱۰۸يَوْمَىِٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِيَ لَهٗ قَوْلًا۰۰۱۰۹يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا۰۰۱۱۰وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا۰۰۱۱۱وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا۰۰۱۱۲سورہ طہ آیات  99تا112

اے محمدؐ،  اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ (درسِ نصیحت)عطا کیا ہے۔  جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بارِ گناہ اُٹھائے گا، اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا،  اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی،  آپس میں چُپکےچُپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے ۔۔۔۔  ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ)اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی ۔یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا ربّ ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے  ۔۔۔۔ اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سُنو گے۔ اُس روز شفاعت  کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے ۔۔۔۔ وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے ۔۔۔۔ لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جُھک جائیں گے۔ نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے ہو۔ اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔

اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۷۸

صُور،  یعنی نر سنگھا، قرناء، یا بوق۔ آج کل اسی چیز کا قائم مقام بگل ہے جو فوج کو جمع یا منتشر کرنے اور ہدایات دینے کے لیے بجایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کے نظم کو سمجھانے کے لیے وہ الفاظ  اور اسطلاحیں استعمال فرماتا ہے جو خود انسانی زندگی میں اسی سے ملتے جلتے نظم کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ان الفاظ اور اصطلاحوں کے استعمال سے مقصود ہمارے تصور کو اصل چیز کے قریب لے جانا ہے، نہ یہ کہ ہم سلطنت الہٰی کے نظم کی مختلف چیزوں کو بعینہٖ ان محدود معنوں میں لے لیں، اور ان محدود صورتوں کی چیزیں سمجھ لیں جیسی کہ وہ ہماری زندگی میں پائی جاتی ہیں۔ قدیم زمانے  سے آج تک لوگوں کو جمع کرنے اور اہم باتوں کا اعلان کرنے کےلیے کوئی نہ کوئی ایسی چیز پھونکی جاتی رہی ہے جو صور یا بگل سے مِلتی جُلتی ہو۔ اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسی ہی ایک چیز قیامت کے روز پھونکی جائے گی جس کی نوعیت ہمارے نر سنگھے کی سی ہو گی۔ ایک دفع وہ پھونکی جائے گی اور سب پر موت طاری ہو جائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اُٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے ۔ (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، النمل، حاشیہ نمبر ۱۰۶)۔

ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۷۹

اصل میں لفظ”زُرْقًا“ استعمال ہواہے ، جو  اَزْرَق  کی جمع ہے ۔ بعض  لوگوں نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ لوگ جو خود اَزْرق (سفیدی مائل نیلگوں) ہو جائیں گے کیونکہ خوف و دہشت کے مارے ان کا خون خشک ہو جائے گا اور ان کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ گویا ان کے جسم میں خون کا ایک قطرہ تک نہیں ہے ۔ اور بعض دوسرے لوگوں نے اس لفظ کو ازرق العین (کرنجی آنکھوں والے) کے معنی میں لیا ہے اور وہ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ شدّتِ ہول سے ان کے دیدے پتھرا جائیں گے۔ جب کسی شخص کی آنکھ بے نور ہو جاتی ہے تو اس کے حدقۂ چشم کا رنگ سفید ہو جاتا ہے۔

آپس میں چُپکےچُپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۰

دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ” موت کے بعد سے اِس وقت تک تم کو مشکل ہی سے دس دن گزرے ہوں گے“۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز لوگ اپنی دنیوی زندگی کے متعلق بھی یہ اندازہ لگائیں گے کہ وہ بہت تھوڑی تھی ، اور موت سے لے کر قیامت تک جو وقت گزرا ہو گا اس کے متعلق بھی ان کے اندازے کچھ ایسے ہی ہوں گے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ o قَالُوْ ا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَادِّیْنَ۔”اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے سال رہے ہو؟ وہ جواب دیں گے ایک دن یا دن کا ایک حصّہ رہے ہوں گے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے“ (المومنون آیات ۱۱۲ – ۱۱۳)۔ دوسری جگہ فرمایا جاتا ہے   وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ مَا لَبِثُوْ ا غَیْرَ سَا عَۃٍ کَذٰلِکَ کَا نُوْ ا یُؤْفَکُوْنَo وَقَالَ الَّذیْنَ اُوْتُوْ ا الْعِلْمَ وَ ا لْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللہِ اِلیٰ یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo ”اور جس روز قیامت قائم ہو جائے گی تو مجرم لوگ قسمیں کھا کھا کر  کہیں گے کہ ہم ( موت کی حالت میں) ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں پڑے رہے ہیں۔ اسی طرح وہ دنیا میں بھی دھوکے کھاتے رہتے تھے۔ اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا  تھا وہ کہیں گے کہ کتاب اللہ کی رو سے تو تم یوم البعث تک پڑے رہے ہو اور یہ وہی یوم البعث ہے، مگر تم جانتے نہ تھے“(الروم – آیات ۵۵ – ۵۶)۔ ان مختلف تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی  اور برزخ کی زندگی ، دونوں ہی کو وہ بہت قلیل سمجھیں گے ۔ دنیا کی زندگی کے متعلق وہ اس لیے یہ باتیں کریں گے کہ اپنی امیدوں کے بالکل خلاف جب انہیں آخرت  کی ابدی زندگی میں آنکھیں کھولنی پڑیں گی، اور جب وہ دیکھیں گے کہ یہاں کے لیے وہ کچھ بھی تیاری کر کے نہیں آئے ہیں، تو انتہا درجہ کی حسرت کے ساتھ وہ اپنی دنیوی زندگی کی طرف پلٹ کر دیکھیں گے اور کفِ افسوس ملیں گے کہ چار دن کے لطف و مسرت اور فائدہ و لذت کی خاطر ہم نے ہمیشہ کے لیے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی۔ موت کے بعد سے قیامت تک کا وقت انہیں اس لیے تھوڑا نظر آئے گا کہ زندگی بعد ِ موت کو وہ دنیا میں غیر ممکن سمجھتے تھے اور قرآن کے بتائے ہوئے عالمِ آخرت کا جغرافیہ کبھی سنجیدگی  کے ساتھ ان کے ذہن میں اُترا ہی نہ تھا۔ یہی تصوّرات لیے ہوئے دنیا میں احساس و شعور کی آخری ساعت انہوں نے ختم کی تھی۔ اب جو اچانک وہ آنکھیں ملتے ہوئے دوسری زندگی میں بیدا ر ہوں گے  اور دوسرے ہی لمحے اپنے آپ کو ایک بگل یا نر سنگھے کی آواز پر مارچ کرتے ہوئے پائیں گے تو وہ شدید گبھراہٹ کے ساتھ اندازہ لگائیں گے کہ فلاں ہسپتال میں بے ہوش ہونے یا فلاں جہاز میں ڈوبنے یا فلاں مقام پر حادثہ  سے دوچار ہونے کے  بعد سے اِس وقت تک آخر کتنا وقت لگا ہو گا ۔ اُن کی کھوپڑی میں اُس وقت یہ بات سمائے گی ہی نہیں کہ دنیا  میں وہ جاں بحق ہو چکے تھے اور اب یہ وہی دوسری زندگی ہے جسے ہم بالکل لغو بات کہہ کر ٹھٹھوں میں اُڑا دیا کرتے تھے ۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک یہ سمجھے گا یہ شاید میں چند گھنٹے یا چند دن بے ہوش پڑا رہا ہوں ، اور اب شاید ایسے وقت مجھے ہوش آیا ہے یا ایسی جگہ اتفاق سے پہنچ گیا ہوں جہاں کسی بڑے حادثہ کی وجہ سے لوگ ایک طرف کو بھاگے جا رہے ہیں۔ بعید نہیں کہ آج کل کے مرنے  والے صاحب لوگ صور کی  آواز کو کچھ دیر تک ہوائی حملے کا سائرن ہی سمجھتے رہیں۔

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸١

یہ جملہ ٔ معترضہ ہے جو دورانِ تقریر میں سامعین کے اس شبہہ کو رفع کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ آخر اُس وقت میدانِ حشر میں بھاگتے ہوئے لوگ چپکے چپکے جو باتیں کریں گے وہ آج یہاں کیسے بیان ہو رہی ہیں۔

یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۲

یہ بھی جملۂ معترضہ ہے جو دورانِ تقریر میں کسی سامع کے سوال پر ارشاد ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ  جس وقت یہ سُورت ایک الہامی تقریر کے انداز میں سُنائی جا رہی ہوگی اس وقت کسی نے مذاق اُڑانے کے لیےیہ سوال اُٹھایا ہو گا کہ قیامت کا جو نقشہ آپ کھینچ رہے ہیں اُس سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ کسی ہموار میدان میں بھاگے  چلے جا رہے ہوں گے۔ آخر یہ بڑے بڑے پہاڑ اس وقت کہاں چلے جائیں گے ؟ اس سوال کا موقع سمجھنے کے لیے اس ماحول کو نگاہ میں رکھیے جس میں یہ تقریر کی جارہی تھی۔ مکہ جس مقام  پر واقع ہے اس کی حالت ایک حوض کی سی ہے جس کے چاروں طرف اُونچے اُونچے پہاڑ ہیں۔ سائل نے انہی پہاڑوں کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ہو گی ۔ اور وحی کے اشارہ سے جواب برملا اسی وقت یہ دے دیا گیا کہ یہ پہاڑ کوُٹ پیٹ کر اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے جیسے ریت کے ذرّے ، اور ان کو دُھول کی طرح اُڑا کر ساری زمین  ایک ایسا ہموار  میدان بنا دی جائے گی کہ اس میں کوئی اونچ نیچ نہ رہے گی، کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا۔ اس کی حالت ایک ایسے صاف فرش کی سی ہو گی جس میں ذرا سا بَل اور کوئی معمولی سی سلوٹ  تک نہ ہو۔

زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے

سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۳

عالم ِ آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے ۔ سُورۂ انشقاق میں فرمایا   اِذَ ا الْاَرْضُ مُدَّتْ”زمین پھیلا  دی جائے گی“۔ سُورۂ انفطار میں فرمایا  اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ ، ”سمندر پھاڑ دیے جائیں گے“، جس کا مطلب غالبًا  یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اُتر جائے گا ۔ سُورہ ٔ تکویر میں فرمایا   اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ،”سمندر بھر دیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے“۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جائے گی۔ اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالمِ آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر ، پہاڑوں کو توڑ کر ، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کی طرح بنا دیا جائے گا ۔ یہی  وہ شکل ہے جس کے متعلق سُورۂ ابراہیم آیت ۴۸ میں فرمایا   یَوْمَ تُبَدِّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ،” وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی“۔ اور یہی زمین کی وہ شکل ہو گی جس پر حشر قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ عدالت  فرمائے گا۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنا دی جائے گی جس کو سُورۂ زُمر آیت نمبر ۷۴  میں یوں بیان فرمایا گیا ہے: وَ قَالُوْ ا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَ ہٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّ اُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآءُ ، فِنِعْمَ اَجْرَ الْعٰمِلِیْنَ oیعنی متقی لوگ”کہیں گے کہ  شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم اس جنت  میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے“۔ اِس سے معلوم ہوا کہ آخر کار یہ پورا کُرہ جنت بنا دیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے۔ اُس وقت پوری زمین ایک ملک ہو گی۔ پہاڑ ، سمندر ، دریا، صحرا، جو آج زمین کو بے شمار ملکوں اور وطنوں میں تقسیم کر رہےہیں ، اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے۔ (واضح رہے کہ صحابہ و تابعین میں سے ابنِ عباس ؓ اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اِسی زمین پر ہوگی ، اور سورۂ نجم  کی آیت عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی o عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہدا ء کی ارواح رکھی جاتی ہیں)۔

اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سُنو گے

 

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :84

 

 اصل میں لفظ ’’ ہَمْس‘‘ استعمال ہوا ہے ، جو قدموں کی آہٹ ، چپکے چپکے بولنے کی آواز، اونٹ کے چلنے کی آواز اور ایسی ہی ہلکی آوازوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہاں کوئی آواز ، بجز چلنے والوں کے قدموں کی آہٹ اور چپکے چپکے بات کرنے والوں کی کُھسر پُسر کے نہیں سنی جاۓ گی۔ ایک پر ہیبت سماں بندھا ہوا ہو گا۔

 اُس روز شفاعت کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :85

85۔ اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو متن میں کیا گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ’’ اُس روز شفاعت کار گر نہ ہو گی الا یہ کہ کسی کے حق میں رحمان اس کی اجازت دے اور اس کے لیے بات سننے پر راضی ہو‘‘۔ الفاظ ایسے جامع ہیں جو دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے روز کسی کو دم مارنے تک کی جرأت نہ ہو گی کجا کہ کوئی سفارش کے لیے بطور خود زبان کھول سکے۔ سفارش وہی کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ بولنے کی اجازت دے ، اور اسی کے حق میں کر سکے گا جس کے لیے بار گاہ الہٰی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جاۓ۔ یہ دونوں باتیں قرآن میں متعدد مقامات پر کھول کر بتا دی گئی ہیں۔ ایک طرف فرمایا : مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ، ’’ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے ’’(بقرہ۔ آیت 255 )۔ اور : یَوْمَ یَقُوْمُ الرَّوْحُ وَا لْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّ ، لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً ، ’’ وہ دن جبکہ روح اور ملائکہ سب صف بستہ کھڑے ہوں گے ، ذرا بات نہ کریں گے ، صرف وہی بول سکے گا جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ‘‘(النبا۔ آیت 38)۔ دوسری طرف ارشاد ہوا : وَلَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْ تَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوْنَ ، ’’ اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس شخص کے جس کے حق میں سفارش سننے پر (رحمان) راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے ڈرے رہتے ہیں ‘‘ (الانبیاء۔ آیت 28)۔ اور : کَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَا عَتُھُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ یَّاْ ذَنَ اللہُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَرْضٰی ، ’’ کتنے ہی فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی بجز اس صورت کے کہ اللہ سے اجازت لینے کے بعد کی جاۓ اور ایسے شخص کے حق میں کی جاۓ جس کے لیے وہ سفارش سننا چاہے اور پسند کرے ‘‘(النجم ، آیت 26)۔

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :86

86۔ یہاں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے۔ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء ، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہیں ہو سکتا کہ کس کا ریکارڈ کیسا ہے ، کون دنیا میں کیا کرتا رہا ہے ، اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت و کردار اور کیسی کیسی ذمہ داریوں کے بار لے کر آیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں اور کرتوتوں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے۔ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجے کا مجرم ہے۔ معافی کے قابل ہے یا نہیں۔پوری سزا کا مستحق ہے یا تخفیف اور رعایت بھی اس کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ ملائکہ اور انبیاء اور صلحاء کو سفارش کی کھلی چھٹی دے دی جاۓ اور ہر ایک جس کے حق میں جو سفارش چاہے کر دے۔ ایک معمولی افسر اپنے ذرا سے محکمے میں اگر اپنے ہر دوست یا عزیز کی سفارشیں سننے لگے تو چار دن میں سارے محکمے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا۔ پھر بھلا زمین و آسمان کے فرمانروا سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کے ہاں سفارشوں کا بازار گرم ہو گا، اور ہر بزرگ جا جا کر جس کو چاہیں گے بخشوا لائیں گے ، در انحالیکہ ان میں سے کسی بزرگ کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جن لوگوں کی سفارش وہ کر رہے ہیں ان کے نامۂ اعمال کیسے ہیں۔ دنیا میں جو افسر کچھ بھی احساس ذمہ داری رکھتا ہے اس کی روش یہ ہوتی ہے کہ اگر اس کا کوئی دوست اس کے کسی قصور وار ماتحت کی سفارش لے کر جاتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ آپ کو خبر نہیں ہے کہ یہ شخص کتنا کام چور ، نافرض شناس ، رشوت خوار اور خلق خدا کو تنگ کرنے والا ہے ، میں اس کے کرتوتوں سے واقف ہوں ، اس لیے آپ براہ کرم مجھ سے اس کی سفارش نہ فرمائیں۔ اسی چھوٹی سی مثال پر قیاس کر کے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس آیت میں شفاعت کے متعلق جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے وہ کس قدر صحیح، معقول اور مبنی بر انصاف ہے۔ خدا کے ہاں شفاعت کا دروازہ بند نہ ہو گا۔ نیک بندے ، جو دنیا میں خلق خدا کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرنے کے عادی تھے ، انہیں آخرت میں بھی ہمدردی کا حق ادا کرنے کا موقع دیا جاۓ گا۔ لیکن وہ سفارش کرنے سے پہلے اجازت طلب کریں گے ، اور جس کے حق میں اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی اجازت دے گا صرف اسی کے حق میں وہ سفارش کر سکیں گے۔ پھر سفارش کے لیے بھی شرط یہ ہو گی کہ وہ مناسب اور مبنی برحق ہو، جیسا کہ : وَقَالَ صَوَاباً (اور بات ٹھیک کہے ) کا ارشاد ربانی صاف بتا رہا ہے۔ بونگی سفارشیں کرنے کی وہاں اجازت نہ ہو گی کہ ایک شخص دنیا میں سینکڑوں ، ہزاروں بندگانِ خدا کے حقوق مار آیا ہو اور کوئی بزرگ اٹھ کر سفارش کر دیں کہ حضور اسے انعام سے سر فراز فرمائیں یہ میرا خاص آدمی ہے۔

اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔

سُوْرَةُ طٰهٰ حاشیہ نمبر :87

87۔ یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف (Merits) کی بنیاد پر ہو گا۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھاۓ ہوۓ آۓ گا ، خوہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلق خدا کے حقوق پر، یا خود اپنے نفس پر ، بہر حال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح(محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوۓ آئیں گے ، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہو گا۔ یعنی خواہ مخواہ بے قصوران کو سزا دی جاۓ گی، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کراۓ پر پانی پھیر دیا جاۓ گا اور ان کے جائز حقوق مار کھاۓ جائیں گے۔

عالم آخرت کا نقشہ، تفہیم القران جلد سوم

صفحہ 605تا607

سورہ نمل آیات 83تا90

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَکَذَّبۡتُمۡ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَمۡ تُحِیۡطُوۡا بِہَا عِلۡمًا اَمَّا ذَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۴﴾ وَ وَقَعَ الۡقَوۡلُ عَلَیۡہِمۡ بِمَا ظَلَمُوۡا فَہُمۡ لَا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۸۵﴾ اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّیۡلَ لِیَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۸۶﴾ وَ یَوۡمَ یُنۡفَخُ فِی الصُّوۡرِ فَفَزِعَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ کُلٌّ اَتَوۡہُ دٰخِرِیۡنَ ﴿۸۷﴾ وَ تَرَی الۡجِبَالَ تَحۡسَبُہَا جَامِدَۃً وَّ ہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ؕ صُنۡعَ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اَتۡقَنَ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّہٗ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۸۸﴾ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیۡرٌ مِّنۡہَا ۚ وَ ہُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ یَّوۡمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴿۸۹﴾ وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ ؕ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۰  سورہ نمل آیات 83تا90

اور ذرا تصوّر کرو اُس دن کا جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھُٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو ﴿ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ﴾ مرتب کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو ﴿ان کا ربّ ان سے﴾ پوچھے گاکہ” تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟ “ اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔

اور کیا گُزرے گی اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔۔۔۔ سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے۔ آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔ اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے ۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟  سورہ نمل آیات 83تا90

تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۲

یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ یہ ہر گز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہو گیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یونہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا؟

اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۳

یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کر سکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور  تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہو گیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے؟

ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۴

یعنی بے شمار نشانیوں  میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کر رہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہو ئی نہ تھیں۔ کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس میں مقصدیت ،حکمت اور منصوبہ بندی علا نیہ نظر آرہی ہے جو اندھے قوائےفطرت کی صفت نہین ہو سکتی۔ اور یہ بہت سے خداؤں کی کار فرمائی بھی نہیں ہے ، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق و مالک اور مدبّر کا قائم کیا ہوا ہو سکتا ہے جو زمین، چاند ، سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے۔

اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۵

یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں  آسکنے والی بات بھی نہیں تھی۔ آخر انہی کے بھائی بند ، انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ، انہی جیسے انسان ایسے موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس خدا پر ستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابقِ حقیقت ہے۔

اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰٦

نفخ صور پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورہ انعام حاشیہ ۴۷۔ ابراہیم،حاشیہ۵۷۔سورہ طٰہٰ حاشیہ۷۸۔سورہ حج، حاشیہ۱۔ یٰسین، حواشی۴۶۔۴۷۔ الزمر، حاشیہ۷۹۔

وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۷

یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل و تمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال افعال سے بے خبر رہے گا اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔

اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۸

یعنی  وہ اس لحاظ سے بھی بہتر  ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے  زیادہ انعام اسے دیا جائے گا۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔

اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے

 

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹

یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ  یہ سب کچھ ان توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے سے اللہ اور اسکے  رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہو نی ہے ، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے  اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے ۔ اس لیے ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہت طاری نہ ہوگی جو مرتے دم تک اس چیزکا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جوان لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ  کوئی آخرت بھی ہے جس کےلیے کچھ سامان کرنا ہے ۔ منکرین کے بر عکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت  کی تھیں، وہ دن آگیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔

کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو

سورة النمل حاشیہ نمبر١۰۹(الف)۔

قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔اس کی مزیدمثالوں کے لیے ملاحظہ ہو ، یونس ، آیات۲۶۔۲۷۔ القصص، آیت۸۴۔ العنکبوت، آیت۷۔ سبا، آیات۳۷تا۳۸۔ المومن، آیت۴۰۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں